Dr. Azhar Tanvir Ahmad

Dr. Azhar Tanvir Ahmad Dr. Azhar Tanvir Ahmad
MBBS,MCPS,FCPS (Medicine)
Consultant Physician at DHQ Teaching Hospital
Senior Registrar Faisalabad Medical University (PMC)

02/09/2021
12/07/2021

اپنے بچوں کی پڑہائی لکھائی کے ساتھ ساتھ سپورٹس میں بھی حوصلہ افزائی کریں۔

🤣🤣
22/05/2021

🤣🤣

کزن میرجز کے نقصانات کیا ہیں اور یہ کتنے لمبے عرصہ تک چل سکتی ہیں؟ صحیح سلامت اولاد کے لئے کزن میرج فقط پچاس سال تک ہی ک...
10/05/2021

کزن میرجز کے نقصانات کیا ہیں اور یہ کتنے لمبے عرصہ تک چل سکتی ہیں؟

صحیح سلامت اولاد کے لئے کزن میرج فقط پچاس سال تک ہی کامیاب چل سکتی ہے بعد میں خاندان بیماریوں کا گڑھ بن جاتا ہے اور لوگ اسے جادو ٹونے کا نام دے دیتے ہیں حالانکہ یہ سب بیماریاں کزن میرج کا نتیجہ ہوتی ہیں۔

فرسٹ کزن میرج جو کہ حقیقی طور پہ کزن میرج کہلوائی جا سکتی ہے وہ زیادہ سے زیادہ تین یا چار جنریشنز تک درست چل سکتی ہے۔ اس سے زیادہ میں بہت سی جینیاتی بیماریاں آ جاتی ہیں۔جن میں نفسیاتی مسائل جیسا کہ "جن چمٹ جانا" یا سکزو فرینیا سے لیکر بے اولادی تک سب ہیں۔

جیسا کہ اس وقت انگلینڈ میں مسلمان آبادی بس 5% ہے لیکن وہیں انگلینڈ کے ٹوٹل جینیاتی کیسز کا سب سے بڑا حصہ یہ آبادی رکھتی ہے جو کہ 30% ہیں۔ مطلب مسلمان آبادی کا بڑا حصہ کزن میرج کی وجہ سے جینیاتی بیماریوں کا شکار ہو چکا ہے۔

اس وقت پاکستان میں 29 ملین لوگ جنیٹک بیماریوں کا شکار ہیں جو کہ کزن میرج کا ہی نتیجہ ہیں۔ بیس کڑوڑ آبادی میں سے تین کڑوڑ جنیٹک ڈس آرڈر ایک بہت بڑا نمبر ہیں۔

اسی طرح سپین کے شاہی خاندان میں ایسی رسم تھی جس میں خون کو "پاک رکھنے" کی خاطر انٹربریڈنگ کی بجائے ان بریڈنگ کی جاتی تھی۔ پانچ جنریشن بعد پرنس چارلس پیدا ہوا جسکے سر کا سائز بہت چھوٹا، ٹانگیں پینسل جیسی اور وہ خوراک تک با آسانی نہیں نگل سکتے تھے۔ یہ خاندان چارلس دوئم کے بعد ختم ہو گیا تھا۔ کیونکہ چارلس بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔

اس سب کو ہم بائیولوجی میں Inbreeding coefficient سے جانتے ہیں۔ کزن میرج میں یہ coefficient 0.06 تک ہوتا ہے جبکہ پانچ جنریشنز کے بعد یہی کوایفشنٹ چارلس دوئم میں 0.2+ کی خطرناک ویلیو پہ چلا گیا تھا اسکا مطلب یہ تھا کہ ان میں جینیاتی تغیر بہت کم اور بیماریوں کے امکانات بہت زیادہ ہو چکے تھے۔

نیچے چارلس دوئم اور انکے والد کی تصویر موجود ہے۔ ایسی شادیوں کے نتیجے میں لموترا چہرہ، تنگ تھوڑی بہت کامن ہے۔

اسی وجہ سے امریکہ کی زیادہ تر ریاستوں میں فرسٹ، سیکنڈ غرضیکہ ہر طرح کی کزن میرج پہ پابندی لگی ہوئی ہے جبکہ باقی کی مہذب دنیا بھی یہ جان چکی ہے۔

اگر ہم سادہ الفاظ میں بات کریں تو صحیح سلامت اولاد کے لئے کزن میرج فقط پچاس سال تک ہی کامیاب چل سکتی ہے بعد میں خاندان بیماریوں کا گڑھ بن جاتا ہے اور لوگ اسے جادو ٹونے کا نام دے دیتے ہیں حالانکہ یہ کزن میرج کا نتیجہ ہوتی ہیں۔

کزن میرج کے نتیجے میں درج ذیل بیماریاں ہوتی ہیں اپنے گرد دیکھ کر تصدیق بھی کر سکتے ہیں۔

پیدائش کے بعد جلد ہی بچے کی موت،
بے اولادی،
پری ٹرم یا ست ماہی پیدائش،
بچے کا مختلف جینیاتی بیماریوں کیساتھ پیدا ہونا،
تھیلیسیمیا،
مرگی،
ڈمب نیس (جو کہ بہت کامن ہے) ،
پڑھنے میں مشکلات کا سامنا (یہ بھی کامن ہے)
بہرہ پن،
ابارشن،
نظام انہضام کی بیماریاں
سکزوفرینیا یا پھر جن چمٹ جانا
بائی پولر ڈس آرڈر
اینڈ سو آن آپ اپنے گرد ان بیماریوں کو بہت زیادہ دیکھ سکتے ہیں۔

اسی طرح ذیابطیس کی اقسام بھی جینیاتی ہیں اور بہت سی فیملیز میں اسی وجہ سے یہ چل رہی ہیں کیونکہ وہاں کزن میرجز حد سے زیادہ ہیں۔

اس معاشرتی رویے کو ہم روک تو نہیں سکتے لیکن اپنے طور پہ اس رویے کی مخالفت ضرور کرنی چاہیے۔ اور شعور پھیلانے کی مکمل کوشش کرنی چاہیے۔
copied

سیلئیک بیماری یا گندم سے الرجی کے بارے میں مفید معلومات۔اگر آپ کا بچہ ٹھوس غزا پر منتقل ہونے کے بعد سے مسلسل کمزور ہو رہ...
08/04/2021

سیلئیک بیماری یا گندم سے الرجی کے بارے میں مفید معلومات۔اگر آپ کا بچہ ٹھوس غزا پر منتقل ہونے کے بعد سے مسلسل کمزور ہو رہا ہے یا اس کو دست لگے رہتے ہیں تو اسے سلئیک نامی بیماری ہو سکتی ہے

Address

Faisalabad

Opening Hours

Monday 10:00 - 22:00
Tuesday 19:00 - 22:00
Wednesday 19:00 - 22:00
Thursday 19:00 - 22:00
Friday 19:00 - 22:00
Saturday 15:00 - 18:00
Sunday 10:00 - 16:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Azhar Tanvir Ahmad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr. Azhar Tanvir Ahmad:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram