07/09/2025
بسم ﷲ الرحمن الرحیم
`عیدین کے دن خوشی سے مصافحہ، معانقہ و گلے ملنا مکروہ و بدعت ہے.`
👈🏻 آیئے...
مکروہات اور بدعات سے اپنے آپ کو مکمل پاک اور صاف کرتے ہیں.
📌 *عیدین کے دن خوشی سے مصافحہ، معانقہ و گلے ملنا رافضیوں کا طریقہ ہے.*
(علامہ شامی)
درمختار جلدنمبر۱، صفحہ نمبر ۴۶۵۔
👈🏻 آج کل لوگ بلا التزام نماز عیدین کے بعد مصافحہ و معانقہ کرتے ہیں جب کہ یہ طریقہ رسول اللہ صلی ﷲ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی ﷲ عنہم سے بالکل ثابت نہیں ہے، لہٰذا یہ مکروہ اور بدعت ہے۔
(1) حوالہ نمبر 1 :- وفی الکشف الاجود انت تکون امانتا فی کل ما امربہ صلی اللہ علیہ وسلم نہی عنہ جلد نمبر۱۵ ، صفحہ نمبر۷۱۔
(2) حوالہ نمبر 2 :- تفسیرقشیری : ہذا اصل من اصولی وجوب مطابعتہ و لزوم طریقتہ و سیرتہ جلد نمبر۳، صفحہ نمبر۳۰۴۔
(3) حوالہ نمبر 3 :- صحیح مسلم و سنن نسائی :
وشر الأمور محدثاتہا وکل بدعت ضلالة الحدیث، جلدنمبر ۱، صفحہ نمبر۲۸۵،
سنن نسائی، جلدنمبر۱، صفحہ نمبر ۵۵۰۔
(4) حوالہ نمبر 4 :- ردالمختار : أنہ تکرہ مصافحت بعد اداء الصلوة بالکل حلال للناس صحابہ الخ۔
(5) حوالہ نمبر 5 :- علامہ شامی نے لکھا ہے کہ یہ رافضیوں کا طریقہ ہے۔
درمختار جلدنمبر۱،صفحہ نمبر۴۶۵۔
(6) حوالہ نمبر 6 :- امداد الفتاوی جلدنمبر۵،
صفحہ نمبر ۲۶۰۔ کتاب البدعت مرقاة المفاتیح ،
جلدنمبر ۸، صفحہ نمبر۴۹۴۔
(7) حوالہ نمبر 7 :- احسن الفتاوی، جلدنمبر۱، صفحہ نمبر ۳۵۳۔
(8) حوالہ نمبر 8 :- فتوی حقانیہ جلد نمبر۲ ، صفحہ نمبر۵۲۔
(9) حوالہ نمبر 9 :- فتوی محمودیہ، جلد نمبر۳، صفحہ نمبر۱۴۳۔
(10) عید کے احکام تفصیل سے کتب حدیث شروحِ حدیث، کتب فقہ وفتاویٰ میں مذکور ہیں، عید پر گلے ملنے کا کہیں ثبوت نہیں، نہ اس کو واجباتِ عید میں سے کسی فقیہ نے شمار کیا ہے، نہ مستحبات میں لکھا ہے، نہ حضرت نبی اکرم فخر عالم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور جاں نثار حضراتِ صحابہٴ کرام رضی ﷲ عنہم سے قولاً وعملاً اس کا ثبوت ملتا ہے، نیز معانقہ اور مصافحہ کا جو موقع احادیثِ مبارکہ میں تجویز ہے، اس میں عید پر گلے ملنا نہیں ہے،
پس معانقہ و مصافحہ اس موقعہ پر شریعت کا حکم نہیں،
فتوی(ھ) : 1257=775-7/1432
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
(11) سلام کے بعد مصافحہ کرنا اور طویل وقفہ کے بعد ملاقات پر گلے ملنا درست ہے؛
لیکن خاص عید کی نماز کے بعد گلے ملنے کا رواج اور تخصیص والتزام ثابت نہیں، یہ مکروہ وبدعت ہے۔
Fatwa: 1112-1283/L=11/1438
دارالافتاء،دارالعلوم دیوبند
(12) خاص عید کے دن گلے ملنا حضور صلی ﷲ علیہ وسلم اور صحابہٴ کرام سے ثابت نہیں، اس لیے اس کا التزام بدعت ہے، ہاں اگر کسی سے بہت دنوں پر اُسی دن ملاقات ہوئی ہو تو فرطِ محبت میں اس سے گلے ملنے میں مضائقہ نہیں بشرطیکہ اس دن (عید کے دن) گلے ملنے کو مسنون یا ضروری نہ سمجھتا ہو،
اور اگر کوئی گلے ملنے کے لیے آگے بڑھے تو حکمت وحسن تدبیر سے منع کردینا چاہیے.
فتوی : 895=895/م
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
(13) سلام کے بعد مصافحہ اور لمبی جدائیگی کے بعد ملاقات پر محبت کے جذبے سے معانقہ (گلے ملنا) کرنا ثابت ہے، لیکن عید اور بقرعید کی تخصیص شریعت سے ثابت نہیں۔
لہٰذا خاص عید کی نماز کے بعد گلے ملنے کو ضروری سمجھنا اور اس کا التزام کرنا بدعت ہے، جیسا کہ شامی وغیرہ کتب فتاویٰ میں اس کی تصریح موجود ہے۔
فتوی: 1314=1314/م
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
(14) نماز عید کے بعد مصافحہ کرنا اور گلے ملنا ناجائز و بدعت ہے.
شریعت سے اس کا کوئی ثبوت نہیں.
فتوی: 912-908/N=10/1433
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
(15) عیدین کی نماز کے بعد مصافحہ اور معانقہ کرنے کا التزام بدعت ہے۔
Fatwa ID: 165-147/M=2/1438
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
📌 : کسی کام کے بارے میں سنت اور بدعت ہونے میں شک ہوتو اسے چھوڑ دینا بہتر ہے۔ ( )