01/03/2026
صبح سے دل بے چین ہے بھلے ہی صبح سے میں مریضوں کا معائنہ کر رہا کلینک میں لیکن ذہن میں یہ ایک تصویر اٹک سی گئی ہے اس تصویر کو دیکھنے کے بعد ایک عجیب سی کسک دل میں اتر گئی ہے۔ آج پہلی بار اس حدیث کی گہرائی پوری طرح سمجھ آئی کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، اگر جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہو تو باقی جسم بھی بے چین ہو جاتا ہے۔ جب امت کا ایک حصہ زخمی ہو تو درد سرحدوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ دلوں میں اتر جاتا ہے۔
یہ فقط ایک کالم نگاری نہیں یا ایک لکھائی اور تحریر نہیں بلکہ میرے ذاتی دلی جذبات کی عکاسی ہے
میں نے نہ کبھی اس لیڈر کے تمام خطابات سنے اور نہ ہی اس کی سیاسی تفصیلات سے زیادہ واقف ہوں۔ نہ مجھے بین الاقوامی معاملات کی باریکیوں پر عبور ہے اور نہ قومی سیاست کو سمجھنے کا دعویٰ ہے۔ لیکن بعض چہرے ایسے ہوتے ہیں جن کی باڈی لینگویج، آنکھوں کی چمک اور لہجے کی سچائی دل کو گواہی دے دیتی ہے کہ یہ شخص کسی ذاتی مفاد کا نہیں بلکہ کسی نظریے کا مسافر ہے۔ اس نورانی چہرے کو دیکھ کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہ وجود حسینیت کی راہ پر چلنے والوں میں سے ہے، وہ راہ جس میں سر کٹ جاتے ہیں مگر اصول نہیں جھکتے۔
درد اس بات کا نہیں کہ آزمائش آئی ہے کیونکہ امت کی تاریخ آزمائشوں سے بھری پڑی ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم تعداد میں بہت زیادہ ہیں مگر اتحاد میں کمزور ہیں۔ ہمارے جذبات تو گرم ہیں مگر عمل میں سرد مہری ہے۔ ایمان کے دعوے تو بلند ہیں مگر ایمان کی طاقت کمزور دکھائی دیتی ہے۔ کروڑوں کی تعداد ہونے کے باوجود اگر ہم دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہ کر سکیں تو سوال ہماری تعداد پر نہیں بلکہ ہماری کیفیت پر اٹھتا ہے۔
علامہ اقبال نے کہا تھا کہ ایک ہو مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے، نیل کے ساحل سے لے کر تاب خاک کاشغر۔ لیکن ہم نے اس خواب کو صرف شعر سمجھ لیا، اسے اپنا مقصد نہیں بنایا۔
کچھ حکمران شاید اس خوش فہمی میں ہیں کہ خاموشی انہیں بچا لے گی، حالانکہ تاریخ یہ سکھاتی ہے کہ مصلحت وقتی تحفظ تو دے سکتی ہے مگر دائمی عزت نہیں دے سکتی۔ دوستی کے سراب میں حقیقت کو بھول جانا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔
آج دل صرف یہ دعا کرتا ہے کہ اللہ ہمیں تعداد کی نہیں بلکہ کردار کی طاقت دے۔ ہمیں نعروں کی نہیں بلکہ عمل کی توفیق دے۔ ہمیں خوف کے بجائے ایمان کے ساتھ جینے کا حوصلہ عطا فرمائے۔ کیونکہ جب ایمان زندہ ہوتا ہے تو کمزور جسم بھی تاریخ بدل دیتا ہے، اور جب ایمان کمزور ہو جائے تو بڑی تعداد بھی بے اثر ہو جاتی ہے۔
اللہ اس امت کو بیداری عطا فرمائے، اتحاد عطا فرمائے اور ہمیں حق کے ساتھ کھڑے ہونے کی ہمت دے، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