Ihtishamul Haq

Ihtishamul Haq student of the orbit group of college buner campus sawri

24/12/2025

بونیر نئی تعمیر مین سڑک ،ایک ہفتے میں ہی جواب دے گئی ۔۔

سواڑی بازار روڈ، جو بونیر کی سب سے اہم اور مصروف مین شاہراہ ہے اور حال ہی میں کچھ حصہ نو تعمیر کی گئی تھی، محض ایک ہفتے کے اندر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ہے۔ سڑک کے مختلف حصّوں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں جو عوام کیلے عذاب بن گئی ہے

اگرچہ تصویر میں سڑک کے ایک مقام کی خرابی دکھائی گئی ہے، تاہم کئی مقامات پر نئی بننے والی پوری سڑک مختلف جگہوں پر متاثر ہو چکی ہے، جو ناقص میٹریل، غیر معیاری تعمیر اور مؤثر نگرانی کے فقدان کی واضح مثال ہے۔

شہریوں نے صوبائی حکومت ،ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن ،محکمہ pkha سے متعلقہ ٹھیکیدار کمپنی کے خلاف فوری نوٹس لینے کا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی درخواست کی ہے اور سڑک کی معیاری بنیادوں پر مرمت کو یقینی بنایا جائے ۔

مختار خان
صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب بونیر

15/12/2025

ضلع بو نیر
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کا کلپانی کریم اباد حجرہ قیصرعلی ایڈوکیٹ چیئرمین ویلج کونسل کلپانی 2 امد چیئرمین صاحب نے قیصرعلی ایڈوکیٹ اور انکےحاندان سے انکے دادی محترمہ کے وفات پرتعزیت کی اور مرحومہ کیلئے مغفرت اور جنت میں بلند درجات کی دعا کی۔

استغفراللہ۔۔۔ فوج پہ چھوڑا تھا
11/12/2025

استغفراللہ۔۔۔ فوج پہ چھوڑا تھا

نواز شریف نے اپنا فیصلہ اللہ پہ چھوڑا الحمدللہ سرخرو ہوئے!

05/12/2025

عمران خان سے شروع عمران خان پر ختم کرکے کہتے ہیں عمران خان کی سیاست ختم ہو گئی

05/12/2025

جمہوریت اور آمریت (عسکریت )کی لڑائی میں،میں کھل کر یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں جمہوریت کیساتھ کھڑا ہوں۔
آپ کس کیساتھ کھڑے ہیں؟؟؟

03/12/2025

اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو:
- 2 دسمبر 2025

“عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔

مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔

ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔

میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔

قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی، اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔

وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔

میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے۔ عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے۔ اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔

سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔

گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!

محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے۔

تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی میں آج ختم کر رہا ہوں۔ پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے پاس مکمل اختیارات ہیں، وہ ایک نئی مختصر کمیٹی بنائیں جو سیاسی حکمت عملی وضع کرے اور اس پر عملدرآمد کروائے۔

شاہد خٹک کو قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کا پارلیمانی لیڈر نامزد کرتا ہوں۔

پاکستان بار کے انتخابات میں تحریک انصاف متحد ہو کر ان امیدواروں کی بھر پور حمایت کرے جنھیں سلمان اکرم راجہ اور حامد خان نامزد کریں۔ خیبر پختونخوا کے وکلأ، بارز اور ILF کے معاملات کا سہیل آفریدی خود جائزہ لیں اور بہتری کے لیے ضروری فیصلے خود کریں۔

زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اس کا موجودہ حال پریشان کن ہے۔ کسانوں کے حقوق پر جس طرح ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، اس پر انتہائی افسوس ہے۔”

02/12/2025

کہتے ہیں… کینیڈا کا مسافر بھی چلا گیا!
اے وطن کے سجیلے جوانو… یہ وہی پردیسی ہے، جس نے چالیس سال پاکستان کی خدمت کا دعویٰ کیا۔
ملک کو ناقابلِ تسخیر بنانے کی باتیں بھی کیں…
اور پھر دن رات محنت کر کے پچیس لاکھ ڈالر جوڑے… تاکہ انہیں پاکستان میں نہیں… کینیڈا میں انویسٹ کیا جا سکے۔
آج وہ اپنے اہل و عیال سمیت کینیڈا منتقل ہو گیا ہے۔
اب ساری باقی زندگی وہیں گزرے گی…
اور یہاں بس رہ جائے گی اُس کی محب وطنی کی کہانی… اور وفاداری کا لیکچر۔

Address

Bunerwal

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ihtishamul Haq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category