11/12/2025
گزشتہ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر ڈاکٹرز کے بارے میں سخت اور بعض اوقات غیرمنصفانہ گفتگو عام ہو گئی ہے۔ ڈاکٹرز کے فارما انڈسٹری سے کمیشن، تحائف، غیرضروری، غیر معیاری ادویات تجویزکرنا جیسے الزامات مسلسل دہرائے جاتے ہیں۔ میں ان باتوں کی مکمل تردید نہیں کرتا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جو لوگ پیدائشی طور پر بدعنوان ہوتے ہیں وہ ڈاکٹر بنتے ہیں یا ہمارا بگڑا ہوا معاشرتی نظام، کرپشن کلچر اور مختلف دباؤ ایک محنتی اور مخلص نوجوان کو غلط راستوں کی طرف دھکیل دیتے ہیں؟
یہ حقیقت ہے کہ میڈیکل میں آنے والے نوجوان علمی اور محنت کے اعتبار سے نمایاں ہوتے ہیں۔ اگر اس پیشے کو مسلسل بدنام کیا جاتا رہا تو قابل اور محنتی طلبہ دیگر شعبوں کا انتخاب کر لیں گے، جس سے نقصان براہِ راست معاشرے کو ہوگا۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ جب پورا معاشرہ عدم شفافیت اور کرپشن کا شکار ہو اور کچھ شعبوں میں کرپشن کو نارمل لیا جاتا ہو تو کسی ایک پیشے سے یہ توقع کرنا کہ وہ تنہا پاکیزہ رہے گا، حقیقت پسندانہ نہیں۔ ادویات پر کمیشن بھی اسی نظامی خرابی کی پیداوار ہے۔ دواؤں کی پرنٹڈ قیمت (MRP) اصل لاگت سے کہیں زیادہ حکومت طے کرتی ہے، ڈاکٹر نہیں۔ جب قیمت میں غیرضروری اضافہ ہو تو فارما کمپنیاں اسی مارجن کو مراعات اور تحائف کی صورت میں مارکیٹنگ ہتھیار کے طور پراستعمال کرتی ہیں۔ اسے مکمل طور پر ڈاکٹرز کی غلطی قرار دینا درست نہیں۔ فارماکمپنیاں آفر کرتی ہیں ڈاکٹر نہیں ڈیمانڈ کرتا۔
یہ بھی سچ ہے کہ کچھ ڈاکٹرز اس عمل کا حصہ بنتے ہیں، مگر اکثریت ایسا نہیں کرتی۔ اس لیے چند افراد کی بنیاد پر پورے پیشے کو مشکوک بنانا نہ مناسب ہے نہ منصفانہ۔
میڈیکل پروفیشن بنیادی اور لازمی خدمت ہے، اور معاشرہ کسی صورت ڈاکٹرز سے بےنیاز نہیں ہوسکتا۔ اس لیے صرف تنقید یا بدنامی مسئلے کو حل نہیں کرتی بلکہ نفرت اور بداعتمادی بڑھاتی ہے، جس سے ڈاکٹر–مریض تعلق کمزور پڑتا ہے اور ہمدردانہ رویّہ متاثر ہوتا ہے
اس سارے مسئلے کے حل کےلئے ادویات کی قیمتیں حقیقی لاگت کے مطابق مقرر کی جائیں اضافی مارجن کم کیا جائے تاکہ فارما کمپنیوں کے مارکیٹنگ ماڈل کی اصلاح ہو۔ مارکیٹ کمپیٹیشن دوا کی کوالٹی پر منحصر ہو اور ہسپتالوں اور کلینکس میں شفافیت کے ضابطے نافذ ہوں اور عوام کو صحیح آگاہی دی جائے، صرف تنقید نہ کی جائے اور یہ کہنا کہ صرف ڈاکٹر ذمہ دار ہیں حقیقت کا ایک پہلو تو ہوسکتا ہے لیکن پورا سچ نہیں۔ڈاکٹرز Conflict of Interests کا خاص خیال رکھیں اور دوا لکھتے وقت صرف اور صرف مریض کے Best intrests مد نظر ہوں ۔ ہمارے قانون میں فارما کمپنیوں کے ساتھ Relations کی Ethical Guidelines موجود ہیں ان پر عمل کرنا ڈاکٹر کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اور عوام سے التماس ہے لوگوں کے دلوں میں ڈاکٹرز کے بارے میں غلط اور غیر تصدیق شدہ باتیں نہ پھیلائیں۔ اگر آپ عزت نہیں دیں گے تو Patient - Doctor Relation کو بہت نقصان پہنچتا ہے لوگوں کا اعتماد ختم ہوتا ہے جو شفا کے لیے ضروری ہے۔
Dr Ghulam Shabbir
MBBS, FCPS, MRCP, FRCP, LLM (Med Laws & Ethics)