Dr Sadia Iqbal

Dr Sadia Iqbal I am Dr. Sadia Iqbal, a Ph.D.

in Applied Psychology with over 11 years of professional experience working with children with intellectual disabilities and 13 years of teaching experience in various renowned universities across Pakistan.

25/09/2025

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ شیطان کیا کھاتے ہیں؟ مطلب حرفی طور پر نہیں مجازی طور پر بھی نہیں
کیا چیز انہیں قوت دیتی ہے؟ کیا چیز انہیں زندہ رکھتی ہے؟
جب آپ سمجھ لیں گے کہ وہ کیا کھاتے ہیں
تو آپ اس دنیا کے خفیہ ماحولیاتی نظام کو دیکھنا شروع کر دیں گے
اور سمجھ جائیں گے کہ آپ اس میں کیوں پھنسے ہوئے محسوس کرتے ہیں۔ اجازت دیں میں بتا دوں

شیطان… پیراسائٹس… منفی مخلوقات…
یہ خوف، غصہ، صدمے، نشے اور مایوسی پر پلتے ہیں

یہ آپ کی ضائع ہوتی توانائی پر پھلتے پھولتے ہیں
وہ خام، بےترتیب توانائی جو آپ میں بہتی ہے جب آپ پریشان، گم، تنہا یا بکھرے ہوئے ہوتے ہیں

وہ محض آپ کی تکلیف سے لطف اندوز نہیں ہوتے بلکہ اسی سے اپنی طاقت لیتے ہیں
اسی لیے آپ کے جتنے بھی نظام ہیں وہ آپ کو بقا کے موڈ میں رکھنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں
اسی لیے خبریں، جنگیں، انتشار، بے ہنگم صارفیت اور نشے چلتے رہتے ہیں (جب آپ ان سے ڈرتے ہیں)
کیونکہ یہ حالات حیاتیاتی خوراک پیدا کرتے ہیں
اس لیے عِلمِ باہِوشی اور ہمت آپ کے لیے نہایت اہم ہیں

کائناتی خوراکی زنجیر خون اور گوشت سے نہیں بلکہ ارتعاشات، ہم آہنگیوں اور فریکوئنسیز سے بنی ہے

آپ صرف ایک جسم میں نہیں رہتے آپ ایک سگنل بھی بھیجتے ہیں
اور آپ کی نفسیاتی کیفیت کے مطابق یا تو آپ پیراسائٹس کو کھلاتے ہیں یا خدا سے رابطہ قائم کرتے ہیں

اسی لیے اس علم کو دفن کر دیا گیا تھا
کیونکہ جب آپ سمجھتے ہیں کہ آپ خود چُن رہے ہیں کہ کیا آپ کو کھائے گا
تو آپ اپنی طاقت واپس لے لیتے ہیں
آپ شکار ہونا بند کر دیتے ہیں
آپ غلامی سے باہر آ جاتے ہیں

یہ محض روحانی بات نہیں ہے یہ توانائی کی فزکس ہے
یقین رکھیے ذکرِ خدا انہیں خوفزدہ کرتا ہے۔
شیطانوں کو صرف تڑپتی قربانیوں کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ایسی روح کی ضرورت ہوتی ہے جو خدا کو نہ پہچانتی ہو، صبح و شام کے اذکار و دعاؤں سے بیگانہ ہو

وہ آپ کے توازن کی خلل پر جی رہے ہیں
لہٰذا اگر آپ واقعی اپنی زندگی بدلنا چاہتے ہیں
اگر آپ اپنی حفاظت کرنا چاہتے ہیں اور اس سسٹم سے اوپر اٹھنا چاہتے ہیں
تو وہ توانائی تبدیل کریں جو آپ خارج کر رہے ہیں
محبت، سکون اور سچائی پھیلائیے
یہ اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ بقا کا طریقہ ہے۔ صرف اللہ ہی کے لیے۔
کیونکہ جو آپ محسوس کرتے ہیں وہی آپ کھلاتے ہیں
ادھر دیکھیں شیطان بھوکے ہیں

