16/07/2025
12 سال کی محنت سے اسکول کے نمبر حاصل کرو، ایف ایس سی میں ٹاپ کرو، پھر لاکھوں کے ساتھ MDCAT کی دوڑ میں شامل ہو جاؤ۔ کامیاب ہو بھی جاؤ تو خوش مت ہو... ابھی تو صرف پہلا دروازہ کھلا ہے۔
پھر پانچ سال، جنہیں دنیا کی سب سے حسین عمر کہا جاتا ہے، تم ایم بی بی ایس کی کتابوں میں دفن کر دیتے ہو۔ نہ نیند پوری، نہ کھانا وقت پر۔ امتحان، وارڈ، وائوا، فیل ہونے کا خوف، کسی دن کا سکون نہیں۔
پھر ہاؤس جاب – دن رات کی تمیز ختم۔ نیند، ذاتی زندگی، صحت… سب قربان۔ عید، بقرعید، شب برات، سب ہسپتال میں گزارو۔
پھر پارٹ ون – ایک اور جنگ۔ پھر 4-5 سال کی طویل ٹریننگ، جہاں تمہاری زندگی دوسروں کے لیے وقف ہو جاتی ہے، اور بدلے میں ملتی ہے صرف “مزید محنت کرو” کی آواز۔
پھر وہ دن آتا ہے جب تم نوکری کے اہل ہو جاتے ہو… اور تمہیں اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تو وہ ملک ہے جہاں ڈاکٹر ہونا جرم ہے۔
لوگ تمہیں دیکھ کر کہتے ہیں: "ڈاکٹر تو قصائی ہوتے ہیں"، "کمیشن کھاتے ہیں"، "ہمیں مہنگی دوا لکھ دی"، "ہمیں لفٹ نہیں کرائی"...
نہ تمہارے 25 سال کی قربانی کو کوئی جانتا ہے، نہ تمہارے انفیکشن exposure، نہ تمہاری رات کی ڈیوٹی کے بعد کی آنکھوں کے سوجے حلقے۔
قصور؟
بس اتنا کہ تم نے ایک عزت دار، خدمت والا پیشہ چنا۔
اگر تم بھی کسی کرپٹ سیاستدان یا مکار تاجر کی راہ پر چلتے تو بینر تمہارے بھی لگتے، نعرے تمہارے بھی لگتے۔
یہاں علم کو عزت نہیں، جہالت کو داد ملتی ہے۔
یہ وہ ملک ہے جہاں قابل افراد کو مجبور کر دیا جاتا ہے کہ وہ سب کچھ چھوڑ کر پردیس کی راہ لیں۔
یہ صدی واقعی اہل علم کے لیے تنہائی، خاموشی اور بےقدری کی صدی ہے۔
اور ایک دن یہ ملک اپنے ہی بہترین دماغوں کو کھو دے گا…