25/08/2025
ہم پاکستانی بنے ہی شاید پھدو بننے کے لئے۔
مطلب ہمیں ہیلتھی کے نام پر جلیبی کھلا دی جاتی ہے اور ہم کھا لیتے ہیں
دیسی کھانوں کو ایسے پیش کیا جاتا ہے کہ اس کے علاوہ پوری دنیا شاید گھٹیا کھانے ہی کھاتی رہی۔ حالانکہ پیزا پاستا کھانے والے ممالک میں جا کے ان افراد کی صحت اور فٹنس دیکھ لیں۔
کسی کے گھر جائیں تو اگلا اہتمام کر کے سو دو سو خرچ کر کے ہمارے لئے اچھے بسکٹ منگواتا ہے۔ لیکن ہوتا کیا ہے ان اچھے بسکٹس میں ؟؟
میدہ( کارب)
چینی ( کارب)
اور جس چیز کو ہم کریم سمجھتے ہیں وہ بھی ہمارے ساتھ سکیم(scam) ہی ہو جاتا ہے۔
یعنی یہ کریم ہوتی ہی نہیں۔ یا تو ککنگ آئل یا کسی بھی قسم کا گھٹیا فیٹ لے کے اس میں سکرین اور کچھ تھوڑے سے فلیور اور ایسنس ان سب سے مل کے بنتی ہے شاندار کریم وہ انٹرنیشل برانڈ اوریو Oreo ہو یا پاکستانی برانڈ ریو
بات وہی ہے۔
دودھ مکھن یا کریم جیسا ان بسکٹس میں کچھ نہیں ہوتا۔
پورا ٹرانس فیٹ ہوتا ہے۔ اور اتنا ٹرانس فیٹ اپ کے دل کی نالیاں بلاک کرنے کو کافی ہوتا ہے۔ پھر سیانی قوم کہتی ہے کہ فارمی انڈے یا فارمی چکن تو نہایت ہی مضر صحت ہے۔
وہیں اپنے خون کی نالیاں بلاک کروانے کے لئے چینی اور کسی بھی گوالے(بھینس کے نہیں) کے دودھ سے بنی چائے کے ساتھ بسکٹ نوش فرما رہے ہوتے ہیں۔
ایک سٹنگ میں بیٹھ کے چھ سات سو کیلوریز ڈکار کے کہتے ہیں میں تو کھانا کھاتا ہی نہیں۔
کوئی بیمار ہو جائے تو اسے چائے کے ساتھ رس یا بریڈ دے دی جاتی ہے اخے نرم غذا دو۔
ابے ڈھکن ایک پتلی روٹی کو شوربے میں بھگو کے دینا ہی نرم غذا ہے
مزے کی بات ہے کہ ایک ہسپتال کی کینٹین پر گیا تو پوری کینٹین میں ایک چیز بھی ایسی موجود نہیں تھی جس میں کچھ مقدار پروٹین کی ہو۔ سوائے پراسیس فوڈ اور سافٹ ڈرنکس کے۔
ایک بندہ ہسپتال میں بیمار پڑا ہے دوسرا نیچے اس تیاری میں ہوتا ہے کہ اگلی باری میری۔
سیریس سوال اٹھتا ہے کہ مہمانوں کو کیا پیش کیا جائے ؟
مہمانوں کو ابلے انڈے اور چائے یا کافی۔
موسمی پھل اور لیموں پانی۔
مونگ پھلی یا جو بھی نٹس میسر ہوں
بھنے چنے یا چنے کا ستو۔
یہ سب بہترین آپشن ہیں۔