We Care

We Care Healthcare and Awareness

دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس(A, E) کی لہر،ہیپاٹائٹس(A, E) بچوں میں جان لیوا ہو سکتا ہے.اپنے بچوں کو ہیپاٹائٹس سے بچائیں،باہر ک...
05/05/2022

دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس(A, E) کی لہر،
ہیپاٹائٹس(A, E) بچوں میں جان لیوا ہو سکتا ہے.

اپنے بچوں کو ہیپاٹائٹس سے بچائیں،
باہر کی گرد آلود اور ریڑھی پر تیار ہونے والی خوراک سے بچائیں، پانی اور دودھ ابال کر استعمال کریں.
الٹیوں، موشن اور بخار کی صورت فورا" اپنے ڈاکٹر سے رجوغ کریں.

شادی کی تیاریوں کے لیۓ جہاں دوسرے انتظامات ضروری سمجھے جاتے ہیں وہیں پر شادی کو طے کرنے سے قبل لڑکے اور لڑکی کے یہ بنیاد...
16/02/2022

شادی کی تیاریوں کے لیۓ جہاں دوسرے انتظامات ضروری سمجھے جاتے ہیں وہیں پر شادی کو طے کرنے سے قبل لڑکے اور لڑکی کے یہ بنیادی ٹیسٹ ضرور کروا لینے چاہیۓ ہیں جو کہ آپ کو بعد میں آنے والی مشکلات سے بچا سکتے ہیں.اور بچوں کے اندر پیدائشی ایب نارمیلیٹیز اور بیماریوں کا تناسب کم کر سکتے ہیں.

Walk in interview
27/08/2021

Walk in interview

Highly condemnable
27/08/2021

Highly condemnable

Punjab Police torture on Doctor
Please share to raise voice.
Reportedly He is in critical condition due to head trauma

Punjab Police torture on Doctor Please share to raise voice. Reportedly He is in critical condition due to head trauma
27/08/2021

Punjab Police torture on Doctor
Please share to raise voice.
Reportedly He is in critical condition due to head trauma

دل سے نکلے گی نہ مر کے بھی وطن کی الفت🇵🇰 میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی🇵🇰🇵🇰
14/08/2021

دل سے نکلے گی نہ مر کے بھی وطن کی الفت🇵🇰
میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی🇵🇰🇵🇰

چہل قدمی کیوں ضروری ہے؟ کہا جاتا ہے کہ ورزش کرنا، پیدل چلنا اور چہل قدمی کرناہی صحت مند زندگی کی ضمانت ہے۔ روزانہ ایک ہز...
14/08/2021

چہل قدمی کیوں ضروری ہے؟
کہا جاتا ہے کہ ورزش کرنا، پیدل چلنا اور چہل قدمی کرناہی صحت مند زندگی کی ضمانت ہے۔
روزانہ ایک ہزار قدم چلنے والے افراد زیادہ صحت مند زندگی گزارتے ہیں، تاہم یہ لازمی نہیں کہ ایک ہزار قدم ہی چلا جائے۔اچھی صحت کے لیے چہل قدمی لازمی ہے، ہرکسی کواپنی عمر اور صحت کی مناسبت سے چہل قدمی کرنی چاہیے. باقاعدگی سے تیز پیدل چلنا جسم میں توانائی کی سطح بلند کرنے میں اہم ترین کردار ادا کرتا ہے۔

پیدل چلنے کے نتیجے میں خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے، موڈ بہتر ہوتا ہے، ذہنی دباؤ اور بے چینی میں کمی واقع ہوتی ہے۔

چہل قدمی سے ایسے ہارمون بھی پیدا ہوتے ہیں جو انسان کو سونے ، کھانے پینے اور اسے ہضم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔صبح سویرے باقاعدگی سے تیز رفتار چلنا ( اپنی سکت کے مطابق ) ڈپریشن اور ذہنی دباؤ سے محفوظ رکھتا ہے۔جسم فعال ہو تو اس کے نتیجے میں میلاٹونین نامی ہارمون کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے، یوں آپ آسانی سے نیند کی گہری وادیوں میں اتر جاتے ہیں۔

پیدل چلنے کے بہت سے جسمانی فوائد ہیں لیکن شاید آپ نہیں جانتے کہ صبح سویرے پیدل چلنے کو روزانہ کے شیڈول میں شامل کرنے سے آپ کے دماغ کے فنکشنز میں بہتری بھی پیدا ہوتی ہے۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ پیدل چلنے سے دماغ کو زیادہ خون فراہم ہوتا ہے، اس کے نتیجے میں جاننے اور سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

چہل قدمی سے یادداشت بہتر ہوتی ہے، ذہنی ارتکاز بہتر ہوتا ہے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے۔

صبح سویرے پیدل چلنے سے بلڈپریشر اعتدال پر رہتا ہے، دوران خون میں بہتری آتی ہے اور امراض قلب کے خطرات میں کمی واقع ہوتی ہے۔

ممکن ہے کہ آپ پیدل چلنے کو ایک عام سی سرگرمی سمجھتے ہوں تاہم یہ ذیابیطس سے بچنے کی بہترین تدابیر میں سے ایک ہے۔ یہ ان بیماریوں سے بھی دیر تک محفوظ رکھتی ہے جن کے بارے میں عام طور پر جملہ بولا جاتا ہے، یہ عمر زیادہ ہونے کے سبب لاحق ہو ہی جاتی ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق روزانہ تیس منٹ پیدل چلنے والے ٹائپ ٹو ذیابیطس اور موٹاپے سے ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں۔

صبح سویرے پیدل چلنے سے نہ صرف آپ کا پورا دن بھرپور توانائی کے ساتھ گزرتا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں جسم کے نچلے حصے کو بھی مضبوطی ملتی ہے ، جو کہ جسمانی توازن کے لئے ضروری ہے۔

بعض لوگوں کے لئے بستر سے اٹھنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ وہ جوڑوں کے درد اور پٹھوں کے اکڑاؤ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ پیدل چلنے سے جوڑوں کے اردگرد پٹھے چکنے اور مضبوط رہتے ہیں، یوں ایسے لوگ جوڑوں کے درد میں مبتلا نہیں ہوتے۔

عمر بڑھنے یا دیرینہ امراض کے سبب بعض لوگ گٹھیا کے مریض بن جاتے ہیں۔ آپ حیران ہوں گے کہ پیدل چلنے سے گٹھیا کے مریضوں کو درد میں آرام رہتا ہے، وہ اکڑاؤ اور سوجن سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔

سائنسدانوں نے گنج پن کا شرطیہ علاج ڈونڈھ لیاسائنسدانوں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ جھڑتے بالوں اور گنج پن کا علاج اب ...
14/08/2021

سائنسدانوں نے گنج پن کا شرطیہ علاج ڈونڈھ لیا

سائنسدانوں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ جھڑتے بالوں اور گنج پن کا علاج اب ممکن ہو سکے گا۔
رپورٹس کے مطابق سائنسدانوں کی جانب سے نینو پارٹیکل سیرم پر مشتمل ایک محلول بنایا گیا ہے جس کے ذریعے چوہوں پر حاصل ہونے والے نتائج نے محققین کو بھی حیران کر دیا۔اب یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ عمل خواتین اور مردوں کے گنج پن کے لئے بھی یکساں مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 18 سے 20 سال کی عمر کے دوران 16 فیصد جبکہ 40 سے 49 سال کی عمر کے درمیان تقریباً 53 فیصد افراد کے بال جھڑنا شروع ہو جاتے ہیں اور 35 سال کی عمر تک دو تہائی مرد بالوں کے جھڑنے کے مسائل سے دو چار ہوتے ہیں۔ اس مرض سے کروڑوں افراد متاثر ہو رہے ہیں جبکہ اس مسئلے کے حل کے لئے محققین بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں کہ اس کا کیا علاج ہو سکتا ہے۔

خواتین اور مردوں میں بال جھڑنے کے عمل ایلوپیشیا کہلاتا ہے، ایلو پیشا کے اسباب کے مطابق ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ بالوں کی جڑوں کے نیچے خون کی باریک شریانوں میں خون کی ترسیل صحیح سے نہیں ہو پاتی ہے جس کے نتیجے میں بالوں کو مطلوبہ غذائیت، منرلز اور وٹامنز بھی نہیں مل پاتے جس سے آکسیجن کی فراہمی بھی رُک جاتی ہے، ایسے میں بالوں کے جھڑنے کا آغاز ہو جاتا ہے اور اکثر افراد نوجوانی میں ہی گنج پن کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ بالوں کوجھڑنے اور گنج پن سے بچاؤ کے لئے بیرونی علاج کیمیکل کمپاؤنڈ مینوکسیڈل اور سرجیکل علاج موجود ہے جس میں بالوں کے کمزور فالیکلز کا علاج کیا جاتا ہے۔

بالوں کو جھڑنے اور گنج پن کو روکنے کے لئے نیا علاج متعارف کروایا گیا ہے جو کہ سیرم نینو پارٹیکلز پر مشتمل ہے جس کے تحت سر کی جلد، بے جان اور کمزور جِلد پر کام کیا جائے گا، اسے مضر صحت مادوں اور اجزاء سے پاک کر کے صحت مند بنایا جائے گا تا کہ جِلد میں آکسیجن صحیح سے سرایت کر سکے۔

اس علاج میں نینو پارٹیکلز پر مشتمل سیرم میں لیپیڈ کمپاؤنڈز کا استعمال کیا جائے گا، اس تحلیل میں ہونے والے محلول کو سر کی جِلد میں پہنچانے کے لئے مائیکرو نیڈلز یعنی انجیکشنز کا سہارا لیا جائے گا۔

یہ تحقیق چوہوں پر کی ہے، چوہوں پر اس تحقیق کے واضح مثبت نتائج دیکھنے کو ملے ہیں، نینو پارٹیکلز پر مشتمل سیرم اور لیپیڈز کمپاؤنڈز نے چوہوں کی جلد میں خون کی باریک شریانوں کو متحرک بنایا اور اُن میں بالوں کی افزائش دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ تحقیق تا حال صرف چوہوں پر کی گئی ہے مگر اُن کی جانب سے اس بات کا بھی قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ علاج انسانوں کے لئے بھی یکساں مفید ثابت ہوگا۔

جب کچھ کھاتے ہوئے غذا کا ٹکڑا گلے میں پھنس جاتا ہے جس سے سانس لینا یا بات کرنا دشوار ہوجاتا ہے اور سانس کی نالی بند ہوتی...
02/08/2021

جب کچھ کھاتے ہوئے غذا کا ٹکڑا گلے میں پھنس جاتا ہے جس سے سانس لینا یا بات کرنا دشوار ہوجاتا ہے اور سانس کی نالی بند ہوتی محسوس ہوتی ہے __ ایک سال سے کم عمر بچے اور بوڑھے اس طرح کی صورتحال سے جلد دوچار ہوجاتے ہیں__ اور بعض اوقات یہ صورت حال جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے

اسے طبی اصطلاح میں Throat Choking کہتے ہیں اور اس کے دو درجے ہیں

(١) جزوی طور پہ گلہ بند ہونا : اس صورت میں غذا کا ٹکڑا گلے میں پھنسنے کی صورت میں گلہ جزوی طور پہ بند ہوجاتا ہے، انسان بمشکل بول اور سانس لے سکتا ہے...آپ نے مدد کیسے کرنی ہے؟
متاثرہ شخص کو زور زور سے کھانسنے کا کہیں تاکہ پھنسا ہوا ٹکڑا باہر نکل آئے یا اُسے جھُکا کے اُس کی پِیٹھ پہ عین گلے والی جگہ پہ اپنی ہتھیلی کی مدد سے پانچ دفعہ رگڑنے کے انداز میں تھپڑ لگائیں ( مُکے نہیں مارنے) اور ساتھ ساتھ اُسے کھانسنے کا کہیں........ سیدھا کھڑا کرکے یہ کوشش نہ کریں ورنہ پھنسا ہوا ٹکڑا مزید نیچے چلا جائے گا اور نہ ہی متاثرہ شخص کو پانی پلائیں، قوی امکان ہوتا ہے کہ پانی ناک کے راستے باہر آئے گا اور مزید تکلیف کا باعث بنے گا

اگر آپ اکیلے ہیں اور آپ اس صورت حال سے دوچار ہوجائیں اور آس پاس کوئی مددگار نہ ہو تو کُرسی کی پشت پہ کھڑے ہوکے اپنے دونوں ہاتھ پیٹ پہ باندھ کے اپنے وزن کے ساتھ اپنے پیٹ پہ دباؤ ڈالیں ( طریقہ نیچے تصویر میں دکھایا گیا ہے)

(٢) گلہ مکمل طور پہ بند ہوجانا : غذا کا بڑا ٹکڑا گلے میں پھنس جانے کی صورت میں گلہ مکمل طور پر بند ہوجاتا ہے اور گلے سے آکسیجن کی آمدورفت بھی رُک جاتی ہے .... یہ کنڈیشن زیادہ خطرناک اور زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے... متاثرہ شخص بول نہیں سکتا، بات نہیں کرسکتا، کھانس نہیں سکتا.... ہونٹ اور ناخن نیلے ہوجاتے ہیں... آپ نے مدد کیسے کرنی ہے 👇

متاثرہ شخص کو سیدھا کھڑا کرکے اُس کے پیچھے کھڑے ہوجائیں اور اُسے پیچھےسے جپھی ڈال کے اُس کی ناف اور پسلیوں کے درمیان اپنے دونوں ہاتھ اوپر نیچے باندھ کے اُسے اٹھانے کے انداز میں پانچ یا اس سے زائد دفعہ جھٹکے دیں. اور تب تک کرتے رہیں جب تک گلے میں پھنسی چیز باہر نہ آجائے (طریقہ نیچے تصویر میں دکھایا گیا ہے) اگر مریض بے ہوش ہوجائے تو ریسکیو کال کریں اور پروفیشنلز کے پہنچنے تک CPR کرتے ہوئے مریض کا سانس بحال کرنے کی کوشش کریں... لیکن CPR صرف اُس صورت میں مفید ہوگا جب گلہ صاف ہوچکا ہوگا..

ایک سال سے کم عمر بچوں میں تھراٹ چووکنگ کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ بچے اپنی فطرت کے مطابق ہاتھ میں آنے والے کوئی بھی چیز منہ میں ڈالتے ہیں...اگر خدا نخواستہ آپ کے بچے کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ ہوجائے تو...
بچے کو اپنی کلائی پہ اُلٹا لِٹا کے بچے کا چہرہ اپنے ہاتھوں پہ رکھیں اور دوسرے ہاتھ سے بچے کی پُشت کو اپنی ہتھیلی سے ہلکا سے دباتے ہوئے سَر کی طرف رگڑیں (طریقہ نیچے تصویر میں) اگر یہ طریقہ کارآمد نہ ہو تو بچے کو سیدھا لِٹا کے اُس کا چہرہ ٹھوڑی سے تھوڑا اوپر اُٹھا کے اپنی انگلی کی مدد سے بچے کے حلق میں پھنسی ہوئی چیز کو احتیاط سے نکالنے کی کوشش کریں، کچرا نکل جانے کے بعد بھی اگر بچے کا سانس بحال نہیں ہوتا تو ریسکییو کال کریں اور ٹیم پہنچنے تک بچے کا ناک بند کرکے اُسے اپنے منہ سے سانس دیتے ہوئے اُس کا سانس بحال کرنے کی کوشش کرتے رہیں

28/07/2021

Don't be trapped❗️

The aerosols from e-cigarettes you inhale contain toxic substances that can cause

🚨 cancer
🚨 cardiovascular diseases
🚨 lung disorders
🚨 damage to children’s brain development

Quit to***co and e-cigarettes now for a healthier life!

Headache
28/07/2021

Headache

28/07/2021

Address

Islamabad
66000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when We Care posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram