18/02/2026
)
شوگر (ذیابیطس) کی وجہ سے ہونے والی مردانہ کمزوری کو ڈائیبیٹک ایریکٹائل ڈسفنکشن _ (ذیابیطسی نامردی) کہا جاتا ہے۔ اردو میں اسے ذیابیطس سے پیدا ہونے والی جنسی کمزوری یا شوگر سے ہونے والی مردانہ کمزوری بھی کہتے ہیں۔
ذیابیطس (شوگر) ایک پیچیدہ میٹابولک عارضہ ہے جو جسم کے تقریباً ہر نظام کو متاثر کرتا ہے۔ ان میں سے ایک سنگین مسئلہ “ذیابیطس کی وجہ سے جنسی کمزوری” (Erectile Dysfunction یا ED) ہے، جو مردوں میں جنسی زندگی کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ یہ مسئلہ ذیابیطس کے مریضوں میں عام ہے، لیکن مناسب بیداری اور علاج سے اسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
جدید طبی تحقیق کے مطابق، ذیابیطس کے مریضوں میں مردانہ کمزوری (ED) کا خطرہ عام افراد کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اگر شوگر طویل عرصے تک قابو میں نہ رہے، تو یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ 70 سال کی عمر تک بعض مریض شدید ED کا شکار ہو جاتے ہیں، جہاں دوائیں بھی مؤثر نہیں رہتیں، کیونکہ اعصاب اور خون کی نالیاں مستقل طور پر متاثر ہو چکی ہوتی ہیں۔
جدید طب کے مطابق، جس طرح شوگر کی دو اقسام (ٹائپ 1 اور ٹائپ 2) ہیں، اسی طرح شوگر سے متاثرہ مریضوں کی بھی دو اقسام ہوتی ہیں
ٹائپ 1 ذیابیطس
اس میں شوگر خون میں زیادہ ہونے کی وجہ سے مریض جلد ہی اعضائے تناسل کی بیماریوں میں مبتلا ہو کر شدید مردانہ کمزوری کا شکار ہو سکتا ہے۔
ٹائپ 2 ذیابیطس
اس میں مریض فوری طور پر جنسی کمزوری محسوس نہیں کرتا، مگر وقت کے ساتھ شوگر کے بڑھنے سے مردانہ کمزوری بتدریج شدید ہوتی جاتی ہے۔
ذیابیطس اور جنسی کمزوری کا تعلق
ذیابیطس جنسی کمزوری کا سبب کیوں بنتی ہے؟
ذیابیطس میں بلڈ شوگر کا لیول مسلسل زیادہ رہنے سے خون کی نالیاں اور اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے۔ یہی نقصان جنسی عضو تک خون کے بہاؤ کو متاثر کرتا ہے، جس کی وجہ سے عضو تناسل میں سختی برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جبکہ عضو تناسل میں ایک صحت مند انزال کے لیے ضروری ہے کہ اعصابی نظام خون کی نالیوں کو سگنل بھیجے اور وہاں خون کا بہاؤ بڑھے۔ ذیابیطس میں یہ دونوں عمل متاثر ہوتے ہیں
تحقیقات کے مطابق، ذیابیطس کے 35-75% مرد مریضوں میں جنسی کمزوری کی شکایت پائی جاتی ہے۔
1.اعصابی نقصان (نوروپیتھی)
شوگر لیول زیادہ ہونے سے اعصاب کی حفاظتی تہہ (Myelin Sheath) کو نقصان پہنچتا ہے، جس کی وجہ سے دماغ سے عضو تک سگنلز کمزور پہنچتے ہیں۔
2.خون کی نالیوں کی تنگی
شوگر کی زیادتی خون کی نالیوں کو سخت اور تنگ کر دیتی ہے، جس سے عضو تک خون کا بہاؤ محدود ہو جاتا ہے۔
3. ہارمونل تبدیلیاں
ذیابیطس کے مریضوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کم ہو سکتی ہے، جو جنسی خواہش اور طاقت دونوں کو متاثر کرتی ہے۔
4. ذہنی تناؤ
ذیابیطس جیسی دائمی بیماری کے ساتھ زندگی گزارنا ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے، جو جنسی کمزوری کو بڑھاتا ہے۔
5.دیگر مسائل
موٹاپا، ہائی بلڈ پریشر، یا کولیسٹرول کا بڑھنا بھی ذیابیطس کے مریضوں میں ED کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔
شوگر سے پیدا جنسی کمزوری کی علامات: کیسے پہچانیں؟
جنسی کمزوری کی صورت میں درج ذیل علامات نمایاں ہوتی ہیں
– عضو تناسل میں سختی کا نہ ہونا یا اسے برقرار نہ رکھ پانا۔
– جنسی عمل کے دوران توجہ مرکوز کرنے میں دشواری۔
– جنسی خواہش (Libido) میں واضح کمی۔
– ذہنی دباؤ، شرمندگی، یا تعلقات میں کشیدگی۔
آخری بات
ذیابیطس اور جنسی کمزوری کا تعلق گہرا ہے، لیکن اسے خاموشی سے برداشت کرنے کے بجائے علاج کی طرف توجہ دیں۔ یاد رکھیں، یہ صرف آپ کی جنسی صحت نہیں بلکہ پورے جسمانی اور ذہنی توازن کا معاملہ ہے۔ اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں، ایک صحت مند غذا اپنائیں، اور مثبت سوچ کے ساتھ اس چیلنج کو قبول کریں۔
#مردانہکمزوری