10/07/2020
ترک اخبار صباح انقرہ کے مدثر اولو کا این ٹی وی پر بڑا دعویٰ ترکی کی اعلیٰ انتظامی عدالت دانشتائے نے آیاصوفیا کو میوزیم بنانے کے عمل کو معطل کر دیا ہے اور اس کی بطور مسجد کی حیثیت کو بحال کیا ہے۔ ججر نے متفقہ فیصلہ کیا ہے،
دو جولائی کو دانشتائے نے مختصر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پندرہ دن میں تحریری طور پر سنایا جائے گا- فیصلے کے آنے کے بعد ترک صدر کی منظوری لازم ہو گی اور ترک حکومت آیا صوفیا کی بطور مسجد بحالی بارے اقدامات اٹھائے گی-
اطلاعات کے مطابق طیب اردوان کی کابینہ نے آیا صوفیا کو میوزیم میںتبدیل کرنے کا فیصلہ منسوخ کردیا ہے ، اس فیصلے کے ساتھ ہی ترکی میں مسلمانوں میں خوشی کی لہردوڑ گئی ہے
آیا صوفیہ استنبول کی تاریخ
یہ معروف عمارت استنبول کے فیتھ ڈسٹرکٹ میں سمندر کے کنارے واقع ہے۔
بازنطینی بادشاہ جسٹنیئن اول نے اس کی تعمیر کا حکم سنہ 532 میں دیا تھا جب اس شہر کا نام قسطنطنیہ تھا۔ یہ بیزنٹائن سلطنت (جسے مشرقی رومی سلطنت بھی کہا جاتا ہے) کا دارالحکومت بھی تھا۔ ماہرین بحیرہ روم کے پار سے اس عمارت کی تعمیر کے لیے اشیا لائے تھے۔
سنہ 537 میں جب یہ عمارت مکمل ہوئی تو یہ آورتھوڈوکس چرچ کے سربراہ کا مقام بن گئی۔ اہم ترین بازنطینی تقریبات جیسے کہ تاج کشائی اس عمارت میں ہونے لگیں۔
تقریباً نو سو سال تک یہ عمارت آورتھوڈوکس چرچ کا گھر رہی۔ بیچ میں 13ویں صدی میں یہ کچھ عرصے کے لیے کیتھولک چرچ کے زیرِ انتظام بھی رہی جب یورپی حملہ آوروں نے قسطنطنیہ کا کنٹرول سنبھال کر چوتھی صلیبی جنگ میں شہر میں لوٹ مار کی۔
تاہم 1453 میں سلطنتِ عثمانیہ نے سلطان محمد دوئم کے دور میں قسطنطنیہ پر فتح کیا، شہر کا نام تبدیل کر کے استنبول رکھا اور بازنطینی سطلنت کا خاتمہ کر دیا۔
اس عمارت میں داخل ہوتے وقت سلطان محمد دوئم کا اصرار تھا کہ اس کی تعمیرِ نو کی جائے اور اسے ایک مسجد بنایا جائے۔ انھوں نے اس میں جمعے کی نماز بھی پڑھی۔
معماروں نے آورتھوڈوکس نشانیاں مٹا دیں اور عمارت کے ساتھ منار کھڑے کر دیے۔ 1616 میں استنبول کی معروف بلو موسق کی تعمیر تک آیا صوفیہ ہی شہر کی مرکزی مسجد تھی۔
1918 میں سلطنتِ عثمانیہ کو پہلی جنگِ عظیم میں شکست ہو گئی۔ ترکی میں قوم پرست سیاسی قوتوں نے پروان چڑھی اور اس سلطنت راکھ میں سے جدید ترکی نے جنم لیا۔
مصطفیٰ کمال اتاترک نے عمارت کو ایک میوزیم بنانے کا حکم دیا اور 1935 میں اسے عام لوگوں کے لیے کھول دیا گیا۔ یہ ترکی کی اہم ترین سیاحتی عمارتوں میں سے ایک ہے۔
اس عمارت کی 1500 سالہ تاریخ کی وجہ سے ترکی کے اندر اور باہر کئی لوگوں کے لیے مذہبی، روحانی اور سیاسی عقیدت رکھتی ہے۔