14/10/2021
** مردانہ و زنانہ بانجھ پن پر** مردانہ و زنانہ بانجھ پن پر لکھی ایک تحریر **
مردانہ بانجھ پن :
اولاد کا حصول اور خاندان کی نسلی ترقی ہر انسان کی ضرورت اور مقدس خواہش ہوتی ہے۔ ایک شادی شدہ جوڑے کی ازدواجی خوشیاں اس وقت تک ادھوری رہتی ہیں جب تک ان کی گود میں اولاد جیسی نعمت موجود نہ ہو۔ اولاد رحمتِ الٰہی کا ذریعہ ہے اور بحیثیت مسلمان ہمارا یمان اور یقین ہے کہ اچھی اور صالح اولاد اپنے والدین کے لئیے مغفرت و بخشش کا ذریعہ ہے۔
بے اولادی کا جب بھی ذکر آئے تو ہمارے ذہنوں میں یہی خیال آتا ہے کہ اس کی وجہ عورت ہے۔ اسی وجہ سے بہت سارے خاندان پریشان ہیں اور خواتین کا معاشرتی استحصال بھی ہوتا ہے۔ جب کہ یہ ہرگز ضروری نہیں کہ بے اولادی کی وجہ عورت ہو، موجودہ دور میں میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ بے اولادی کے اکثر مسائل کی وجہ مرد ہیں۔ جس کا سبب ان کا بانجھ ہونا، مردانہ کمزوری، تولیدی جرثوموں کی پیدائش نہ ہونا یا مطلوبہ مقدار سے کم ہونا اور غیر اسلامی افعال و حرکات کا مرتکب ہونا ہے ۔
محققین اور اطبأ کے نزدیک میاں بیوی کے درمیان ایک سال تک عمومی وظیفہ زوجیت اور تعلق قائم رہنے کے باوجود اولاد کا نہ ہونا بانجھ پن کہلاتا ہے ۔
مردوں میں بانجھ پن کی بنیادی طبی وجوہات میں موروثی مسائل، تولیدی جرثوموں کی کمی یا عدم موجودگی، سرعت ِ انزال، ضعفِ باہ، کثرتِ مباشرت، معدہ کی خرابیوں کی بنا پر جنم لینے والی جنسی بیماریاں جن میں جریان اور اح**ام سرِ فہرست ہیں۔
اس طرح کچھ نفسیاتی وجوہات ہیں، کاروباری یا مالی پریشانی، کسی مقدمہ یا عدالت کا خوف، دشمن کا خوف، کسی اہم رشتہ یا چیز کا چھن جانا اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی ذہنی پریشانی، گھریلو ناچاکی ، میاں بیوی کے باہمی تعلقات میں عدم استحکام و اتفاق، یا کسی بھی دوسرے غم کی وجہ سے ذہنی مریض بن جانا۔ یہ تمام علامات مرد کے تولیدی عمل میں شدید پریشانی اور رکاوٹ کا باعث بن سکتے ہیں اور جدید سائنس اس سے پوری طرح متفق ہے۔
معاشرتی وجوہات میں غلط اور بے راہ روی کے شکار لوگوں کے ساتھ دوستی، شراب نوشی، تمباکو و سگریٹ نوشی، لواطت و مشت زنی، عریاں و فحش مواد کا مطالعہ ، انٹرنیت اور ویڈیوز میں بے حیائی پر مبنی مواد دیکھنا، اپنی منکوحہ یا منکوح کو چھوڑ کر غیر عورتوں یا مردوں سے تعلقات کا استوار کرنا وغیرہ وغیرہ ۔
مردانہ پانچھ پن کی سب سے بڑی وجہ سپرم ہیں۔ جو خصیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور مردو عورت کے ملنے کے بعد یعنی Sexual In*******se کے بعد مردانہ عضو تنا سل سے منی کے ساتھ خارج ہوتی ہے۔عورت کے رحم کی گردن میں پہنچ کر اولاد پیدا کرنے کا باعث بنتا ہیں۔سپرم کی پیدائش ان سپرم کی وجہ سے ہوتی ہے جو جسم میں Ductless Gland یعنی بے نالی غدودوں سے رطوبت بن کر خارج ہوتی ہے۔ہر بار بچے کی پیدائش کے لئے ضروری ہے کہ منی میں سپرم کی کوالٹی اور مقدار مناسب ہوبعض اوقات کسی بیماری کی وجہ سے منی میں سپرم موجود نہیں ہوتے یا بہت کم مقدار میں ہوتے ہیں جو مردانہ بانچھ پن کا باعث بنتے ہیں
سپرم کی اقسام :
سپرم کی دو اقسام ہیں ۔
1>> X, 2>>Y
اگر Y انڈے O**m سے پہلے ملے تو بیٹا پیدا ہوتا ہے Y الکائن پسند ہے۔
اگر X پہلے پہنچ کر انڈے سے ملے تو بیٹی پیدا ہوتی ہے۔
سپرم x معمولی تیزابیت پسند ہے۔ 1ml منی میں سپرم خارج ہوتے ہیں یعنی ایک دفعہ کے اخراج سے سپرم خارج ہوتے ہیں۔
سیمن SEMENکی بیماریاں
1 ۔ منی میں سپرم کی کمیOligospermia
مردانہ بانچھ پن کی ایک وجہ منی میں سپرم کی تعداد کاکم ہونا ہے۔سپرم کی مناسب مقدار20 ملین سے 200 ملین ہے۔ اگر سپرم کی مناسب تعدار 20 ملین سے کم ہو تو سپرم کی کمی یعنی Oligospermia کہا جائے گا ۔ اس کی کمی کی کئی حیاتیا تی و ماحولیاتی وجوہات ہو سکتی ہیں۔مثلاً کثرت مباشرت،منی کاکم پیدا ہونا ،ان ٹیوبز میں نقص ہونا جو سپرم کو خصیوں سے عضو تناسل کی طرف لے جاتی ہیں، خصیوں میں اینٹھن وغیرہ ۔اس کے علاوہ ذہنی و جسمانی بے چینی ،بے خوابی اور ہارمونز کے توازن میں بگاڑ ہونے سے بھی سپرم کی پیدائش کم ہوتی ہے۔تنگ کپڑوں کا استعمال بھی ہارمون کی پیدائش کو کم کرنے میں مد د دیتا ہے۔روز مرہ کی عادات مثلاً سگریٹ نوشی ،گرم پانی کے ٹب میں دیر تک نہاتے رہنا ،الکوحل کا زیادہ استعمال ، لیپ ٹاپ کا زیادہ دیر گود میں رکھ کر استعمال وغیرہ شامل ہیں۔اسکے علاوہ بہت زیادہ ادویات کا استعمال کرنا بھی Oligospermia کاباعث بنتا ہے۔سگریٹ نوشی ، گرم پانی کے ٹب میں دیر تک نہاتے رہنا ،الکوحل کے زیادہ استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریاں عارضی ہوتی ہیں اور مناسب علاج سے ٹھیک ہو جاتی ہیں۔
2 ۔ منی میں سپر م کی غیر موجودگی Azoospermia
منی میں سپر م کی بالکل غیر موجودگی Azoospermiaکہلاتا ہے۔اس بیماری میں منی میں سپرم بالکل پیداہی نہیں ہوتے ۔ منی میں سپرم بالکل پیدانہ ہونے کا سب سے بڑا سبب انفیکشن ہے۔جس میں پیپ آنا، خون کے سرخ زرات کا آنایا پھر بیکٹیریا وغیرہ کی موجودگی ہے۔Azoospermiaکی دو اقسام ہیں۔
1.Nonobostrictive Ozoospermia, 2.Obstrustcive Ozoospermia
Nonobostrictive Ozoospermia :
اس بیماری میں منی میں سپرم کا پیدا نہ ہونا خصیوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔جس کی وجہ سے خصیو ں میں نقص ہونا ،اسکے علاوہ خصیوں میں پیدائشی نقص ہونا ،ہارمون لیول نارمل نہ ہونا،خصیوں کاانفیکشن اورتیز بخار بھی اسکی وجہ بنتاہے۔
