25/12/2025
آج کل کے دور میں ذہنی صحت کے مسائل خاص طور پر اینزائٹی اور ڈپریشن نوجوانوں میں بڑھتے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ مسئلے کافی سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔ مثلاً حالیہ سالوں میں نوجوانوں میں خودکشی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے جس کی بڑی وجہ معاشرتی دباؤ تعلیمی ناکامیاں اور ذہنی دباؤ ہیں۔
مسئلے کی جڑ یہ صرف"ذہنی بیماری" کا معاملہ نہیں بلکہ ایک زہریلے دباؤ کا نظام ہے۔ گھر میں صرف نمبروں کی بات اسکول میں صرف مقابلہ معاشرے میں صرف کامیابی کی تعریف۔ نوجوان اپنی کمزوری بتانے سے ڈرنے لگتے ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ انہیں "کمزور" سمجھا جائے گا۔
والدین کیا کریں؟
بات چیت کا راستہ کھلا رکھیں۔روزانہ بغیر فون کے 10 منٹ دیں۔ پڑھائی کے بارے میں نہیں بلکہ اس کے دن کے بارے میں پوچھیں۔ ناکامی کو قبول کریں جب بچہ فیل ہو پہلا ردعمل ڈانٹ نہ ہو۔ کہیں "ٹھیک ہے اب اگلے مرحلے پر بات کرتے ہیں۔" پیار کو شرط سے آزاد کریں اسے بتائیں کہ آپ کی محبت اس کے نمبروں پر منحصر نہیں۔
اساتذہ کیا کریں؟
ہر طالب علم کو دیکھیں
جو بچہ پیچھے بیٹھا رہتا ہے اس پر خصوصی توجہ دیں بس پوچھ لیں "سب ٹھیک تو ہے؟"
کلاس کا ماحول بنائیں طالب علموں کو بتائیں کہ ناکامی سیکھنے کا حصہ ہے ختم ہونے کا نہیں۔ مدد کی پیشکش کریں: واضح طور پر بتائیں کہ اگر کسی کو بات چیت کی ضرورت ہو تو آپ موجود ہیں۔
ہم سب کا کردار ذہنی صحت کا مسئلہ صرف کسی ایک کا نہیں سارے معاشرے کا ہے۔ ہمیں بات چیت کو عام بنانا ہے مدد مانگنے میں عار محسوس نہیں کرنی نوجوانوں کو یقین دلانا ہے کہ ان کی زندگی کا واحد مقصد امتحان پاس کرنا نہیں
آخری بات چھوٹی چھوٹی کوششیں بڑی تبدیلی لاسکتی ہیں۔اپنے گھر اپنی کلاس اپنے دائرے میں ذہنی صحت کے بارے میں بات کرنا شروع کریں۔ کسی کو پریشان دیکھیں تو بس سن لیں۔ یہی پہلا اور سب سے اہم قدم ہے۔
شعیب اکرم قریشی