28/01/2026
آج او پی ڈی میں ایک صاحب اپنے بچے کو لے کر آئے میں نے انہیں فوراً پہچان لیا مگر جان بوجھ کر انجان بنے رہنے کو بہتر سمجھا۔ کیونکہ میں انہیں صرف ایک چہرے کے طور پر نہیں بلکہ اخلاق، شرافت اور وقار کی علامت کے طور پر پہلے سے جانتا تھا۔
مجھے معلوم تھا کہ یہ شخصیت دنیاوی اعتبار سے کس قدر بڑے منصب پر فائز ہے مگر میں نے ہرگز یہ ظاہر نہ ہونے دیا کہ میں انہیں پہچان چکا ہوں۔
او پی ڈی میں اُس وقت پانچ مریض پہلے سے موجود تھے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں اگر کوئی افسر، ڈاکٹر، بااثر فرد یا کسی بڑے عہدے والا شخص آ جائے تو عموماً وہ انتظار نہیں کرتا بلکہ قطار کو نظر انداز کر کے سیدھا اندر آ بیٹھتا ہے۔
مگر یہ شخص خاموشی سے ایک طرف بیٹھا رہا۔ پہلا مریض گیا، دوسرا گیا، تیسرا، چوتھا، پانچواں۔ تقریباً دس سے بارہ منٹ تک وہ پورے وقار کے ساتھ انتظار کرتا رہا۔
نہ کوئی گارڈ تھا، نہ کوئی پروٹوکول، نہ کوئی احساسِ برتری۔ بس ایک عام باپ اپنے بچے کے لیے قطار میں کھڑا تھا۔
جب بچے کا معائنہ مکمل ہوا تو میں نے سامنے بیٹھے ٹرینیز اور ہاؤس آفیسرز سے کہا کہ آج آپ ایک ایسے انسان سے ملے ہیں جو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اصل عظمت عہدے میں نہیں بلکہ کردار میں ہوتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اصولوں کی پاسداری سے پروٹوکول کو شکست دیتے ہیں اور عمل سے ثابت کرتے ہیں کہ عوامی خدمت کا اصل مطلب کیا ہے۔
تب میں نے بتایا کہ یہ شخصیت کون ہیں۔ یہ ہیں موجودہ رکنِ صوبائی اسمبلی جن کی گونجدار آواز اسمبلی میں سنی جاتی ہے، جن کی تقاریر اثر رکھتی ہیں مگر جن کی سادگی دل جیت لیتی ہے۔ احسان اللہ میاں خیل صاحب۔
میں نے ان کے ساتھ تصویر اس لیے نہیں بنائی کہ وہ ایم پی اے ہیں بلکہ اس لیے کہ میں نے ایک ایم پی اے کے روپ میں ایک اعلیٰ ظرف انسان دیکھا اور ایسے انسان کے ساتھ تصویر میرے لیے فخر کی بات ہے۔
اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو سلامت رکھے کیونکہ یہی لوگ معاشروں کی اصل پہچان ہوتے ہیں۔