Fakhar_e_thimka

Fakhar_e_thimka i love Thimka ....bafeezan _e_ nazar Dhoda sharif

ترک اخبار صباح انقرہ کے مدثر اولو کا این ٹی وی پر بڑا دعویٰ ‏ترکی کی اعلیٰ انتظامی عدالت دانشتائے نے آیاصوفیا کو میوزیم ...
10/07/2020

ترک اخبار صباح انقرہ کے مدثر اولو کا این ٹی وی پر بڑا دعویٰ ‏ترکی کی اعلیٰ انتظامی عدالت دانشتائے نے آیاصوفیا کو میوزیم بنانے کے عمل کو معطل کر دیا ہے اور اس کی بطور مسجد کی حیثیت کو بحال کیا ہے۔ ججر نے متفقہ فیصلہ کیا ہے،
دو جولائی کو دانشتائے نے مختصر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پندرہ دن میں تحریری طور پر سنایا جائے گا- فیصلے کے آنے کے بعد ترک صدر کی منظوری لازم ہو گی اور ترک حکومت آیا صوفیا کی بطور مسجد بحالی بارے اقدامات اٹھائے گی-
اطلاعات کے مطابق طیب اردوان کی کابینہ نے آیا صوفیا کو میوزیم میں‌تبدیل کرنے کا فیصلہ منسوخ کردیا ہے ، اس فیصلے کے ساتھ ہی ترکی میں مسلمانوں میں خوشی کی لہردوڑ گئی ہے

آیا صوفیہ استنبول کی تاریخ
یہ معروف عمارت استنبول کے فیتھ ڈسٹرکٹ میں سمندر کے کنارے واقع ہے۔
بازنطینی بادشاہ جسٹنیئن اول نے اس کی تعمیر کا حکم سنہ 532 میں دیا تھا جب اس شہر کا نام قسطنطنیہ تھا۔ یہ بیزنٹائن سلطنت (جسے مشرقی رومی سلطنت بھی کہا جاتا ہے) کا دارالحکومت بھی تھا۔ ماہرین بحیرہ روم کے پار سے اس عمارت کی تعمیر کے لیے اشیا لائے تھے۔
سنہ 537 میں جب یہ عمارت مکمل ہوئی تو یہ آورتھوڈوکس چرچ کے سربراہ کا مقام بن گئی۔ اہم ترین بازنطینی تقریبات جیسے کہ تاج کشائی اس عمارت میں ہونے لگیں۔
تقریباً نو سو سال تک یہ عمارت آورتھوڈوکس چرچ کا گھر رہی۔ بیچ میں 13ویں صدی میں یہ کچھ عرصے کے لیے کیتھولک چرچ کے زیرِ انتظام بھی رہی جب یورپی حملہ آوروں نے قسطنطنیہ کا کنٹرول سنبھال کر چوتھی صلیبی جنگ میں شہر میں لوٹ مار کی۔
تاہم 1453 میں سلطنتِ عثمانیہ نے سلطان محمد دوئم کے دور میں قسطنطنیہ پر فتح کیا، شہر کا نام تبدیل کر کے استنبول رکھا اور بازنطینی سطلنت کا خاتمہ کر دیا۔
اس عمارت میں داخل ہوتے وقت سلطان محمد دوئم کا اصرار تھا کہ اس کی تعمیرِ نو کی جائے اور اسے ایک مسجد بنایا جائے۔ انھوں نے اس میں جمعے کی نماز بھی پڑھی۔
معماروں نے آورتھوڈوکس نشانیاں مٹا دیں اور عمارت کے ساتھ منار کھڑے کر دیے۔ 1616 میں استنبول کی معروف بلو موسق کی تعمیر تک آیا صوفیہ ہی شہر کی مرکزی مسجد تھی۔
1918 میں سلطنتِ عثمانیہ کو پہلی جنگِ عظیم میں شکست ہو گئی۔ ترکی میں قوم پرست سیاسی قوتوں نے پروان چڑھی اور اس سلطنت راکھ میں سے جدید ترکی نے جنم لیا۔
مصطفیٰ کمال اتاترک نے عمارت کو ایک میوزیم بنانے کا حکم دیا اور 1935 میں اسے عام لوگوں کے لیے کھول دیا گیا۔ یہ ترکی کی اہم ترین سیاحتی عمارتوں میں سے ایک ہے۔
اس عمارت کی 1500 سالہ تاریخ کی وجہ سے ترکی کے اندر اور باہر کئی لوگوں کے لیے مذہبی، روحانی اور سیاسی عقیدت رکھتی ہے۔

09/07/2020

کل فیکے کمہار کے گھر کے سامنے ایک نئی چمکتی ہوئی گاڑی کھڑی تھی۔۔
سارے گاؤں میں اس کا چرچا تھا۔۔
جانے کون ملنے آیا تھا۔۔
میں جانتا تھا فیکا پہلی فرصت میں آ کر مجھے سارا ماجرا ضرور سناۓ گا۔۔۔
وھی ھوا شام کو تھلے پر آ کر بیٹھا ھی تھا کہ فیکا چلا آیا۔۔۔ حال چال پوچھنے کے بعد کہنے لگا۔۔۔ صاحب جی کئی سال پہلے کی بات ھے آپ کو یاد ھے ماسی نوراں ہوتی تھی وہ جو بٹھی پر دانڑیں بھونا کرتی تھی۔۔۔ جس کا اِکو اِک پُتر تھا وقار۔۔۔
میں نے کہا ہاں یار میں اپنے گاؤں کے لوگوں کو کیسے بھول سکتا ھوں۔۔۔

اللہ آپ کا بھلا کرے صاحب جی، وقار اور میں پنجویں جماعت میں پڑھتے تھے۔۔۔
سکول میں اکثر وقار کے ٹِڈھ میں پیڑ ھوتی تھی۔۔۔
صاحب جی اک نُکرے لگا روتا رہتا تھا۔۔۔
ماسٹر جی ڈانٹ کر اسے گھر بھیج دیتے تھے کہ جا حکیم کو دکھا اور دوائی لے۔۔۔
اک دن میں ادھی چھٹی کے وقت وقار کے پاس بیٹھا تھا۔۔۔ میں نے اماں کے ہاتھ کا بنا پراٹھا اور اچار کھولا۔۔۔
صاحب جی اج وی جب کبھی بہت بھوک لگتی ھے نا۔۔۔ تو سب سے پہلے اماں کے ہاتھ کا بنا پراٹھا ھی یاد آتا ھے۔۔۔اور سارے پنڈ میں اُس پراٹھے کی خوشبو کھنڈ جاتی ھے۔۔۔
پتہ نئیں صاحب جی اماں کے ہاتھ میں کیا جادو تھا۔۔۔

صاحب جی وقار نے پراٹھے کی طرف دیکھا اور نظر پھیر لیں ۔۔۔ اُس ایک نظر نے اُس کی ٹِڈھ پیڑ کے سارے راز کھول دیئے۔۔۔ میں نے زندگی میں پہلی بار کسی کی آنکھوں میں آندروں کو بھوک سے بلکتے دیکھا۔۔۔ صاحب جی وقار کی فاقوں سے لُوستی آندریں۔۔۔ آنسوؤں کے سامنے ہاتھ جوڑے بیٹھی تھیں جیسے کہتی ھوں۔۔۔ اک اتھرو بھی گرا تو بھرم ٹوٹ جاۓ گا۔۔۔
وقار کا بھرم ٹوٹنے سے پہلے ھی میں نے اُس کی منتیں کر کے اُس کو کھانے میں ساتھ ملا لیا۔۔۔
پہلی بُرکی ٹِڈھ میں جاتے ہی وقار کی تڑپتی آندروں نے آنکھوں کے ذریعہ شکریہ بھیج دیا۔۔۔
میں نے چُپکے سے ہاتھ روک لیا اور وقار کو باتوں میں لگاۓ رکھا۔۔۔
اس نے پورا پراٹھا کھا لیا۔۔۔ اور فر اکثر ایسا ہونڑے لگا۔۔۔ میں کسی نہ کسی بہانے وقار کو کھانے میں ملا لیتا ۔۔۔
وقار کی بھوکی آندروں کے ساتھ میرے پراٹھے کی پکی یاری ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔ اور میری وقار کے ساتھ۔۔۔
خورے کس کی یاری زیادہ پکی تھی۔۔۔؟
میں سکول سے گھر آتے ھی بھوک بھوک کی کھپ مچا دیتا ۔۔۔ ایک دن اماں نے پوچھ ھی لیا۔۔۔ پُتر تجھے ساتھ پراٹھا بنا کے دیتی ھوں کھاتا بھی ھے کہ نہیں۔۔۔ اتنی بھوک کیوں لگ جاتی ھے تجھے۔۔۔؟ میرے ہتھ پیر پھول جاتے ہیں تو آتے ھی بُھوک بُھوک کی کھپ ڈال دیتا ھے ۔۔۔ جیسے صدیوں کا بھوکا ھو ۔۔۔
میں کہاں کُچھ بتانے والا تھا صاحب جی۔۔۔ پر اماں نے اُگلوا کے ھی دم لیا۔۔۔ ساری بات بتائی اماں تو سن کر بلک پڑی اور کہنے لگی۔۔۔ کل سے دو پراٹھے بنا دیا کروں گی۔۔۔ میں نے کہا اماں پراٹھے دو ھوۓ تو وقار کا بھرم ٹوٹ جاۓ گا۔۔۔ میں تو گھر آ کر کھا ھی لیتا ھوں۔۔۔ صاحب جی اُس دن سے اماں نے پراٹھے کے ول بڑھا دیئے اور مکھن کی مقدار بھی۔۔۔
کہنے لگی وہ بھی میرے جیسی ماں کا پتر ھے۔۔۔
مامتا تو وکھری وکھری نہیں ہوتی پھیکے۔۔۔
مائیں وکھو وَکھ ہوئیں تو کیا۔۔۔؟

میں سوچ میں پڑ گیا۔۔۔ پانچویں جماعت میں پڑھنے والے فیکے کو بھرم رکھنے کا پتہ تھا۔۔۔
بھرم جو ذات کا مان ہوتا ہے۔۔۔ اگرایک بار بھرم ٹوٹ جاۓ تو بندہ بھی ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔ ساری زندگی اپنی ہی کرچیاں اکٹھی کرنے میں گزر جاتی ہے۔۔۔ اور بندہ پھر کبھی نہیں جُڑ پاتا۔۔۔ فیکے کو پانچویں جماعت سے ہی بھرم رکھنے آتے تھے۔۔۔ اِس سے آگے تو وہ پڑھ ہی نہیں سکا تھا۔۔۔ اور میں پڑھا لکھا اعلی تعلیم یافتہ۔۔۔ مجھے کسی سکول نے بھرم رکھنا سکھایا ہی نہیں تھا۔۔۔

صاحب جی اس کے بعد امّاں بہانے بہانے سے وقار کے گھر جانے لگی۔۔۔ “دیکھ نوراں ساگ بنایا ھے چکھ کر بتا کیسا بنا ھے” وقار کی اماں کو پتہ بھی نہ چلتا اور اُن کا ایک ڈنگ ٹپ جاتا۔۔۔
صاحب جی وقار کو پڑھنے کا بہت شوق تھا پھر اماں نے مامے سے کہہ کر ماسی نوراں کو شہر میں کسی کے گھر کام پر لگوا دیا۔۔۔ تنخواہ وقار کی پڑھائی اور دو وقت کی روٹی طے ہوئی۔۔۔ اماں کی زندگی تک ماسی نوراں سے رابطہ رہا۔۔۔ اماں کے جانے کے چند ماہ بعد ہی ماسی بھی گزر گئی۔۔۔ اُس کے بعد رابطہ ہی کُٹ گیا۔۔۔

کل وقار آیا تھا۔۔۔ ولایت میں رہتا ھے جی۔۔۔۔ واپس آتے ہی ملنے چلا آیا۔۔۔ پڑھ لکھ کر بڑا وڈا افسر بن گیا ھے جی۔۔۔ مجھے لینے آیا ھے صاحب جی۔۔۔ کہتا تیرے سارے کاغزات ریڈی کر کے پاسپورٹ بنڑوا کر تجھے ساتھ لینے آیا ہوں

اور ادھر میری اماں کے نام پر لنگر کھولنا چاہتا ھے جی۔۔۔

صاحب جی میں نے حیران ہو کر وقار سے پوچھا۔۔۔ یار لوگ سکول بنڑواتے ہیں ہسپتال بنڑواتے ہیں تو لنگر ھی کیوں کھولنا چاہتا ھے اور وہ بھی امّاں کے نام پر۔۔۔؟

کہنے لگا۔۔۔ فیکے بھوک بڑی ظالم چیز ھے، چور ڈاکو بنڑا دیتی ھے۔۔۔۔خالی پیٹ پڑھائی نہیں ہوتی۔۔۔۔ ٹِڈھ پیڑ سے جان نکلتی ھے۔۔۔۔۔۔ تیرے سے زیادہ اس بات کو کون جانتا ھے فیکے ۔۔۔ سارے آنکھیں پڑھنے والے نہیں ھوتے۔۔۔ اور نہ ہی تیرے ورگے بھرم رکھنے والے۔۔۔ پھر کہنے لگا۔۔۔ یار فیکے تجھے آج ایک بات بتاؤں۔۔۔ جھلیا میں سب جانتا ہوں۔۔۔ چند دنوں کے بعد جب پراٹھے کے ول بڑھ گئے تھے اور مکھن بھی۔۔۔ آدھا پراٹھا کھا کے ھی میرا پیٹ بھر جاتا تھا۔۔۔ اماں کو ھم دونوں میں سے کسی کا بھی بھوکا رہنا منظور نہیں تھا فیکے ۔۔۔ وقار پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔۔۔
اماں یہاں بھی بازی لے گئی صاحب جی۔۔۔

اور میں بھی اس سوچ میں ڈُوب گیا کہ
لُوستی آندروں اور پراٹھے کی یاری زیادہ پکی تھی یا ۔۔۔
فیکے اور وقار کی۔۔۔
بھرم کی بنیاد پر قائم ہونے والے رشتے کبھی ٹوٹا نہیں کرتے۔۔۔
فیکا کہہ رہا تھا مُجھے امّاں کی وہ بات آج بھی یاد ھے صاحب جی۔۔۔ اُس نے کہا تھا۔۔۔ مامتا تو وکھری وکھری نہیں ہوتی فیکے۔۔۔ مائیں وکھو وَکھ ہوئیں تو کیا۔۔۔ اُس کے ہاتھ تیزی سے پراٹھے کو ول دے رہے تھے۔۔۔ دو روٹیوں جتنا ایک پیڑا لیا تھا امّاں نے صاحب جی۔۔۔
ماں تے ماں ہوندی ے نہ صاحب جی ماں ورگا ہور کوئ نہی ہوندا تے یار تے یار ہوندے نے صاحب جی یار تے بھراواں نالوں کوئ چنگا نہی ہوندا جے یار نسلی ہوۓ صاحب جی. منقول

07/07/2020

ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﻣﺒﺎﺭﮐﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺭﺍﺕ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ، ﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺿﺮﻭﺭ ﻣﺪﻋﻮ ﻓﺮﻣﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻧﻮﺵ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ- ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﺣﺴﺐ ﻋﺎﺩﺕ ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺩﺳﺘﮏ ﺩﯼ- ﺁﭖ ﻧﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻻ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ 80 ﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﺗﮭﺎ- ﺍﺱ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍ" ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﮭﻮﮎ ﻟﮕﯽ ﮨﮯ-
ﻧﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ... ﻣﺮﺣﺒﺎ، ﻣﺮﺣﺒﺎ "ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺭﮐﮭﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺩﮬﻼﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ: "ﭼﻠﯿﮟ ﺟﯽ ﮐﯿﺠﯿﺌﮯ"
ﻭﮦ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﺑﻮﻻ: "ﻣﯿﮟ بسم ﺍللہ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮬﻮﮞ ﮔﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﻮﺳﯽ ﮨﻮﮞ-"
ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﺟﺎﻭ ﻣَﯿﮟ ﻣﺠﻮﺳﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ-
ﻭﮦ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﺑﮍﺑﮍﺍﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ- ﺍﺩﮬﺮ ﭘﻠﮏ ﺟﮭﭙﮑﺘﮯ ﮨﯽ ﺁ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ ﮐﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ کہ
"ﺍﮮ ...!
ﻣﻨﮑﺮ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﮯ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮ 80 ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ اﺱ ﮐﺎ ﺭﺯﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﻭﮐﺎ........."
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﯾﮧ ﺳﻨﺘﮯ ﮨﯽ ﺍﺱ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﻣﺠﻮﺳﯽ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺩﻭﮌﮮ- ﺗﮭﻮﮌﯼ ﮨﯽ ﺩﻭﺭ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ- ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ۔۔۔ﺍﮮ ﺍللہ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﮮ، ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻞ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎ ﻟﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍللہ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﮈﺍﻧﭧ ﭘﮍﯼ ﮨﮯ-

ﻣﺠﻮﺳﯽ ﺑﻮﻻ کہ ﮐﻮﻥ ﺍللہ...؟
ﺁﭖ علیہ السلام ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: "ﻭﮦ ﺫﺍﺕ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ، ﺍللہ ﻭﮦ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮨﺮ ﺷﮯ ﮐﻮ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﺎﻻ، ﺍللہ ﻭﮦ ﺫﺍﺕ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺨﻠﻮﻗﺎﺕ ﮐﻮ ﺭﺯﻕ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ- اللہ ﻭﮦ ﺫﺍﺕ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ-"
ﻣﺠﻮﺳﯽ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ: "ﮐﯿﺎ ﮐﮩﻨﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﮐﮯ، ﺍﮮ ﺍللہ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﮮ...! ﺗﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﮐﺎ ﺗﻮ ﺍﺧﻼﻕ ﺑﮩﺖ ﺍﻋﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﻈﯿﻢ ﮨﮯ- ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻋﻈﯿﻢ ﺑﺎﻻ ﻭ ﺑﺮﺗﺮ ﺭﺏ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔“ (ﻗﺼﺺ ﺍﻻﻧﺒﯿﺎﺀ)

*حضورﷺ كا کھانے پینے کا ذوق بہت نفیس تھا، گوشت سے خاص رغبت تھی، زیادہ ترجیح دست، گردن اور پیٹھ کے گوشت کو دیتے، نیز پہلو...
07/07/2020

*حضورﷺ كا کھانے پینے کا ذوق بہت نفیس تھا، گوشت سے خاص رغبت تھی، زیادہ ترجیح دست، گردن اور پیٹھ کے گوشت کو دیتے، نیز پہلو کی ہڈی پسند تھی، ثرید (گوشت کے شوربہ میں روٹی کے ٹکڑے بھگو کر یہ مخصوص عربی کھانا تیار کیا جاتا تھا) تناول فرمانا مرغوب تھا، پسندیدہ چیزوں میں شہد، سرکہ، خربوزہ، ککڑی، لوکی، کھچڑی، مکھن وغیرہ اشیاء شامل تھیں، دودھ کے ساتھ کھجور (بہترین مکمل غذا بنتی ہے) کا استعمال بھی اچھا لگتا اور مکھن لگا کے کھجور کھانا بھی ذوق میں شامل تھا، کھرچن (تہ دیگی) سے بھی انس تھا، ککڑی نمک لگا کر اور خربوزہ شکر لگا کر بھی کھاتے، مریضوں کی پرہیزی غذا کے طور پر حریرا کو اچھا سمجھتے اور تجویز بھی فرماتے، میٹھا پکوان بھی مرغوب خاص تھا، اکثر جو کے ستو بھی استعمال فرماتے۔*
*ایک مرتبہ بادام کے ستو پیش کئے گئے تو یہ کہہ کر انکار کردیا کہ یہ امراء کی غذا ہے، گھر میں شوربہ پکتا تو کہتے کہ ہمسایہ کے لئے ذرا زیادہ بنایا جائے، پینے کی چیزوں میں نمبر ایک میٹھا پانی تھا اور بطور خاص دور سے بھی منگوایا جاتا، دودھ، پانی ملا دودھ (جسے کچی لسی کہا جاتا ہے) اور شہد کا شربت بھی رغبت سے نوش فرماتے، غیر نشہ دار نبیذ بھی قرین ذوق تھی، افراد کا الگ الگ بیٹھ کر کھانا ناپسند تھا، اکٹھے ہوکر کھانے کی تلقین فرمائی، سونےچاندی کے برتنوں کو بالکل حرام فرما دیا تھا، کانچ، مٹی، تانبہ اور لکڑی کے برتنوں کو استعمال میں لاتے رہے، دسترخوان پر ہاتھ دھونے کے بعد جوتا اتار کر بیٹھتے، سیدھے ہاتھ سے کھانا لیتے اور اپنے سامنے کی طرف سے لیتے، برتن کے وسط میں ہاتھ نہ ڈالتے، ٹیک لگا کر کھانا پینا بھی خلاف معمول تھا، دو زانو یا اکڑوں بیٹھتے، ہرلقمہ لینے پر بسم اللہ پڑھتے، ناپسندیدہ کھانا بغیر عیب نکالے خاموشی سے چھوڑ دیتے، زیادہ گرم کھانا نہ کھاتے، کھانا ہمیشہ تین انگلیوں سے لیتے اور ان کو لتھڑنے نہ دیتے، دعوت ضرور قبول فرماتے اور اگر اتفاقاً کوئی دوسرا آدمی (بات چیت کرتے ہوئے یا کسی اور سبب سے) ساتھ ہوتا تو اسے لیتےجاتے مگر صاحب خانہ سے اس کے لئے اجازت لیتے، مہمان کو کھانا کھلاتے تو بار بار اصرار سے کہتے کہ اچھی طرح بے تکلفی سے کھاؤ، کھانے کی مجلس سے بہ تقاضائے مروت سب سے آخر میں اٹھتے، دوسرے لوگ اگر پہلے فارغ ہوجاتے تو ان کے ساتھ آپ ﷺ بھی اٹھ جاتے، فارغ ہوکر ہاتھ ضرور دھوتے، دعا کرتے جس میں خدا کی نعمتوں کیلئے ادائے شکر کے کلمات ہوتے، اور صاحب خانہ کے لئے اللہ سے رزق اور برکت چاہتے۔*

*کھانے کی کوئی چیز آتی تو حاضر دوستوں کو باصرار شریک کرتے اور غیر حاضر دوستوں کا حصہ رکھ دیتے، پانی غٹ غٹ کی آواز نکالے بغیر پیتے اور بالعموم تین بار پیالہ منہ سے الگ کرکے سانس لیتے اور ہر بار آغاز" بسم اللہ" اور اختتام " الحمد للہ والشکرللہ" پر کرتے، عام طریقہ بیٹھ کر پانی پینے کا تھا، پینے کی چیز مجلس میں آتی تو بالعموم داہنی جانب سے دور چلاتے اور جہاں ایک دور ختم ہوتا دوسرا وہیں سے شروع کرتے، بڑی عمر کے لوگوں کو ترجیح دیتے مگر داہنے ہاتھ والوں کے مقررہ استحقاق کی بناء پر ان سے اجازت لےکر ہی ترتیب توڑتے، کھانے پینے کی چیزوں میں پھونک مارنا یا ان کو سونگھنا نا پسندتھا، کھانے پینے کی چیزوں کو ڈھانکنے کا حکم دیتے، کوئی نیا کھانا سامنے آتا تو کھانے سے پہلے اس کا نام معلوم فرماتے، زہر خورانی کے واقعہ کے بعد معمول ہوگیا تھا کہ اگر کوئی اجنبی شخص کھانا کھلاتا تو پہلے ایک آدھ لقمہ خود اسے کھلاتے*۔

*حضورﷺ كى نشست و برخواست*

*کبھی اُکڑوں بیٹھتے، کبھی دونوں ہاتھ زانوؤں کے گرد حلقہ زن کر لیتے، کبھی ہاتھوں کے بجائے کپڑا (چادر وغیرہ) لپیٹ لیتے، بیٹھے ہوئے ٹیک لگاتے تو بالعموم الٹے ہاتھ پر، فکر یا سوچ کے وقت بیٹھے ہوئے زمین کو لکڑی سے کریدتے، سونے کے لئے سیدھی کروٹ سوتے اور دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر داہنا رخسار رکھ لیتے، کبھی چت بھی لیٹتے اور پاؤں پر پاؤں بھی رکھ لیتے، مگر ستر کا اہتمام رکھتے، پیٹ کے بل اور اوندھا لیٹنا سخت ناپسند تھا اور اس سے منع فرماتے تھے، ایسے تاریک گھر میں سونا پسند نہ تھا جس میں چراغ نہ جلایا گیا ہو، کھلی چھت پر جس کے پردے کی دیوار نہ ہو سونا اچھا نہ سمجھتے، وضو کرکے سونے کی عادت تھی اور سوتے وقت مختلف دعائیں پڑھنے کے علاوہ آخری تین سورتیں یعنی(سورۂ اخلاص اور معوذتین)پڑھ کر بدن پر دم کرلیتے، رات میں قضائے حاجت کے لئے اٹھتے تو فارغ ہونے کے بعد ہاتھ منہ ضرور دھوتے، سونے کے لئے ایک تہ بند علیحدہ تھا، کرتا اتار کر ٹانگ دیتے۔*

*سیرت النبیﷺ.. مولانا شبلی نعمانی..*
*درودشریف پڑھ کر شیئر کریں*

07/07/2020

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

وہ ایک یتیم بچہ تھا.. اس کے چچا نے اس کی پرورش کی تھی.. جب وہ بچہ جوان ہوا تو چچانے اونٹ ، بکریاں غلام دے کر اس کی حیثیت مستحکم کردی تھی.. اس نے اسلام کے متعلق کچھ سنا اور دل میں توحید کا شوق پیدا ہوا.. لیکن چچا سے اس قدر ڈرتا تھا کہ اظہار اسلام نہ کرسکا..
جب نبی کریم صلی اللّہ علیہ واله وسلم فتح مکہ سے واپس گئے تو اس نے چچا سے کہا.. " مجھے برسوں انتظار کرتے گزر گئے کہ کب آپ کے دل میں اسلام کی تحریک پیدا ہوتی ہے.. اور آپ کب مسلمان ہوتے ہیں لیکن آپ کا حال وہی پہلے کا سا چلا آرہا ہے.. میں اپنی عمر پر زیادہ اعتماد نہیں کرسکتا.. مجھے اجازت دیجئے کہ میں مسلمان ہوجاؤں.. "
چچا نے جواب دیا.. " دیکھ ! اگر تو محمد (صلی اللّہ علیہ واله وسلم) کا دین قبول کرنا چاہتا ہے تو میں سب کچھ تجھ سے چھین لوں گا.. تیرے بدن پر چادر اور تہبند تک باقی نہ رہنے دوں گا.. "
اس نے جواب دیا.. " چچاجان ! میں مسلمان ضرور ہوں گا اور محمد صلی اللّہ علیہ واله وسلم کی اتباع قبول کروں گا.. شرک اور بت پرستی سے بیزار ہوچکا ہوں.. اب آپ کا جو منشاء ہے کریں.. اور جو کچھ میرے قبضہ میں مال وزر وغیرہ ہے سب کچھ سنبھال لیجئے.. میں جانتا ہوں کہ ان چیزوں کو آخر ایک روز یہیں دنیا میں چھوڑ جانا ہے.. اس لیے میں ان کے لئے سچے دین کو ترک نہیں کرسکتا.. "
اس نے یہ کہہ کر ان کے دیے کپڑے بھی لوٹا دییے اور ایک پھٹی پرانی چادر اوڑھ لی.. پھر اپنی ماں کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا..
" میں مومن اور موحد ہوگیا ہوں.. نبی کریم صلی اللّہ علیہ واله وسلم کی خدمت میں جانا چاہتا ہوں.. ستر پوشی کے لئے کپڑے کی ضرورت ہے.. مہربانی کرکے کچھ دے دیجیے.. "
ماں نے ایک کمبل دے دیا.. اس نے کمبل پھاڑا ' آدھے کا تہبند بنالیا ' آدھا اوپر کرلیا اور مدینہ کو روانہ ہوگیا..
علی الصبح مسجد نبوی میں پہنچ گیا اور مسجد سے ٹیک لگا کر نبی اکرم صلی اللّہ علیہ واله وسلم کے انتظار میں بیٹھ گیا.. نبی اکرم صلی اللّہ علیہ واله وسلم جب مسجد میں آئے ' اسے دیکھ کر پوچھا.. " "کون ہو..؟ "
کہا.. "میرا نام عبدالعزی ہے.. فقیر و مسافر ہوں.. طالب ہدایت ہو کر آپ کے در پر آپہنچا ہوں.."
نبی اکرم صلی اللّہ علیہ واله وسلم نے فرمایا.. " آج سے تمہارانام عبداللّہ ہے.. ذوالبجادین لقب ہے.. تم ہمارے قریب ہی ٹہرو اور مسجد میں ہی رہا کرو.. "
یوں عبداللّہ اصحاب صفہ میں شامل ہوگئے.. نبی اکرم صلی اللّہ علیہ واله وسلم سے قرآن پاک سیکھتے اور دن بھر عجب ذوق وشوق اور خوش ونشاط سے پڑھا کرتے..
ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللّہ عنہ نے کہا کہ لوگ تو نفل نماز پڑھ رہے ہیں.. اور یہ اعرابی اس قدر بلند آواز سے ذکر کررہا ہے کہ دوسروں کی قرآت میں مزاحمت ہوتی ہے.. نبی اکرم صلی اللّہ علیہ واله وسلم نے فرمایا.. " عمر! اسے کچھ نہ کہو.. یہ تو اللّہ اور اس کے رسول کے لئے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آیا ہے.. "
عبداللّہ کے سامنے غزوہ تبوک کی تیاری ہونے لگی تو نبی اکرم صلی اللّہ علیہ واله وسلم نے انہیں دعا دیتے ہوئے فرمایا.. " الٰہی ! میں کفار پر اس کا خون حرام کرتا ہوں.. "
عبداللہ نے کہا.. " یارسول اللّہ صلی اللّہ علیہ واله وسلم ! میں تو شھادت کا طالب ہوں.. "
نبی اکرم صلی اللّہ علیہ واله وسلم نے فرمایا.. " جب اللّہ کے راستے میں نکلو اور پھر بخار آئے اور مرجاؤ تب بھی تم شہید ہی ہوگے.. "
تبوک پہنچ کر یہی ہوا کہ بخار چڑھا اور انتقال کرگئے..
بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے عبداللّہ کے دفن کی کیفیت دیکھی ہے.. رات کا وقت تھا.. پہلے وہ حضرت بلال رضی اللّہ عنہ کے ہاتھ میں اترے اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللّہ عنھما ان کی لاش لحد میں رکھ رہے تھے.. نبی اکرم صلی اللہ علیہ واله وسلم بھی ان کی قبر میں اترے اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللّہ عنھما سے فرمارہے تھے.. "اپنے بھائی کو میرے قریب کرو.."
نبی اکرم صلی اللّہ علیہ واله وسلم نے قبر میں اینٹیں بھی اپنے ہاتھ سے رکھیں اور پھر دعا فرمائی.. " اے اللّہ ! میں ان سے راضی ہوا.. تو بھی ان سے راضی ہوجا.. "
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں.. " کاش! اس قبر میں میں دفن کیا جاتا ۔“
بحوالہ مدارج النبوۃ.. جلد 2.. صفحہ 90۔91

06/07/2020

دلوں کو ہلا دینے والا واقعہ😭😭😭💔👉
حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ نہایت خوبصورت تھے۔ تفسیر نگار لکھتے ہیں کہ آپ کا حسن اس قدر تھا کہ عرب کی عورتیں دروازوں کے پیچھے کھڑے ہو کر یعنی چھپ کر حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کرتی تھیں۔ لیکن اس وقت آپ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ایک دن سرورِ کونین تاجدارِ مدینہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر حضرت دحیہ قلبی پر پڑی۔ آپؐ نے حضرت دحیہ قلبی کے چہرہ کو دیکھا کہ اتنا حیسن نوجوان ہے۔ آپ نے رات کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگی؛ یا اللہ اتنا خوبصورت نوجوان بنایا ہے، اس کے دل میں اسلام کی محبت ڈال دے، اسے مسلمان کر دے، اتنے حسین نوجوان کو جہنم سے بچا لے۔ رات کو آپ نے دعا فرمائی، صبح حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔
حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ کہنے لگے؛ اے اللہ کے رسول ! بتائیں آپؐ کیا احکام لے کر آئے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ پھر توحید و رسالت کے بارے میں حضرت دحیہ قلبی کو بتایا۔ حضرت دحیہ نے کہا؛ اللہ کے نبی میں مسلمان تو ہو جاؤں لیکن ایک بات کا ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے ایک گناہ میں نے ایسا کیا ہے کہ آپ کا اللہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ آپؐ نے فرمایا؛ اے دحیہ بتا تونے کیسا گناہ کیا ہے؟ تو حضرت دحیہ قلبی نے کہا؛ یا رسول اللہ میں اپنے قبیلے کا سربراہ ہوں۔ اور ہمارے ہاں بیٹیوں کی پیدائش پر انہیں زندہ دفن کیا جاتا ہے۔ میں کیونکہ قبیلے کا سردار ہوں اس لیے میں نے ستر گھروں کی بیٹیوں کو زندہ دفن کیا ہے۔ آپ کا رب مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ اسی وقت حضرت جبریل امین علیہ السلام حاضر ہوئے؛
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اسے کہیں اب تک جو ہو گیا وہ ہو گیا اس کے بعد ایسا گناہ کبھی نہ کرنا۔ ہم نے معاف کر دیا ۔
حضرت دحیہ آپ کی زبان سے یہ بات سن کر رونے لگے۔ آپؐ نے فرمایا دحیہ اب کیا ہوا ہے؟ کیوں روتے ہو ؟ حضرت دحیہ قلبی کہنے لگے؛ یا رسول اللہ، میرا ایک گناہ اور بھی ہے جسے آپ کا رب کبھی معاف نہیں کرے گا۔ آپؐ نے فرمایا دحیہ کیسا گناہ ؟ بتاؤ ؟
حضرت دحیہ قلب فرمانے لگے؛ یا رسول اللہ، میری بیوی حاملہ تھی اور مجھے کسی کام کی غرض سے دوسرے ملک جانا تھا۔ میں نے جاتے ہوئے بیوی کو کہا کہ اگر بیٹا ہوا تو اس کی پرورش کرنا اگر بیٹی ہوئی تو اسے زندہ دفن کر دینا۔ دحیہ روتے جا رہے ہیں اور واقعہ سناتے جا رہے ہیں۔ میں واپس بہت عرصہ بعد گھر آیا تو میں نے دروازے پر دستک دی۔ اتنے میں ایک چھوٹی سی بچی نے دروازہ کھولا اور پوچھا کون؟ میں نے کہا: تم کون ہو؟ تو وہ بچی بولی؛ میں اس گھر کے مالک کی بیٹی ہوں۔ آپ کون ہیں؟ دحیہ فرمانے لگے؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، میرے منہ سے نکل گیا: اگر تم بیٹی ہو اس گھر کے مالک کی تو میں مالک ہوں اس گھر کا۔ یا رسول اللہ! میرے منہ سے یہ بات نکلنے کی دیر تھی کہ چھوٹی سی اس بچی نے میری ٹانگوں سے مجھے پکڑ لیا اور بولنے لگی؛ بابا بابا بابا بابا آپ کہاں چلے گئے تھے؟ بابا میں کس دن سے آپ کا انتظار کر رہی ہوں۔ حضرت دحیہ قلبی روتے جا رہے ہیں اور فرماتے ہیں؛ اے اللہ کے نبی! میں نے بیٹی کو دھکا دیا اور جا کر بیوی سے پوچھا؛ یہ بچی کون ہے؟ بیوی رونے لگ گئی اور کہنے لگی؛ دحیہ! یہ تمہاری بیٹی ہے۔ یا رسول اللہ! مجھے ذرا ترس نہ آیا۔ میں نے سوچا میں قبیلے کا سردار ہوں۔ اگر اپنی بیٹی کو دفن نہ کیا تو لوگ کہیں گے ہماری بیٹیوں کو دفن کرتا رہا اور اپنی بیٹی سے پیار کرتا ہے۔ حضرت دحیہ کی آنکھوں سے اشک زارو قطار نکلنے لگے۔ یا رسول اللہ وہ بچی بہت خوبصورت، بہت حیسن تھی۔ میرا دل کر رہا تھا اسے سینے سے لگا لوں۔ پھر سوچتا تھا کہیں لوگ بعد میں یہ باتیں نہ کہیں کہ اپنی بیٹی کی باری آئی تو اسے زندہ دفن کیوں نہیں کیا؟ میں گھر سے بیٹی کو تیار کروا کر نکلا تو بیوی نے میرے پاؤں پکڑ لیے۔ دحیہ نہ مارنا اسے۔ دحیہ یہ تمہاری بیٹی ہے۔
ماں تو آخر ماں ہوتی ہے۔ میں نے بیوی کو پیچھے دھکا دیا اور بچی کو لے کر چل پڑا۔ رستے میں میری بیٹی نے کہا؛ بابا مجھے نانی کے گھر لے کر جا رہے ہو؟ بابا کیا مجھے کھلونے لے کر دینے جا رہے ہو؟ بابا ہم کہاں جا رہے ہیں؟ دحیہ قلبی روتے جاتے ہیں اور واقعہ سناتے جا رہے ہیں۔ یا رسول اللہ ! میں بچی کے سوالوں کاجواب ہی نہیں دیتا تھا۔ وہ پوچھتی جا رہی ہے بابا کدھر چلے گئے تھے؟ کبھی میرا منہ چومتی ہے، کبھی بازو گردن کے گرد دے لیتی ہے۔ لیکن میں کچھ نہیں بولتا۔ ایک مقام پر جا کر میں نے اسے بٹھا دیا اور خود اس کی قبر کھودنے لگ گیا۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دحیہ کی زبان سے واقعہ سنتے جارہے ہیں اور روتے جا رہے ہیں۔ میری بیٹی نے جب دیکھا کہ میرا باپ دھوپ میں سخت کام کر رہا ہے، تو اٹھ کر میرےپاس آئی۔ اپنے گلے میں جو چھوٹا سا دوپٹہ تھا وہ اتار کر میرے چہرے سے ریت صاف کرتے ہوئے کہتی ہے؛ بابا دھوپ میں کیوں کام کر رہے ہیں؟ چھاؤں میں آ جائیں۔ بابا یہ کیوں کھود رہے ہیں اس جگہ؟ بابا گرمی ہے چھاؤں میں آ جائیں۔ اور ساتھ ساتھ میرا پسینہ اور مٹی صاف کرتی جا رہی ہے۔ لیکن مجھے ترس نہ آیا۔ آخر جب قبر کھود لی تو میری بیٹی پاس آئی۔ میں نے دھکا دے دیا۔ وہ قبر میں گر گئی اور میں ریت ڈالنے لگ گیا۔ بچی ریت میں سے روتی ہوئی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ میرے سامنے جوڑ کر کہنے لگی؛ بابا میں نہیں لیتی کھلونے۔ بابا میں نہیں جاتی نانی کے گھر۔ بابا میری شکل پسند نہیں آئی تو میں کبھی نہیں آتی آپ کے سامنے۔ بابا مجھے ایسے نہ ماریں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ریت ڈالتا گیا۔ مجھے اس کی باتیں سن کر بھی ترس نہیں آیا۔ میری بیٹی پر جب مٹی مکمل ہو گئی اور اس کا سر رہ گیا تو میری بیٹی نے میری طرف سے توجہ ختم کی اور بولی؛ اے میرے مالک میں نے سنا ہے تیرا ایک نبی آئے گا جو بیٹیوں کو عزت دے گا۔ جو بیٹیوں کی عزت بچائے گا۔ اے اللہ وہ نبی بھیج دے بیٹیاں مر رہی ہیں۔ پھر میں نے اسے ریت میں دفنا دیا۔ حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ واقعہ سناتے ہوئے بے انتہا روئے۔ یہ واقعہ جب بتا دیا تو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنا رو رہے ہیں کہ آپؐ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے گیلی ہو گئی۔ آپؐ نے فرمایا؛ دحیہ ذرا پھر سے اپنی بیٹی کا واقعہ سناؤ۔ اس بیٹی کا واقعہ جو مجھ محمد کے انتظار میں دنیا سے چلی گئی۔ آپؐ نے تین دفعہ یہ واقعہ سنا اور اتنا روئے کہ آپ کو دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رونے لگ گئے اور کہنے لگے؛ اے دحیہ کیوں رلاتا ہے ہمارے آقا کو؟ ہم سے برداشت نہیں ہو رہا۔ آپؐ نے حضرت دحیہ سے تین بار واقعہ سنا تو حضرت دحیہ کی رو رو کر کوئی حالت نہ رہی۔ اتنے میں حضرت جبرائیل علیہ اسلام حاضر ہوئے اور فرمایا؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم! دحیہ کو کہہ دیں وہ اُس وقت تھا جب اس نے اللہ اور آپؐ کو نہیں مانا تھا۔ اب مجھ کو اور آپ کو اس نے مان لیا ہے تو دحیہ کا یہ گناہ بھی ہم نے معاف کر دیا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس نے دو بیٹیوں کی کفالت کی، انہیں بڑا کیا، ان کے فرائض ادا کیے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ اس طرح ہو گا جس طرح شہادت کی اور ساتھ والی انگلی آپس میں ہیں.
۔
جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی اس کی یہ اہمیت ہے تو جس نے تین یا چار یا پانچ بیٹیوں کی پرورش کی اس کی کیا اہمیت ہو گی؟
بیٹیوں کی پیدائش پر گھبرایا نہ کریں انہیں والدین پر بڑا مان ہوتا ہےاور یہ بیٹیاں اللہ کی خاص رحمت ہوتی ہیں.
😥😥💔💔
والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سامری جادوگرفرعون کی ہلاکت کے بعد بنی اسرائیل اس کے پنجے سے آزاد ہو کر سب ایمان لائے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خداون...
06/07/2020

سامری جادوگر

فرعون کی ہلاکت کے بعد بنی اسرائیل اس کے پنجے سے آزاد ہو کر سب ایمان لائے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خداوند کریم کا یہ حکم ہوا کہ وہ چالیس راتوں کا کوہِ طور پر اعتکاف کریں اس کے بعد انہیں کتاب (توراۃ) دی جائے گی۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر چلے گئے اور بنی اسرائیل کو اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کے سپرد کردیا۔ آپ چالیس دن تک دن بھر روزہ دار رہ کر ساری رات عبادت میں مشغول رہتے۔اور ادھر سامری کو بنی اسرائیل کو گمراہ کرنے کا موقع مل گیا۔

سامری کون تھا؟۔
بنی اسرائیل میں ایک حرامی شخص تھا جس کا نام سامری تھا جو طبعی طور پر نہایت گمراہ اور گمراہ کن آدمی تھا۔ اس کی ماں نے برادری میں رسوائی و بدنامی کے ڈر سے اس کو پیدا ہوتے ہی پہاڑ کے ایک غار میں چھوڑ دیا تھا اور حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اس کو اپنی انگلی سے دودھ پلا پلا کر پالا تھا۔ اس لئے یہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کو پہچانتا تھا۔ اس کا پورا نام ''موسیٰ سامری'' ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام بھی ''موسیٰ'' ہے۔ موسیٰ سامری کو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے پالا تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پرورش فرعون کے گھر ہوئی تھی۔ مگر خدا کی شان کہ فرعون کے گھر پرورش پانے والے موسیٰ علیہ السلام تو خدا کے رسول ہوئے اور حضرت جبرئیل علیہ السلام کا پالا ہوا موسیٰ سامری کافر ہوا اور بنی اسرائیل کو گمراہ کر کے اس نے بچھڑے کی پوجا کرائی۔ اس بارے میں کسی عارف نے کیا خوب کہا ہے:۔

اِذَاالْمَرْءُ لَمْ یُخْلَقْ سَعِیْدًا مِّنَ الْاَزَل
فَقَدْ خَابَ مَنْ رَبّٰی وَخَابَ الْمُؤَمِّل
فَمُوْسَی الَّذِیْ رَبَّاہُ جِبْرِیْلُ کَافِرُ
وَمُوْسَی الَّذِیْ رَبَّاہُ فِرْعَوْنُ مُرْسَل

یعنی جب کوئی آدمی ازل ہی سے نیک بخت نہیں ہوتا تو وہ بھی نامراد ہوتا ہے۔ اور اسکی پرورش کرنے والے کی کوشش بھی ناکام اور نامراد ہوتی ہے۔ دیکھ لو موسیٰ سامری جو حضرت جبرئیل علیہ السلام کا پالا ہوا تھا وہ کافر ہوااور حضرت موسیٰ علیہ السلام جو فرعون کی پرورش میں رہے وہ خدا کے رسول ہوئے۔ اس کا راز یہی ہے کہ موسیٰ سامری ازلی شقی اور پیدائشی بدبخت تھا تو حضرت جبرئیل علیہ السلام کی تربیت اور پرورش نے اس کو کچھ بھی نفع نہ دیا،اور وہ کافر کا کافر ہی رہ گیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام چونکہ ازلی سعید اور نیک بخت تھے اس لئے فرعون جیسے کافر کی پرورش سے بھی ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
(تفسیر الصاوی،ج۱،ص۶۳،پ۱،البقرۃ: ۵۱)

جن دنوں حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر معتکف تھے۔ سامری نے آپ کی غیر موجودگی کو غنیمت جانا اور یہ فتنہ برپا کردیا کہ اس نے بنی اسرائیل کے سونے چاندی کے زیورات کو مانگ کر پگھلایا اور اس سے ایک بچھڑا بنایا۔ اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کے گھوڑے کے قدموں کی خاک جو اس کے پاس محفوظ تھی اس نے وہ خاک بچھڑے کے منہ میں ڈال دی تو وہ بچھڑا بولنے لگا۔

پھر سامری نے مجمع عام میں یہ تقریر شروع کردی کہ اے بنی اسرائیل! حضرت موسیٰ (علیہ السلام) خدا سے باتیں کرنے کے لئے کوہِ طور پر تشریف لے گئے ہیں لیکن خدا تو خود ہم لوگوں کے پاس آگیا ہے اور بچھڑے کی طرف اشارہ کر کے بولا کہ یہی خدا ہے ''سامری'' نے ایسی گمراہ کن تقریر کی کہ بنی اسرائیل کو بچھڑے کے خدا ہونے کا یقین آگیا اور وہ بچھڑے کو پوجنے لگے۔ اور بارہ ہزار آدمیوں کے سوا ساری قوم نے چاندی سونے کے بچھڑے کو بولتا دیکھ کر اس کو خدا مان لیا اور اس کے آگے سر بسجود ہو کر اس بچھڑے کو پوجنے لگے۔ چنانچہ خداوند قدوس کا ارشاد ہے:۔
ترجمہ:۔ اور موسیٰ کے بعد اس کی قوم اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنا بیٹھی بے جان کا دھڑ تھا وہ۔گائے کی طرح آواز کرتا۔ (پ۹،الاعراف:۱۴۸)

جب چالیس دنوں کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام خدا عزوجل سے ہم کلام ہو کر اور توراۃ شریف ساتھ لے کر بستی میں تشریف لائے اور قوم کو بچھڑا پوجتے ہوئے دیکھا تو آپ پر بے حد غضب و جلال طاری ہو گیا۔ آپ نے جوش غضب میں اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کی داڑھی اور سر کے بال پکڑ کر گھسیٹنا اور مارنا شروع کردیا اور فرمانے لگے کہ کیوں تم نے ان لوگوں کو اس کام سے نہیں روکا۔ حضرت ہارون علیہ السلام معذرت کرنے لگے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:۔

ترجمہ:۔کہا اے میرے ماں جائے قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالیں تو مجھ پر دشمنوں کو نہ ہنسا اور مجھے ظالموں میں نہ ملا۔ (پ9،الاعراف:150)

حضرت ہارون علیہ السلام کی معذرت سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا غصہ ٹھنڈا پڑ گیا۔ اس کے بعد آپ نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کے لئے رحمت اور مغفرت کی دعا فرمائی۔ پھر آپ نے اس بچھڑے کو توڑ پھوڑ کر اور جلا کر اور اس کو ریزہ ریزہ کر کے دریا میں بہا دیا۔

پھر اللہ تعالیٰ کا یہ حکم نازل ہوا کہ جن لوگوں نے بچھڑے کی پرستش نہیں کی ہے وہ لوگ بچھڑا پوجنے والوں کو قتل کریں۔ چنانچہ سامری سمیت ستر ہزار بچھڑے کی پوجا کرنے والے قتل ہو گئے ۔اس کے بعد یہ حکم نازل ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ستر آدمیوں کو منتخب کر کے کوہِ طور پر لے جائیں اور یہ سب لوگ بچھڑا پوجنے والوں کی طرف سے معذرت طلب کرتے ہوئے یہ دعا مانگیں کہ بچھڑا پوجنے والوں کے گناہ معاف ہوجائیں۔

چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے چن چن کر اچھے اچھے ستر آدمیوں کو ساتھ لیا اور کوہِ طور پر تشریف لے گئے۔ جب لوگ کوہِ طور پر طلب معذرت و استغفار کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آئی کہ:۔
''اے بنی اسرائیل!میں ہی ہوں، میرے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں میں نے ہی تم لوگوں کو فرعون کے ظلم سے نجات دے کر تم لوگوں کو بچایا ہے لہٰذا تم لوگ فقط میری ہی عبادت کرو اور میرے سوا کسی کو مت پوجو۔

اللہ تعالیٰ کا یہ کلام سن کر یہ ستر آدمی ایک زبان ہو کر کہنے لگے کہ اے موسیٰ!ہم ہرگزہرگز آپ کی بات نہیں مانیں گے جب تک ہم اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے نہ دیکھ لیں۔ یہ ستر آدمی اپنی ضد پر بالکل اَڑ گئے کہ ہم کو آپ خدا کا دیدار کرایئے ورنہ ہم ہرگز نہیں ما نیں گے کہ خداوند عالم نے یہ فرمایا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان لوگوں کو بہت سمجھایا، مگر یہ شریر و سرکش لوگ اپنے مطالبہ پر اڑے رہ گئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے غضب و جلال کا اظہار اس طرح فرمایا کہ ایک فرشتہ آیا اور اس نے ایک ایسی خوفناک چیخ ماری کہ خوف و ہراس سے لوگوں کے دل پھٹ گئے اور یہ ستر آدمی مر گئے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خداوند عالم سے کچھ گفتگو کی اور ان لوگوں کے لئے زندہ ہوجانے کی دعا مانگی تو یہ لوگ زندہ ہو گئے۔(تفسیر صاوی،ج۱،ص۶۴،۶۵،پ۱،البقرۃ : ۵۵، ۵۶ )

(عجائب القرآن سے ماخوذ)
Copied

06/07/2020

مدینہ کا بازار تھا ، گرمی کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ لوگ نڈھال ہورہے تھے ۔ ایک تاجر اپنے ساتھ ایک غلام کو لیے پریشان کھڑا تھا ۔ غلام جو ابھی بچہ ہی تھا وہ بھی دھوپ میں کھڑ ا پسینہ پسینہ ہورہا تھا ۔ تاجر کا سارا مال اچھے داموں بک گیا تھا بس یہ غلام ہی باقی تھا جسے خریدنے میں کوئی بھی دلچسپی نہیں دکھا رہا تھا۔ تاجر سوچ رہا تھا کہ اس غلام کو خرید کر شاید اس نے گھاٹے کا سودا کیا ہے۔ اس نے تو سوچا تھا کہ اچھا منافع ملے گا لیکن یہاں تو اصل لاگت ملنا بھی دشوار ہورہا تھا۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ اب اگر یہ غلام پوری قیمت پر بھی بکا تو وہ اسے فورا" بیچ دے گا۔

مدینہ کی ایک لڑکی کی اس غلام پر نظر پڑی تو اس نے تاجر سے پوچھا کہ یہ غلام کتنے کا بیچو گے۔ تاجر نے کہا کہ میں نے اتنے میں لیا ہے اور اتنے کا ہی دے دوں گا۔ اس لڑکی نے بچے پر ترس کھاتے ہوئے اسے خرید لی۔ تاجر نے بھی خدا کا شکر ادا کیا اور واپسی کے راہ لی.

مکہ سے ابو حذیفہ مدینہ آئے تو انہیں بھی اس لڑکی کا قصہ معلوم ہوا۔ لڑکی کی رحم دلی سے متاثر ہوکر انہوں نے اسکے لیے نکاح کا پیغام بھیجا جو قبول کرلیا گیا۔ یوں واپسی پر وہ لڑکی جس کا نام ثبیتہ بنت یعار تھا انکی بیوی بن کر انکے ہمراہ تھی اور وہ غلام بھی مالکن کے ساتھ مکہ پہنچ گیا۔

ابو حذیفہ مکہ آکر اپنے پرانے دوست عثمان ابن عفان سے ملے تو انہیں کچھ بدلا ہوا پایا اور انکے رویے میں سرد مہری محسوس کی۔ انہوں نے اپنے دوست سے استفسار کیا کہ عثمان یہ سرد مہری کیوں!!۔ تو عثمان بن عفان نے جواب دیا کہ میں نے اسلام قبول کرلیا ہے اور تم ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تو اب ہماری دوستی کیسے چل سکتی ہے۔ ابو حذیفہ نے کہا تو پھر مجھے بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو اور اس اسلام میں داخل کردو جسے تم قبول کرچکے ہو۔

چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور وہ کلمہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ گھر آکر انہوں نے اپنی بیوی اور غلام کو اپنے مسلمان ہونے کا بتایا تو ان دونوں نے بھی کلمہ پڑھ لیا۔

حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس غلام سے کہا کہ چونکہ تم بھی مسلمان ہوگئے ہو اس لیے میں اب تمہیں غلام نہیں رکھ سکتا لہذا میری طرف سے اب تم آزاد ہو۔ غلام نے کہا آقا میرا اب اس دنیا میں آپ دونوں کے سوا کوئی نہیں ہے۔ آپ نے مجھے آزاد کردیا تو میں کہاں جاؤں گا۔ حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس غلام کو اپنا بیٹا بنا لیا اور اپنے پاس ہی رکھ لیا۔ غلام نے قران پاک سیکھنا شروع کردیا اور کچھ ہی دنوں میں بہت سا قران یاد کرلیا۔ اور وہ جب قران پڑھتے تو بہت خوبصورت لہجے میں پڑھتے۔

ہجرت کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جن صحابہ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی ان میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ اور انکا یہ لے پالک بیٹا بھی تھا۔ مدینہ پہنچ کر جب نماز کے لیے امام مقرر کرنے کا وقت آیا تو اس غلام کی خوبصورت تلاوت اور سب سے زیادہ قران حفظ ہونے کی وجہ سے انہیں امام چن لیا گیا۔ اور انکی امامت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی بھی نماز ادا کرتے تھے ۔

مدینہ کے یہودیوں نے جب انہیں امامت کرواتے دیکھا تو حیران ہوگئے کہ یہ وہی غلام ہے جسے کوئی خریدنے کے لیے تیار نہ تھا۔ آج دیکھو کتنی عزت ملی کہ مسلمانوں کا امام بنا ہوا ہے.

اللہ پاک نے انہیں خوش گلو اسقدر بنایا تھا کہ جب آیاتِ قرآنی تلاوت فرماتے تو لوگوں پر ایک محویت طاری ہوجاتی اور راہ گیر ٹھٹک کر سننے لگتے۔ ایک دفعہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہونے میں دیر ہوئی۔ آپ ﷺ نے توقف کیوجہ پوچھی تو بولیں کہ ایک قاری تلاوت کررہا تھا، اسکے سننے میں دیر ہوگئی اور خوش الحانی کی اس قدر تعریف کی کہ آنحضرت ﷺ خود چادر سنبھالے ہوئے باہر تشریف لے آئے۔ دیکھا تو وہ بیٹھے تلاوت کررہے ہیں۔ آپ ﷺ نے خوش ہوکر فرمایا : اللہ پاک کا شُکر ہے کہ اُس نے تمہارے جیسے شخص کو میری امت میں بنایا ۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ خوش قسمت صحابی کون تھے؟ انکا نام حضرت سالم رضی اللہ عنہ تھا۔ جو سالم مولی ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے نام سے مشہور تھے۔ انہوں نے جنگ موتہ میں جام شہادت نوش کیا۔ اللہ کی کروڑ ہا رحمتیں ہوں ان پر ۔

📒السیرۃ النبویۃ(ابن ہشام)، الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)

Address

P/o Thimka Tehseel & Distt Gujrat. Pakistan
Gujrat
50700

Telephone

00971509648842

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fakhar_e_thimka posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category