Homoeopathic Umeed Clinic

Homoeopathic Umeed Clinic Health care with Homeopathy

ھن ساڈے ڈیرے پنچائیتاں ھن کرن دیاں  سڑ ن آلیاں واسطے برنال دا بندوست وی اے
24/03/2026

ھن ساڈے ڈیرے پنچائیتاں ھن کرن دیاں
سڑ ن آلیاں واسطے برنال دا بندوست وی اے

چوہدری لیاقت جوشی صاحب (ماہرِ تعلیم)اور پروفیسر چوہدری لیاقت صاحب (پرنسپل MEC بھمبر)آج میرے دفتر تشریف لائے۔ اس موقع پر ...
23/12/2025

چوہدری لیاقت جوشی صاحب (ماہرِ تعلیم)
اور پروفیسر چوہدری لیاقت صاحب (پرنسپل MEC بھمبر)
آج میرے دفتر تشریف لائے۔ اس موقع پر انہوں نے پھول پیش کیے، گلہائے محبت کی مالا پہنائی اور مٹھائی لا کر مجھے آزاد جموں و کشمیر یونین آف کالمسٹ کے مرکزی صدر منتخب ہونے پر دلی مبارکباد دی۔
دونوں معزز شخصیات نہ صرف علمی و تعلیمی میدان میں نمایاں مقام رکھتی ہیں بلکہ بطور سربراہانِ تعلیمی ادارہ، سماجی خدمت کے شعبے میں بھی ان کی خدمات قابلِ تحسین اور قابلِ احترام ہیں۔ ایسے اہلِ علم و کردار لوگوں کی حوصلہ افزائی میرے لیے باعثِ اعزاز اور تقویتِ عزم ہے۔
اللہ تعالیٰ انہیں صحت، عزت اور مزید توفیقات سے نوازے۔
آمین 🤲
✍️ ڈاکٹر طارق محمود شاکر

23/12/2025

📅 تاریخ: 23 دسمبر 2025
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
🌸 آج کی بات
موضوع: عدل و انصاف
عدل صرف دوسروں کے ساتھ نہیں،
اپنے فیصلوں، رویّوں اور الفاظ میں بھی ہونا چاہیے۔
جہاں انصاف قائم ہو جاتا ہے،
وہاں دل مطمئن اور معاشرہ مضبوط ہو جاتا ہے۔
یاد رکھیں:
انصاف وقتی نقصان دے سکتا ہے،
مگر آخرکار عزت وہیں ٹھہرتی ہے۔
✍️ حرفِ شاکر،
دعا گو: ڈاکٹر طارق محمود شاکر

زیادہ دیر بیٹھ کر کام کرنا —خاموش نقصان شروع۔یہ صرف تھکن نہیں۔یہ جسم کی رکی ہوئی حرکت ہے۔جب آپگھنٹوں بیٹھے رہتے ہیںتو پٹ...
22/12/2025

زیادہ دیر بیٹھ کر کام کرنا —
خاموش نقصان شروع۔

یہ صرف تھکن نہیں۔
یہ جسم کی رکی ہوئی حرکت ہے۔

جب آپ
گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں
تو پٹھے
آہستہ آہستہ
سست ہو جاتے ہیں۔

خون کی روانی
رفتار کھو دیتی ہے۔

شروع میں کیا ہوتا ہے؟
• گردن میں اکڑاؤ
• کندھوں میں بوجھ
• کمر میں درد
• ٹانگوں میں سن پن

اصل مسئلہ کہاں بنتا ہے؟
پٹھے
حرکت مانگتے ہیں۔
حرکت نہ ملے
تو وہ سخت ہو جاتے ہیں۔

سخت پٹھے
خون کو دباتے ہیں۔
خون
پورا سفر نہیں کر پاتا۔

یہیں سے
کمزوری جنم لیتی ہے۔

کن لوگوں میں زیادہ؟
دفتر میں بیٹھنے والے
لمبے وقت تک کمپیوٹر پر
کم واک کرنے والے
پانی کم پینے والے

