Hakeem Mohammad

Hakeem Mohammad Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Hakeem Mohammad, Doctor, Hyderabad telangana, Hyderabad.

17/02/2026
11/10/2025

تقدیر، قسمت اور بخت کو بدلنے کا جو اصل راز ہے، وہ عام عملیات سے نہیں کھلتا۔ یہ باطنی قفل ہوتا ہے جس پر قُدرت کی اجازت، اور کچھ مخصوص اسمائے الٰہی کے راز کارفرما ہوتے ہیں۔ اس لیے میں آپ کو ایک ایسا خفیہ راز بتاتا ہوں جو عام لوگوں پر نہیں کھولا جاتا۔
روحانی راز: قلبی نور کے ذریعے بخت کی تجدید

یہ عمل نہایت خفیہ اور قدرتی روحانی کوڈ پر مبنی ہے، اور صرف وہی شخص کرے جو نیت میں پاک ہو، اور دوسروں کے بھلے کے لیے بھی یہ علم چاہتا ہو۔
اسمِ باطنی: یا فتاح، یا حکیم، یا واسع
یہ اسماء تین درجوں پر اثر کرتے ہیں:

1. یا فتاح قفل کھولنے والا (بخت اور تقدیر کے بند دروازے)
2. یا حکیم ہر چیز کو حکمت سے ترتیب دینے والا (تقدیر کا راستہ ہموار کرنے والا)
3. یا واسع وسعتیں دینے والا (بخت میں وسعت، رزق، رشتے، روحانی بلندی)

عمل کا طریقہ (21 روزہ کشفِ بخت عمل):
وقت: روزانہ فجر کے بعد یا تہجد کے وقت
جگہ: تنہائی، پاک جگہ، وضو میں
مدت: 21 دن، تسلسل کے ساتھ

ترتیب:
1. 2 رکعت نفل حاجت کی نیت سے پڑھیں۔
2. 100 بار درود شریف
3. پھر:
یا فتاح – 313 بار
یا حکیم – 313 بار
یا واسع – 313 بار

درمیان میں ہر بار 3 بار یا اللہ شامل کریں
4. آخر میں ہاتھ اُٹھا کر اپنی تقدیر، بخت اور نصیب کی بہتری کے لیے دعا کریں دعا دل سے ہو، زبان روئے۔

خفیہ روحانی کوڈ (باطن کا جملہ):
ہر عمل کے بعد دل میں یہ جملہ دہرائیں:
اے وہ رب، جو قفلوں کے راز جانتا ہے، میرے حق کے دروازے کھول دے!

اثرات (روحانی علامات):
آپ کو خواب میں دروازے، روشنی یا پرانی زنجیریں ٹوٹتی نظر آ سکتی ہیں
اچانک کوئی نیا رشتہ، رزق، یا موقع پیدا ہوگا
جسمانی ہلکا پن، آنکھوں کا کھلنا، یا دل کی بےچینی کا ختم ہونا
کوئی ایسا بند عمل یا خواہش جو عرصے سے رکی ہوئی ہو، کھلنا شروع ہو جائے گی

07/10/2025

فصد کے فوائد و نقصانات اور جسم کی اندرونی طبعی تبدیلیاں

فصد (Venesection) کا پیتھوفزیولوجیکل تجزیہ — جدید طب کی روشنی میں

فصد (جسے انگریزی میں Venesection یا Therapeutic Phlebotomy کہا جاتا ہے) یونانی طب میں علاج بالتدبیر (Ilaj bil-Tadbeer) کا ایک قدیم طریقۂ علاج ہے، جو اخلاطِ اربعہ (دم، بلغم، صفرا، سودا) کے توازن کو بحال کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس طریقہ میں جسم کی سطحی رگوں میں نپی تلی چیرا لگا کر مخصوص مقدار میں خون نکالا جاتا ہے تاکہ فاسد یا زائد مادّہ (مادّہ فاسدہ) خارج ہو اور مزاجِ بدن کی اصلاح ہو۔

---

تاریخی پس منظر

فصد کا طریقہ علاج تقریباً ۳۰۰۰ سال قدیم تہذیبوں، خصوصاً مصری اور میسوپوٹیمیائی ادوار میں موجود تھا۔ بعد میں بقراط، جالینوس، اور ابنِ سینا جیسے اطبّا نے اسے طب یونانی میں باقاعدہ علمی بنیاد فراہم کی۔
ابنِ سینا نے فصد کو امراضِ دمویہ (Amraz-e-Damvia) مثلاً سوزش، بخار، دم کی زیادتی، نقرس (Gout)، عرق النساء (Sciatica)، اور اعضاء کی ورم (Organ swellings) کے علاج میں مفید قرار دیا۔
یونانی کتب میں ہر مرض کے لیے مخصوص رگوں کی تعیین بھی کی گئی ہے، مثلاً رگِ اکحل (Cephalic vein) دماغی امراض کے لیے اور رگِ صافنہ (Saphenous vein) نچلے اعضاء کے امراض کے لیے منتخب کی جاتی ہے۔

---

جدید فزیولوجی کی روشنی میں فصد کے اثرات

۱. خون کی مقدار اور گاڑھا پن میں کمی:
فصد سے تقریباً ۲۵۰–۵۰۰ ملی لیٹر خون نکالنے سے مرکزی وریدی دباؤ (Central Venous Pressure)، دل کا بوجھ (Cardiac Preload)، اور خون کی گاڑھا پن (Viscosity) میں کمی آتی ہے، جس سے رگوں پر دباؤ کم ہوتا ہے اور خون کے جمنے (Thrombosis) کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔
اس کمی کے بعد جسم ایریتھروپوئیٹین (Erythropoietin) کے ذریعہ نئے سرخ خلیات پیدا کرتا ہے، جو آہستہ آہستہ خون کی کمی پوری کرتے ہیں۔

---

۲. آئرن (Iron) کی کمی اور میٹابولک بہتری:
فصد کے ذریعے خون کے ساتھ آئرن سے بھرے خلیات بھی خارج ہوتے ہیں، جس سے جگر اور بافتوں میں آئرن کے ذخائر کم ہوتے ہیں۔
یہ کمی جسم میں آکسیڈیٹو اسٹریس (Oxidative Stress) اور سوزش (Inflammation) کو کم کرتی ہے، خلیات کی توانائی میں بہتری اور تھکن میں کمی لاتی ہے۔

---

۳. ضدِ سوزش اور عروقی اثرات:
خون کے ضیاع سے وقتی طور پر RAAS نظام (Renin-Angiotensin-Aldosterone System) اور خودکار اعصابی نظام فعال ہوتے ہیں، جو رگوں کی نرمی (Vasodilation) پیدا کرتے ہیں اور بلڈ پریشر میں ۵–۱۰ ملی میٹر مرکری کی کمی کرتے ہیں۔
اس سے نائٹرک آکسائیڈ (NO) کی مقدار بڑھتی ہے اور اینڈوتھیلین-۱ کم ہوتا ہے، جس سے جوڑوں، عضلات اور اعصاب کی سوزش میں کمی واقع ہوتی ہے۔

---

۴. اعصابی اور درد میں افاقہ:
فصد سے دماغی اور اعصابی خون کی روانی میں بہتری آتی ہے، پروسٹاگلینڈن E2 اور برائیڈی کینن (Bradykinin) کی سطح کم ہو جاتی ہے، جس سے Sciatica اور Neuralgia جیسے امراض میں درد کی شدت گھٹتی ہے۔

---

جدید میڈیکل سائنس کے مطابق فصد کی افادیت

ثابت شدہ طبی استعمالات:

پولی سیتھیمیا ویرا (Polycythemia Vera):
فصد سے خون کی گاڑھا پن کم ہو کر فالج اور شریانوں میں خون کے لوتھڑے بننے کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔

وراثتی ہیماکرومیٹوسِس (Hereditary Hemochromatosis):
فصد جگر میں آئرن کی زیادتی کو دور کر کے تھکن اور جوڑوں کے درد کو کم کرتی ہے۔

پورفیریا کٹینیا ٹارڈا (Porphyria Cutanea Tarda):
فصد سے جگر کے پورفرینز (Porphyrins) کم ہو کر چھ ماہ میں بہتری آتی ہے۔

---

جدید تحقیق کے مطابق ابھرتے ہوئے استعمالات:

جوڑوں کا درد (Osteoarthritis):
فصد سے جوڑوں کے سیال (Synovial fluid) کی گاڑھا پن کم ہو کر حرکت بہتر ہوتی ہے۔

عرق النساء (Sciatica):
صافنہ رگ کی فصد سے مریضوں میں درد اور چلنے کی صلاحیت میں واضح بہتری دیکھی گئی ہے۔

کارپل ٹنل سنڈروم:
فصد سے نرو کنڈکشن ویلاسٹی میں اضافہ ہوا، یعنی اعصاب پر دباؤ کم ہوا۔

---

محدودات اور احتیاطی پہلو

یونانی و جدید دونوں نظاموں میں فصد خون کی کمی، حاملہ خواتین، یا کمزور مزاج مریضوں میں منع ہے۔
جدید طب میں فصد کا وقفہ عام طور پر ۱ تا ۳ ماہ رکھا جاتا ہے، جبکہ یونانی طب میں یہ مریض کے نبضی نظام اور مزاج کے مطابق متعین ہوتا ہے۔
مستقبل میں مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ فصد کے ضدِ سوزش اثرات کی تصدیق وسیع پیمانے پر ہو سکے۔

---

نتیجہ

فصد ایک ایسا قدیم طریقہ علاج ہے جو آج کی ایویڈنس بیسڈ میڈیسن (Evidence-Based Medicine) کے معیار پر بھی جزوی طور پر پورا اترتا ہے۔
یہ خون کی گاڑھا پن، آئرن کی زیادتی، سوزش اور بعض اعصابی امراض میں سائنسی طور پر مفید ثابت ہوا ہے۔
یہ طریقہ طب یونانی کے اخراجِ فاسدہ کے اصول کو جدید طب کے حیاتیاتی اور کیمیائی توازن کے نظریے سے جوڑتا ہے — جو مستقبل میں ایک Integrative (مشترکہ) علاجی نظام کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

27/08/2025

This is the blood drawn from a male patient on 25th August @ 11.30 pm ....through the now famous REGIMENAL therapy called as FASD ..the
VENESECTION..
He had the HISTORY of raised blood pressure with pain in the lower limbs ..
Immediately it is found that the BP reduces to normal from 160/110 to 130/80 with in 15 minutes of removing blood ...but the picture is of importance...as in modern system it is called as LIPAEMIA ...and in unani system it is called as BALGHAM ....
ALHAMDULILLAH...done many thousands FASD cases with wonderful results ......
A remedy which we lost to PRACTICE
is showing it's fruitful results .....
Easy to LEARN &
Easy to PRACTICE ......
COME 2 UNANI ...we have SOLUTIONS

12/08/2025

یہ حدیث ایک طرف انتباہ ہے اور دوسری طرف بہت بڑی خوشخبری۔

اہم نکتہ: نبی ﷺ فرما رہے ہیں کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جب اسلام پر قائم رہنا تکلیف دہ اور مشکل محسوس ہوگا—جیسے کوئی دہکتے انگارے کو ہاتھ میں پکڑے۔ اس وقت ایمان والے کے اعمال کا اجر عام دنوں سے کہیں زیادہ ہوگا، یہاں تک کہ ایک صحابیؓ کے برابر عمل کرنے پر ستر صحابہؓ کا اجر ملے گا۔

---

اتنا بڑا اجر کیوں؟

کیونکہ اُس زمانے میں دین پر عمل کرنا بہت زیادہ محنت، قربانی اور صبر مانگے گا۔ صحابہؓ نے بھی آزمائشیں دیکھیں، مگر ان کے پاس ایک مضبوط ایمانی معاشرہ اور نبی ﷺ کی براہِ راست رہنمائی موجود تھی۔
جب ماحول گمراہی، فتنہ اور گناہ سے بھرا ہو، تو حلال پر قائم رہنا اور حرام سے بچنا کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے—اور اللہ کے ہاں عمل کی قدر نیت اور مشقت کے حساب سے بڑھ جاتی ہے۔

---

یہ "ایامِ صبر" کب ہوں گے؟

فتنوں کا دور — جب گناہ، ظلم اور بدعنوانی عام ہوجائے۔

آخر زمانہ — جب اسلامی اقدار کا مذاق اڑایا جائے، قوانین کی مخالفت ہو، اور اہل ایمان کو دبایا جائے۔

کوئی بھی زمانہ — جب حلال پر عمل اور حرام سے اجتناب معاشرتی طور پر مہنگا پڑے۔

---

ایسے وقت میں جن اعمال پر یہ بڑھا ہوا اجر ملے گا:

وقت پر نماز پڑھنا جب ماحول روکے یا مذاق اڑائے۔

حیا و پردہ قائم رکھنا جب اس پر تنقید ہو۔

حلال روزی کمانا جب حرام آسان اور نفع بخش لگے۔

ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا جب خطرہ ہو۔

عام معاشرتی گناہوں سے بچنا جو معمول بن چکے ہوں۔

---

اسی مفہوم کی دیگر احادیث:

1. "فتنوں کے زمانے میں عبادت کرنا ایسے ہے جیسے میری طرف ہجرت کرنا۔" (صحیح مسلم 2948)
→ یعنی فتنوں کے دوران عبادت کا اجر ہجرت جیسا ہے۔

2. "اسلام اجنبی شروع ہوا تھا اور پھر اجنبی ہوجائے گا، پس خوشخبری ہے اجنبیوں کے لیے۔" (صحیح مسلم 145)
→ جب اسلام کو لوگ عجیب سمجھیں، تب بھی جو اس پر قائم رہیں اُن کے لیے خوشخبری ہے۔

---

ہم کیا سیکھتے ہیں؟

دین میں مشکل = زیادہ اجر
جتنا مشکل زمانہ، اتنا زیادہ اجر۔

صبر کا مطلب عملی استقامت ہے
گناہوں سے بچنا، عبادات قائم رکھنا اور اصولوں پر ڈٹے رہنا۔

اپنے اعمال کو گنتی سے نہ ناپیں
فتنوں کے دور میں چند خالص اعمال آسان زمانے کے بہت سے اعمال سے بھاری ہوسکتے ہیں

11/08/2025
03/08/2025
03/08/2025

⚱️ معجون رأس السرطان (Majoon Raas al-Sartan)
یہ ایک قدیم یونانی نُسخہ ہے جو مختلف قسم کے سرطان (کینسر) کی مزاحمت کے لیے جسمانی قوت بڑھانے، فاسد مادوں کو خارج کرنے، اور غیر طبعی خلیات کی بڑھوتری کو روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ مکمل طور پر نباتاتی (herbal) ہوتا ہے۔

---

🧪 معجون رأس السرطان کا مجرب نسخہ (Unani Formula)

اجزاء:

نمبر اجزاء کا نام مقدار

1️⃣ صبر زرد (Aloe vera dried pulp) 50 گرام
2️⃣ ہلدی (Curcuma longa) 50 گرام
3️⃣ کلونجی (Nigella sativa) 25 گرام
4️⃣ جدوار خطائی (Zedoary – Curcuma zedoaria) 25 گرام
5️⃣ تخم ریحان (Basil seeds) 25 گرام
6️⃣ اناردانہ خشک (Dry pomegranate seeds) 25 گرام
7️⃣ آملہ خشک (Amla – Emblica officinalis) 50 گرام
8️⃣ گوند کتیرہ (Tragacanth gum) 25 گرام
9️⃣ شہد خالص (Pure honey) حسبِ ضرورت (معجون بنانے کے لیے)

---

🧴 طریقۂ تیاری:

1. تمام خشک اجزاء کو باریک سفوف کر لیں۔

2. ایک صاف برتن میں شہد گرم کریں (ہلکی آنچ پر)۔

3. اس میں تمام سفوف شدہ اجزاء اچھی طرح شامل کریں۔

4. جب یکجان معجون کی شکل بن جائے، تو ٹھنڈا کرکے شیشی میں محفوظ کریں۔

---

💊 طریقۂ استعمال:

بالغ مریض: 5 سے 10 گرام، صبح و شام خالی پیٹ، نیم گرم پانی یا عرقِ آملہ کے ساتھ۔

دورانِ علاج: مریض کو چکنائی، گوشت، تیز مرچ مصالحے، اور باسی غذا سے پرہیز کروایا جائے۔

Address

Hyderabad Telangana
Hyderabad
503001

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hakeem Mohammad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category