Obstrustcive Ozoospermia :
اگر خصیے سائز میں نارمل ہوں اور ہارمون لیول بھی نارمل ہو تو خصیے اور عضو تناسل کے درمیان نالیا ں بند ہونے کو Obstrustcive Ozoospermia کہتے ہیں۔ یہ مرض خصیوں سے مادہ منی باہر نکالنے والی نالیوں پر چوٹ لگنے یا ان میں نقص پیدا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔اس کے علاوہ ہر ینوں کا آپریشن بھی اس کی خاص وجہ ہے۔
منی میں سپرم مردہ ہونابانچھ پن کی ایسی قسم ہے جس میں منی میں سپرم موجود تو ہوتے ہیں لیکن وہ زندہ نہیں ہوتے اور مردہ ہونے کے باعث وہ اس قابل نہیں رہتے کہ حمل قرار پانے کا باعث بن سکیں۔اگر منی میں 40 فیصد سپرم مردہ حالت میں ہوں تو یہ بیماری Necrospermia کہلائے گی۔Necrospermia کی درج ذیل وجوہات ہیں۔
1۔ Anti Bodies اور Anti S***m کا موجود ہونا۔کیونکہ ان کی موجودگی میں سپرم زندہ نہیں رہتے ۔یہ Anti Bodies اور S***m Antiسپرم کو ہلاک کر کے بانچھ پن کا باعث بنتے ہیں۔
2۔ پرانی جگر کی بیماری جیسے ہیپاٹائٹس وغیرہ۔
3۔ گردے فعل ہو جانا۔
4۔ مسلسل بخار کی وجہ سے جسم زیادہ گرم رہنا۔
5۔ کن پیٹرے ،خصیوں میں نقص ہونا ، خصیوں کی سوزش وغیرہ ۔
Alcohol & Drugs :
الکوحل اور ڈرگزکا استعمال بھی بانچھ پن کا سبب بنتے ہیں۔مثا ل کے طور پر Anabolic Steriods جو کہ پٹھوں کو حرکت دے کر ان کی افزائش کے لئے استعمال ہوتے ہیں ۔خصیوں کے سکڑنے اور سپرم میں کمی کا باعث بنتا ہے۔
Other Medical Condition :
چوٹ اور سرجری بھی مردانہ بانچھ پن کا ایک سبب ہے اس کے علاوہ کچھ بیماریاں بھی بانچھ پن کا سبب بنتی ہیں۔جیسے شوگر ، ہارٹ اٹیک ، جگر یا گردوں کا فعل ہو جانا وغیرہ ۔
Age :
35سال سے زیادہ عمر کے بعد مردوں میں بانچھ پن زیادہ پایا جاتا ہے۔
Environmental Exposure :
بہت زیادہ گرمی ، آلودہ اور کیمیکل وغیرہ سپرم کی پیدا وار کم کرتے ہیں اور خصیوں کی کارکردگی پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔
Tobaco Smoking :
تمباکو نوشی کرنے والے حضرات میں سپرم کی تعداد نہایت کم ہوتی ہے یہ نسبتاً کے ساتھ ہے جو تمباکو نوشی نہیں کرتے.
------------ بے اولاد جوڑوں کی خدمت کا مرکز
جس سے Ozoospermia جیسی بیمار ی سے مکمل طور پر نجات مل جاتی ہے۔یہ مردوں کے جرثومہ حیات میں ہونے والی تبدیلیوں کے افزائشی ہارمون HGH کے سپرم کی سطح میں اضافہ کرتا ہے ۔بے اولاد افراد کے سپرم کم ہوں تو ان کے مادہ تولید میں سپرمز کو نارمل حالت میں لاتا ہے ۔مادہ تولید کی افزائش کو بڑھا کر سپرم کو اولاد کے قابل بناتا ہے۔سپرم کی پیدائشی کمزوری اور کمی ایسی محرومی ہے جو ایک صحت مند اور طاقتور مرد کو بھی کھوکھلا کر کے باگل پن کی حد تک پہنچا دیتی ہے ان دونوں صورتوں میں یعنی کرم منی کی کمزوری اور اس کے قدرتی تناسب کو درست کرکے اس کے قوام کو ٹھیک کرتا ہے اس میں شامل نہایت ہی قیمتی اور نایاب جڑی بوٹیا ں نہ صر مادہ تولید کو پیدا کرنے اور اسے گاڑھا کرنے میں موثر ہے بلکہ اس میں موجود سپرم کی کمی کوبھی دور کرتا ہے یہ کورس منی اور سپرم سمیت تمام مردانہ امراض جو بانچھ پن کا سبب بنتے ہیں جیسے منی میں جراثیم یعنی سپرم کا نہ ہونا ۔خصیوں کا ناکارہ ہونا ،خصیوں اورعضو تناسل کے درمیان نالیو ں کو باند ہونا ، خصیوں میں انفیکشن ہونا وغیرہ کو نہ صر ف ختم کرتا ہے بلکہ ان امراض کو دوبارہ پیدا بھی نہیں ہونے دیتا۔
زنانہ بانجھ پن :
بانجھ پن :
عورت و مرد اس وقت بانجھ کہلاتے ہیں, جب ان کی اولاد نہیں ہوتی, لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ عورتوں کو شادی کے دس چودہ سال کے بعد بھی اولاد ہو گئی, بعض عورتوں کے بچے پیدا ہوتے ہیں اور پیدا ہونا بند ہو جاتے ہیں اور پھر کافی عرصہ کے بعد پھر بچے ہونا لگتے ہیں,
عورت و مرد کے شادی کے پہلے پانچ سال تک حمل نہ ٹھہر سکے تو اسے بانجھ پن نہیں سمجھ لینا چاہیے,
ماہواری عورتوں میں تقریباً بارہ (12) سال سے شروع ہو کر پینتالیس (45) سال کی عمر تک جاری رہتی ہے,
جب تک عورت کو حیض ماہواری کا خون آتا ہو, آرہی ہو تو عورت بجا طور پر کسی وقت حاملہ ہو جانے کی توقع رکھ سکتی ہے, لیکن ماہواری آنے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ عورت کوئی نقص نہیں رکھتی, اور بغیر علاج کے حاملہ یا بارآور ہو سکتی ہے, انڈا آنے کے راستے دونوں فیلوپین ٹیوب کھلی اور ٹھیک ہونی چاہئیں
عورت کے تولیدی نظام کا سیٹ اپ ایسا ہے کہ ایک تاریخ سے دوسری تاریخ تک کے درمیانی 28 سے30 روز میں سے کسی ایک دن انڈہ خارج ہوتا ہے۔ یہ دن عموماً اگلی ممکنہ تاریخ سے ٹھیک چودہ دن پہلے ہوتا ہے۔ یہ انڈہ بارہ سے چوبیس گھنٹے کے لیے نظام تولید میں زندہ رہتا ہے جس کے بعد گر جاتا ہے۔ اگر کسی بھی وجہ سے ان چوبیس گھنٹے میں زوجین کے مابین دوری قائم رہے تو باقی تمام ماہ میں حمل ہونے کا امکان تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ ہر ماہ میں ایک خاص دن کے چوبیس گھنٹے یعنی ’صرف ایک مکمل دن‘ جو حمل کے لیے موزوں ہے اسے ذہن میں رکھیں تو عورت کے حساب سے ایک سال میں صرف بارہ دن حمل کے لیے موزوں ہوتے ہیں۔
مرد کے تولیدی جراثیم زنانہ نظام تولید میں چند منٹ سے لے کر پانچ دن تک زندہ رہ سکتے ہیں، یعنی رحم میں جرثومے کی زیادہ سے زیادہ عمر پانچ روز ہے۔ مختلف تحقیقات سے ثابت ہوا کہ زیادہ تر حمل انڈے کے اخراج سے ایک سے دو روز پہلے کئے گئے ملاپ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اس تحقیق میں شامل چند حمل ایسے بھی تھے جو انڈے کے اخراج سے پانچ روز پہلے کے ملاپ کے نتیجے میں وقع پذیر ہوئے۔ جرثومے کی پانچ روزہ زندگی میں ان جراثیم نے اندام نہانی، رحم کی لمبی گردن، رحم اور فیلوپئین ٹیوبز سے انڈے دانی اور انڈے سے ملاپ کے بعد ٹیوبز کے رستے واپس رحم تک کا سفر بھی طے کرنا ہوتا ہے۔
حمل کے لیے ضروری ہے کہ عورت کے ہر مہینے انڈے بیضہ دانی سے ایک انڈہ بیضہ خارج ہو,
بچہ دانی رحم طاقور اچھی حالت میں ہو, اس میں سوزش ورم رسولی وغیرہ نہ ہو,
اگر جراثیمی سرایت یا رسولی ہو تو
ماہواری میں بےقاعدگی تھوڑی تھوڑی لگاتار, یا وقفوں کے بار بار آنے لگتی ہے, یا پھر بہت زیادہ آتی ہے,
خون کی کمی یا لمبھی بیماریوں میں ماہواری کم رہ جاتی ہے,
رسولی کی موجودگی میں ماہواری درد کے ساتھ اور بہت زیادہ آتی ہے
حیض کا رک جانا یا حیض ماہواری میں کمی
خصیتہ الرحم کے درد کی عموماً ایک وجہ ہوتی ہے یا خصیتہ الرحم کی خرابی کی وجہ سے ماہواری میں رکاوٹ ہوتی ہے یا حیض کے رک جانے سے خصیتہ الرحم میں تحریک اور درد ہوتا ہے,
خصیتہ الرحم میں درد اور ورم ایک وجہ ہے کیونکہ خصیہ الرحم اپنا فعل ادا نہیں کر سکتا,
خصیتہ الرحم انڈا یا بیضہ دانی کے مکمل نشوونما نہ پانے سے حیض مکمل اور پورے طور پر نہیں ہوتا, اس لیے لازم و ملزوم بن کر ایک دوسرے کی تکلیف میں رحم اور خصیتہ الرحم شریک ہو جاتے ہیں,
عورتوں میں عیش پسندی, عیاشانہ زندگی, سستی, کاہلی, حد سے زیادہ خورد و نوش ملذز کھانے, مرغن غذا یہ سب ایسی باتیں ہیں جن سے آلات تناسل زنانہ رحم بچہ دانی پر چربی آ جاتی ہے یا ان میں کمزوری واقع ہو جاتی ہے, نیتجہ بانجھ پن ہوتا ہے
عورتوں میں بانجھ پن مندرجہ ذیل اسباب, وجوہات صورتوں میں ہوتی ہے,
اعضاےّ نسل انسانی میں پیدائشی نقص, مقامی یا عضوی خرابی,
رحم کا نہ ہونا, ورم سوزش رحم, رحم کی گردن کا منہ بند ہو جانا, رحم کا چھوٹا ہونا, حیض کی خرابیاں, بندش حیض, قلت و دقت تنگی حیض, اوریز انڈے دانیاں رحم بچ دانی کی ورم سوزش, درد, رسولیاں, خصیہ الرحم کی ورم رسولی,
فیلوپین ٹیوبوں نالیوں کا بند ہونا, رحم کا چھوٹا ہونا, رحم کا ٹل جانا, رحم کا الٹ جانا,
رحم کا اپنی جگہ سے گر جانا یا دہرا مڑ جانا پر ہے, رحم اپنی جگہ پر نہیں ہوتا تو نطفہ حمل قرار نہیں پاتا کیونکہ خصیتہ الرحم سے انڈا نکل کر رحم کی نالیوں, قاذف نالیوں, فیلوپین ٹیوبوں میں پھنس جاتا ہے یا ضائع ہو جاتا ہے یا کسی وجہ سے حمل کا کورس پورا نہیں ہوتا, ان حالات میں رحم کی گراوٹ کا مکمل علاج کیا جاے,
سیلان الرحم لیکوریا:
یا ایک دوسری خرابی ہے, خصوصاً جب لیکوریا تیز, مقدار میں بہت زیادہ, تیزابی مادہ سوزش کرنے والی قسم اس قدر کہ انڈے رحم میں پہنچتے ہی لیکوریا کے ساتھ بہہ جاتے ہیں, یا مردانہ سپرم کو مار دیتے ہیں, اس کیلئے بھی میرے فیس بک پیج Naveed e shifa 92 پر نسخے پڑے ہیں ۔
احتباس الطمث, بندش حیض ماھواری :
ماھواری کی تنگی تکلیف اور درد سے آنا
ایام حیض میں بارش میں بھیگنا یا سردی لگنا, خصیتہ الرحم میں سوزش ورم, سیلان الرحم لیکوریا, امراض جگر یا گردہ وغیرہ کا ہونا, خون کی کمی, مریضہ کا موٹا اور دموی مزاج کا ہونا, جو کہ مرغن مچرب اغذیہ بہت کھاتی ہیں,
اجتماع خون یا ورم کے باعث ماہواری کا تکلیف دقت سے آنا, اس میں خون حیض تھوڑی مقدار میں اور تکلیف درد کے ساتھ خارج ہوتا ہے
اعصابی تنگی حیض
عصبی کمزوری سے حیض کا تکلیف سے آنا:
یہ علامات کمزور لاغر مستورات میں, نازک مزاج کمزور جسم والی لڑکیوں, اس میں خون حیض تھوڑا تھوڑا اور تشنجی درد کے ساتھ خارج ہوتا ہے گرمی سے درد میں کمی, سردی سے زیادتی ہوتی ہے
تشنج سے حیض کا تکلیف سے آنا :
رحم میں تشنج ہونے کی وجہ سے تکلیف سے آتا ہے, نازک اندام لڑکیاں عورتیں اس میں مبتلا ہوتی ہیں, عصبی اکساہٹ, بدہضمی بھی اس کے اسباب ہیں, کمر اور شکم کے نچلے حصہ میں مریضہ کو تکلیف رہا کرتی ہے۔
رکاوٹ سے حیض کا تکلیف سے آنا :
اندام نہانی یا رحم میں کسی قسم کی رکاوٹ ورم رحم رسولی وغیرہ سے رحم کا منہ بند ہو جاتا ہے, رحم کا الٹ یا ٹل جانا یا گر جانا, رکاوٹ واقع ہوتی ہے,
درد والے حیض ماہواری:
درد والے حیض ماہواری حمل قرار پانے میں بہت کچھ زیادہ مخل اور بانجھ پن کا سبب ہوتے ہیں حمل نہیں ہوتا, اگر حمل قرار پا چکنے کے بعد جب ماہواری کا وقت تاریخ آتی ہے تو عادتا" حیض کے درد شروع ہو جاتے ہیں اور ان دردوں کے ساتھ چونکہ سکڑن ہوتی ہے, اس واسطے رحم کی سکڑن اور تشنجی کی کیفیت سے نطفہ نکل جاتا ہے۔
جھلی دار دقت حیض:
رحم کی اندرونی جھلیاں حیض کے ساتھ نکل آتی ہے تو اووم انڈا بھی باہر نکل آتا ہے, لوتھڑہ رحم کو تقویت اور اصلاح کریں۔
علامات مرض
بچہ دانی کی سوجن ورم, کمی خون, جسم کا رنگ پھیکا عام کمزوری سستی, تھوڑا سا کام کرنے سے دل دھڑکنے لگتا ہے, جگر کمزور, فاقہ کشی, نبض کمزور نیند زیادہ آے گی ہاضمہ کمزور, سردی خشکی جسم کا موٹا ہونے, خون زیادہ گاڑھا ہو جانے سے رگوں کے منہ بند ہو گئے ہوں, زیادہ سخت محنت مشقت کرنے سے یہ عارضہ ہو جاتا ہے, عام حالات میں کثرت ج**ع, ماہواری کے دنوں میں بارش میں بھیگنے یا سردی لگنے سے یہ مرض ہو جاتا ہے,
اگر گرمی سے یہ عارضہ ہو تو گرمی کی علامات ظاہر ہوں گی, سردی کی زور سے تو سردی کے آثار نظر آئیں گے,
خشکی کی وجہ سے ہو تو جسم بے رونق اور کمزور ہوگا, بچہ دانی رحم کے ورم یا الٹ جانے گر جانے سے ہو تو رحم یا بچہ دانی میں سخت تکلیف درد محسوس ہوتا ہے, ج**ع ملاپ کے وقت عورت کو تکلیف ہوتی ہے,
مقام رحم میں سخت درد ار گرانی بوجھ محسوس ہوتا ہے ٹھہر ٹھہر کر درد, کمر, جنگاسہ, پیڑو اور بعض اوقت ٹانگوں تک جاتا ہے, اعضا شکنی, سردرد, رخسار سرخ, تنفس تیز, دل دھڑکن اور شکم میں کاٹنے والی دردیں, مریضہ لیٹنے پر مجبور چل نہیں سکتی, ماہواری شروع ہونے سے پہلے دردیں شروع ہو جاتی ہیں اور اخراج تک رہتی ہیں, بعض اوقت رحم سے لعاب دار جھلی کے ٹکڑے خون حیض کے ساتھ خارج نہیں ہو جاتے, اور بعض کیسوں میں مستورات کے پستان و دیگر تولیدی اعضاء نہایت زکی الحس ہو جاتے ہیں اور درد کرتے ہیں,
اس مرض میں سخت قبض کی شکایت بالعموم ہوا کرتی ہے
سردی یا بھیگنے یا رنج و غم صدمہ سے یہ مرض ہو تو ماہواری خوں تھوڑا سا آ کر پھر اچانک بند ہو جاتا ہے,
کسی پرانی بیماری سل و دق خنازیر امراض گردہ و جگر بواسیر یا تلی ک بڑھ جانے سے یا سبب ہو گا تو ان امراض پر دلالت کرے گا,
مریضہ کی اپنی طبعی کیفیتں بھی حمل میں رکاوٹ کے کم نہیں
عصبی اکساہٹ کی شدت و خفت یا فتور بھی حمل کے فعل کو روکتا ہے,
حاد یا پرانی بیماری سے پیدا شدہ کمزوری, اپنے آپ کو دماغی کام میں حد سے زیادہ لگاےّ رکھنا, یک دم غم صدمہ یا خوشی, حد سے زیادہ
جسمانی محنت ایسی کیفیتیں ہیں جن سے نظام عصبی پر بوجھ پڑ کر اعصاب میں کمزوری آ جاتی ہے اور اس کمزوری کی وجہ سے زنانہ و مردانہ آلات تناسل تولیدی اعضاء کے افعال کے اجراء باقاعدہ نہیں رہتے اس لیے اول حمل قرار نہیں پاتا اگر پاتا بھی ہے تو ساقط گر جاتا ہے,
قلت کمی خون,
جسمانی محنت کے سبب, قلت خوراک یا بیماری کی وجہ سے کمی خون ہو تو بھی بانجھ پن کا سبب ہو سکتی ہے
عورت کا زیادہ موٹا ہونا, موٹی تازی چربیلی عورتیں بھی کم حاملہ ہوتی ہیں , اندام نہانی کا تنگ یا کسی قدر بند ہو جانا,
رحم کی گردن منہ کی سختی, رحم کے منہ کی تنگی اور زخم ورم گومڑ جس کی وجہ سے منی شرم گاہ سے باہر نکل جاتی ہو,
اس کے علاوہ خصیتہ الرحم ہر دو کی ماؤف ہو جانے سے بانجھ پن پیدا ہو جاتا ہے,
ج**ع ملاپ کے وقت درد ہونا, اندام نہانی رحم کی رطوبت معمول سے زیادہ ترش یا کھاری ہونا,
زنانہ ہارمون کی کمی کی وجہ سے تولیدی اعضاء کا نشوونما نہ پانا, جب اعضاء ہی کمزور اور کمی ہوگی تو کارکردگی بھی کم درجہ ہوگی,
سوزاک, آتشک اور اٹھراہ سمیت خون یعنی زہریلہ پن ہونا وغیرہ اسباب و وجوہات ہیں,
میاں بیوی کی نفسیاتی یا آر ایچ فیکٹر کی ناموافقت وجہ بھی,
مستورات میں بعض وقت خواہش نفسانی کی کمی ہوتی ہے, ان میں ج**ع کی کسی قسم کی دل بستگی یا لزت نہیں ہوتی, وہ محض شوہر کی خوشنودی کیلیے شوہر سے ملتی ہیں,
اسی طرح بعض میں زیادہ خواہش نفسانی کی زیادتی ہو جاتی ہے
یہ ہر دو وجہ نطفہ حمل قرار پانے میں رکاوٹ اور ہر دو ہی جسمانی اور دماغی یا خرابی کا نتیجہ ہیں,
علاج
بانجھ پن کو روکنے کے لیے سب سے ضروری امر یہ ہے کہ اپنی زندگیوں کو بالکل قدرتی طریقہ میں ڈھال دیا جاےّ اور محنت جفاکشی کی زندگی بسر کی جاےّ, اس سے تمام اعضاء طاقتور اور توانا ہو جائیں گے,
جو عورتیں طبعی کیفیتوں میں یا آلات تناسل , یا نظام عصبی کی تکلیفات میں مبتلا ہیں ان کا علاج موقع و محل کے مطابق کر کے رفع کرنا چاہیے, تکلیفات کے رفع ہو جانے سے وہ بانجھ عورتیں بانجھ نہیں رہتیں, اس علاج کے بعد فورا" حمل قرار پا جاتا ہے,
بانجھ پن کے علاج میں اسباب وجوہات اور علامات کی تفتیش تشخیص کرنی ضروری ہے تاکہ مناسب علاج سے دافعیہ کیا جاےّ
آخر میں دُعا ہے کہ اللہ کریم اپنے رسولِ کریم اور اُن کی آلِ عظیم کے واسطے سب مریضوں کو شِفائے کاملہ عطا فرمائے ،** مردانہ و زنانہ بانجھ پن پر لکھی ایک تحریر **
مردانہ بانجھ پن :
اولاد کا حصول اور خاندان کی نسلی ترقی ہر انسان کی ضرورت اور مقدس خواہش ہوتی ہے۔ ایک شادی شدہ جوڑے کی ازدواجی خوشیاں اس وقت تک ادھوری رہتی ہیں جب تک ان کی گود میں اولاد جیسی نعمت موجود نہ ہو۔ اولاد رحمتِ الٰہی کا ذریعہ ہے اور بحیثیت مسلمان ہمارا یمان اور یقین ہے کہ اچھی اور صالح اولاد اپنے والدین کے لئیے مغفرت و بخشش کا ذریعہ ہے۔
بے اولادی کا جب بھی ذکر آئے تو ہمارے ذہنوں میں یہی خیال آتا ہے کہ اس کی وجہ عورت ہے۔ اسی وجہ سے بہت سارے خاندان پریشان ہیں اور خواتین کا معاشرتی استحصال بھی ہوتا ہے۔ جب کہ یہ ہرگز ضروری نہیں کہ بے اولادی کی وجہ عورت ہو، موجودہ دور میں میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ بے اولادی کے اکثر مسائل کی وجہ مرد ہیں۔ جس کا سبب ان کا بانجھ ہونا، مردانہ کمزوری، تولیدی جرثوموں کی پیدائش نہ ہونا یا مطلوبہ مقدار سے کم ہونا اور غیر اسلامی افعال و حرکات کا مرتکب ہونا ہے ۔
محققین اور اطبأ کے نزدیک میاں بیوی کے درمیان ایک سال تک عمومی وظیفہ زوجیت اور تعلق قائم رہنے کے باوجود اولاد کا نہ ہونا بانجھ پن کہلاتا ہے ۔
مردوں میں بانجھ پن کی بنیادی طبی وجوہات میں موروثی مسائل، تولیدی جرثوموں کی کمی یا عدم موجودگی، سرعت ِ انزال، ضعفِ باہ، کثرتِ مباشرت، معدہ کی خرابیوں کی بنا پر جنم لینے والی جنسی بیماریاں جن میں جریان اور اح**ام سرِ فہرست ہیں۔
اس طرح کچھ نفسیاتی وجوہات ہیں، کاروباری یا مالی پریشانی، کسی مقدمہ یا عدالت کا خوف، دشمن کا خوف، کسی اہم رشتہ یا چیز کا چھن جانا اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی ذہنی پریشانی، گھریلو ناچاکی ، میاں بیوی کے باہمی تعلقات میں عدم استحکام و اتفاق، یا کسی بھی دوسرے غم کی وجہ سے ذہنی مریض بن جانا۔ یہ تمام علامات مرد کے تولیدی عمل میں شدید پریشانی اور رکاوٹ کا باعث بن سکتے ہیں اور جدید سائنس اس سے پوری طرح متفق ہے۔
معاشرتی وجوہات میں غلط اور بے راہ روی کے شکار لوگوں کے ساتھ دوستی، شراب نوشی، تمباکو و سگریٹ نوشی، لواطت و مشت زنی، عریاں و فحش مواد کا مطالعہ ، انٹرنیت اور ویڈیوز میں بے حیائی پر مبنی مواد دیکھنا، اپنی منکوحہ یا منکوح کو چھوڑ کر غیر عورتوں یا مردوں سے تعلقات کا استوار کرنا وغیرہ وغیرہ ۔
مردانہ پانچھ پن کی سب سے بڑی وجہ سپرم ہیں۔ جو خصیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور مردو عورت کے ملنے کے بعد یعنی Sexual In*******se کے بعد مردانہ عضو تنا سل سے منی کے ساتھ خارج ہوتی ہے۔عورت کے رحم کی گردن میں پہنچ کر اولاد پیدا کرنے کا باعث بنتا ہیں۔سپرم کی پیدائش ان سپرم کی وجہ سے ہوتی ہے جو جسم میں Ductless Gland یعنی بے نالی غدودوں سے رطوبت بن کر خارج ہوتی ہے۔ہر بار بچے کی پیدائش کے لئے ضروری ہے کہ منی میں سپرم کی کوالٹی اور مقدار مناسب ہوبعض اوقات کسی بیماری کی وجہ سے منی میں سپرم موجود نہیں ہوتے یا بہت کم مقدار میں ہوتے ہیں جو مردانہ بانچھ پن کا باعث بنتے ہیں
سپرم کی اقسام :
سپرم کی دو اقسام ہیں ۔
1>> X, 2>>Y
اگر Y انڈے O**m سے پہلے ملے تو بیٹا پیدا ہوتا ہے Y الکائن پسند ہے۔
اگر X پہلے پہنچ کر انڈے سے ملے تو بیٹی پیدا ہوتی ہے۔
سپرم x معمولی تیزابیت پسند ہے۔ 1ml منی میں سپرم خارج ہوتے ہیں یعنی ایک دفعہ کے اخراج سے سپرم خارج ہوتے ہیں۔
سیمن SEMENکی بیماریاں
1 ۔ منی میں سپرم کی کمیOligospermia
مردانہ بانچھ پن کی ایک وجہ منی میں سپرم کی تعداد کاکم ہونا ہے۔سپرم کی مناسب مقدار20 ملین سے 200 ملین ہے۔ اگر سپرم کی مناسب تعدار 20 ملین سے کم ہو تو سپرم کی کمی یعنی Oligospermia کہا جائے گا ۔ اس کی کمی کی کئی حیاتیا تی و ماحولیاتی وجوہات ہو سکتی ہیں۔مثلاً کثرت مباشرت،منی کاکم پیدا ہونا ،ان ٹیوبز میں نقص ہونا جو سپرم کو خصیوں سے عضو تناسل کی طرف لے جاتی ہیں، خصیوں میں اینٹھن وغیرہ ۔اس کے علاوہ ذہنی و جسمانی بے چینی ،بے خوابی اور ہارمونز کے توازن میں بگاڑ ہونے سے بھی سپرم کی پیدائش کم ہوتی ہے۔تنگ کپڑوں کا استعمال بھی ہارمون کی پیدائش کو کم کرنے میں مد د دیتا ہے۔روز مرہ کی عادات مثلاً سگریٹ نوشی ،گرم پانی کے ٹب میں دیر تک نہاتے رہنا ،الکوحل کا زیادہ استعمال ، لیپ ٹاپ کا زیادہ دیر گود میں رکھ کر استعمال وغیرہ شامل ہیں۔اسکے علاوہ بہت زیادہ ادویات کا استعمال کرنا بھی Oligospermia کاباعث بنتا ہے۔سگریٹ نوشی ، گرم پانی کے ٹب میں دیر تک نہاتے رہنا ،الکوحل کے زیادہ استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریاں عارضی ہوتی ہیں اور مناسب علاج سے ٹھیک ہو جاتی ہیں۔
2 ۔ منی میں سپر م کی غیر موجودگی Azoospermia
منی میں سپر م کی بالکل غیر موجودگی Azoospermiaکہلاتا ہے۔اس بیماری میں منی میں سپرم بالکل پیداہی نہیں ہوتے ۔ منی میں سپرم بالکل پیدانہ ہونے کا سب سے بڑا سبب انفیکشن ہے۔جس میں پیپ آنا، خون کے سرخ زرات کا آنایا پھر بیکٹیریا وغیرہ کی موجودگی ہے۔Azoospermiaکی دو اقسام ہیں۔
1.Nonobostrictive Ozoospermia, 2.Obstrustcive Ozoospermia
Nonobostrictive Ozoospermia :
اس بیماری میں منی میں سپرم کا پیدا نہ ہونا خصیوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔جس کی وجہ سے خصیو ں میں نقص ہونا ،اسکے علاوہ خصیوں میں پیدائشی نقص ہونا ،ہارمون لیول نارمل نہ ہونا،خصیوں کاانفیکشن اورتیز بخار بھی اسکی وجہ بنتاہے۔
Obstrustcive Ozoospermia :
اگر خصیے سائز میں نارمل ہوں اور ہارمون لیول بھی نارمل ہو تو خصیے اور عضو تناسل کے درمیان نالیا ں بند ہونے کو Obstrustcive Ozoospermia کہتے ہیں۔ یہ مرض خصیوں سے مادہ منی باہر نکالنے والی نالیوں پر چوٹ لگنے یا ان میں نقص پیدا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔اس کے علاوہ ہر ینوں کا آپریشن بھی اس کی خاص وجہ ہے۔
منی میں سپرم مردہ ہونابانچھ پن کی ایسی قسم ہے جس میں منی میں سپرم موجود تو ہوتے ہیں لیکن وہ زندہ نہیں ہوتے اور مردہ ہونے کے باعث وہ اس قابل نہیں رہتے کہ حمل قرار پانے کا باعث بن سکیں۔اگر منی میں 40 فیصد سپرم مردہ حالت میں ہوں تو یہ بیماری Necrospermia کہلائے گی۔Necrospermia کی درج ذیل وجوہات ہیں۔
1۔ Anti Bodies اور Anti S***m کا موجود ہونا۔کیونکہ ان کی موجودگی میں سپرم زندہ نہیں رہتے ۔یہ Anti Bodies اور S***m Antiسپرم کو ہلاک کر کے بانچھ پن کا باعث بنتے ہیں۔
2۔ پرانی جگر کی بیماری جیسے ہیپاٹائٹس وغیرہ۔
3۔ گردے فعل ہو جانا۔
4۔ مسلسل بخار کی وجہ سے جسم زیادہ گرم رہنا۔
5۔ کن پیٹرے ،خصیوں میں نقص ہونا ، خصیوں کی سوزش وغیرہ ۔
Alcohol & Drugs :
الکوحل اور ڈرگزکا استعمال بھی بانچھ پن کا سبب بنتے ہیں۔مثا ل کے طور پر Anabolic Steriods جو کہ پٹھوں کو حرکت دے کر ان کی افزائش کے لئے استعمال ہوتے ہیں ۔خصیوں کے سکڑنے اور سپرم میں کمی کا باعث بنتا ہے۔
Other Medical Condition :
چوٹ اور سرجری بھی مردانہ بانچھ پن کا ایک سبب ہے اس کے علاوہ کچھ بیماریاں بھی بانچھ پن کا سبب بنتی ہیں۔جیسے شوگر ، ہارٹ اٹیک ، جگر یا گردوں کا فعل ہو جانا وغیرہ ۔
Age :
35سال سے زیادہ عمر کے بعد مردوں میں بانچھ پن زیادہ پایا جاتا ہے۔
Environmental Exposure :
بہت زیادہ گرمی ، آلودہ اور کیمیکل وغیرہ سپرم کی پیدا وار کم کرتے ہیں اور خصیوں کی کارکردگی پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔
Tobaco Smoking :
تمباکو نوشی کرنے والے حضرات میں سپرم کی تعداد نہایت کم ہوتی ہے یہ نسبتاً کے ساتھ ہے جو تمباکو نوشی نہیں کرتے.
------------ بے اولاد جوڑوں کی خدمت کا مرکز
جس سے Ozoospermia جیسی بیمار ی سے مکمل طور پر نجات مل جاتی ہے۔یہ مردوں کے جرثومہ حیات میں ہونے والی تبدیلیوں کے افزائشی ہارمون HGH کے سپرم کی سطح میں اضافہ کرتا ہے ۔بے اولاد افراد کے سپرم کم ہوں تو ان کے مادہ تولید میں سپرمز کو نارمل حالت میں لاتا ہے ۔مادہ تولید کی افزائش کو بڑھا کر سپرم کو اولاد کے قابل بناتا ہے۔سپرم کی پیدائشی کمزوری اور کمی ایسی محرومی ہے جو ایک صحت مند اور طاقتور مرد کو بھی کھوکھلا کر کے باگل پن کی حد تک پہنچا دیتی ہے ان دونوں صورتوں میں یعنی کرم منی کی کمزوری اور اس کے قدرتی تناسب کو درست کرکے اس کے قوام کو ٹھیک کرتا ہے اس میں شامل نہایت ہی قیمتی اور نایاب جڑی بوٹیا ں نہ صر مادہ تولید کو پیدا کرنے اور اسے گاڑھا کرنے میں موثر ہے بلکہ اس میں موجود سپرم کی کمی کوبھی دور کرتا ہے یہ کورس منی اور سپرم سمیت تمام مردانہ امراض جو بانچھ پن کا سبب بنتے ہیں جیسے منی میں جراثیم یعنی سپرم کا نہ ہونا ۔خصیوں کا ناکارہ ہونا ،خصیوں اورعضو تناسل کے درمیان نالیو ں کو باند ہونا ، خصیوں میں انفیکشن ہونا وغیرہ کو نہ صر ف ختم کرتا ہے بلکہ ان امراض کو دوبارہ پیدا بھی نہیں ہونے دیتا۔
زنانہ بانجھ پن :
بانجھ پن :
عورت و مرد اس وقت بانجھ کہلاتے ہیں, جب ان کی اولاد نہیں ہوتی, لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ عورتوں کو شادی کے دس چودہ سال کے بعد بھی اولاد ہو گئی, بعض عورتوں کے بچے پیدا ہوتے ہیں اور پیدا ہونا بند ہو جاتے ہیں اور پھر کافی عرصہ کے بعد پھر بچے ہونا لگتے ہیں,
عورت و مرد کے شادی کے پہلے پانچ سال تک حمل نہ ٹھہر سکے تو اسے بانجھ پن نہیں سمجھ لینا چاہیے,
ماہواری عورتوں میں تقریباً بارہ (12) سال سے شروع ہو کر پینتالیس (45) سال کی عمر تک جاری رہتی ہے,
جب تک عورت کو حیض ماہواری کا خون آتا ہو, آرہی ہو تو عورت بجا طور پر کسی وقت حاملہ ہو جانے کی توقع رکھ سکتی ہے, لیکن ماہواری آنے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ عورت کوئی نقص نہیں رکھتی, اور بغیر علاج کے حاملہ یا بارآور ہو سکتی ہے, انڈا آنے کے راستے دونوں فیلوپین ٹیوب کھلی اور ٹھیک ہونی چاہئیں
عورت کے تولیدی نظام کا سیٹ اپ ایسا ہے کہ ایک تاریخ سے دوسری تاریخ تک کے درمیانی 28 سے30 روز میں سے کسی ایک دن انڈہ خارج ہوتا ہے۔ یہ دن عموماً اگلی ممکنہ تاریخ سے ٹھیک چودہ دن پہلے ہوتا ہے۔ یہ انڈہ بارہ سے چوبیس گھنٹے کے لیے نظام تولید میں زندہ رہتا ہے جس کے بعد گر جاتا ہے۔ اگر کسی بھی وجہ سے ان چوبیس گھنٹے میں زوجین کے مابین دوری قائم رہے تو باقی تمام ماہ میں حمل ہونے کا امکان تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ ہر ماہ میں ایک خاص دن کے چوبیس گھنٹے یعنی ’صرف ایک مکمل دن‘ جو حمل کے لیے موزوں ہے اسے ذہن میں رکھیں تو عورت کے حساب سے ایک سال میں صرف بارہ دن حمل کے لیے موزوں ہوتے ہیں۔
مرد کے تولیدی جراثیم زنانہ نظام تولید میں چند منٹ سے لے کر پانچ دن تک زندہ رہ سکتے ہیں، یعنی رحم میں جرثومے کی زیادہ سے زیادہ عمر پانچ روز ہے۔ مختلف تحقیقات سے ثابت ہوا کہ زیادہ تر حمل انڈے کے اخراج سے ایک سے دو روز پہلے کئے گئے ملاپ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اس تحقیق میں شامل چند حمل ایسے بھی تھے جو انڈے کے اخراج سے پانچ روز پہلے کے ملاپ کے نتیجے میں وقع پذیر ہوئے۔ جرثومے کی پانچ روزہ زندگی میں ان جراثیم نے اندام نہانی، رحم کی لمبی گردن، رحم اور فیلوپئین ٹیوبز سے انڈے دانی اور انڈے سے ملاپ کے بعد ٹیوبز کے رستے واپس رحم تک کا سفر بھی طے کرنا ہوتا ہے۔
حمل کے لیے ضروری ہے کہ عورت کے ہر مہینے انڈے بیضہ دانی سے ایک انڈہ بیضہ خارج ہو,
بچہ دانی رحم طاقور اچھی حالت میں ہو, اس میں سوزش ورم رسولی وغیرہ نہ ہو,
اگر جراثیمی سرایت یا رسولی ہو تو
ماہواری میں بےقاعدگی تھوڑی تھوڑی لگاتار, یا وقفوں کے بار بار آنے لگتی ہے, یا پھر بہت زیادہ آتی ہے,
خون کی کمی یا لمبھی بیماریوں میں ماہواری کم رہ جاتی ہے,
رسولی کی موجودگی میں ماہواری درد کے ساتھ اور بہت زیادہ آتی ہے
حیض کا رک جانا یا حیض ماہواری میں کمی
خصیتہ الرحم کے درد کی عموماً ایک وجہ ہوتی ہے یا خصیتہ الرحم کی خرابی کی وجہ سے ماہواری میں رکاوٹ ہوتی ہے یا حیض کے رک جانے سے خصیتہ الرحم میں تحریک اور درد ہوتا ہے,
خصیتہ الرحم میں درد اور ورم ایک وجہ ہے کیونکہ خصیہ الرحم اپنا فعل ادا نہیں کر سکتا,
خصیتہ الرحم انڈا یا بیضہ دانی کے مکمل نشوونما نہ پانے سے حیض مکمل اور پورے طور پر نہیں ہوتا, اس لیے لازم و ملزوم بن کر ایک دوسرے کی تکلیف میں رحم اور خصیتہ الرحم شریک ہو جاتے ہیں,
عورتوں میں عیش پسندی, عیاشانہ زندگی, سستی, کاہلی, حد سے زیادہ خورد و نوش ملذز کھانے, مرغن غذا یہ سب ایسی باتیں ہیں جن سے آلات تناسل زنانہ رحم بچہ دانی پر چربی آ جاتی ہے یا ان میں کمزوری واقع ہو جاتی ہے, نیتجہ بانجھ پن ہوتا ہے
عورتوں میں بانجھ پن مندرجہ ذیل اسباب, وجوہات صورتوں میں ہوتی ہے,
اعضاےّ نسل انسانی میں پیدائشی نقص, مقامی یا عضوی خرابی,
رحم کا نہ ہونا, ورم سوزش رحم, رحم کی گردن کا منہ بند ہو جانا, رحم کا چھوٹا ہونا, حیض کی خرابیاں, بندش حیض, قلت و دقت تنگی حیض, اوریز انڈے دانیاں رحم بچ دانی کی ورم سوزش, درد, رسولیاں, خصیہ الرحم کی ورم رسولی,
فیلوپین ٹیوبوں نالیوں کا بند ہونا, رحم کا چھوٹا ہونا, رحم کا ٹل جانا, رحم کا الٹ جانا,
رحم کا اپنی جگہ سے گر جانا یا دہرا مڑ جانا پر ہے, رحم اپنی جگہ پر نہیں ہوتا تو نطفہ حمل قرار نہیں پاتا کیونکہ خصیتہ الرحم سے انڈا نکل کر رحم کی نالیوں, قاذف نالیوں, فیلوپین ٹیوبوں میں پھنس جاتا ہے یا ضائع ہو جاتا ہے یا کسی وجہ سے حمل کا کورس پورا نہیں ہوتا, ان حالات میں رحم کی گراوٹ کا مکمل علاج کیا جاے,
سیلان الرحم لیکوریا:
یا ایک دوسری خرابی ہے, خصوصاً جب لیکوریا تیز, مقدار میں بہت زیادہ, تیزابی مادہ سوزش کرنے والی قسم اس قدر کہ انڈے رحم میں پہنچتے ہی لیکوریا کے ساتھ بہہ جاتے ہیں, یا مردانہ سپرم کو مار دیتے ہیں, اس کیلئے بھی میرے فیس بک پیج Naveed e shifa 92 پر نسخے پڑے ہیں ۔
احتباس الطمث, بندش حیض ماھواری :
ماھواری کی تنگی تکلیف اور درد سے آنا
ایام حیض میں بارش میں بھیگنا یا سردی لگنا, خصیتہ الرحم میں سوزش ورم, سیلان الرحم لیکوریا, امراض جگر یا گردہ وغیرہ کا ہونا, خون کی کمی, مریضہ کا موٹا اور دموی مزاج کا ہونا, جو کہ مرغن مچرب اغذیہ بہت کھاتی ہیں,
اجتماع خون یا ورم کے باعث ماہواری کا تکلیف دقت سے آنا, اس میں خون حیض تھوڑی مقدار میں اور تکلیف درد کے ساتھ خارج ہوتا ہے
اعصابی تنگی حیض
عصبی کمزوری سے حیض کا تکلیف سے آنا:
یہ علامات کمزور لاغر مستورات میں, نازک مزاج کمزور جسم والی لڑکیوں, اس میں خون حیض تھوڑا تھوڑا اور تشنجی درد کے ساتھ خارج ہوتا ہے گرمی سے درد میں کمی, سردی سے زیادتی ہوتی ہے
تشنج سے حیض کا تکلیف سے آنا :
رحم میں تشنج ہونے کی وجہ سے تکلیف سے آتا ہے, نازک اندام لڑکیاں عورتیں اس میں مبتلا ہوتی ہیں, عصبی اکساہٹ, بدہضمی بھی اس کے اسباب ہیں, کمر اور شکم کے نچلے حصہ میں مریضہ کو تکلیف رہا کرتی ہے۔
رکاوٹ سے حیض کا تکلیف سے آنا :
اندام نہانی یا رحم میں کسی قسم کی رکاوٹ ورم رحم رسولی وغیرہ سے رحم کا منہ بند ہو جاتا ہے, رحم کا الٹ یا ٹل جانا یا گر جانا, رکاوٹ واقع ہوتی ہے,
درد والے حیض ماہواری:
درد والے حیض ماہواری حمل قرار پانے میں بہت کچھ زیادہ مخل اور بانجھ پن کا سبب ہوتے ہیں حمل نہیں ہوتا, اگر حمل قرار پا چکنے کے بعد جب ماہواری کا وقت تاریخ آتی ہے تو عادتا" حیض کے درد شروع ہو جاتے ہیں اور ان دردوں کے ساتھ چونکہ سکڑن ہوتی ہے, اس واسطے رحم کی سکڑن اور تشنجی کی کیفیت سے نطفہ نکل جاتا ہے۔
جھلی دار دقت حیض:
رحم کی اندرونی جھلیاں حیض کے ساتھ نکل آتی ہے تو اووم انڈا بھی باہر نکل آتا ہے, لوتھڑہ رحم کو تقویت اور اصلاح کریں۔
علامات مرض
بچہ دانی کی سوجن ورم, کمی خون, جسم کا رنگ پھیکا عام کمزوری سستی, تھوڑا سا کام کرنے سے دل دھڑکنے لگتا ہے, جگر کمزور, فاقہ کشی, نبض کمزور نیند زیادہ آے گی ہاضمہ کمزور, سردی خشکی جسم کا موٹا ہونے, خون زیادہ گاڑھا ہو جانے سے رگوں کے منہ بند ہو گئے ہوں, زیادہ سخت محنت مشقت کرنے سے یہ عارضہ ہو جاتا ہے, عام حالات میں کثرت ج**ع, ماہواری کے دنوں میں بارش میں بھیگنے یا سردی لگنے سے یہ مرض ہو جاتا ہے,
اگر گرمی سے یہ عارضہ ہو تو گرمی کی علامات ظاہر ہوں گی, سردی کی زور سے تو سردی کے آثار نظر آئیں گے,
خشکی کی وجہ سے ہو تو جسم بے رونق اور کمزور ہوگا, بچہ دانی رحم کے ورم یا الٹ جانے گر جانے سے ہو تو رحم یا بچہ دانی میں سخت تکلیف درد محسوس ہوتا ہے, ج**ع ملاپ کے وقت عورت کو تکلیف ہوتی ہے,
مقام رحم میں سخت درد ار گرانی بوجھ محسوس ہوتا ہے ٹھہر ٹھہر کر درد, کمر, جنگاسہ, پیڑو اور بعض اوقت ٹانگوں تک جاتا ہے, اعضا شکنی, سردرد, رخسار سرخ, تنفس تیز, دل دھڑکن اور شکم میں کاٹنے والی دردیں, مریضہ لیٹنے پر مجبور چل نہیں سکتی, ماہواری شروع ہونے سے پہلے دردیں شروع ہو جاتی ہیں اور اخراج تک رہتی ہیں, بعض اوقت رحم سے لعاب دار جھلی کے ٹکڑے خون حیض کے ساتھ خارج نہیں ہو جاتے, اور بعض کیسوں میں مستورات کے پستان و دیگر تولیدی اعضاء نہایت زکی الحس ہو جاتے ہیں اور درد کرتے ہیں,
اس مرض میں سخت قبض کی شکایت بالعموم ہوا کرتی ہے
سردی یا بھیگنے یا رنج و غم صدمہ سے یہ مرض ہو تو ماہواری خوں تھوڑا سا آ کر پھر اچانک بند ہو جاتا ہے,
کسی پرانی بیماری سل و دق خنازیر امراض گردہ و جگر بواسیر یا تلی ک بڑھ جانے سے یا سبب ہو گا تو ان امراض پر دلالت کرے گا,
مریضہ کی اپنی طبعی کیفیتں بھی حمل میں رکاوٹ کے کم نہیں
عصبی اکساہٹ کی شدت و خفت یا فتور بھی حمل کے فعل کو روکتا ہے,
حاد یا پرانی بیماری سے پیدا شدہ کمزوری, اپنے آپ کو دماغی کام میں حد سے زیادہ لگاےّ رکھنا, یک دم غم صدمہ یا خوشی, حد سے زیادہ
جسمانی محنت ایسی کیفیتیں ہیں جن سے نظام عصبی پر بوجھ پڑ کر اعصاب میں کمزوری آ جاتی ہے اور اس کمزوری کی وجہ سے زنانہ و مردانہ آلات تناسل تولیدی اعضاء کے افعال کے اجراء باقاعدہ نہیں رہتے اس لیے اول حمل قرار نہیں پاتا اگر پاتا بھی ہے تو ساقط گر جاتا ہے,
قلت کمی خون,
جسمانی محنت کے سبب, قلت خوراک یا بیماری کی وجہ سے کمی خون ہو تو بھی بانجھ پن کا سبب ہو سکتی ہے
عورت کا زیادہ موٹا ہونا, موٹی تازی چربیلی عورتیں بھی کم حاملہ ہوتی ہیں , اندام نہانی کا تنگ یا کسی قدر بند ہو جانا,
رحم کی گردن منہ کی سختی, رحم کے منہ کی تنگی اور زخم ورم گومڑ جس کی وجہ سے منی شرم گاہ سے باہر نکل جاتی ہو,
اس کے علاوہ خصیتہ الرحم ہر دو کی ماؤف ہو جانے سے بانجھ پن پیدا ہو جاتا ہے,
ج**ع ملاپ کے وقت درد ہونا, اندام نہانی رحم کی رطوبت معمول سے زیادہ ترش یا کھاری ہونا,
زنانہ ہارمون کی کمی کی وجہ سے تولیدی اعضاء کا نشوونما نہ پانا, جب اعضاء ہی کمزور اور کمی ہوگی تو کارکردگی بھی کم درجہ ہوگی,
سوزاک, آتشک اور اٹھراہ سمیت خون یعنی زہریلہ پن ہونا وغیرہ اسباب و وجوہات ہیں,
میاں بیوی کی نفسیاتی یا آر ایچ فیکٹر کی ناموافقت وجہ بھی,
مستورات میں بعض وقت خواہش نفسانی کی کمی ہوتی ہے, ان میں ج**ع کی کسی قسم کی دل بستگی یا لزت نہیں ہوتی, وہ محض شوہر کی خوشنودی کیلیے شوہر سے ملتی ہیں,
اسی طرح بعض میں زیادہ خواہش نفسانی کی زیادتی ہو جاتی ہے
یہ ہر دو وجہ نطفہ حمل قرار پانے میں رکاوٹ اور ہر دو ہی جسمانی اور دماغی یا خرابی کا نتیجہ ہیں,
علاج
بانجھ پن کو روکنے کے لیے سب سے ضروری امر یہ ہے کہ اپنی زندگیوں کو بالکل قدرتی طریقہ میں ڈھال دیا جاےّ اور محنت جفاکشی کی زندگی بسر کی جاےّ, اس سے تمام اعضاء طاقتور اور توانا ہو جائیں گے,
جو عورتیں طبعی کیفیتوں میں یا آلات تناسل , یا نظام عصبی کی تکلیفات میں مبتلا ہیں ان کا علاج موقع و محل کے مطابق کر کے رفع کرنا چاہیے, تکلیفات کے رفع ہو جانے سے وہ بانجھ عورتیں بانجھ نہیں رہتیں, اس علاج کے بعد فورا" حمل قرار پا جاتا ہے,
بانجھ پن کے علاج میں اسباب وجوہات اور علامات کی تفتیش تشخیص کرنی ضروری ہے تاکہ مناسب علاج سے دافعیہ کیا جاےّ
آخر میں دُعا ہے کہ اللہ کریم اپنے رسولِ کریم اور اُن کی آلِ عظیم کے واسطے سب مریضوں کو شِفائے کاملہ عطا فرمائے ،** مردانہ و زنانہ بانجھ پن پر لکھی ایک تحریر **
مردانہ بانجھ پن :
اولاد کا حصول اور خاندان کی نسلی ترقی ہر انسان کی ضرورت اور مقدس خواہش ہوتی ہے۔ ایک شادی شدہ جوڑے کی ازدواجی خوشیاں اس وقت تک ادھوری رہتی ہیں جب تک ان کی گود میں اولاد جیسی نعمت موجود نہ ہو۔ اولاد رحمتِ الٰہی کا ذریعہ ہے اور بحیثیت مسلمان ہمارا یمان اور یقین ہے کہ اچھی اور صالح اولاد اپنے والدین کے لئیے مغفرت و بخشش کا ذریعہ ہے۔
بے اولادی کا جب بھی ذکر آئے تو ہمارے ذہنوں میں یہی خیال آتا ہے کہ اس کی وجہ عورت ہے۔ اسی وجہ سے بہت سارے خاندان پریشان ہیں اور خواتین کا معاشرتی استحصال بھی ہوتا ہے۔ جب کہ یہ ہرگز ضروری نہیں کہ بے اولادی کی وجہ عورت ہو، موجودہ دور میں میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ بے اولادی کے اکثر مسائل کی وجہ مرد ہیں۔ جس کا سبب ان کا بانجھ ہونا، مردانہ کمزوری، تولیدی جرثوموں کی پیدائش نہ ہونا یا مطلوبہ مقدار سے کم ہونا اور غیر اسلامی افعال و حرکات کا مرتکب ہونا ہے ۔
محققین اور اطبأ کے نزدیک میاں بیوی کے درمیان ایک سال تک عمومی وظیفہ زوجیت اور تعلق قائم رہنے کے باوجود اولاد کا نہ ہونا بانجھ پن کہلاتا ہے ۔
مردوں میں بانجھ پن کی بنیادی طبی وجوہات میں موروثی مسائ لکھی ایک تحریر **
مردانہ بانجھ پن :
اولاد کا حصول اور خاندان کی نسلی ترقی ہر انسان کی ضرورت اور مقدس خواہش ہوتی ہے۔ ایک شادی شدہ جوڑے کی ازدواجی خوشیاں اس وقت تک ادھوری رہتی ہیں جب تک ان کی گود میں اولاد جیسی نعمت موجود نہ ہو۔ اولاد رحمتِ الٰہی کا ذریعہ ہے اور بحیثیت مسلمان ہمارا یمان اور یقین ہے کہ اچھی اور صالح اولاد اپنے والدین کے لئیے مغفرت و بخشش کا ذریعہ ہے۔
بے اولادی کا جب بھی ذکر آئے تو ہمارے ذہنوں میں یہی خیال آتا ہے کہ اس کی وجہ عورت ہے۔ اسی وجہ سے بہت سارے خاندان پریشان ہیں اور خواتین کا معاشرتی استحصال بھی ہوتا ہے۔ جب کہ یہ ہرگز ضروری نہیں کہ بے اولادی کی وجہ عورت ہو، موجودہ دور میں میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ بے اولادی کے اکثر مسائل کی وجہ مرد ہیں۔ جس کا سبب ان کا بانجھ ہونا، مردانہ کمزوری، تولیدی جرثوموں کی پیدائش نہ ہونا یا مطلوبہ مقدار سے کم ہونا اور غیر اسلامی افعال و حرکات کا مرتکب ہونا ہے ۔
محققین اور اطبأ کے نزدیک میاں بیوی کے درمیان ایک سال تک عمومی وظیفہ زوجیت اور تعلق قائم رہنے کے باوجود اولاد کا نہ ہونا بانجھ پن کہلاتا ہے ۔
مردوں میں بانجھ پن کی بنیادی طبی وجوہات میں موروثی مسائل، تولیدی جرثوموں کی کمی یا عدم موجودگی، سرعت ِ انزال، ضعفِ باہ، کثرتِ مباشرت، معدہ کی خرابیوں کی بنا پر جنم لینے والی جنسی بیماریاں جن میں جریان اور اح**ام سرِ فہرست ہیں۔
اس طرح کچھ نفسیاتی وجوہات ہیں، کاروباری یا مالی پریشانی، کسی مقدمہ یا عدالت کا خوف، دشمن کا خوف، کسی اہم رشتہ یا چیز کا چھن جانا اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی ذہنی پریشانی، گھریلو ناچاکی ، میاں بیوی کے باہمی تعلقات میں عدم استحکام و اتفاق، یا کسی بھی دوسرے غم کی وجہ سے ذہنی مریض بن جانا۔ یہ تمام علامات مرد کے تولیدی عمل میں شدید پریشانی اور رکاوٹ کا باعث بن سکتے ہیں اور جدید سائنس اس سے پوری طرح متفق ہے۔
معاشرتی وجوہات میں غلط اور بے راہ روی کے شکار لوگوں کے ساتھ دوستی، شراب نوشی، تمباکو و سگریٹ نوشی، لواطت و مشت زنی، عریاں و فحش مواد کا مطالعہ ، انٹرنیت اور ویڈیوز میں بے حیائی پر مبنی مواد دیکھنا، اپنی منکوحہ یا منکوح کو چھوڑ کر غیر عورتوں یا مردوں سے تعلقات کا استوار کرنا وغیرہ وغیرہ ۔
مردانہ پانچھ پن کی سب سے بڑی وجہ سپرم ہیں۔ جو خصیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور مردو عورت کے ملنے کے بعد یعنی Sexual In*******se کے بعد مردانہ عضو تنا سل سے منی کے ساتھ خارج ہوتی ہے۔عورت کے رحم کی گردن میں پہنچ کر اولاد پیدا کرنے کا باعث بنتا ہیں۔سپرم کی پیدائش ان سپرم کی وجہ سے ہوتی ہے جو جسم میں Ductless Gland یعنی بے نالی غدودوں سے رطوبت بن کر خارج ہوتی ہے۔ہر بار بچے کی پیدائش کے لئے ضروری ہے کہ منی میں سپرم کی کوالٹی اور مقدار مناسب ہوبعض اوقات کسی بیماری کی وجہ سے منی میں سپرم موجود نہیں ہوتے یا بہت کم مقدار میں ہوتے ہیں جو مردانہ بانچھ پن کا باعث بنتے ہیں
سپرم کی اقسام :
سپرم کی دو اقسام ہیں ۔
1>> X, 2>>Y
اگر Y انڈے O**m سے پہلے ملے تو بیٹا پیدا ہو?