09/02/2026
نہ نکلے ہیں نہ یوں نکلیں تمہارے تیر کے ٹکڑے
رکھو سینے پہ زانو اور نکالو چیر کے ٹکڑے
جگر کو کچھ ملے، کچھ دل نے پائے، کچھ رگِ جاں نے
ہوئے تقسیم یوں القصہ ان کے تیر کے ٹکڑے
متاعِ وحشتِ دل کے لیے اٹھیں گے قیامت میں
ہمارے ساتھ رکھ دو قبر میں زنجیر کے ٹکڑے
゚viralシfypシ゚