Dr Zahid Bashir

Dr Zahid Bashir انسانیت سے محبت

*عورت ہونا بھی کیسا دلچسپ تجربہ ہے نا!*❤‍🩹⏱️وہ ذہنی اور جذباتی انتشار سے گزر رہی ہوتی ہے مگر اسے اپنے فرائض اُسی پرانی خ...
25/07/2024

*عورت ہونا بھی کیسا دلچسپ تجربہ ہے نا!*

❤‍🩹⏱️وہ ذہنی اور جذباتی انتشار سے گزر رہی ہوتی ہے مگر اسے اپنے فرائض اُسی پرانی خوبی سے نبھانے ہوتے ہیں۔

💔وہ اٹکتی سانس ، تنگ ہوتے قلب اور مرجھائے ہوئے اعصاب کے ساتھ وقت پر آٹا گوندھتی ہے ، گول اور خستہ روٹی بناتی ہے ، صحن کو اسی خوبصورتی سے چمکاتی ہے ، برتنوں کو دھو کر پھر سے رزق کے لائق بناتی ہے ۔۔۔۔🧹🥘

🍂گہرے حلقوں کو کوئی نوٹس نہیں کرتا ۔۔۔ مگر میز پر گرد بڑھ جائے تو ' تم نکمی اور سست ہورہی ہو ! ' کہنے میں کسی کو جھجک نہیں ہوتی ۔۔۔۔🧺

🥀اس کے ہاتھ سے بنے ناشتے کی خوشبو سے سارا محلہ مہکتا ہے ، اس کے جل چکے خواب اب بو پیدا کررہے ہیں کس کی سونگھنے کی حِس اتنی تیز ہوا کرتی ہے؟🍲

❤‍🔥وہ کپڑے دھو کر بہت سلیقے اور بڑے طریقے سے تار پر پھیلاتی ہے اور ایک کپڑا وہیں پرات میں رہ جائے تو ' تم کہاں کھو گئی ہو ؟ ' سنتی تو ہے مگر اس کی کتابوں کی الماری کئی دنوں سے بے ترتیبی کا غم اٹھا رہی ہے کون دیکھتا ہے ؟🪣

*💔زندگی ۔۔۔ اس کی رینج سے بہت باہر ہوئی چلی جارہی ہے۔ زندوں میں کون جان سکتا ہے یہ ؟*

*⁉️وہ کوئی شرٹ استری کرنا بھول گئی تو کون پوچھتا ہے کہ ' کیا تم تھک رہی ہو آج کل ؟ کچھ ہے جو ہم مل بیٹھ کر سلجھا سکیں ؟ '*

*⁉️کونوں میں رونے کے بعد اس کے آنسو فرش پر نقش بھی نہیں چھوڑتے کہ کوئی پوچھے ' آج کوئی اتنا کیوں رویا ہے ؟* *کوئی اتنا کیسے روتا ہے ؟ '*

🏡کیا رب سے یہ فرمائش کرنا بہت اضافی ہے کہ غم کے دنوں میں ، تھکن کی رُت میں ۔۔

*🌻💐گھر ، روٹین ، کپڑے اور کھانے کی ڈیوٹی سے کوسوں دور تتلی کے رنگ کے ایک پیڑ تلے اسے بیٹھنے دیا جائے*
کم سے کم تین گھنٹے۔۔۔۔

*🌸جہاں وہ آنکھیں موند کر اس پیڑ سے ٹیک لگائے*
🍀رونا چاہے تو رو لے
🍀ہنسنا چاہے تو بہت ہنسے
🍀اور یقیں نامی چرواہا اس کے سامنے بیٹھ کر
🍀امید پھونک کر بانسری بجائے
اور ہر دُھن اس سے کہتی ہو

*💖' اے رنجیدہ روح !*
*سکون کرو۔۔۔۔*
*بریک لو ! تندرست ہونے کی دعا کرو*
*خود کو واپس جوڑنے کی جسارت کرو۔۔*

دل نہ چاہے تو
کچھ نہ کرو ۔۔۔
بس کچھ دیر یونہی رہو
پیڑ سے ٹیک لگائے
آنکھیں موندے۔۔۔
*دونوں شانے ہلکے کردو*
*سانس لو اور*
*بس آرام کرو۔۔ کچھ نہ کرو

12/07/2024
" ایک تفریحی بحری  جہاز سمندر میں حادثے کا شکار ہو گیا، جہاز پر ایک میاں بیوی کا جوڑا بھی سوار تھا، لائف بوٹ کی طرف جانے...
12/07/2024

" ایک تفریحی بحری جہاز سمندر میں حادثے کا شکار ہو گیا، جہاز پر ایک میاں بیوی کا جوڑا بھی سوار تھا، لائف بوٹ کی طرف جانے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ اس میں صرف ایک شخص کی گنجائش باقی ہے۔
اس وقت اس شخص نے عورت کو اپنے پیچھے دھکیل دیا اور خود لائف بوٹ پر چھلانگ لگا دی۔
خاتون نے ڈوبتے ہوئے جہاز پر کھڑے ہو کر اپنے شوہر سے ایک جملہ کہا۔
یہاں استانی نے توقف کیا اور پوچھا، "آپ لوگوں کا کیا خیال ہے کہ وہ کیا بات چلائی تھی؟"
زیادہ تر طلباء نے پرجوش ہو کر جواب دیا، "میں تم سے نفرت کرتی ہوں! میں اب تک اندھی تھی!"
اب استانی نے ایک لڑکے کو دیکھا جو اس تمام تر قصے کے دوران خاموش رہا تھا، استانی نے اسے جواب دینے کے لیے کہا اور اس نے جواب دیا، "استانی صاحبہ، مجھے یقین ہے کہ وہ چیخی ہوگی - "ہمارے بچے کا خیال رکھنا!"
استانی نے حیرانی سے پوچھا کیا تم نے یہ کہانی پہلے سنی ہوئی ہے؟
لڑکے نے سر ہلایا، "نہیں، لیکن یہ بات میری ماں نے میرے والد کو بیماری سے مرنے سے پہلے کہی تھی"۔
استانی نے افسوس کرتے ہوئے کہا، "جواب صحیح ہے"۔
تفریحی بحری جہاز ڈوب گیا، وہ شخص بخیریت گھر پہنچ گیا اور اپنی بیٹی کو تن تنہا ہی پالا۔
اس شخص کی موت کے کئی سال بعد، ان کی بیٹی کو اپنا سامان صاف کرتے ہوئے والد کی ایک ڈائری ملی۔
اس ڈائری سے یہ راز آشکار ہوا کہ " جب اس کے والدین تفریحی جہاز پر گئے تھے، تو ماں کو پہلے سے ہی ایک لاعلاج بیماری کی تشخیص ہو چکی تھی.
اس نازک لمحے میں، باپ زندہ بچ جانے کے واحد موقع سے فائدہ اٹھا کر بھاگ نکلا۔
اس نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا، "میری کس قدر تمنا تھی کہ تمہارے ساتھ سمندر کی تہہ میں ڈوب مروں، لیکن اپنی بیٹی کی خاطر میں تمہیں ہمیشہ کے لیے سمندر کی گہرائیوں میں اکیلا رہنے کے لیے چھوڑ آیا ہوں"۔
کہانی ختم ہوئی، کلاس میں خاموشی چھا گئی۔ -----------
دنیا میں اچھائی اور برائی کا وجود ہے، لیکن ان کے پیچھے بہت سی پچیدگیاں ہیں جن کو سمجھنا مشکل ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہمیں کبھی بھی صرف سطحی حالات کو دیکھ کر اور دوسروں کو پہلے سمجھے بغیر فیصلہ صادر نہیں کرنا چاہئے۔
جو لوگ کھانے کا بل ادا کرنا پسند کرتے ہیں، وہ اس لیے نہیں کرتے کہ وہ دولت مند ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ دوستی کو پیسے پر ترجیح دیتے ہیں۔
جو لوگ کام میں پہل کرتے ہیں وہ اس لیے نہیں کرتے کہ وہ بیوقوف ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ ذمہ داری کے تصور کو سمجھتے ہیں۔
جو لوگ جھگڑے کے بعد پہلے معافی مانگتے ہیں وہ اس لیے نہیں کرتے کہ وہ غلط ہیں بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کی قدر کرتے ہیں۔
جو لوگ اکثر آپ کو میسج کرتے ہیں، ایسا اس لیے نہیں کرتے کہ ان کے پاس کرنے کے لیے کچھ بہتر کام نہیں ہے بلکہ اس لیے کہ آپ ان کے دل میں بستے ہیں۔
ایک دن ہم سب ایک دوسرے سے بچھڑ جائیں گے۔ ہم ہر موضوع اور موقع کے بارے میں گفتگو کو یاد کریں گے۔اور ان خوابوں کو جو ہم نے مل کر دیکھے تھے۔ دن، مہینے، سال گزرتے جائیں گے، یہاں تک کہ یہ رابطے نایاب ہو جائیں گے۔
ایک دن ہمارے بچے ہماری تصویریں دیکھیں گے اور پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں؟
اور ہم پوشیدہ آنسوؤں کے ساتھ مسکرائیں گے کیونکہ ایک مضبوط لفظ دل کو چھو لیتا ہے اور ہم کہیں گے: " یہ وہی تھے جن کے ساتھ ہم نے اپنی زندگی کے بہترین دن گزارے تھے "۔

انگریزی ادب سے لی گئی کہانی، یہ کہانی ہمارے معاشرے کی بھی بھرپور عکاسی کرتی ہے
منقول

06/07/2024

شادی کےتین سال کے بعد ساس نے بہو سے پوچھا.:
بہو مجھے ایک بات تو بتا. میں تجھے اتنی خراب اور کھری کھری باتیں سناتی ہوں اور تو پلٹ کر جواب بھی نہیں دیتی اور غصہ بھی نہیں کرتی اور بس ہنستی رہتی ہے۔

بہو کو تو جیسے سنانے کو کہانی مل گئی۔۔۔
کہنے لگی :
اماں جی آپ کو ایک بات سناتی ہوں۔ میں جب چھوٹی تھی تو مجھے ہمیشہ ایسا لگتا تھا کہ میری ماں میری سگی ماں نہیں۔ کیوں کہ وہ مجھ سے گھر کے سارے کام کرواتی تھی اور کوئی کام غلط ہو جاتا تو مجھے ڈانٹ بھی پڑتی اور کبھی کبھی مار بھی دیتی تھی لیکن ماں تھی وہ میری۔ مجھے ان سے ڈر بھی لگتا تھا اور میں نے ان سے کبھی غصہ نہیں کیا۔۔۔

یہاں تک کہ میں کالج سے تھکی ہوئی واپس آتی تو آتے ہی کچھ دیر آرام کے بعد مجھے کام کرنے ہوتے تھے۔
پھر جب میری بھابیاں آئیں تب تو جیسے میرے کام زیادہ ہی بڑھ گئے۔ ہونا تو چاہیے تھا کہ بہو آئی تو ساری ذمہ داریاں اس پر ڈال جاتی۔ لیکن میری امی نے پھر بھی مجھ سے سارا کام کروایا اور کبھی بھی بھابھیوں کو نہیں ڈانٹا بلکہ ان کے کام بھی مجھے کہتی تھیں کہ کر دو خیر ہے۔ "پھر کیا ہوتا ہے" ان کا یہ ایک جملہ ہمیشہ مجھے یاد رہتا ہے۔
وہ کہتی تھی خیر ہے بیٹی اگلے گھر جاکر تجھے مشکل نہیں ہوگی اور میں اِس جملے سے چِڑ گئی تھی۔

جب میری شادی تھی تو دو دن پہلے مجھے امی نے پیار سے اپنے پاس بٹھایا اور بولیں :
بیٹا آج تک سمجھ میں تیری ساس تھی۔ میں نے تجھے پریکٹس کروا دی ہے اور تجھے بتا دیا ہے کے ساس کیسی ہوتی ہے۔ اب آج سے میں تیری ماں ہوں۔ اب تیری شادی ہو رہی ہے تو بیٹا جب تمھاری ساس تمہیں کچھ کہے تو سمجھنا کہ جیسے میں کہتی تھی ویسے ہی تیری ماں تجھے ڈانٹ رہی ہے۔ بس یہ ہی بات تھی کہ مجھے آپ کی باتیں بری نہیں لگتی۔ کیوں کہ میری امی نے مجھے پریکٹس کروا کے بهیجا ہے۔۔۔ اور اماں جی آپ نے تو کبھی اتنا ڈانٹا ہی نہیں جتنا امی ڈانٹتی تھیں۔۔ توبہ توبہ۔۔۔۔۔
بہو ہنستی ہوئی کچن میں چلی گئی۔۔۔

اور ساس سوچتی رہی کہ کیا واقعی بیٹیوں کی تربیت ایسی کرنی چاہیئے۔۔۔؟؟

رب تعالی تمام بہن بیٹیوں کے نصیب اچھے فرماۓ۔ آمین
🌹🌹🌹

06/07/2024

یہ ایک لڑکی کی کہانی ہے جس کی عمر 34 سال ہے.. اس کی شادی کو دیر ہو چکی ہے، 34 سال کی عمر میں بھی اس کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ اور پھر آخر کار کوئی سامنے آیا، وہ یقیناً بہت بہت خوش تھی، اس کے لیے یہ ایک سنہری موقع تھا (آخری موقع نہ کہنا)۔ تو وہ اس آدمی میں بہت دلچسپی لیتی رہی
بہت خوش... منگیتر اس کی عمر کے قریب تھا، اس لیے وہ دونوں شادی کی جلدی میں تھے، انہوں نے شادی کی تاریخ طے کی، لیکن شادی کا دن جتنا قریب آتا، منگیتر کی ماں اتنی ہی زیادہ ناخوش اور مایوس دکھائی دے رہے تھے...
پھر شادی کی تاریخ سے عین پہلے منگیتر کی ماں نے ملاقات کا اہتمام کرنے کو کہا۔

وہ چاہتی تھی کہ سب موجود ہوں:
وہ، اس کا بیٹا، مستقبل کی دلہن اور اس کی ماں۔ اس نے سب کو ایک کمرے میں بٹھا دیا۔ پھر اس نے ایک ایسا کام کیا جس نے دل توڑ دیا۔ جب وہ سب کمرے میں بیٹھے تھے،
اس نے ہونے والی دلہن سے کہا "میں نے آپ کی شناخت ابھی تک نہیں دیکھی... کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں؟"
لڑکی سمجھ نہیں پائی... اس نے ماں سے پوچھا کوئی مسئلہ ہے؟"
منگیتر کی ماں نے اس سے کہا "میں اسے دیکھنا چاہتی ہوں"
لڑکی نے اسے اپنی شناخت دی۔ منگیتر کی ماں نے تاریخ پیدائش پڑھی۔
اس پر نشان لگایا، پھر اس نے کہا "اولالا کیا آپ کی عمر 34 سال ہے؟ نہیں... نہیں... نہیں... مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ اتنے بوڑھے ہو گئے ہیں۔
میں چاہوں گی کہ میرا بیٹا 5 سال سے چھوٹی بیٹی سے شادی کرے، اور 34 سالہ عورت سے نہیں، کیونکہ چھوٹے بچے پیدا کرنا چاہتی ہوں...

مجھے یقین نہیں ہے کہ آپ اپنی عمر میں حاملہ ہو جائیں گی ' پھر وہ اپنے بیٹے کو لے کر چلی گئیں...
اس کا بیٹا ایک لفظ کہے بغیر ماں کے پیچھے چلا گیا۔
₩اپنے والدین کی بات ماننے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ناانصافی کو قبول کریں یا دل توڑنے کے لیے قبول کریں، بیٹے کو اس سے بہتر ردعمل کی ضرورت تھی
اس حالت میں۔ لیکن وہ اپنی ماں کے پیچھے چلا، اور وہ چلے گئے۔ غریب لڑکی ڈپریشن میں داخل ہو گئی ہے۔
سنگین ڈپریشن. وہ کافی دنوں سے ڈپریشن کا شکار ہے،
پھر اس نے عمرہ پر جانے کا فیصلہ کیا، چنانچہ وہ عمرہ کرنے چلی گئیں۔ وہ بہت روئی، بہت دعائیں کیں،
اس نے قرآن مجید کی اس آیت کو بہت دہرایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ {اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو}
سورہ 39-الزمر: گروہ
پھر وہ عمرہ سے فارغ ہوگئ اور گھر چلی گئی۔
جب وہ جہاز سے اتر رہی تھی، پیکنگ کرنا چاہتی تھی، ایک آدمی اس کی مدد کے لیے آیا، اسے لگا کہ وہ بہت شائستہ ہے، اس نے اپنا بیگ اٹھایا، پھر چلی گئی۔ ہوائی اڈے سے باہر نکلتے ہوئے، اس نے اپنی بہن اور اس کی بہن کے شوہر کو پایا جو تھا
اس کے انتظار میں، وہ گاڑی میں بیٹھ گئی،
تب محترمہ بہن کے شوہر نے کہا "تھوڑا انتظار کرو، کیونکہ میرا ایک دوست اسی فلائٹ میں تھا، ہم اسے چھوڑ دیں گے" اور یہ دوست کون تھا؟
یہ وہ شخص تھا جس نے محترمہ کی سوٹ کیس میں مدد کی تھی، وہ گاڑی میں بیٹھا، ان سے ان کی جان پہچان ہوئی، کچھ ایک ڈیڑھ م ینے بعد ان کی شادی ہوگئی،
اور بڑی حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ ٹرپل سے حاملہ ہو گئی... 1 بچہ نہیں... جڑواں نہیں... بلکہ ایک ہی شاٹ میں 3!
اس نے انہیں الحسن۔ الحسین اور فاطمہ۔۔نام دیا
یہ لڑکی اپنی زندگی میں خوش تھی۔
لیکن ایک اور حیرت ہے جو میں نے نہیں بتائی... وہ شخص جس نے اسے چھوڑ دیا اس نے بھی شادی کر لی،
لیکن اب تک اس کے ہاں اولاد نہیں ہوئی...
اسے پتہ چلا کہ وہ جراثیم سے پاک ہے۔
: لوگوں کے دل مت توڑو، کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ بہترین بدلہ لینےوالا ہے،

اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں۔
اللہ تعالیٰ ہی فضل عطا کرنے والا ہے اس کی شہرت اور نام ہمیشہ بلند رہے ان شاء اللہ آمین 🤲❤️

ایک دن کی بات ہے ہے شوہر اپنی بیوی سے کہتا میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں تو بیوی گھبراتے ہوئے بولی کیوں ؟ تو اس پر شوہر ...
06/07/2024

ایک دن کی بات ہے ہے
شوہر اپنی بیوی سے کہتا میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں تو بیوی گھبراتے ہوئے بولی کیوں ؟ تو اس پر شوہر نے جواب دیا پچھلے ایک سال سے ہم دونوں کے بیچ میاں بیوی جیسا کچھ بچا ہی نہیں اب میں آفس والی لڑکی سے پیار کرتا ہوں اور جلد ہی اس سے شادی کرلوں گا 🖤
بیوی نے کہا ٹھیک ہے مجھے طلاق دے دو مگر میری ایک شرط ہے تم دس دن شام کو روز مجھے گود میں اٹھا کر بیڈروم تک لیکر آؤ گے اس نے سوچا دس دن تو یونہی گزر جاینگے اس لیے وہ رازی ہوگیا 🙂
پہلے دن اس نے اپنی بیوی کو اٹھایا محسوس کیا جیسے بہت کمزور ہوگئی ہے دوسرے دن اٹھایا بیوی کا سر سینے سے لگایا تو اسکی خوشبو سے پرانے دن یاد آگئے۔
تیسرے دن اٹھایا تو وہ معصوم گڑیا جیسی لگ رہی تھی شوہر کو لگا بیمار ہے اور بیماری مجھ سے چھپا رہی ہے چوتھے دن اٹھایا تو احساس ہوا کے وہ غلط کر رہا ہے اسی طرح جب آخری دن اٹھایا تو بیوی نے سینے سے لگ کر آنکھیں بند کرلیں جب لیٹایا تو گردن ایک طرف لڑھک گئی بیوی کی مٹھی میں ایک چٹھی تھی جس میں لکھا تھا
میں پچھلے ایک سال سے کینسر میں مبتلا ہوں خدا کرے آج تمہاری گود آخری سانسیں لوں اور تمہیں رہا کردوں خوش رہنا 🖤
اس کے پاس پچھتاوے کے

05/07/2024

ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طواف فرما رہے تھے ایک اعرابی کو اپنے آگے طواف کرتے ہوئے پایا جس کی زبان پر “یاکریم یاکریم” کی صدا تھی۔
حضور اکرم نے بھی پیچھے سے یاکریم پڑھنا شروع کردیا۔ وہ اعرابی رُکن یمانی کیطرف جاتا تو پڑھتا یاکریم، پیارے نبی بھی پیچھے سے پڑھتے یاکریم۔
وہ اعرابی جس سمت بھی رخ کرتا اور پڑھتا یاکریم بھی اس کی آواز سے آواز ملاتےہوئے یاکریم پڑھتے۔ اعرابی نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کیطرف دیکھا اور کہا کہ اے روشن چہرے والے !اے حسین قد والے !
اللہ کی قسم اگر آپ کا چہرہ اتنا روشن اور عمدہ قد نہ ہوتا تو آپ کی شکایت اپنے محبوب نبی کریم کی بارگاہ میں ضرور کرتا کہ آپ میرا مذاق اڑاتے ہیں.
سید دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم مسکرائے اور فرمایا کہ کیا تو اپنے نبی کو پہچانتا ہے ؟ عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم ایمان کیسے لائے؟ عرض کیا: بِن دیکھے ان کی نبوت و رسالت کو تسلیم کیا، مانا اور بغیر ملاقات کے میں نے انکی رسالت کی تصدیق کی۔
آپ نے فرمایا: مبارک ہو، میں دنیا میں تیرا نبی ہوں اور آخرت میں تیری شفاعت کرونگا۔
وہ حضور علیہ السلام کے قدموں میں گرا اور بوسے دینے لگا۔ آپ نے فرمایا: میرے ساتھ وہ معاملہ نہ کر جو عجمی لوگ اپنے بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں۔
اللہ نے مجھے متکبر وجابر بناکر نہیں بھیجا بلکہ اللہ نے مجھے بشیر و نذیر بناکر بھیجا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آئےاور عرض کیا کہ اللہ جل جلالہ نے آپ کو سلام فرمایا ہے اور فرماتا ہے کہ اس اعرابی کو بتادیں کہ ہم اسکا حساب لیں گے۔ اعرابی نے کہا: یا رسول اللہ! کیا اللہ میرا حساب لے گا؟ فرمایا: ہاں، اگر وہ چاہے تو حساب لے گا۔ عرض کیا کہ اگر وہ میرا حساب لے گا تو میں اسکا حساب لونگا۔ آپ نے فرمایا کہ تو کس بات پر اللہ سے حساب لیگا؟
اس نے کہا کہ اگر وہ میرے گناہوں کا حساب لیگا تو میں اسکی بخشش کا حساب لونگا۔ میرے گناہ زیادہ ہیں کہ اسکی بخشش؟
اگر اس نےمیری نافرنیوں کا حساب لیا تو میں اسکی معافی کا حساب لونگا۔
اگر اس نے میرے بخل کا امتحان لیا تو میں اس کے فضل و کرم کا حساب لونگا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب سماعت کرنے کے بعد اتنا روئے کہ ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی پھر جبرائیل علیہ السلام آئے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ رونا کم کریں آپ کے رونے نے فرشتوں کو تسبیح و تحلیل بھلا دی ہے اپنے امتی کو کہیں نہ وہ ہمارا حساب لے نہ ہم اسکا حساب لیں گے اور اس کو خوشخبری سنادیں یہ جنت میں آپ کا ساتھی ہوگا۔
"کیا عقل نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے ان خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے" تحریر کو لائک کرنے سے اچھا ہے کہ شیئر کردے یہ آپکے اکاؤنٹ میں نیکیوں کا وزن زیادہ کرتی ہے ۔“
(مسند احمد بن حنبل)

05/07/2024

اللہ پر مکمل بھروسہ رکھو اللہ کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گا

I have reached 400 followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉
18/03/2023

I have reached 400 followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉

20/12/2022

*چار چیزیں زندگی میں کبھی نہ چھوڑیں*
*1-شکر کرنا نہ چھوڑیں* ورنہ آپ نعمتوں میں زیادتی اور اضافے سے محروم ہو جائیں گے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
*لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيْدَنَّكُمْ* (اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو مزید دوں گا)
(سورة إبراہيم :آیت 7)
*2-اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ چھوڑیں* ورنہ آپ اس سے محروم ہو جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو یاد رکھے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
*فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ* (تم میرا ذکر کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا)
(سورة البقرة: آیت 152)
*3-دعا کو نہ چھوڑیں* ورنہ قبولیت سے محروم ہو جائیں گے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
*أَدْعُوْنِيْ أَسْتَجِبْ لَكُمْ* (تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا)
(سورة غافر:آیت 60)
*4-استغفار نہ چھوڑیں* ورنہ نجات سے محروم ہو جائیں گے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
*وَمَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْن* (اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے والا نہیں ہے جب کہ وہ استغفار کرتے ہوں)
(سورة الأنفال :آیت 33)

08/11/2022

*رسولﷺ 💕 کی "۱۰ عاداتِ مُبارکہ"، آپﷺ پوری حیات طیبہ بیمار نہ ہوئے۔*

🌼🍃🌼🍃🌼🍃🌼🍃🌼

“۰۱”۔ *"صبح جلدی اٹھنا"*

رسول اللہﷺ صبح بہت جلد اٹھ جایا کرتے تھے بلکہ ایسی کوئ روائت نہیں ملتی کہ آپﷺ کی تہجد بھی کبھی قضاء ہوئ ہو۔

☜ سورج نکلنے سے کچھ وقت قبل اور ایک گھنٹہ بعد تک کا وقت آکسیجن سے بھرپور وقت ہوتا ہے۔

☜ آج سائنسی تحقیق کی بنیاد پر بھی صحت کے اعتبار سے 24 گھنٹوں میں یہ بہترین وقت ہوتا ہے کہ جس میں آپکو زیادہ سے زیادہ آکسیجن لینے کا موقع ملتا ہے جو کہ آپکی صحتمند زندگی کیلئے ایک بہترین مفید عمل ہے۔

“۰۲”۔ *"آنکھوں کا مساج*

صبح نیند سے اٹھنے کے بعد رسول اللہﷺ آنکھوں کا مساج فرمایا کرتے تھے۔

☜ باڈی کا پورا نظام گیارہ سسٹم پر مشتمل ہوتا ہے۔

☜ نیند سے اٹھنے کے بعد یہ سسٹم بحال ہونے میں 11 سے 12 منٹ لیتا ہے ۔

☜ اگر آپ آنکھوں کا مساج کرتے ہیں تو یہ سسٹم 10 سے 15 سیکنڈ میں فوراً بحال ہو جاتا ہے۔

“۰۳”۔ *"بستر پر کچھ دیر بیٹھے رہنا"*

رسولﷺ بستر سے اٹھ کر کچھ دیر بیٹھے رہتے تھے اور معمول تھا کہ 3 دفعہ سورہ اخلاص پڑھتے تھے۔ کہ جس کو پڑھنے میں تقریباً 1 منٹ صرف ہوتا ہے۔

☜ آج میڈیکل سائنس بتاتی ہے کہ ہمارے دماغ میں ایک capillary ہے کہ جسکے ایک حصے سے دوسرے حصے کیلئے بلڈ کیلئے ایک پل بنتا ہے۔

☜ اس طرح اس پل کے ذریعے سے ہی ہمارے پورے دماغ کو بلڈ کی سپلائی بحال ہوتی ہے کہ جہاں سے ہمارے تمام تر اعصاب یعنی پورا جسم کو کنٹرول ہونا ہوتا ہے۔

☜ اگر کوئ شخص صبح بیدار ہونے پر اچانک آٹھ کر چل دے کہ جبکہ ابھی برین میں بلڈ کی سپلائی بحال نہیں ہوئ تو اس شخص کو یہاں برین ہیمریج ہو سکتا ہے یا وہ برین کے کئ دوسرے پیچیدہ مسائل کا شکار ہو سکتا ہے کہ جس میں اچانک جسم کے کئی حصوں کا مفلوج ہونا (فالج) بھی شامل ہے۔

☜ جبکہ اگر وہ صرف ایک منٹ بیٹھا رہے کہ اسکے دماغ میں بلڈ کی سپلائی بحال ہو سکے تو بہت سے پیچیدہ مسائل سے بچ سکتا ہے۔

☜ یہ باقاعدہ ایک سائنس ہے اور اس ایک حدیثِ مبارکہ کے پیچھے بہت سے پروفیسر ڈاکٹرز کی ریسرچ شامل ہے کہ جس میں غیر مسلم ریسرچرز نے بھی اتفاق کیا ہے کہ ہمیں محمدﷺ کی اس سنت کے مطابق صبع اٹھنے کے بعد بیڈ پر کچھ دیر بیٹھے رہنا چاہیے۔

☜ اسکا فائدہ یہ ہے کہ دماغ پوری طرح سے ایکٹو ہو کر ہمارے جسم کی بھرپور راہنمائ کے قابل ہو جاتا۔

☜ یہ سنت مبارکہ جہاں بہت بڑا آجر و ثواب ہے وہاں صحت کا بہت بڑا راز بھی ہے۔

“۴” ۔ *"قیلولہ کرنا"*

آپﷺ کی عادتِ مبارکہ تھی کہ دوپہر کے کھانے کے بعد ایک گھڑی کیلئے (20 سے 25 منٹ) آپﷺ لیٹ جایا کرتے تھے۔

☜ اسکا فائدہ یہ ہے کہ تقریبا 68% افراد میں جب وہ لنچ کرتے ہیں تو انکا معدہ تھوڑی مقدار میں الکوحل پیدا کرتا ہے۔

☜ ایسے میں اگر انسان چل پھر رہا ہو تو وہ چکرا کر گر سکتا ہے، یا اس پر خمار کی سی کیفیت طاری ہو سکتی ہے۔

☜ یہی سبب ہے کہ آپ ہمیشہ دوپہر کے کھانے کے بعد آپنے آپ کو تھوڑا بوجھل سا محسوس کرتے ہیں۔

☜ اگر ہم کچھ دیر لیٹ جائیں تو الکوحل سے پیدا ہونے والے خمار کا ذہن پر زیادہ دباو نہیں آئے گا اور وہ باڈی فنگشنز کیلئے زیادہ فعال رہے گا اور ہم کسی بھی طرح کے حادثے سے بچ سکیں گے۔

☜ اسکے علاوہ بھی اس سنتِ مبارکہ پر عمل نہ کرنے کی صورت میں بہت سے صحت کے مسائل کا خدشہ رہتا ہے۔

☜ چونکہ یہ بات آج تحقیقات سے ثابت شدہ ہے اسلئے دنیا بھر کے ممالک میں بیشر 1 سے 2 یا 3 بجے تک دوپہر کا وقفہ کیا جاتا ہے تاکہ لوگ لنچ کے بعد کچھ قیلولہ کر سکیں۔

☜ آج پورا یورپ رسول اللہﷺ کی سنت کو عملاً اپنائے ہوئے ہے اور پورے یورپ میں دوپہر 1 سے 3 بجے تک کا وقفہ ہوتا ہے۔ انہوں نے سنتِ رسولﷺ پر ریسرچ کی، اپنایا اور ہم سے کہیں بہتر صحت کا معیار رکھتے ہیں۔

“۵” ۔ *"کھانے سے پہلے پھل نوش فرمانا"*

رسول اللہﷺ ہمیشہ کھانا کھانے سے پہلے فروٹ نوش فرمایا کرتے تھے آپﷺ کی عادتِ مبارکہ تھی کہ آپ کھانے کے بعد پھل نوش نہ فرما تے تھے۔

☜ مختلف پھلوں میں 90 سے 99 % تک پانی کی مقدار ہوتی ہے آپﷺ نے چونکہ کھانا کھانے کے بعد پانی پینے سے منع فرمایا ہے جبکہ کھانے سے قبل پانی پینے کی ترغیب دلائی ہے۔

☜ اس لئے مختلف پھل بھی چونکہ پانی کی بہت زیادہ مقدار رکھتے ہیں اس لئے انکو کھانے سے پہلے کھانے سے جسم اور خاص طور پر معدہ اور آنتوں کو توانائی ملتی ہے۔

☜ کیونکہ کھانے کو ہضم کرنے میں معدہ اور آنتوں کا بہت اہم کردار ہوتا ہے اور یہ عمل انکی کارکردگی بڑھانے میں انکے لئے مددگار ثابت ہوتا ہے ۔ اور یہ بات بھی سائنسی مشاہدات سے ثابت شدہ ہے۔ فروٹ میں موجود غزائیت سے خالی معدہ کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔

“۶” ۔ *"غذا کے بعد پانی نہ پینا"*

رسول اللہﷺ کبھی بھی کھانے کے بعد پانی نہ پیتے تھے۔

☜ آج علم و تحقیق سے جو باتیں سامنے آئ ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ اس سنتِ مبارکہ پر عمل نہ کرنے کے اسقدر نقصانات ہیں کہ گمان بھی نہیں کیا جا سکتا۔

☜ جب ہم کھانے کے بعد پانی پیتے ہیں تو کھانے میں جسقدر بھی فیٹس ہوتے ہیں وہ کھانے سے نکل کر معدے کے اوپر والے حصے کی طرف آجاتے ہیں۔

☜ باقی کھانا ہاضمے کے دوسرے مرحلے کیلے چھوٹی آنت میں چلا جاتا ہے اور اس طرح معدے میں رہ جانے والا فیٹ اور پروٹین معدے کے اند انتہائ نقصان دہ گیسسز پیدا کرتے ہیں جبکہ ان سب کو کھانے کیساتھ مکس ہو کر نظام انہظام کے اگلے مرحلے میں جانا تھا۔ ہم نے پانی پی لیا یا فروٹ کھا لیا تو یہ ہماری صحت کی بربادی کیلئے معدے ہی میں رہ گئے۔

☜ ایک حدیث رسولﷺ کا مفہوم ہے کہ اگر کھانا کھا لینے کے بعد پانی کے حاجت ہو تو محض چند ایک گھونٹ لے لو اور اسکے بعد روٹی کا ایک لقمہ کھا لو۔

☜ جاپانی ریسرچ ہے کہ کھانے کے بعد پانی پینے سے جو فیٹ اوپر آ رہے تھے اور آپ نے جو بعد میں لقمہ کھا لیا تو فیٹس کے اوپر آنے کا سلسلہ نہ صرف وہیں رک جاتا ہے بلکہ وہ دوبارہ غذا کا حصہ بن جاتے ہیں۔

☜ اسلئے کھانا کھانے کے بعد پانی ہرگز نہیں پینا چاہیے کہ چو پیٹ میں نہ صرف گیسسز، تیزابیت، بدہضمی کا باعث بنتے ہیں بلکہ بہت سے دل کے امراض کا تعلق بھی اسی سنتِ مبارکہ پر عمل نہ کرنے کے سبب سے ہی ہے۔

“۷” ۔ *"وضو"*

☜ ہم دن میں پانچ فرض نمازوں کیلے کم از کم پانچ بار وضو کرتے ہیں کیونکہ وضو کے بغیر نماز نہیں ہوتی اور منہ، ناک ہاتھ، بازو، سر اور پاوں دھوئے بغیر وضو نہیں ہوتا۔ یعنی دن میں پانچ بار ہم جسم کے ان تمام اعضاء کو دھوتے ہیں۔

☜ وضو میں ہم جسم کے تمام ظاہری اعضاء دھوتے ہیں کہ جن پر مٹی اور کاربن لگ جاتی ہے۔

☜ آج سائنسی مشاہدات یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ جسم کے جن اعضاء پر مٹی یا کاربن لگ جاتی ہے تو اگر ان کو صاف نہ کیا جائے اور وہ جسم کے اس حصے پر زیادہ دیر لگے رہیں تو ان اعضاء اور دماغ کا کنکشن کمزور ہو جاتا ہے۔ یعنی جسم کا اعصابی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔

☜ چونکہ وہ مسلسل دماغ کو یہ پیغام بھیج رہے ہوتے ہیں کہ جسم پر کوئ چیز آ گئ ہے اور اسکی صاف کا اہتمام کیا جائے۔

☜ اگر ایک شخص صبح منہ دھوتا ہے اور اسکے بعد شام میں آکر دھوتا ہے تو اسکے اعضا اور دماغ کا تعلق کمزور پڑ جاتا ہے کہ جس سے بعد میں وہ بہت سے اعصابی مسائل کا شکار ہو سکتا ہے۔

☜ اسلام کم از کم دن میں پانچ بار آپکے اعضاء کی صفائی کا بند بسٹ کرتا ہے اور جمعہ کے روز ناخن، زیر ناف اور بغلوں کے غیر ضروری بال کاٹنے سمیت مکمل صفائی کا اہتمام کرتا ہے اسی لئے جمعہ کا غسل ہر مسلمان پر واجب ہے۔

☜ رسول اللہﷺ نے نہ صرف ایسا کرنے کا حکم فرمایا ہے بلکہ یہ سب آپﷺ کی سنت مبارکہ کا حصہ بھی ہے۔



“۸” *"جلد سونا"*

رسولﷺ کی ایک اور عادتِ مبارکہ یہ بھی تھی کہ آپﷺ رات جلد سو جایا کرتے تھے۔ عموما آپﷺ نماز عشاء کے فورا بعد سو جاتے تھے۔ یعنی رات جلد سونا اور صبح جلد اٹھنا آپﷺ کے معمولات میں شامل تھا۔

☜ ہماری بایولاجیکل واچ جو کہ ہمارے پورے جسم کے نظام کو منظم کرتی ہے جب یہ باہر اندھیرا دیکھتی ہے تو یہ آپکے جسم کو سونے کا سگنل دے دیتی ہے جسم کو تیاری کیلئے یہ ڈیڑھ سے دو گھنٹے کا ٹائم دیتی ہے کہ اس وقت تک آپکو لازمی سونا ہے۔

☜ نوٹ کیجئے کہ نماز مغرب اور نماز عشاء میں بھی تقریبا اتنا ہی دورانیہ ہوتا ہے ا

☜ اسکا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپکے جسم کے اندر بایولاجیکل واچ کے تحت ایک ڈاکٹر جاگ جاتا ہے جو آپکے پورے جسم کی مینٹیننس کرتا ہے۔ اگر کہیں زخم آگیا ہے وہ اسکو ریپئر کر گا۔ اگر جگر یا کسی اور اعضاء میں کچھ مشکل ہے تو اس پر کام کرے گا۔

☜ بلکہ سونے کے بعد سب سے پہلے جگر پر ہی کام ہوتا ہے اور جو جگر کے مریض ہیں انکے لئے یہ رائے بھی ہے جہاں وہ اپنا علاج کر رہیں ہیں وہ اپنی جگہ لیکن اپنے نیند کے نظام کو بہتر کر کے اپنے جسم کے ڈاکٹر کو علاج کا موقع دیجئے اور پھر اسکے ثمرات دیکھیے۔

☜ رات 10 بجے سے بارہ بجے تک جگر اور اسکے ارد گرد کے اعضاء کی مینٹیننس ہوتی ہے اور اسکے بعد درجہ بدرجہ پورے جسم کی مینٹیننس ہوتی ہے اور یہ عمل روزانہ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

☜ اللہ ربالعزت نے آپکے جسم میں ایک آٹومیٹک نظام رکھا ہے اور یہ نظام تب کام کرتا ہے کہ جب آپ جلدی سونے کی عادت اپناتے ہیں۔

☜ عہد جہالت میں عربوں میں ایک رواج تھا کہ رات کے کھانے کے بعد انکے ہاں شعر و شاعری اور دیو مالائ کہانیوں کی محفلیں ہوتی تھیں جو رات گئے دو بجے تک چلتی رہتی تھیں اور اس ماحول میں رسولﷺ کا رات جلدی سونا بھی انکے نزدیک ایک قابل اعتراض عمل تھا۔

☜ یہ تو عہد جہالت تھا لیکن آج ماڈرن ایج کا دعوہ کرنے والے ہم مسلمانوں کے ہاں بھی دیر تک جاگنے کو نہ صرف قابل اعتراض نہیں سمجھا جاتا بلکہ کچھ حد تک تو قابل فخر بھی جانا جاتا ہے۔ عہد جہالت کی محفلوں کی جگہ آج ماڈرن انٹر نیٹ اور سیٹیلائٹ ٹیکنالوجی نے لے لی ہے۔

☜ لیکن جلدی سونا رسول اللہﷺ کے معمولات میں تھا کیونکہ جسم کے اندرونی ڈاکٹر کی افادیت سے واقف تھے اور یہی وجہ ہے کہ پوری حیاتِ مبارکہ میں رسول اللہﷺ ایک لمحے کیلئے بھی بیمار نہیں ہوئے۔

“۹”۔ *"مسواک کرنا"*

رسول اللہﷺ مسواک کو بہت پسند فرما تے تھے اور خصوصا دن میں پانچ دفعہ ہر نماز میں وضو کیساتھ تو ضرور اسکا اہتمام فرما تے تھے۔

☜ اسکے علاوہ بھی جب گھر تشریف لاتے، کسی محفل میں حاضری سے پہلے غرض موقع بے موقع مسواک کا اہتمام کرتے اور مسواک کو بہت محبوب رکھتےﷺ ۔

☜ ہوتا یہ ہے کہ جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو دانتوں کے درمیان کھانے کے کچھ نہ کچھ ذرات ضرور رہ جاتے ہیں اور کھانے کے ایک گھنٹے بعد ان میں بیکٹیریا پیدا ہو جاتے ہیں۔

☜ محسوس کیجئے گا کہ دانتوں میں رہ جانے والے ذرات دو گھنٹوں پر نرم ہو جاتے ہیں اور اسکی وجہ یہ بیکٹیریا ہی ہیں۔

☜ اس لئے ہمیں کہا گیا کہ کھانے سے پہلے، بعد، سونے سے پہلے، بعد مسواک کا اہتمام کیا جائے۔ ورنہ یہ آپکے ہارٹ اٹیک کا بھی سبب بن سکتی ہے۔

☜ آج امریکہ اور مغربی ممالک میں صبح اٹھتے بغیر دانت منہ صاف کیے کھانے پینے کا رواج عام ہے جو ان میں طرح طرح کی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔

☜ آسٹریلیا کی ایک یونیورسٹی نے ہارٹ اٹیک کے پانچ سو مریضوں پر ریسرچ کی انہوں نے جہاں اور بہت سی وجوہات بیان کیں وہاں ایک کامن وجہ یہ بھی سامنے آئ کہ یہ لوگ ٹوتھ برش کرنے کے عادی نہ تھے جسکے سبب انکے دانتوں میں جما میل پیٹ میں جا کر اسقدر ملٹی پلائ ہوا کہ وہ ہارٹ کی آرٹریز کو بلاک کرنے کا سبب بنا۔

☜ انکو ہارٹ اٹیک کا اصل سبب انکے دانتوں کا میل تھا جبکہ ہمیں رسول اللہﷺ مسواک کی اس حد تک تلقین فرمائ کہ ایک موقع پر فرمایا کہ اگر امت پر بھاری نہ ہوتا تو میں امت پر مسواک کو فرض قرار دے دیتا۔

☜ آج کی ماڈرن سائنس یہ ثابت کر چکی ہے کہ جن لوگوں کو ٹوتھ برش زیادہ کرنے کی عادت ہوتی ہے انکو غصہ کم آتا ہے اور وہ اکثر ٹھنڈے مزاج، پرسکون رہتے ہیں۔

☜ جس شخص کو زیادہ غصہ آتا ہو، بلڈ پریشر اکثر ہائی رہتا ہو، طبیعت میں بےچینی، تو وہ زیادہ سے زیادہ مسواک کیا کرے دو تین ماہ ہی میں وہ اسکے حیران کن معجزاتی اثرات پائے گا۔

“۱۰”۔ *"ہفتے میں دو روزے"*

رسول اللہﷺ کے معمولات میں پیر اور جمعرات کا روزہ بھی شامل تھا اور آپﷺ نے ان روزوں کو رکھنے کی ترغیب بھی دلائ۔ یعنی کہ ہفتے میں دو روزے۔

☜ رسول اللہﷺ کا قولِ مبارک ہے کہ مسلمان ایک آنت میں کھانا کھاتا ہے جبکہ کافر تین آنت میں۔ اور ہمیں نصیحت فرمائ کہ جب خوب بھوک لگے تو کھانا کھاو اور ابھی بھوک باقی ہو تو چھوڑ دو۔

قولِ۔ *یہ عمل آج جدید میڈیکل کی زبان میں۔ "آٹو فیجیا" (Autophagia) کہلاتا ہے۔*

☜ یہ انسانی جسم کو صحتمند رکھے کا بہت عظیم راز ہے۔

☜ ہوتا یہ ہے کہ جب ہم معمول کے مطابق اپنی ضرورت سے زیادہ کھانا کھاتے رہتے ہیں تو جسم میں ایکسٹرا پروٹین، فیٹس اکٹھے ہو جاتے ہیں جو کہ جسم کی ضرورت سے زائد ہونے کے سبب حسم میں زہر کا کردار ادا کرتے ہیں اور مختلف بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔

☜ آج کی عام بیماریاں شوگر، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کا بنیادی سبب یہی ایکسٹرا فیٹس ہی بنتے ہیں۔

☜ جب آپکو بھوک لگتی ہے تو جسم کے "ہنگر جوسز" (hunger juices) یعنی جسم میں کھانا ہضم کرنے کا خود کار نظام پوری طرح سے تیار ہو جاتا ہے۔

☜ اگر ہم نے سو لقمے کھانے تھے مگر ستر پر ہاتھ روک لیا تو باقی تیس لقمے کہ جنکی جسم کو ضرورت تھی جسم وہ ضروت ان ایکسٹرا پروٹین اور فیٹس کو کھا کر پورا کرتا ہے۔

☜ جسم اپنے خودکار نظام کے تحت اکٹھے ہونے والے زہر کو ختم کرتا رہتا ہے اور آپ صحتمند رہتے ہیں۔

☜ اب جب تین روز کچھ کوتاہی ہو گئی اور آپ نے پیر کو روزہ رکھ لیا تو دن بھر کے طویل روزے کے باعث *آٹو فیجیا* کے عمل کو ایکٹو ہونے کا بھرپور موقع ملتا ہے اور تین روز کی کوتاہی کو وہ ریپئر کر دیتا ہے پھر دو روز کے معمولات اور جمعرات کا پھر روزہ۔

☜ جب یہ سنتِ رسولﷺ آپکے معمولات کا حصہ بن جاتی ہے تو بیماری پیدا کرنے والے سیل *آٹو فیجیا* کا عمل ہفتے میں دو بار دھرائے جانے کے باعث اکٹھے ہی نہیں ہو پاتے اور آپ سدا صحتمند رہتے ہیں۔

*آج ہم سائنسی تحقیقات پر بہت یقین رکھتے ہیں، کیا ہم اس انتظار میں ہیں کہ سائنس رسول اللہﷺ کی سنتِ مبارکہ کو پروف کرے تو ہم اللہ کے رسولﷺ سنتوں پر عمل کرنا شروع کریں گے۔*

حقیقت یہ ہے کہ سائنس رسول اللہﷺ کی سنتوں سے بہت پیچھے ہے اور آپﷺ کی ساری حیاتِ طیبہ، سنتیں ہمارے لئے مشعل راہ ہیں اور انہی میں ہمارے لئے دنیا و آخرت کی کامیابیاں اور راحتیں ہیں۔

*لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِىۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ*

(اے مسلمانو ! ) تمہارے لیے اللہ کے رسولﷺ (کی زندگی) میں ایک بہترین نمونہ ہے الأحزاب۔21"*

Address

Gujrat
0054

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Zahid Bashir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category