منقول

22/09/2025

مولائے کائنات مولا علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ دنیا مجھے مکھی کے پر کے برابر بھی نہیں۔ آپ علیہ السلام نے دنیا کو تین بار طلاق دی ہے۔ آج کل کے حساب سے جو دنیا میں لوگوں کے حساب سے جھوٹا ہے وہ یوم حساب کے دن سچا ہوگا اور جو دنیا میں سچا ہے اور اس کے ساتھ بہت سارے لوگ ہیں وہ آخرت میں جھوٹا قرار دیا جائے گا۔ دنیا کی زندگی بہت تھوڑی ہے۔ اس لیے ہمیں وقتی فائدے کے لیے انسانوں کو تکلیف نہیں دینی چاہیے جس کا فائدہ صرف دنیا میں ہی رہ جانا ہے۔ جو جسم حرام کے پیسوں پر پلے گا وہ آگے اپنی زندگی میں بھی حرام کھائے گا اور کھلائے گا اور یہ سلسلہ نسل در نسل جاری رہے گا۔ آخر کار قیامت کے دن آگ کا ایندھن ہوگا۔ جو کسی کے ساتھ ظلم اور زیادتیاں کرے گا اس کی نسلوں تک یہ ظلم جائے گا۔ جتنے ظالم لوگ گذرے آج وہ مٹی میں مل گئے اپنے ظلم سمیت۔ اور دنیا ان کا نام بھی لینا پسند نہیں کرتی۔ تو فیصلہ ہم نے خود کرنا ہے کہ رحمان کے ساتھ رہنا ہے یا شیطان کے ساتھ رہنا ہے۔

20/09/2025

اپنی نظروں میں باعزت رہنے کا پہلا اصول یہ ہے کہ انسان اپنے رازوں کی حفاظت کرے اور پھر ان رازوں کی جو دوسرے امانت کے طور پہ اس کو سونپیں۔ایک باعزت اور پروقار شخصیت کی علامت ہے

20/09/2025

اٹھارہ برس کا بھرپور تعلق، پسند کی شادی، تین جوان ہوتے بچے، شوہر کی اور بیوی کی اچھی ملازمتیں، گھر بار اور گاڑی موجود، ہر لحاظ سے ایک خوشحال گھرانا، ہاں شاید ایسی کوئی چھوٹی موٹی چپقلشیں ہوں گی جو ہر دوسرے گھر میں ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن ایک دن شوہر کو کھانا دے کر، یک دم بیوی اٹھتی ہے اور ساتھ کے کمرے میں جا کر خود کو پنکھے سے لٹکا لیتی ہے۔

کسی کو یقین نہیں آتا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟!

کوئی نارمل آدمی اس کیفیت کو نہیں سمجھ سکتا۔ بعینہٰ جیسے وہ آدمی جسے کبھی دانت میں تکلیف نہ ہوئی ہو، وہ دانت کی تکلیف میں مبتلا شخص کا درد محسوس نہیں کر سکتا۔ اسی طرح ڈپریشن کو معمولی یا مذاق وہی سمجھ سکتا ہے، جس کا اس سے کبھی پالا نہ پڑا ہو۔ میں چوں کہ اس بلا کو بھگت چکا، اس لیے اس کے قہر کا کچھ اندازہ ہے۔

ڈپریشن کا کوئی حملہ اچانک نہیں ہوتا۔ یہ دیمک کی طرح اندر ہی اندر انسان کو چاٹتی ہے اور کبھی کبھار تو ایسے کہ خود متاثرہ شخص کو بھی اس کا اندازہ نہیں ہوتا۔ یہ غبارے کی طرح آہستہ آہستہ پھولتی جاتی ہے اور پھر کوئی ایک واقعہ اسے "ٹریگر اپ" کر دیتا ہے اور یک دم سب کچھ راکھ ہو جاتا ہے۔

نارمل لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ سب "اچانک" ہوا۔ مگر اچانک کچھ نہیں ہوتا۔

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

اُس ایک لمحے میں، ڈپریشن زدہ شخص کے سامنے سب کچھ بلینک ہو جاتا ہے۔ کسی تختہ سفید کی طرح۔ رشتے ناطے، دوستیاں، دنیاداری سب بے معنی ہو چکا ہوتا ہے۔ اُس وقت اس کے سامنے محض وہ "سبب" ہوتا ہے جو اسے حتمی تباہی کے فیصلے پر لے آتا ہے، جو اس کے نزدیک حتمی نجات ہوتی ہے۔ اور اس کے لیے تو واقعی نجات ہی ہے کہ جب وجود ہی نہیں رہتا تو اس سے منسلک معاملات بھی بے معنی ہو جاتے ہیں۔

لیکن پیچھے رہ جانے والوں کے لیے ایک اذیت رہ جاتی ہے ۔۔۔۔ ایک تاحیات اذیت، ایک ابدی اذیت، لامختتم اذیت!!
منقول

20/09/2025

خصوصی بچے وہ بچے ہوتے ہیں جنہیں عام بچوں کے مقابلے میں سیکھنے، سمجھنے، چلنے پھرنے یا دوسروں سے بات چیت کرنے میں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان میں ذہنی، جسمانی یا جذباتی مسائل شامل ہو سکتے ہیں، جیسے کہ آٹزم، ڈسلیکسیا، بولنے کی دشواری، یا چلنے پھرنے میں کمزوری۔ ایسے بچوں کو خصوصی توجہ، صبر اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے استعمال کر سکیں۔ اگر انہیں موزوں ماحول، رہنمائی اور حوصلہ دیا جائے تو یہ بچے بھی زندگی میں ترقی کر سکتے ہیں اور اپنی منفرد صلاحیتوں کے ذریعے دوسروں کے لیے مثال بن سکتے ہیں۔

20/09/2025

"رویّہ" (Behaviour) سے مراد کسی بھی انسان کا عمل، عادت، اندازِ گفتگو اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ ہے۔ یہ دراصل ہمارے خیالات اور جذبات کا عکس ہوتا ہے۔ اچھا رویّہ انسان کو عزت، محبت اور اعتماد دلاتا ہے جبکہ بُرا رویّہ دوری، نفرت اور بداعتمادی پیدا کرتا ہے۔ رویّہ نہ صرف ہماری شخصیت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ دوسروں پر بھی گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ مثبت رویّہ اختیار کرنا معاشرتی ہم آہنگی اور کامیاب زندگی کے لیے ضروری ہے، کیونکہ یہ انسان کو مشکلات میں بھی پُر سکون اور دوسروں کے لیے خوشگوار بناتا ہے۔

میری پسندیدہ اقتباسات میں سے ایک میں البرٹ کامو لکھتے ہیں کہ نفرت کے درمیان، میں نے پایا کہ میرے اندر ایک ناقابلِ شکست م...
18/09/2025

میری پسندیدہ اقتباسات میں سے ایک میں البرٹ کامو لکھتے ہیں کہ نفرت کے درمیان، میں نے پایا کہ میرے اندر ایک ناقابلِ شکست محبت ہے۔ آنکھوں کے آنسوؤں کے درمیان، میں نے پایا کہ میرے اندر ایک ناقابلِ شکست مسکراہٹ ہے۔ افراتفری کے درمیان، میں نے پایا کہ میرے اندر ایک ناقابلِ شکست سکون ہے۔ میں نے یہ سب کچھ جھیلنے کے بعد جانا۔ سردیوں کے درمیان، میں نے پایا کہ میرے اندر ایک ناقابلِ شکست گرمیوں کی شدت ہے، اور یہ مجھے خوش کرتا ہے کیونکہ یہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ چاہے دنیا مجھے کتنا ہی سخت دھکے دے، میرے اندر کچھ ایسا ہے جو مزید طاقتور ہے اور جو واپس دھکا دیتا ہے۔

سپر ایگو (Super Ego) نفسیات کا ایک اہم تصور ہے جسے سگمنڈ فرائڈ نے بیان کیا۔ یہ ہمارے ذہن کا وہ حصہ ہے جو ہمیں اچھے اور ب...
14/09/2025

سپر ایگو (Super Ego) نفسیات کا ایک اہم تصور ہے جسے سگمنڈ فرائڈ نے بیان کیا۔ یہ ہمارے ذہن کا وہ حصہ ہے جو ہمیں اچھے اور برے میں فرق سکھاتا ہے اور اخلاقی اصولوں کے مطابق چلنے پر مجبور کرتا ہے۔ سپر ایگو ہمارے اندر والدین، استاد اور معاشرے کی آواز کی طرح ہوتا ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ کون سا عمل درست ہے اور کون سا غلط۔ جب ہم کوئی غلط کام کرنے لگتے ہیں تو سپر ایگو ہمیں روکتا ہے اور صحیح راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اس طرح یہ ہمارے کردار کو بہتر اور زندگی کو نظم و ضبط والا بناتا ہے۔

ایگو نفسیات میں انسان کی شخصیت کا وہ حصہ ہے جو حقیقت اور خواہشات کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔ یہ ہمارے ذہن کا وہ شعوری ...
11/09/2025

ایگو نفسیات میں انسان کی شخصیت کا وہ حصہ ہے جو حقیقت اور خواہشات کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔ یہ ہمارے ذہن کا وہ شعوری نظام ہے جو ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ کیا ممکن ہے، کیا مناسب ہے اور سماجی طور پر کیا قابلِ قبول ہے۔ ایگو نہ صرف ہماری خواہشات کو حقیقت کے دائرے میں لانے کی کوشش کرتا ہے بلکہ یہ فیصلے کرنے، مسئلے حل کرنے اور دوسروں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھنے میں بھی مددگار ہوتا ہے۔ اگر ایگو متوازن ہو تو انسان حقیقت پسند، پر اعتماد اور سمجھدار فیصلے کرنے والا بنتا ہے، لیکن اگر یہ کمزور یا حد سے زیادہ طاقتور ہو جائے تو شخصیت میں مسائل اور تنازعات پیدا ہو سکتے ہیں۔

09/09/2025

میں نے 2010 کا سیلاب اپنی آنکھوں سے دیکھا، ہمارا علاقہ مظفرگڑھ روہیلا نوالی جتوئی علی پور اور پورا ڈی جی خان ڈویژن سیلاب کی زد میں آیا تھا، اور پھر صورت حال یہ رہی کئی سالوں تک لوگ اس سیلاب کے نقصان سے نہیں نکلے۔ 2010 کے سیلاب کی شدت اس والے سیلاب سے کم تھی۔ اللہ پاک ہم لوگوں پر رحم فرمائے آمین ثم آمین۔

بارہ ربیع الاول کے حوالے سے اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ یہ دن کیوں منایا جاتا ہے یا پھر منانا چاہیے یا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ...
06/09/2025

بارہ ربیع الاول کے حوالے سے اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ یہ دن کیوں منایا جاتا ہے یا پھر منانا چاہیے یا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دن کسی رسم یا روایت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس لیے یاد کیا جاتا ہے کہ آقا و مولیٰ، محسنِ انسانیت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے۔ اسی دن آپ ﷺ نے اپنی مبارک آنکھیں کھولیں اور انسانیت کو جہالت، ظلمت اور گمراہی سے نکال کر عزت، نور اور ہدایت کے مقام پر فائز کیا۔

ہمارا اصل فرض یہ ہے کہ ہم اس نعمت پر شکر بجا لائیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ ﷺ کی امت میں شامل فرمایا۔ افسوس کی بات ہے کہ ہم اکثر اس موضوع پر بحث و مباحثے میں پڑ جاتے ہیں کہ یہ دن کیسے اور کیوں منایا جائے، جبکہ اصل مقصد آپ ﷺ کی سیرت کو اپنانا اور ان کی تعلیمات پر عمل کرنا ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے، میری اولاد کو اور ہر مومن و مومنہ کو حضور نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

1. پہلے سنیں پھر بولیںدوسروں کی رائے کو توجہ سے سنیں۔ جب وہ محسوس کریں گے کہ آپ ان کی بات سمجھ رہے ہیں تو وہ بھی آپ کی ب...
04/09/2025

1. پہلے سنیں پھر بولیں
دوسروں کی رائے کو توجہ سے سنیں۔ جب وہ محسوس کریں گے کہ آپ ان کی بات سمجھ رہے ہیں تو وہ بھی آپ کی بات سننے کے لیے تیار ہوں گے۔

2. سادہ اور واضح زبان استعمال کریں
مشکل الفاظ یا گھما پھرا کر بات کرنے سے پرہیز کریں۔ سیدھی اور نرم لہجے میں بات کریں۔

3. مثالیں دیں
اپنی بات کو سمجھانے کے لیے مثالیں یا چھوٹی کہانیاں استعمال کریں تاکہ دوسرا آسانی سے تعلق قائم کر سکے۔

4. لہجے کو دوستانہ رکھیں
سختی، غصے یا بحث کے انداز میں بات کرنے سے دوسرا فوراً دفاعی ہو جاتا ہے اور پھر سننے کے بجائے ٹکر لیتا ہے۔

5. وجہ بیان کریں (Why)
صرف یہ نہ بتائیں کہ آپ کی رائے کیا ہے بلکہ یہ بھی بتائیں کہ آپ ایسا کیوں سوچتے ہیں۔ وجہ سننے کے بعد دوسرا شخص زیادہ آسانی سے قائل ہو سکتا ہے۔

6. دوسرے کے زاویے کو تسلیم کریں
اگر آپ یہ دکھائیں گے کہ آپ دوسرے کی رائے کی بھی عزت کرتے ہیں تو وہ بھی آپ کے نقطہ نظر کو اہمیت دے گا۔

🔑 مختصر یہ کہ دوسروں کو اپنا پوائنٹ آف ویو سمجھانے کے لیے نرم لہجہ، سادہ الفاظ، مثالیں، اور دوسرے کی رائے کا احترام بہترین حکمتِ عملی ہے۔

Address

Bahawalpur
63100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Sadia Iqbal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram