Mind Healer

Mind Healer providing online counseling and psychotherapeutic services.

02/06/2025
Hey guys!We are going to form a whatsapp group for preparation of PPSC. Come and join us.IT'S totally free!!Whatsapp joi...
15/05/2022

Hey guys!
We are going to form a whatsapp group for preparation of PPSC. Come and join us.
IT'S totally free!!
Whatsapp join link

WhatsApp Group Invite

Truth..👇
08/08/2021

Truth..👇

👍
08/08/2021

👍

07/08/2021

اپنی بیٹیوں کو " نور مقدم سینڈروم " سے بچائیں !

ظاہر جعفر کو سزا سے بچنے کے لیے تین فائدے حاصل ہیں۔
1- امریکی شہری
2- ذہنی مریض
3- دولت
یہ تینوں فائدے ملکر ایک اور " ریمنڈ ڈیوس " تخلیق کر سکتے ہیں جس پہ میرا یا آپ کا کوئی اختیار نہیں ہے !

جس چیر پہ میرا اور آپ کا اختیار ہے وہ یہ ہے کہ " اپنی بیٹیوں کو ان ذہنی مریضوں کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچائیں!"

سب سے اہم بات یہ ہے کہ بجائے اس کیس کو چھپانے اور آئیں بائیں شائیں کرنے کے اپنے بچوں اور خاص طور پہ بیٹیوں کے ساتھ اس کو ڈسکس کریں۔ انہیں یہ حقائق زور دے کر سمجھائیں۔

1- انہیں سمجھائیں کہ اپنی جان کی حفاظت انہیں خود کرنی ہے۔

2- چاہے کوئی لڑکا یا شوہر انہیں کتنا ہی پسند کیوں نہ ہو انہیں اس کی پہلی گالی، پہلی چیخ وپکار اور پہلے تھپڑ پہ ہی شدید احتجاج کر کے اسے روکنا ہوگا۔ اس فینٹسی کا شکار مت ہوں کہ " کیا ہوا مارتا یا گالیاں دیتا ہے۔ شاپنگ بھی تو کراتا ہے "
یہ ایک ذہنی مریض کا حوصلہ بڑھانے والی سوچ ہے۔

3- تھرڈ کلاس ڈرامے دیکھ دیکھ کر اپنے آپ کو ضائع مت کریں۔

4- چھوٹے چھوٹے تحفے پانے کے لئے خود کو اتنا مت گرائیں کہ ایک دن آپ کا سر دھڑ سے جدا کر دیا جائے۔

5- ہمیشہ یاد رکھیں کہ جو لڑکا آپ کو شادی سے پہلے بستر میں لے جائے گا وہ کبھی آپ سے شادی نہیں کرے گا۔ بلکہ آپ کی وڈیوز بنا کر دوستوں کے ساتھ انجوائے کرتا رہے گا۔

6- اگر آپ کی بیٹی یا بیٹا شادی کی عمر کو پہنچ گیا ہے تو بلاوجہ شادی میں دیر مت کریں۔ جلد از جلد ان کی شادیاں کر دیں۔ تاکہ وہ کسی قسم کی فضولیات میں نہ پڑیں۔ پڑھائی وغیرہ بعد میں بھی مکمل کی جاسکتی ہے۔

7- بچوں کے کمروں اور الماریوں پہ نظر رکھیں۔ جو چیزیں آپ نے انہیں خرید کر نہیں دیں لیکن وہ چیزیں ان کے پاس موجود ہیں تو ان کی موجودگی پہ خوش ہونے کی بجائے سختی سے سوال کریں۔

8- بغیر اجازت بچوں کو کسی کے گھر جانے پہ منع کریں۔ جن بچوں سے وہ ملتے ہیں ان کے والدین سے خود بات کرتے رہیں۔

9- کبھی بچوں کے چہرے یا جسم پہ کوئی چوٹ کا نشان نظر آئے تو اسے نظر انداز کرنے کی بجائے اس کی تفتیش کریں۔

10- بیٹیوں کو خاص طور پر سمجھائیں کہ اب " بہشتی زیور کے مجازی خدا " کا زمانہ گزر چکا ہے۔ اگر اسے اپنے شوہر سے شکایت ہے کہ وہ ذہنی یا جسمانی تششدد کرتا ہے تو اس کی " عزت " رکھنے کی بجائے اپنے ماں باپ سے اس کا ذکر کرے۔ آپ والدین بھی " زمانہ کیا کہے گا " کا پہاڑا پڑھنے کی بجائے اپنی بیٹیوں کو ان خر دماغ شوہروں سے بچائیں۔

یاد رکھیں کہ اپنے بچوں کی صحت و سلامتی سے کچھ بھی اہم نہیں ہے !
یہی اللہ اور رسول کا حکم ہے۔
یہی اخلاقیات کا تقاضا ہے۔
اور یہی انسانیت پہ اعتبار قائم رکھنے کا واحد راستہ ہے !

اللہ سوہنا ہم سب کے بچوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور انہیں نور مقدم اور ظاہر جعفر بننے سے بچائے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین 🙏🏻

17/06/2021

19/05/2021

چھوٹے بچوں کے والدین متوجہ ہوں۔ بار بار یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ دو تین سال کا بچہ ہر وقت ہمارا فون پکڑ کر بیٹھا رہتا ہے۔ سکرین کبھی فون، کبھی ٹیب، کبھی ٹی وی، کبھی کمپیوٹر کی شکل میں اسکے سامنے رہتی ہے۔ اسکی addiction کیسے ختم کی جائے۔
سچی بات تو یہ ہے کہ بچوں کی اس فون اڈِکشن کے ذمہ دار ماں باپ خود ہیں۔ چھوٹے سے بچے کو نان سٹاپ سکرین دی ہی کیوں جاتی ہے؟ چند ماہ کے بچے کو ہم فون پر ٹیونز اور کارٹونز لگا کر اس کو بہلاتے ہیں۔ وہ معصوم جب ہاتھ بڑھا کر فون مانگتا ہے تو اس حرکت کو خوب انجوائے کرتے ہیں، اور ہر ایک کے سامنے کر کر کے دکھاتے ہیں جس سے بچے کو یہی تاثر ملتا ہے کہ بہت اچھا کام کر رہا ہے۔ جب اسکی عادت پکی ہو جاتی ہے اور فون نہ پکڑانے پر وہ روتا ہے تو اس کو ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں حالانکہ ڈانٹ کا اصل حقدار یہاں بچے کے علاوہ کوئی ہے :)
اب آئیے مسئلے کے حل کی طرف!
سب سے پہلے تو فون میں سے ہر قسم کی گیمز وغیرہ ڈیلیٹ کر دیں۔ اس پر پاس ورڈ لگائیں۔ اسکو بچے کی پہنچ سے دور رکھیں۔ جب وہ مانگے تو سہولت سے اسکو بتائیں کہ بیٹا وہ ماما کے کام کی چیز ہے، بچے اپنے کھلونوں سے کھیلتے ہیں۔ اور ساتھ ہی اسکا دھیان کسی اور طرف بٹائیں کہ فون کو جانے دیں، آئیں ہم play dough سے کھیلیں یا آئیں ایک مزے کی ایکٹیویٹی کرتے ہیں۔ اب کیا ایکٹیوٹی کی جائے؟ اگر تو آپ کچن میں ہیں، اسے کچن میں ہی کچھ کرنے کو دے دیں۔ نیچے شیٹ بچھا کر تھوڑا سا میدہ برتن میں ڈال دیں۔ ساتھ میں پانی بھی پکڑا دیں۔ وہ بیٹھ کر آٹا گوندھتا رہے۔ یا آٹے کا چھوٹا سا پیڑہ اسکو پکڑا دیں اور ساتھ میں خشک آٹا، وہ روٹیاں بنا لے۔ ایک دو پلاسٹک کے برتن سنک میں رکھ دیں اور سنک کے ساتھ کرسی پر کھڑا ہو کر برتن دھو لے۔ اگر آپ ڈسٹنگ کر رہی ہیں تو ایک چھوٹی سپرے والی بوتل اور ایک کپڑا اسکو بھی دے دیں کہ صفائی کرے۔ چھوٹا وائپر پکڑا دیں کہ باتھ روم میں سے وائپر لگا دے یا شیشے صاف کر لے۔ الغرض، گھر کے جس حصے میں بھی آپ ہیں، اسکو اپنے ساتھ مصروف کر لیں۔ آپکا کام تھوڑا سا بڑھ جائے گا۔ وہ شیشے جو بچے نے "صاف" کیے ہیں، دوبارہ صاف کرنے پڑیں گے۔ باقی کام بھی اسی طرح۔ لیکن اسکی بہت تعریف کریں کہ وہ ماما کی کتنی مدد کر رہے ہیں اور ماما کو ان پر کتنا فخر ہے۔ دوسری بات یہ کہ جب خود بچے کی صاف کی ہوئی چیزوں کو ٹھیک سے صاف کرنا ہو، اسکے سامنے نہ کریں تا کہ اس کا دل خفا نہ ہو۔ بچے میں اس سے بہت اعتماد آتا ہے کہ وہ گھر کا ایک فعال رکن ہے، گھر کا کوئی کام اسکی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔ اور پھر چونکہ والدین بچوں کے رول ماڈل ہوتے ہیں اور وہ انہیں کاپی کرنا چاہتے ہیں تو انکی یہ خواہش بھی پوری ہو جاتی ہے۔ سب کے سامنے اسکی تعریف کریں کہ میرا بیٹا ہر تو میرا ہیلپر ہے۔
بچے کے لئے چھوٹی سپرے والی بوتل، چھوٹا وایپر، چھوٹا ایپرن، برتن مانجھنے کے لئے کوئی مخصوص برش، صفائی کے لئے کوئی خاص کپڑا وغیرہ چلتے پھرتے خرید لیں۔ ان چیزوں کو اپنی جگہ واپس رکھنا بھی اسکے ذمے لگائیں۔ اس سے بچے میں ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
باقاعدہ ایکٹیوٹیز کے لئے فیس بک پر ڈھیروں پیجز ہیں۔ pinterest پر کتنے ہی آئیڈیاز ہیں۔ وہاں سے کوئی بھی آئیڈیاز لیں۔ بچہ کھیل کھیل میں ہی بہت کچھ سیکھ بھی لے گا اور سکرین سے بھی دور رہے گا۔ دراصل بچے کو سکرین کے آگے بٹھا دینے سے ہمارا کام بہت آسان ہو جاتا ہے کہ بس وہ اپنی الگ دنیا میں گم ہے اور ہم نے آرام سے اپنا کام کر لیا۔ بعد میں پھر ہم ہر ایک کے سامنے روتے رہتے ہیں کہ بچہ سکرین کے آگے سے نہیں ہٹتا۔ آپ اسکو کوئی اچھا متبادل دیں، وہ ضرور سکرین چھوڑ دے گا۔ اگر کچھ دیر اسکو باہر کھیلنے دیا جا سکے تو بھی بہت اچھا ہے۔ مٹی سے کھیلے، پتھر، ٹہنیاں اکٹھی کرے۔ گھر آ کر ان کو پینٹ کر لیں۔ ٹہنیوں پر پھول پتے بنا کر چپکا لیں۔ چھوٹے پتھر دھو کر ان پر پینٹ کر لیں اور بابا کو آفس کے لئے paper weight کے طور پر گفٹ کر دیں۔ بچے کا اعتماد بہت بڑھ جاتا ہے ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے۔
کچھ پیجز کے نام یہاں دیتی ہوں۔ چھوٹے بچوں کے لئے اچھی ایکٹیویٹیز ہیں۔ اور جیسے میں نے پہلے کہا کہ pinterest پر بھی activities for a toddler/preschooler, 2-3 year old وغیرہ سرچ کریں تو بہت کچھ مل جائے گا۔
Happy hooligans
pre-k pages
teaching 2 and 3 year olds - activities for toddlers and preschoolers
activities for babies and toddlers
hands on as we grow - activities for toddlers and preschoolers
یہ پیجز دیکھیے۔ بچوں کے ساتھ مزے کی ایکٹویٹیز کیجیے۔ آج آپ انکے ساتھ وقت نہیں گزاریں گے، کل وہ آپ کے ساتھ وقت گزارنے کے عادی ہی نہیں ہونگے۔ اپنے آپ پر اور اپنے بچوں پر ظلم نہ کریں۔
ان تمام کاموں کے ساتھ ساتھ روزانہ، بلا ناغہ بچوں کو کوئی نہ کوئی کتاب پڑھیں۔ دینی کہانیاں بھی سنائیں، خود سے گھڑ کر بھی سنائیں لیکن باقاعدہ کتاب سے پڑھ کر سنانا اسلئے ضروری ہے کہ کتاب کی محبت، عزت اور عادت شروع سے ہی بچے کے دل میں ہو۔
جب کوئی اصول بنائیں تو پھر اس پر سختی سے عمل پیرا ہوں۔ بچے کے رونے پر آپ ایک بار ہتھیار ڈال دیں گے، اگلی بار اسکو معلوم ہو گا کہ رونے سے کام نکل سکتا ہے۔ وہ اور زیادہ ضد کرے گا جب تک کہ بات منوا نہ لے۔ اسکو سمجھائیں، نرم لیکن مضبوط لہجے میں بتائیں کہ چیز اسکو نہیں مل سکتی اور ساتھ ہی متبادل کے طور پر کوئی اور کام کرنے کو دیجیے۔ اگر ایک تین یا چار سالہ بچے کے آگے آپ خود کو بےبس محسوس کرتے ہیں تو جب وہ ٹین ایجر ہو گا، اس وقت کیا کیجیے گا؟

24/04/2021

 IT OutAll psychological issues occur when we do not share our feelings. What we feel, what we face these leads to psych...
23/04/2021

IT Out
All psychological issues occur when we do not share our feelings. What we feel, what we face these leads to psychological distress. IT Out is a slogan we are introducing to speak up what you have in your inner and be calm.

Negative thinking predominantly is fear or apprehension based. In simpler words, this means, that fear of the unknown, f...
15/04/2021

Negative thinking predominantly is fear or apprehension based. In simpler words, this means, that fear of the unknown, fear of the inability to cope, or anything else that you fear, can trigger negative thought patterns inside your head.
A common cold, exhaustion, stress, hunger, sleep deprivation, even allergies can make you depressed, which leads to negative thoughts. In many cases, depression can be caused by negative thinking, itself.These distortions are usually used to reinforce negative thinking or emotions.
Here is an exercise to deal with negative thoughts.

1. Take out a piece of paper or open a writing software on your computer or mobile.

2. List every negative thought you have. Once you've listed everything down, don't stop,

3. Make another column or a separate list. Now, for every negative thought, write at least one positive thought.

If you are having such issues or other issues related to psychological problems.
Contact us at
☎ +92 3247646509
📨 mindhealer098@gmail.Com

Address


MDEXECUTIVEANDCLINICSHOSPITALOPPOSITEQUAID-E-AZAMPARK

Telephone

+923247646509

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mind Healer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Mind Healer:

  • Want your practice to be the top-listed Clinic?

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram