Shifa Labs

Shifa Labs Shifa International Hospital Islamabad Now Open its collection Point For Laboratory in Jail Road Allied Mor Near To Kips Collage Faisalabad.

Home Sample Collection Services Also Available. For Further Information Call 041-8781888
0305-8781888

25/08/2025

ماہرین کے مطابق پاکستان میں کینسر کے زیادہ تر مریض تیسرے یا چوتھے مرحلے میں تشخیص ہوتے ہیں۔ اس دوران علاج کے امکانات انتہائی محدود ہو جاتے ہیں۔ اکثر خاندان اپنی جمع پونجی علاج پر خرچ کرتے ہیں، تاہم تاخیر کے سبب بچنے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ صرف تین فیصد مریض ابتدائی اور قابلِ علاج مرحلے میں شناخت ہو پاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سوسائٹی آف میڈیکل اونکالوجی پاکستان کی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں کیا گیا۔

ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر پروفیسر شہزاد علی خان نے کہا کہ کینسر کی بروقت تشخیص انتہائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق بریسٹ کینسر کے پہلے مرحلے میں تشخیص اور علاج سے زندہ بچنے کے امکانات 99 فیصد تک ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں کینسر کے علاج کی سہولیات انتہائی محدود ہیں، اور ہر 10 لاکھ افراد کے لیے صرف ایک ماہر اونکالوجسٹ دستیاب ہے۔ ان کے بقول ریفرل سسٹم کی کمی اور آگاہی کا فقدان دیر سے تشخیص کی بڑی وجوہات ہیں۔

ماہرین نے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کے اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ ان کے مطابق خواتین میں چھاتی کا کینسر 31 فیصد، سر اور گلے کا 8.6 فیصد، پھیپھڑوں کا 5.6 فیصد اور بڑی آنت کا 5.1 فیصد ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں کینسر کے مریضوں کے لیے علاج کی جدید سہولیات اور سستی ادویات ناگزیر ہیں۔

Shifa Lab Jail Road Allied Morr Near kips collage Fsd

13/03/2025

شفا لیب جیل روڈ آلائیڈ موڑ نزد KIPS COLLEGE فیصل آباد
0418781888
03058781888

#صحتمندزندگی



26/02/2025
ایکیوٹ ریسپائریٹری ڈسٹریس سنڈروم (Acute Respiratory Distress Syndrome) یعنی اے آر ڈی ایس سانس کی بیماری ہے جو پھیپھڑوں ...
11/02/2025

ایکیوٹ ریسپائریٹری ڈسٹریس سنڈروم (Acute Respiratory Distress Syndrome) یعنی اے آر ڈی ایس سانس کی بیماری ہے جو پھیپھڑوں میں سوجن کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس سوجن کا سبب پھیپھڑوں کے اندر ہوا کے ننھے لچکدار خلیوں میں مائع جمع ہو جانا ہے۔ ان خلیوں کے گرد ایک حفاظتی جھلی ہوتی ہے جسے پھیپھڑوں میں سوجن کی وجہ سے نقصان پہنچتا ہے۔ خلیوں میں مائع جمع ہونے سے پھیپھڑوں میں ہوا نہیں بھر پاتی۔ اس وجہ سے خون میں آکسیجن کم شامل ہوتی ہے۔ جب اعضاء کو مطلوبہ مقدار میں آکسیجن نہیں ملتی تو وہ ٹھیک طریقے سے کام نہیں کر پاتے۔

اے آر ڈی ایس عام طور پر پہلے سے شدید بیمار لوگوں کو ہوتی ہے۔ یہ ان افراد کو بھی ہو سکتی ہے جنہیں کوئی بڑی چوٹ لگی ہو۔ چوٹ لگنے یا انفیکشن ہونے کے چند گھنٹوں یا دنوں کے اندر وہ سانس کی شدید کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ اس بیماری کی بنیادی علامت ہے۔ اس کے زیادہ تر مریض زندہ نہیں بچ پاتے۔ موت کا خطرہ عمر بڑھنے کے ساتھ اور بیماری کی شدت کے لحاظ سے بڑھ جاتا ہے۔ زندہ بچ جانے والے کچھ لوگ مکمل طور پر صحت یاب ہو جاتے ہیں، جبکہ کچھ کے پھیپھڑوں کو مستقل نوعیت کا نقصان پہنچتا ہے۔

علامات
علامات کی شدت مختلف لوگوں میں مختلف ہو سکتی ہے۔ اس کا انحصار مرض کے سبب یا پہلے سے دل یا پھیپھڑوں کی بیماری پر ہوتا ہے۔ علامات یہ ہیں:

٭ سانس کی شدید کمی

٭ تیز اور دقت سے سانس آنا

٭ کھانسی

٭ سینے میں تکلیف

٭ دل کی دھڑکن تیز ہونا

٭ الجھن اور شدید تھکن

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اے آر ڈی ایس چونکہ بالعموم کسی بڑی بیماری یا چوٹ کے بعد ہوتی ہے، اس لیے اس کے زیادہ تر مریض پہلے سے ہی ہسپتال میں داخل ہوتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو اور اے آر ڈی ایس کی علامات ظاہر ہوں تو بلاتاخیر قریبی ہسپتال کے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ میں رابطہ کریں۔ بہتر یہ ہے کہ ایمرجنسی نمبر پر مدد کے لیے کال کریں۔

وجوہات
مرض کی وجوہات یہ ہیں:

سیپسز(Sepsis) : اے آر ڈی ایس کا سب سے عام سبب خون کا ایک انفیکشن سیپسز ہے

شدید نمونیا: نمونیا کے شدید کیسز عام طور پر پھیپھڑوں کے پانچوں لوبز کو متاثر کرتے ہیں

کووڈ- 19: کورونا وائرس پھیپھڑوں کو نقصان پہنچانے اور ان میں سوجن کا سبب بن سکتا ہے۔ یوں اس کے شکار افراد کو اے آر ڈی ایس ہو سکتا ہے

سر یا سینے کی چوٹ: گرنے یا کار کو ٹکر لگنے سے پھیپھڑوں یا دماغ کے اس حصے کو نقصان پہنچ سکتا ہے جو سانس لینے کو کنٹرول کرتا ہے

مضر مادوں کا سانس کے ذریعے داخل ہونا: زیادہ دھوئیں یا کیمیائی گیسوں میں سانس لینا اے آر ڈی ایس کا سبب بن سکتا ہے اسی طرح قے میں یا پانی میں سانس لینا بھی اس کا سبب بن سکتا ہے

دیگر حالات اور علاج: لبلبے کی سوجن، بہت زیادہ بلڈ ٹرانسفیوژن، اور شدید جھلسنا بھی اے آر ڈی ایس کا باعث بن سکتا ہے۔

خطرے کے عوامل
٭ انفیکشن، مثلاً سیپسز، نمونیا یا کووڈ- 19ہونا، خاص طور پر اگر میٹابولک سنڈروم بھی ہو

٭الکوحل کی عادت

٭ تمباکو نوشی

پیچیدگیاں
اے آر ڈی ایس ہسپتال میں دوران علاج دیگر پیچیدگیاں بھی پیدا کر سکتی ہے۔ ان میں یہ شامل ہیں:

خون جمنا
ہسپتال میں بے حس و حرکت لیٹے رہنے کے دوران خون جمنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسا خاص طور پر اس وقت ہوتا ہے جب مریض وینٹی لیٹر پر ہو۔ ٹانگوں کی گہری رگوں میں خون جمنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اگر خون کا لوتھڑا ٹانگ میں بنے تو اس کا کوئی حصہ الگ ہو کر خون کی گردش کے ساتھ پھیپھڑوں میں بھی پہنچ سکتا ہے۔ ایسے میں خون کی روانی متاثر ہو سکتی ہے۔ اسے پلمونری ایمبولزم کہا جاتا ہے۔

پھپھڑے کا کام چھوڑ دینا
اے آر ڈی ایس کے زیادہ تر مریضوں کو وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ جسم میں زیادہ آکسیجن پہنچانے اور پھیپھڑوں سے مائع نکالنے میں مدد دیتی ہے۔ تاہم کچھ صورتوں میں پھیپھڑا کام کرنا چھوڑ سکتا ہے۔ اس کا سبب پھیپھڑے کے باہر کی طرف چھوٹے سوراخ سے گیس کا اندر داخل ہونا ہے۔

انفیکشنز
وینٹی لیٹر سانس کی نالی میں ایک ٹیوب سے جڑا ہوتا ہے۔ اس سے جراثیم کے لیے پھیپھڑوں میں انفیکشن پیدا کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

پھیپھڑوں کا سخت ہو جانا
اے آر ڈی ایس کے ابتدائی چند ہفتوں کے دوران پھیپھڑوں میں ہوا کے خلیوں کی نسیں موٹی یا داغ دار ہوسکتی ہیں۔ اس سے پھیپھڑے سخت ہو جاتے ہیں۔ یوں آکسیجن خون میں مشکل سے منتقل ہوتی ہے۔

السرز بننا
شدید بیماری یا چوٹ کی وجہ سے معدے میں اضافی تیزاب بن سکتا ہے۔ یہ اس کی لائننگ میں جلن پیدا کر کے السرز کا سبب بن سکتا ہے۔

سانس میں دقت
اے آر ڈی ایس کے بعد چند ماہ یا چند سالوں میں کچھ لوگوں کے پھیپھڑے ٹھیک کام کرنے لگتے ہیں۔ تاہم بعض افراد کو زندگی بھر سانس لینے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔ جو لوگ ٹھیک ہوتے ہیں، وہ بھی اکثر سانس کی کمی اور زیادہ تھکن محسوس کرتے ہیں۔ انہیں چند مہینوں تک گھر پر اضافی آکسیجن کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

ڈپریشن
زندہ بچ جانے والے زیادہ تر افراد کو ڈپریشن کا سامنا ہوتا ہے۔

یادداشت اور سوچنے میں دقت
بے ہوش کرنے والی ادویات اور خون میں آکسیجن کی کمی یادداشت میں کمی اور سوچنے یا سیکھنے میں دقت کا سبب بن سکتی ہے۔ بعض افراد میں یہ اثرات وقت کے ساتھ بہتر ہو جاتے ہیں، تاہم کچھ میں یہ زندگی بھر رہتے ہیں۔

تھکن اور پٹھوں کی کمزوری
ہسپتال میں رہنا اور وینٹی لیٹر پر ہونا پٹھوں کو کمزور کر سکتا ہے۔ علاج کے بعد بہت زیادہ تھکاوٹ محسوس ہو سکتی ہے۔

تشخیص
اے آر ڈی ایس - شفا نیوز

تشخیص بالعموم جسمانی معائنے، سینے کے ایکس رے اور خون میں آکسیجن کی سطح کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے۔ تاہم یہ علامات کچھ اور بیماریوں اور کیفیات میں بھی ظاہر ہوتی ہیں۔ اے آر ڈی ایس میں معاون ٹیسٹوں کی تفصیل یہ ہے:

امیجنگ ٹیسٹ
سینے کا ایکس رے یہ دکھا سکتا ہے کہ پھیپھڑوں کے کس اور کتنے حصے میں مائع جمع ہے اور کیا دل کا سائز بڑا ہو گیا ہے؟ ایک اور ٹیسٹ سی ٹی سکین ہے جو پھیپھڑوں اور دل کے اندر کی کیفیات کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرتا ہے۔

لیب ٹیسٹ
ایک آرٹری سے خون کا نمونہ لے کر اس میں آکسیجن کی سطح دیکھی جاتی ہے۔ خون کے کچھ اور ٹیسٹ انفیکشن یا دیگر طبی حالتوں کی علامات چیک کر سکتے ہیں۔ اگر پھیپھڑوں کے انفیکشن کا خدشہ ہو تو سانس کی نالی سے مائع کا نمونہ لیا جاتا ہے تاکہ انفیکشن کے سبب کا پتہ چلایا جا سکے۔

دل کے ٹیسٹ
اے آر ڈی ایس کی علامات امراض قلب کی کچھ علامات سے ملتی جلتی ہیں۔ اس لیے دل کے کچھ ٹیسٹ اس ضمن میں بھی تجویز کیے جا سکتے ہیں۔ مثلاً:

٭ الیکٹرو کارڈیو گرام دل کی برقی سرگرمی ٹریک کرتا ہے

٭ ایکو کارڈیو گرام یہ دکھاتا ہے کہ دل کے خانوں اور والوز میں سے خون کس طرح گزرتا ہے، یا دل کی ساخت میں کوئی تبدیلی تو نہیں آئی

علاج
اے آر ڈی ایس کے علاج کا پہلا مقصد خون میں آکسیجن کی سطح کو بہتر بنانا ہے۔ اس کے لیے یہ طریقے استعمال ہوتے ہیں:

اضافی آکسیجن: ہلکی علامات کی صورت میں یا عارضی علاج کے طور پر ناک اور منہ پر لگنے والے ماسک کے ذریعے آکسیجن فراہم کی جاتی ہے۔
میکانکی وینٹی لیشن: اے آر ڈی ایس کے زیادہ تر مریضوں کو میکانکی وینٹی لیٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ پھیپھڑوں میں ہوا پہنچاتا ہے اور ہوا کے خلیوں سے کچھ مائع نکالنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

مصنوعی دل اور پھیپھڑا
جب علاج کے دیگر طریقے مؤثر ثابت نہ ہوں تو ایک آپشن ایکسٹرا کورپوریئل ممبرین آکسیجینیشن (ای سی ایم او) بھی ہے۔ ای سی ایم او مشین ایک مصنوعی دل اور پھیپھڑا ہے۔ یہ ٹیوبز کے ذریعے خون نکال کر مصنوعی پھیپھڑے میں پمپ کرتا ہے۔ اس عمل میں آکسیجن شامل کی جاتی ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ نکالی جاتی ہے۔ پھر مشین خون کو واپس جسم میں شامل کردیتی ہے۔

پیٹ کے بل لیٹی پوزیشن
میکانکی وینٹی لیشن کے دوران پیٹ کے بل لیٹنے کی پوزیشن (پرون پوزیشن) پھیپھڑوں تک زیادہ آکسیجن پہنچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

مائع جات
اے آر ڈی ایس کے مریضوں کو دی جانے والی آئی وی مائع کی مقدار کو احتیاط سے دینا ضروری ہوتاہے۔ زیادہ مائع دینے سے پھیپھڑوں میں مزید مائع جمع ہو سکتا ہے۔ بہت کم مائع دینے سے دل اور دوسرے اعضاء پر دباؤ پڑتا ہے۔

ادویات
اے آر ڈی ایس کے مریضوں کو کچھ ادویات دی جاتی ہیں۔ ان کے مقاصد یہ ہیں:

٭ انفیکشن روکنا

٭ درد کم کرنا

٭ ٹانگوں اور پھیپھڑوں میں خون کو جمنے سے روکنا

٭ معدے میں تیزاب کا ریفلکس کم کرنا

٭ بے چینی کم کرنا

پھیپھڑوں کا ٹرانسپلانٹ
جب دیگر علاج مددگار ثابت نہ ہوں تو پھیپھڑوں کا ٹرانسپلانٹ ایک آپشن ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے مریضوں کا انتخاب بہت باریک بینی سے کرنا ہوتا ہے۔ یہ بالعموم وہ افراد ہوتے ہیں جو ایکیوٹ اے آر ڈی ایس ہونے سے پہلے صحت مند تھے۔



اگر آپ اے آر ڈی ایس سے صحت یاب ہو رہے ہیں، تو یہ تجاویز آپ کے پھیپھڑوں کی حفاظت میں مدد دے سکتی ہیں:

سگریٹ نوشی چھوڑیں: اگر آپ سگریٹ پیتے ہیں تو اسے چھوڑ دیں، اور جہاں تک ممکن ہو سیکنڈ ہینڈ سموک سے بھی بچیں

ویکسین لگوائیں: ہر سال فلو (انفلوئنزا) کی ویکسین لگوانا اور نمونیا کی ویکسین تجویز کردہ وقفوں پر لگوانا پھیپھڑوں کے انفیکشن کے خطرے کو کم کر سکتا ہے

پلمونری بحالی میں حصہ لیں: بہت سے طبی مراکز پلمونری بحالی کے پروگرام آفر کرتے ہیں۔ ان میں ورزش کی ٹریننگ، آگہی اور کاؤنسلنگ شامل ہوتی ہے۔ ان میں حصہ لیں۔

مرض کا مقابلہ اور سپورٹ
ہر مریض میں علامات کی شدت اور صحت یابی کی رفتار مختلف ہوتی ہے۔ اس کے باوجود انہیں درپیش چیلنجز سے آگاہ ہونا آپ کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ان تجاویز پر عمل کریں:

مدد مانگیں: روزمرہ کے کاموں میں دوسروں کی مدد حاصل کریں۔ یہ خاص طور پر اس وقت اہم ہے جب آپ ہسپتال سے گھر واپس آئیں۔

سپورٹ گروپس میں شامل ہوں: پھیپھڑوں کے مسائل کے شکار افراد کے لیے سپورٹ گروپس موجود ہیں۔ اپنے علاقے میں یا آن لائن گروپ ڈھونڈیں۔ مشترکہ تجربات رکھنے والوں کے ساتھ رابطے پر غور کریں۔

پیشہ ورانہ مدد حاصل کریں: اگر آپ میں مایوسی، معمول کے کاموں میں دلچسپی کی کمی یا ڈپریشن کی علامات ہیں تو اپنے ڈاکٹر یا نفسیاتی معالج سے رابطہ کریں۔ اے آر ڈی ایس کے مریضوں میں ڈپریشن عام ہے، اور علاج اس میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

Shifa Labs Jail Road Faisalabad
03058781888
0418781888

ایڈینو مائیوسس: بچہ دانی کی ایک بیماریایڈینو مائیوسس (Adenomyosis) زچگی سے متعلق ایک حالت ہے۔ اس میں بچہ دانی کی اندرونی...
07/02/2025

ایڈینو مائیوسس: بچہ دانی کی ایک بیماری

ایڈینو مائیوسس (Adenomyosis) زچگی سے متعلق ایک حالت ہے۔ اس میں بچہ دانی کی اندرونی پرت (اینڈومیٹریئم) کا ٹشو اس کی عضلاتی دیوار میں بڑھنے لگتا ہے۔ یہ ٹشو بھی ماہواری کے دوران عام اینڈومیٹریئم کی طرح ہی عمل کرتا ہے۔ یعنی موٹا ہوتا ہے، ٹوٹتا ہے اور خون بہتا ہے۔ اس عمل کی وجہ سے بچہ دانی کا سائز بڑا ہو سکتا ہے۔ لہٰذا خواتین کو شدید درد اور زیادہ خون بہنے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

عام طور پر مینوپاز کے بعد اس کے اثرات خود ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ اگر علامات شدید ہوں تو ہارمونل تھیراپی اس میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ مستقل علاج کے لیے بچہ دانی کو نکال دیا جاتا ہے۔

علامات
بعض اوقات ایڈینو مائیوسس کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی۔ کبھی محض ہلکی سی تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ اس وجہ سے سامنے آنے والی علامات یہ ہیں:

٭ زیادہ خون آنا یا زیادہ دن خون آنا

٭ ماہواری کے دوران پیٹ میں شدید مروڑ یا تیز درد (ڈس مینوریا)

٭ پیٹ میں مسلسل درد

٭ جنسی عمل کے دوران تکلیف ہونا

٭ بچہ دانی کا سائز بڑھ جانا۔ اس سے پیٹ کے نچلے حصے میں حساسیت یا دباؤ محسوس ہو سکتا ہے

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر ماہواری طویل ہو، اس دوران زیادہ خون آئے یا شدید درد ہو تو بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

وجوہات
ایڈینو مائیوسس کی حتمی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی، تاہم اس کے بارے میں ماہرین کے مختلف نظریات ہیں۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں:

دباؤ والے ٹشو کی افزائش
بچہ دانی کی اندرونی پرت بچہ دانی کے پٹھوں کی دیوار میں داخل ہو جاتی ہے۔ سرجری، مثلاً سی سیکشن کے دوران بچہ دانی کے کٹنے سے یہ سیلز دیوار میں داخل ہو سکتے ہیں۔

نشوونما سے متعلق وجوہات
ابتدائی مراحل میں اینڈومیٹریئل ٹشو (جو بچہ دانی کی اندرونی تہہ بناتا ہے) غلط طریقے سے بچہ دانی کے پٹھوں کی دیوار میں جمع ہو سکتا ہے۔

زچگی سے متعلق رحم کی سوزش
زچگی کے بعد رحم کی اندرونی تہہ میں سوزش ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں رحم کے سیلز کی ساخت میں خرابی آتی ہے۔ یہ خرابی ایڈینو مائیوسس کا سبب بن سکتی ہے۔

سٹیم سیل کے اثرات
ہڈیوں کے گودے میں موجود سٹیم سیلز بچہ دانی کے پٹھوں میں داخل ہو کر ایڈینو مائیوسس کا سبب بن سکتے ہیں۔

ایڈینو مائیوسس کسی بھی وجہ سے ہو، اس کی افزائش کا دارومدار ایسٹروجن کی سطح پر ہوتا ہے۔

خطرے کے عوامل

ایڈینو مائیوسس کے لیے خطرے کے عوامل یہ ہیں:

٭ رحم کی پچھلی سرجری جیسے سی سیکشن، فائبرائیڈز کو نکالنا، یا ڈی اینڈ سی

٭ زچگی

٭ درمیانی عمر

ایڈینو مائیوسس کے زیادہ ترکیسز (جو ایسٹروجن پر منحصر ہوتے ہیں) 40 اور 50 سال کی خواتین میں پائے جاتے ہیں۔ ایڈینو مائیوسس کا تعلق ان خواتین میں ایسٹروجن کے طویل عرصے تک اثر سے ہو سکتا ہے۔ نوجوان خواتین کے مقابلے میں ان میں اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم، ایک حالیہ تحقیق کے مطابق نوجوان خواتین بھی اس میں مبتلا ہو سکتی ہیں۔

پیچیدگیاں
اگر ماہواری کے دوران اکثر طویل اور زیادہ خون بہتا ہو تو آپ کو طویل المعیاد انیمیا (خون کی کمی) ہو سکتا ہے۔ اس سے تھکاوٹ اور صحت کے دیگر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

اگرچہ ایڈینو مائیوسس کے ساتھ ہونے والا درد اور زیادہ خون بہنا براہ راست نقصان دہ نہیں ہوتا، لیکن یہ آپ کی زندگی کے معمولات کو متاثر کر سکتا ہے۔ آپ ممکنہ طور پر ایسے کاموں سے گریز کرنے لگتی ہیں جنہیں آپ پہلے پسند کرتی تھیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ آپ درد میں مبتلا ہوتی ہیں یا آپ کو خوف ہوتا ہے کہ کہیں خون بہنا شروع نہ ہو جائے۔

تشخیص
یوٹرس کی کچھ بیماریاں ایڈینو مائیوسس سے ملتی جلتی ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے اس کی تشخیص مشکل ہو جاتی ہے۔ ان بیماریوں میں فائبرائیڈ ٹیومر، اینڈومیٹریوسس اور رحم کی اندرونی تہہ میں بڑھنے والے پولیپس شامل ہیں۔ ڈاکٹر ایڈینو مائیوسس کا شبہ درج ذیل عوامل کی بنیاد پر کر سکتے ہیں:

٭ علامات اور نشانات

٭ پیلوک معائنہ جس میں رحم کا بڑا اور حساس ہونا ظاہر ہو

٭ رحم کا الٹراساؤنڈ

٭ رحم کا ایم آر آئی

٭ اینڈومیٹریئل بائیوپسی کا مقصد یہ جاننا ہوتا ہے کہ آپ کو کوئی سنگین حالت تو نہیں ہے۔ تاہم یہ ایڈینو مائیوسس کی تشخیص میں مدد نہیں دیتی۔

٭ پیلوک امیجنگ (الٹراساؤنڈ/ ایم آر آئی) ایڈینو مائیوسس کے آثار کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔ تاہم اس کی تصدیق کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہسٹریکٹومی (بچہ دانی نکالنے) کے بعد رحم کا معائنہ کیا جائے۔

علاج
ایڈینو مائیوسس عموماً مینوپاز کے بعد ختم ہو جاتا ہے۔ اس لیے علاج کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ آپ اس مرحلے کے کتنے قریب ہیں۔ اس کے علاج میں درج ذیل آپشنز شامل ہیں:

اینٹی انفلیمٹری ادویات
ڈاکٹر درد کو کنٹرول کرنے کے لیے اینٹی انفلیمٹری دوائیں تجویز کر سکتا ہے۔ اگر آپ ماہواری شروع ہونے سے ایک یا دو دن پہلے یہ دوا لینا شروع کریں اور اس دوران ادویات لیتے رہیں، تو ماہواری کے دوران خون بہنے اور درد میں کمی ہو سکتی ہے۔

ہارمونی ادویات
ایسٹروجن – پروجیسٹن پر مشتمل برتھ کنٹرول گولیاں، ہارمون والے پیچ اور وجائنل رِنگز ایڈینو مائیوسس سے وابستہ خون کا بہاؤ اور درد کم کر سکتے ہیں۔ پروجیسٹن پر مبنی مانع حمل مصنوعات مثلاً آئی یو ڈی یا مسلسل استعمال کی برتھ کنٹرول گولیاں عموماً ماہواری کو روک دیتی ہیں۔ اس سے درد میں آرام مل سکتا ہیں۔

رحم کا آپریشن
اگر آپ کا درد شدید ہو اور دیگر علاج کارگر نہ ہوں تو رحم نکالنے کی سرجری تجویز کی جا سکتی ہے۔ ایڈینو مائیوسس کنٹرول کرنے کے لیے آپ کے اووری کو نکالنا ضروری نہیں ہوتا۔

سیلف کیئر
پیلوک پین وہ درد ہے جو پیٹ کے نچلے حصے یا جسم کے اندرونی حصے میں محسوس ہوتا ہے۔ یہ عموماً شرمگاہ سے لے کر ناف کے نیچے تک پھیل سکتا ہے۔ ایڈینو مائیوسس کی وجہ سے پیلوک درد کو کم کرنے کے لیے ان تدابیر پر عمل کریں:

٭ گرم پانی سے نہائیں

٭ پیٹ پر ہیٹنگ پیڈ استعمال کریں

٭ اوور دی کاؤنٹر اینٹی انفلیمیٹری دوا لیں

٭ علامات اور نشانیوں کی تفصیل۔ یہ بھی کہ ان کا آغاز کب ہوا

٭ تمام ادویات، وٹامنز اور دیگر سپلیمنٹس۔ یہ بھی کہ کتنی مقدار میں لے رہے ہیں

٭ طبی معلومات، بشمول ماہواری اور بچوں کی پیدائش کی ہسٹری

ڈاکٹر سے سوالات
ایڈینو مائیوسس کے لیے آپ ڈاکٹر سے یہ سوال پوچھ سکتی ہیں:

٭ کیا ایسی ادویات دستیاب ہیں جو میری علامات کو بہتر کر سکیں؟

٭ آپ کس صورت میں سرجری تجویز کریں گی؟

٭ کیا میری کیفیت حمل کے امکانات پر اثر انداز ہو سکتی ہے؟

دیگر کوئی سوال ذہن میں آئے تو پوچھنے سے مت ہچکچائیں

آپ سے سوالات
٭ علامات عام طور پر کب ظاہر ہوتی ہیں؟

٭ آپ کی علامات کتنی شدید ہیں؟

٭ آپ کو آخری ماہواری کب ہوئی تھی؟

٭ کیا آپ حاملہ ہیں؟

٭ کیا آپ کوئی برتھ کنٹرول طریقہ استعمال کر رہی ہیں؟ اگر ہاں، تو کون سا؟

٭ کیا آپ کو اپنی علامات ماہانہ ایام سے وابستہ لگتی ہیں؟

٭ کوئی ایسی چیز جو آپ کی علامات کو بہتر بناتی ہے؟

٭ کیا کوئی چیز آپ کی علامات کو شدید کرتی ہے؟

نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Shifa Labs Jail Road Faisalabad
041-8781888
0305-8781888

ایڈرنولوکوسٹروفی (اے ایل ڈی) کیا ہے؟ایڈرنولوکوسٹروفی (اے ایل ڈی) ایک موروثی بیماری ہے جو دماغ میں اعصابی خلیوں کی حفاظتی...
21/01/2025

ایڈرنولوکوسٹروفی (اے ایل ڈی) کیا ہے؟

ایڈرنولوکوسٹروفی (اے ایل ڈی) ایک موروثی بیماری ہے جو دماغ میں اعصابی خلیوں کی حفاظتی جھلی کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اس بیماری میں جسم بہت لمبی زنجیر والے فیٹی ایسڈز کو ختم نہیں کر پاتا۔ اس سے یہ چربی دماغ، اعصابی نظام اور ایڈرینل غدود میں جمع ہو جاتی ہے۔

بیماری کی اقسام
٭ بچوں میں شروع ہونے والی اے ایل ڈی 4 سے 10 سال کی عمر میں ظاہر ہوتی ہے۔ بروقت علاج نہ ہونے پر موت کا سبب بن سکتی ہے
٭ ایڈرینل غدود مناسب سٹیرائیڈز پیدا نہیں کرتے جس سے ایڈیسن کی بیماری پیدا ہوتی ہے۔
٭ بالغوں میں کم شدت والی اے ایل ڈی ہوتی ہے۔ اس میں چلنے میں مشکل اور مثانے کی خرابی پیدا ہوتی ہے۔ اسے ایڈرنومیلو نیوروپیتھی کہتے ہیں۔
Shifa Labs Allied Morr Near kips college Faisalabad
041-8781888
0305-8781888

اے ایم ایل (ایکیوٹ مائیلوئیڈ لیوکیمیا) کا علاج کیا ہے؟ریمشن انڈکشن تھیراپی: کینسر کے خلیوں کو ختم کرنے کا ابتدائی مرحلہک...
21/01/2025

اے ایم ایل (ایکیوٹ مائیلوئیڈ لیوکیمیا) کا علاج کیا ہے؟

ریمشن انڈکشن تھیراپی: کینسر کے خلیوں کو ختم کرنے کا ابتدائی مرحلہ
کانسولیڈیشن تھیراپی: بچ جانے والے خلیوں کو ختم کر کے بیماری دوبارہ ہونے کا خطرہ کم کرنا

علاج کے طریقے:
کیمو تھیراپی: کینسر کے خلیات ختم کرنے کے لیے طاقتور دوائیں، مگر مضر اثرات کے ساتھ
ٹارگٹڈ تھیراپی: کینسر زدہ خلیوں کے مخصوص کیمیکلز کو نشانہ بنانا
گودے کی پیوندکاری: صحت مند سٹیم سیلز کی منتقلی، جو کیمو تھیراپی یا ریڈی ایشن تھیراپی کے بعد کی جاتی ہے

ممکنہ اثرات: متلی، بال جھڑنا، انفیکشنز، اور طویل مدتی پیچیدگیاں

Shifa Labs Jail Road Allied Morr Near kips college Faisalabad
041-8781888
0305-8781888


Punjab Medical college PMC Faisalabad - Unoffcial Allied hospital Faisalabad Allied Hospital, Faisalabad Medical UniversityFaisalabad Faisalabad Teaching Hospital, Faisalabad. DHQ Hospital Faisalabad Allied Hospital Faisalabad Punjab Medical College Faisalabad Divisional Head Quarter DHQ Hospital Faisalabad Children Hospital Faisalabad Neurosurgery Department Allied Hospital Faisalabad Allied Health Organization Pakistan.

15/01/2025

شفا لیب جیل روڈ الائیڈ موڑ نزد Kips کالج فیصل آباد
041-8781888
0305-8781888

2️⃣چین میں ایک نئے وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز نے تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ کورونا اور ایچ ایم پی وی ک...
13/01/2025

2️⃣
چین میں ایک نئے وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز نے تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ کورونا اور ایچ ایم پی وی کی علامات ملتی جلتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق کورونا وائرس کووڈ-19 کا سبب بنتا ہے، جبکہ ایچ ایم پی وی زیادہ تر بچوں اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد کو متاثر کرتا ہے۔ کورونا کی علامات میں بخار، کھانسی اور سانس میں دشواری شامل ہیں، جب کہ ایچ ایم پی وی میں ناک بہنا اور بخار زیادہ عام ہیں۔ کورونا وائرس کے لیے ویکسین اور علاج دستیاب ہیں، لیکن ایچ ایم پی وی کے لیے کوئی خاص علاج نہیں۔
جیل روڈ آلائیڈ موڑ فیصل آباد
041-8781888
0305-8781888
Punjab Medical college PMC Faisalabad - Unoffcial

ایڈیسن کی بیماری کی تشخیص ٭ خون کے  ٹیسٹ کی مدد سے سوڈیم، پوٹاشیم، کورٹیسول اور اے ٹی سی ایچ کی سطح جانچی جاتی ہے۔ اے ٹی...
13/01/2025

ایڈیسن کی بیماری کی تشخیص

٭ خون کے ٹیسٹ کی مدد سے سوڈیم، پوٹاشیم، کورٹیسول اور اے ٹی سی ایچ کی سطح جانچی جاتی ہے۔ اے ٹی سی ایچ ایک ہارمون ہے جو ایڈرینل غدود کو کورٹیسول پیدا کرنے کا سگنل دیتا ہے

٭ اے ٹی سی ایچ سٹیمولیشن ٹیسٹ میں اے ٹی سی ایچ کی شاٹ دینے سے پہلے اور بعد میں خون میں کورٹیسول کی سطح کو ماپا جاتا ہے

٭ انسولین سے ہونے والے ہائپوگلائسیمیا ٹیسٹ میں انسولین کی شاٹ کے بعد خون میں شوگر اور کورٹیسول کی سطح چیک ک جاتی ہے

٭ سی ٹی سکین کے ذریعے ایڈرینل غدود کے سائز کو جانچا جاتا ہے۔

ایم آر آئی کے ذریعے پچوٹری غدود کو پہنچنے والے نقصان کی جانچ کی جاتی ہے

Shifa Labs Jail Road Allied Morr Near kips college Faisalabad
041-8781888
0305-8781888

Address

Jail Road Allied Morr Near To KIPS College
Faisalabad
38000

Opening Hours

Monday 07:30 - 23:00
Tuesday 07:30 - 23:00
Wednesday 07:30 - 23:00
Thursday 07:30 - 23:00
Friday 07:30 - 23:00
Saturday 07:30 - 23:00
Sunday 08:00 - 22:00

Telephone

+923217778176

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shifa Labs posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Shifa Labs:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram