25/09/2025
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ شیطان کیا کھاتے ہیں؟ مطلب حرفی طور پر نہیں مجازی طور پر بھی نہیں
کیا چیز انہیں قوت دیتی ہے؟ کیا چیز انہیں زندہ رکھتی ہے؟
جب آپ سمجھ لیں گے کہ وہ کیا کھاتے ہیں
تو آپ اس دنیا کے خفیہ ماحولیاتی نظام کو دیکھنا شروع کر دیں گے
اور سمجھ جائیں گے کہ آپ اس میں کیوں پھنسے ہوئے محسوس کرتے ہیں۔ اجازت دیں میں بتا دوں
شیطان… پیراسائٹس… منفی مخلوقات…
یہ خوف، غصہ، صدمے، نشے اور مایوسی پر پلتے ہیں
یہ آپ کی ضائع ہوتی توانائی پر پھلتے پھولتے ہیں
وہ خام، بےترتیب توانائی جو آپ میں بہتی ہے جب آپ پریشان، گم، تنہا یا بکھرے ہوئے ہوتے ہیں
وہ محض آپ کی تکلیف سے لطف اندوز نہیں ہوتے بلکہ اسی سے اپنی طاقت لیتے ہیں
اسی لیے آپ کے جتنے بھی نظام ہیں وہ آپ کو بقا کے موڈ میں رکھنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں
اسی لیے خبریں، جنگیں، انتشار، بے ہنگم صارفیت اور نشے چلتے رہتے ہیں (جب آپ ان سے ڈرتے ہیں)
کیونکہ یہ حالات حیاتیاتی خوراک پیدا کرتے ہیں
اس لیے عِلمِ باہِوشی اور ہمت آپ کے لیے نہایت اہم ہیں
کائناتی خوراکی زنجیر خون اور گوشت سے نہیں بلکہ ارتعاشات، ہم آہنگیوں اور فریکوئنسیز سے بنی ہے
آپ صرف ایک جسم میں نہیں رہتے آپ ایک سگنل بھی بھیجتے ہیں
اور آپ کی نفسیاتی کیفیت کے مطابق یا تو آپ پیراسائٹس کو کھلاتے ہیں یا خدا سے رابطہ قائم کرتے ہیں
اسی لیے اس علم کو دفن کر دیا گیا تھا
کیونکہ جب آپ سمجھتے ہیں کہ آپ خود چُن رہے ہیں کہ کیا آپ کو کھائے گا
تو آپ اپنی طاقت واپس لے لیتے ہیں
آپ شکار ہونا بند کر دیتے ہیں
آپ غلامی سے باہر آ جاتے ہیں
یہ محض روحانی بات نہیں ہے یہ توانائی کی فزکس ہے
یقین رکھیے ذکرِ خدا انہیں خوفزدہ کرتا ہے۔
شیطانوں کو صرف تڑپتی قربانیوں کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ایسی روح کی ضرورت ہوتی ہے جو خدا کو نہ پہچانتی ہو، صبح و شام کے اذکار و دعاؤں سے بیگانہ ہو
وہ آپ کے توازن کی خلل پر جی رہے ہیں
لہٰذا اگر آپ واقعی اپنی زندگی بدلنا چاہتے ہیں
اگر آپ اپنی حفاظت کرنا چاہتے ہیں اور اس سسٹم سے اوپر اٹھنا چاہتے ہیں
تو وہ توانائی تبدیل کریں جو آپ خارج کر رہے ہیں
محبت، سکون اور سچائی پھیلائیے
یہ اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ بقا کا طریقہ ہے۔ صرف اللہ ہی کے لیے۔
کیونکہ جو آپ محسوس کرتے ہیں وہی آپ کھلاتے ہیں
ادھر دیکھیں شیطان بھوکے ہیں
منقول