15/01/2026
عجیب معاملہ ہے۔ مولوی فارغ ہے۔
ڈاکٹر سے کنسلٹ کرنے کی فیس ہے، وکیل سے مشورے کی فیس ہے،بیرون ملک پڑھائی یا تجارت کے متعلق کنسلٹ کرنے کی فیس ہے،پلاٹ یا مکان کے متعلق رہنمائی پر پراپرٹی ڈیلر کا کمیشن ہے۔بروکر کا کمیشن ہے۔ دلال کا کمیشن ہے۔پولیس کے ٹاوٹ کا کمیشن ہے۔ بس کے اڈے پر کھڑے ہاکر کا کمیشن ہے، کسی سرکاری مسئلے میں مدد کرنے والے کا کمیشن اور کام کرنے والے سرکاری اہلکار کی رشوت طے ہے، ہر شخص کا وقت قیمتی ہے، دنیاوی معاملے میں ہر شخص کے وقت اور علم کی قیمت ہے۔سوائے عالم دین کے، کروڑوں کی وراثت کا حساب لگوانا ہو، اربوں کی زکوۃ کا معاملہ ہو، نکاح یا طلاق کے مسائل کا معاملہ ہو،مولوی صاحب کو فون کیا جائے گا اور یہ اس پر آسمانی فرض ہے کہ وہ توجہ سے سائل کا مسئلہ سنے،فی الفور فتوی دے،مسئلہ حل کرے، اس کی کوئی فیس نہیں۔ نہ اس کے علم کی، نہ کنسلٹینسی کی، نہ وقت کی۔ہاں اسے چاہئے سارا علم ،سارا وقت معاشرے کو مفت میں دے۔ جب کوئی آواز دے ،یہ میسر و موجود رہے،دنیا کمانے میں غرق لوگوں کی آخرت و دین کا تحفظ کرے، آپے سے باہر آئے ہر شخص کی کڑوی کسیلی سن کے نبوی اخلاق کا نمونہ بن جائے، بچوں اور بیماروں کو دم شم بھی کر دے، ایک منٹ اذان یا نماز لیٹ نہ ہونے دے، کوشش کرے، مسجد میں صفائی ستھرائی اور دیگر انتطامات بھی دیکھے، چندہ وغیرہ کم ہو تو انتظامیہ کے حکم پر چندہ اکٹھا کرنے کی سروسز بھی دے، جمعہ عید پر جب ساری دنیا چھٹی منائے یہ اضافی طور دستیاب رہے اور ہاں سارا وقت سماج کو دینے کے بعد جائے کچھ کما مر بھی لے،معاشرے پر بوجھ بن کے نہ بیٹھا رہے۔روزی روٹی کیلئے کچھ سیکھ ویکھ بھی لے۔
منقول