مزاج (تاثیر):
یہ عادت
سرد اور خشک اثر بڑھاتی ہے۔
جسم میں جمود آتا ہے۔

خطرے کی نشانیاں:
• ٹانگوں میں بھاری پن
• شام کو زیادہ تھکن
• رات کو درد
• صبح اکڑاؤ

کیا چیز سنبھالتی ہے؟
ہر گھنٹے بعد کھڑا ہونا
ہلکی اسٹریچ
چند منٹ واک
پانی کی درست مقدار
یاد رکھیں:
جسم مشین نہیں۔
اسے حرکت چاہیے۔
جو خون رکے
وہ درد بن جاتا ہے۔
آج کی عادت
کل کی بیماری بن سکتی ہے۔

ڈپریشن انگزائٹی۔۔۔۔تکلیف دہ بیماری ڈپریشن اور انگزائٹی دونوں ذہنی صحت کے مسائل ہیں، لیکن ان میں فرق ہے۔ ڈپریشن میں اداسی...
22/12/2025

ڈپریشن انگزائٹی۔۔۔۔تکلیف دہ بیماری

ڈپریشن اور انگزائٹی دونوں ذہنی صحت کے مسائل ہیں، لیکن ان میں فرق ہے۔ ڈپریشن میں اداسی، بے چینی، اور زندگی میں دلچسپی کا فقدان شامل ہے، جبکہ انگزائٹی میں مسلسل بے چینی، گھبراہٹ، اور مستقبل کے خوف جیسے احساسات شامل ہیں۔ ان علامات میں فرق کرنے اور دونوں کو سمجھنے کے لیے ان کے محرکات اور جسمانی و ذہنی اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
ڈپریشن (Depression)
علامات: مسلسل اداسی، شدید غم، بہت زیادہ تھکاوٹ، زندگی میں کسی بھی چیز میں دلچسپی کا نہ ہونا، خودکشی کے خیالات، اور اپنی دیکھ بھال نہ کر پانا۔
وجوہات: محبت میں ناکامی، گھریلو جھگڑے، بے روزگاری، اور انتہائی ذہنی دباؤ جیسے مسائل ڈپریشن کا سبب بن سکتے ہیں۔
اثرات: یہ علامات انسان کو جسمانی اور ذہنی طور پر تھکا دیتی ہیں، اور یہ احساسات زندگی کو ناممکن بنا سکتے ہیں۔
انگزائٹی (Anxiety)
علامات: مسلسل پریشانی، بے چینی، گھبراہٹ، نیند کی کمی، توجہ مرکوز کرنے میں دشواری، اور یہ خوف کہ کچھ برا ہونے والا ہے۔
وجوہات: انگزائٹی کی وجوہات میں بہت سی چیزیں شامل ہیں، جن میں خوفناک واقعات یا تناؤ کا تجربہ شامل ہے، جس سے انسان جذباتی اور جسمانی طور پر کمزور ہو جاتا ہے۔
اثرات: یہ جسم میں بہت سی مختلف چیزیں پیدا کر سکتا ہے، جیسے کہ اعصابی تھکن، دل کی دھڑکن تیز ہونا، اور پسینہ آنا۔
دونوں میں مشترکہ پہلو
ڈپریشن اور انگزائٹی دونوں میں بہت زیادہ تھکاوٹ، نیند میں دشواری، اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔
یہ دونوں آپ کی زندگی کے معیار کو متاثر کر سکتے ہیں
ﷲ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو*
‎دعاؤں کا طلبگار
‎ہومیوپیتھک ڈاکٹر طارق محمود شاکر
‎(کوالیفائیڈ ہومیوپیتھ نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی اسلام آباد)
‎مشورے /علاج رابطہ کریں
مشورے/علاج کے لئے آج ہی رابطہ کریں۔
کال/واٹسایپ۔034638212007
ایڈریس۔ امید کلینک کوڑھی موڑ بھمبر آزاد کشمیر ۔

ہیلتھ کمیشن کا قیام وقت کی ضرورت یا ۔۔۔۔۔۔۔تحریر: ڈاکٹر طارق محمود شاکر آزاد کشمیر میں صحت کا مسئلہ کسی ایک دن، ایک حکوم...
22/12/2025

ہیلتھ کمیشن کا قیام وقت کی ضرورت یا ۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: ڈاکٹر طارق محمود شاکر
آزاد کشمیر میں صحت کا
مسئلہ کسی ایک دن، ایک حکومت یا ایک فیصلے کی پیداوار نہیں۔ یہ ایک مسلسل بگڑتا ہوا المیہ ہے
جو برسوں کی نااہلی، غلط ترجیحات، کمزور پالیسیوں اور طاقتور مافیا کے سامنے مکمل سرنڈر کا نتیجہ ہے۔ یہاں بیماری صرف جسم کو نہیں لگتی، پورے خاندان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ علاج اب شفا کا نام نہیں رہا، بلکہ ایک ایسا بوجھ بن چکا ہے جو اکثر لوگوں کی کمر توڑ دیتا ہے۔
ایسے حالات میں بھمبر ڈویلپمنٹ فورم کے زیر اہتمام آزاد کشمیر ہیلتھ کیئر کمیشن کے قیام کے حوالے سے منعقد ہونے والا سیمینار محض ایک رسمی تقریب نہیں تھا۔ یہ دراصل اس اجتماعی بے بسی کے خلاف ایک سنجیدہ آواز تھی جو برسوں سے عوام کے سینے میں دبی ہوئی ہے۔ اس فورم نے وہ بات کہی جو عام آدمی روز سوچتا ہے مگر کہہ نہیں پاتا۔ اس کاوش پر بھمبر ڈویلپمنٹ فورم واقعی خراجِ تحسین کا مستحق ہے۔
لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہیلتھ کیئر کمیشن واقعی آزاد کشمیر کے عوام کے لیے سہولت بنے گا یا یہ بھی دیگر اداروں کی طرح ایک نیا خوف، نیا دباؤ اور ایک نیا استحصالی نظام ثابت ہو گا؟ کیونکہ ہمارا مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس قوانین نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ قوانین ہمیشہ کمزور پر لاگو ہوتے ہیں اور طاقتور کے لیے صرف کاغذ رہ جاتے ہیں۔
آزاد کشمیر کے سرکاری ہسپتالوں کی حالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ڈاکٹر کم ہیں، مریض زیادہ ہیں، مشینیں خراب پڑی ہیں، اور ادویات اکثر ناپید رہتی ہیں۔ مریض گھنٹوں لائن میں کھڑا رہتا ہے اور آخر میں یہی سنتا ہے کہ دوا باہر سے لے آئیں۔ باہر جو دنیا ہے، وہ نجی شعبہ ہے، جہاں علاج کم اور کاروبار زیادہ ہے۔ داخل ہوتے ہی فیس، پھر ٹیسٹ، پھر رپورٹس اور آخر میں مہنگی ادویات کی ایک لمبی فہرست، جنہیں خریدنے کے بعد مریض آدھا تو ویسے ہی نڈھال ہو چکا ہوتا ہے۔
ہیلتھ کیئر کمیشن کے حامی کہتے ہیں کہ اس سے نظام بہتر ہو گا، ہسپتال، کلینک، لیبارٹریاں، میڈیکل سٹورز اور پریکٹیشنرز رجسٹر ہوں گے، مانیٹرنگ ہو گی اور عطائیوں کا خاتمہ ممکن ہو گا۔ یہ باتیں سننے میں اچھی لگتی ہیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہی وعدے ہم پہلے بھی سنتے آئے ہیں۔ ہر نیا ادارہ ابتدا میں عوام دوست نعرے کے ساتھ آتا ہے، اور چند ہی برسوں میں وہ عوام کے لیے سب سے بڑا دردِ سر بن جاتا ہے۔
