28/12/2025
تیمرگرہ میڈیکل کالج کے خلاف پروپیگنڈے پر تفصیلی وضاحت
🔹 بے بنیاد پروپیگنڈا:
تیمرگرہ میڈیکل کالج کے بارے میں سوشل میڈیا پر بے بنیاد اور من گھڑت پراپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے، جس کا مقصد لوئر دیر کے عوام میں مایوسی اور نااُمیدی پیدا کرنا ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
🔹 ابتدائی بے قاعدگیاں اور قانونی کارروائی:
منصوبے کے آغاز میں بعض بے قاعدگیاں سامنے آئیں، جنہیں بروقت متعلقہ فورمز پر اٹھایا گیا۔ منتخب عوامی نمائندگان (ایم پی ایز) نے ان معاملات کو صوبائی اسمبلی کے فلور پر بھرپور انداز میں اجاگر کیا، جبکہ صوبائی اسمبلی کی متعلقہ ہیلتھ اسٹینڈنگ کمیٹی ان معاملات پر کام کر رہی ہیں۔ ہمیں پوری امید ہے کہ تمام امور کو شفاف اور قانونی طریقے سے نمٹا لیا جائے گا۔
🔹 موجودہ ترجیحات:
موجودہ حالات میں اس اہم منصوبے کو مزید تاخیر کا شکار بنانے کا کوئی جواز نہیں۔ ہماری اولین ترجیح تیمرگرہ میڈیکل کالج کو ہر صورت فعال بنانا اور کلاسز کا باقاعدہ آغاز یقینی بنانا ہے، کیونکہ اس منصوبے پر پہلے ہی قیمتی وقت ضائع ہو چکا ہے۔ ان شاء اللہ انکوائریاں اور قانونی کارروائیاں اپنے مقررہ دائرہ کار میں متوازی (Parallel) طور پر جاری رہیں گی۔
🔹 پرنسپل کی قیادت اور پیش رفت:
نئے تعینات ہونے والے پرنسپل تیمرگرہ میڈیکل کالج، پروفیسرسیدالا آبرار (لخکر خان)، نے محض دو ماہ کی قلیل مدت میں بھرپور محنت، لگن اور یکسوئی کے ساتھ ایک نکاتی ایجنڈے پر کام کیا ہے، جس کا مقصد کالج کو جلد از جلد فعال اور آپریشنل بنانا ہے۔ ان شاء اللہ ان کی قیادت میں یہ دیرینہ خواب بہت جلد شرمندۂ تعبیر ہوگا۔
🔹 پی ایم ڈی سی منظوری اور فیکلٹی انٹرویوز:
پی ایم ڈی سی (PMDC) سے منظوری کے عمل کے تحت 10 دسمبر کو ایڈہاک بنیادوں پر فیکلٹی کی بھرتی کے انٹرویوز منعقد کیے جا چکے ہیں۔ اگرچہ پی ایم ڈی سی سے منظوری ایک مشکل اور چیلنجنگ مرحلہ ہے، تاہم پرنسپل کی مدبرانہ سوچ، وژنری قیادت اور منتخب عوامی نمائندگان کے بھرپور تعاون سے ان شاء اللہ یہ ہدف بہت جلد حاصل کر لیا جائے گا۔
🔹 اعلیٰ سطحی اجلاس اور حکومتی سرپرستی:
محترم وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایات پر سیکرٹری ہیلتھ اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کی زیرِ صدارت دو اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہو چکے ہیں، جن میں دیر لوئر کے تمام عوامی نمائندگان، پرنسپل تیمرگرہ میڈیکل کالج اور ان کی ٹیم نے شرکت کی۔ ان اجلاسوں میں کالج کو فعال بنانے کے لیے ایک جامع، قابلِ عمل اور مرحلہ وار منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔
🔹 مستقبل کی امید:
ان شاء اللہ تمام تر چیلنجز کے باوجود تیمرگرہ میڈیکل کالج بہت جلد فعال ہوگا اور کلاسز کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ یہ ادارہ لوئر دیر، اپر دیر، چترال اور باجوڑ جیسے پسماندہ اضلاع کے عوام کے لیے طبی تعلیم اور معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