یہ خدشہ بالکل حقیقی ہے کہ کہیں ہیلتھ کیئر کمیشن بھی رشوت خوری کا نیا مرکز نہ بن جائے۔ انسپکشن کے نام پر تذلیل، لائسنس کے نام پر رشوت، اور جرمانوں کے ذریعے دباؤ ڈالنا ہمارے نظام کا پرانا ہتھکنڈا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو بڑے ہسپتال اور طاقتور حلقے ہر قانون سے بچ نکلیں گے، جبکہ چھوٹے کلینک، دیہی علاقوں میں خدمات انجام دینے والے افراد اور کمزور طبقہ نشانے پر ہو گا۔
ایک اور سنگین پہلو وہ ہے جس پر دانستہ خاموشی اختیار کی جاتی ہے، اور وہ ہے ایلوپیتھی کی اجارہ داری۔ ہمارے معاشرے میں حکمت، ہومیوپیتھی اور دیگر طریقہ ہائے علاج صدیوں سے موجود ہیں اور لاکھوں لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جو مہنگے ایلوپیتھک علاج کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ خدشہ یہ ہے کہ ہیلتھ کیئر کمیشن کہیں صرف ایلوپیتھی کے فروغ کا ذریعہ نہ بن جائے اور باقی تمام طریقہ ہائے علاج کو ضابطوں اور کاغذی کارروائی کے نام پر دیوار سے لگا دیا جائے۔
یہ کوئی خیالی اندیشہ نہیں۔ ماضی میں بھی دیکھا گیا ہے کہ قوانین ہمیشہ طاقتور مافیا کے حق میں استعمال ہوئے ہیں۔ اگر کمیشن کا جھکاؤ کسی ایک مخصوص طریقہ علاج کی طرف ہوا تو یہ صحت کی اصلاح نہیں بلکہ صحت پر اجارہ داری ہو گی، اور اس کا نقصان براہ راست عوام کو ہو گا۔
صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک اس وقت ہو جاتی ہے جب ہم ادویات کے مسئلے پر نظر ڈالتے ہیں۔ آج یہ صرف ایلوپیتھی تک محدود نہیں رہا۔ ہومیوپیتھی ادویات بھی دن بدن مہنگی ہوتی جا رہی ہیں اور کئی ایسی مؤثر دوائیں مارکیٹ سے مکمل طور پر غائب ہو چکی ہیں جن سے برسوں سے مریض فائدہ اٹھا رہے تھے۔ جب اس بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو ایک ہی جواب دیا جاتا ہے کہ ریگولیٹری اتھارٹی نے اجازت نہیں دی، یا سپلائی روک دی گئی ہے۔
یہ جواب اب ایک بہانہ بن چکا ہے۔ ریگولیٹری اداروں کا نام لے کر ادویات کو ناپید کرنا، مصنوعی قلت پیدا کرنا اور بعد ازاں انہیں مخصوص چینلز کے ذریعے مہنگے داموں یا بلیک میں فروخت کرنا اب ایک منظم کھیل بن چکا ہے۔ مریض مجبور ہے، وہ سوال نہیں کرتا، کیونکہ اسے دوا چاہیے، انصاف نہیں۔
ادویات مافیا اس پورے نظام کا سب سے طاقتور کردار ہے۔ یہ مافیا ہر شعبہ زندگی میں سرایت کر چکی ہے۔ فارماسیوٹیکل کمپنیاں، ڈسٹری بیوٹر، میڈیکل سٹورز، بعض ڈاکٹر اور افسوسناک طور پر بعض ریگولیٹری ادارے بھی اس زنجیر کا حصہ بن چکے ہیں۔ ہر دوا مہنگی ہو رہی ہے، کوئی یہ پوچھنے والا نہیں کہ قیمتیں آخر کس بنیاد پر بڑھائی جا رہی ہیں۔ کبھی ڈالر کا بہانہ، کبھی خام مال کا، اور کبھی ٹیکس کا، مگر مریض کی قوتِ خرید وہیں کی وہیں کھڑی ہے۔
سب سے افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بہت سی ایسی ادویات جو مریض کو واقعی شفا دیتی ہیں، اچانک مارکیٹ سے غائب کر دی جاتی ہیں۔ وجہ صاف ہے، شفا منافع کے خلاف ہے۔ مریض اگر ٹھیک ہو جائے تو دوا کی کھپت کم ہو جاتی ہے، اور یہی بات اس مافیا کو گوارا نہیں۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض ڈاکٹر مخصوص کمپنیوں کی ادویات ہی لکھتے ہیں، چاہے سستی اور مؤثر متبادل موجود ہو۔ مریض یہ سمجھتا ہے کہ مہنگی دوا شاید بہتر ہو گی، مگر حقیقت میں وہ ایک تجارتی معاہدے کا حصہ بن چکا ہوتا ہے، جس کا اسے علم بھی نہیں ہوتا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ہیلتھ کیئر کمیشن اس سارے نظام کو چیلنج کرنے کی جرات رکھتا ہے؟ کیا یہ کمیشن ادویات کی قیمتوں، دستیابی، اور نسخوں کے اس گٹھ جوڑ پر ہاتھ ڈالے گا؟ یا پھر یہ بھی دیگر اداروں کی طرح خاموش تماشائی بن کر طاقتور مافیا کے سامنے سر جھکا دے گا؟
دیہی علاقوں کی صورتحال اس سے بھی زیادہ نازک ہے۔ وہاں پہلے ہی ڈاکٹر کم ہیں، سہولیات ناپید ہیں اور فاصلے طویل ہیں۔ اگر ہیلتھ کیئر کمیشن کے قیام کے بعد صرف سخت قوانین نافذ کیے گئے، بغیر متبادل سہولتوں کے، تو یہ عوام کی مدد نہیں بلکہ ان پر مزید بوجھ ڈالنے کے مترادف ہو گا۔
اب گیند حکومت آزاد کشمیر کے کورٹ میں ہے۔ حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ واقعی عوام کی صحت کو ترجیح دیتی ہے یا صرف کاغذی اصلاحات پر گزارا کرنا چاہتی ہے۔ ادویات کی قیمتوں پر کنٹرول کیوں نہیں؟ ریگولیٹری ادارے آخر کس کے مفاد میں کام کر رہے ہیں؟ اور ہیلتھ کیئر کمیشن عوام کے لیے ہو گا یا مافیا کے لیے؟
بھمبر ڈویلپمنٹ فورم نے جو آواز اٹھائی ہے، وہ صرف بھمبر کی نہیں، پورے آزاد کشمیر کے مریضوں کی آواز ہے۔ اس آواز کو دبایا گیا تو یہ ایک اور ناانصافی ہو گی۔ ہیلتھ کیئر کمیشن اگر واقعی عوام دوست بنا تو یہ ایک تاریخی قدم ہو گا، اور اگر یہ بھی رشوت، اجارہ داری اور مافیا کا حصہ بن گیا تو یہ ایک اور ناکام تجربہ کہلائے گا، جس کا خمیازہ ہمیشہ کی طرح عوام کو ہی بھگتنا پڑے گا۔
عوام اب سہولت نہیں مانگ رہے،
وہ اپنا حق مانگ رہے ہیں۔

22/12/2025

Address

Umeed Clinic Kothi Morr Bhimber Azad Kashmir
Azad Kashmir
10040

Telephone

+923468212007

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Homoeopathic Umeed Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Homoeopathic Umeed Clinic:

Share