23/04/2026
*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ🌷*
*🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*
•┈•❀❁❀•┈•
*5 ذیعقد الحرام 1447 ھِجْرِیْ*
*23 اپریل 2026 عِیسَـوی جمعرات*
•┈•❀❁❀•┈•
*أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْـــــــــمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
•┈•❀❁❀•┈•
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌹سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم🌹*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌸اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا صَلَّــيْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابه وسلم🌸*
•┈•❀❁❀•┈
*🌹سورة طٰهٰ آیت 85-86*
*قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَـتَنَّا قَوْمَكَ مِنْ بَعْدِكَ وَاَضَلَّهُـمُ السَّامِـرِىُّ (85)*
*فَرَجَعَ مُوْسٰٓى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ اَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا ۚ اَفَطَالَ عَلَيْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّـمْ اَنْ يَّحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُـمْ مَّوْعِدِىْ (86)*
*📜ترجمہ:*
*فرمایا ” اچھا ، تو سنو ، ہم نے تمہارے پیچھے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا اور سامری 63 نے انہیں گمراہ کر ڈالا ۔ ”*
*موسی ( علیہ السلام ) سخت غصے اور رنج کی حالت میں اپنی قوم کی طرف پلٹا ۔ جا کر اس نے کہا ” اے میری قوم کے لوگو ، کیا تمہارے رب نے تم سے اچھے وعدے نہیں کیے تھے؟ 64 کیا تمہیں دن لگ گئے ہیں؟ 65 یا تم اپنے رب کا غضب ہی اپنے اوپر لانا چاہتے تھے کہ تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی؟ ” 66*
*📜English Translation:*
*Said He: ""Verily We tested your people in your absence and the Samiri led them astray.""*
*Moses returned to his people full of wrath and grief and said: ""My people! Has your Lord not made good an excellent promise He made to you? And has a long time passed since those promises were fulfilled? Or was it to incur the wrath of your Lord that you broke your promise with me?""*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
*🤲🏿"اے اللہ، ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔ ہم فتنوں اور وسوسوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں جو ہمیں راہِ راست سے بھٹکا کر تیری یاد سے غافل کر دیں۔ ہمیں ان لوگوں میں شامل نہ کر جو تجھ سے کیے ہوئے عہد کو توڑ دیتے ہیں اور نہ ان میں جو اپنی نادانی کی وجہ سے تیرے غضب کو دعوت دیتے ہیں۔ یا رب العالمین ہمیں ان لوگوں میں شامل کر جو تیرے وعدوں پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ ہمارے ایمان کی حفاظت فرما اور ہماری نسلوں کو ہر طرح کی گمراہی سے محفوظ رکھ۔ آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْن"🤲🏿*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏻Prayer🤲🏼🌹*
*🤲🏿” O Allah Almighty, keep our hearts steadfast upon Your religion. We seek Your refuge from the tribulations and whispers that lead us astray from the straight path and cause us to become heedless of Your remembrance. Do not include us among those who break their covenant with You, nor among those who invite Your wrath through their ignorance. O Lord of the Worlds, include us among those who have perfect faith in Your promises. Protect our faith and safeguard our future generations from every form of misguidance. Ameen, O Lord of the Worlds.🤲🏿*
•┈•❀❁❀•┈•
*🔎📖تفہیم القرآن📖🔎*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :63*
**یہ اس شخص کا نام نہیں ہے ، بلکہ یائے نسبتی کی صریح علامت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہرحال کوئی نہ کوئی نسبت ہی ہے ، خواہ قبیلے کی طرف ہو یا نسل کی طرف یا مقام کی طرف ۔ پھر قرآن جس طرح السامری کہہ کر اس کا ذکر کر رہا ہے اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانے میں سامری قبیلے یا نسل یا مقام کے بہت سے لوگ موجود تھے جن میں سے ایک خاص سامری وہ شخص تھا جس نے بنی اسرائیل میں سنہری بچھڑے کی پرستش پھیلائی ۔ اس سے زیادہ کوئی تشریح قرآن کے اس مقام کی تفسیر کے لیے فی الحقیقت درکار نہیں ہے ۔ لیکن یہ مقام ان اہم مقامات میں سے ہے جہاں عیسائی مشنریوں ، اور خصوصاً مغربی مستشرقین نے قرآن پر حرف گیری کی حد کر دی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ، معاذاللہ ، قرآن کے مصنف کی جہالت کا صریح ثبوت ہے ، اس لیے کہ دولت اسرائیل کا دارالسلطنت ’’ سامریہ ‘‘ اس واقعہ کے کئی صدی بعد 965 ق م کے قریب زمانے میں تعمیر ہوا ، پھر اس کے بھی کئی صدی بعد اسرائیلیوں اور غیر اسرائیلیوں کی وہ مخلوط نسل پیدا ہوئی جس نے ’’ سامریوں ‘‘ کے نام سے شہرت پائی ۔ ان کا خیال یہ ہے کہ ان سامریوں میں چونکہ دوسری مشرکانہ بدعات کے ساتھ ساتھ سنہری بچھڑے کی پرستش کا رواج بھی تھا ، اور یہودیوں کے ذریعہ سے محمد ( ﷺ ) نے اس بات کی سن گن پا لی ہو گی ، اس لیے انہوں نے لے جا کر اس کا تعلق حضرت موسیٰ کے عہد سے جوڑ دیا اور یہ قصہ تصنیف کر ڈالا کہ وہاں سنہری بچھڑے کی پرستش رائج کرنے والا ایک سامری شخص تھا ۔ اسی طرح کی باتیں ان لوگوں نے ہامان کے معاملہ میں بنائی ہیں جسے قرآن فرعون کے وزیر کی حیثیت سے پیش کرتا ہے ، اور عیسائی مشنری اور مستشرقین اسے اخسویرس ( شاہ ایران ) کے درباری امیر ہامان سے لے جا کر ملا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ قرآن کے مصنف کی جہالت کا ایک اور ثبوت ہے ۔ شاید ان مدعیان علم و تحقیق کا گمان یہ ہے کہ قدیم زمانے میں ایک نام کا ایک ہی شخص یا قبیلہ یا مقام ہوا کرتا تھا اور ایک نام کے دو یا زائد اشخاص یا قبیلہ و مقام ہونے کا قطعاً کوئی امکان نہ تھا ۔ حالانکہ سُمیری قدیم تاریخ کی ایک نہایت مشہور قوم تھی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور میں عراق اور اس کے آس پاس کے علاقوں پر چھائی ہوئی تھی ، اور اس بات کا بہت امکان ہے کہ حضرت موسیٰ کے عہد میں اس قوم کے ، یا اس کی کسی شاخ کے لوگ مصر میں سامری کہلاتے ہوں ۔ پھر خود اس سامریہ کی اصل کو بھی دیکھ لیجیے جس کی نسبت سے شمالی فلسطین کے لوگ بعد میں سامری کہلانے لگے ۔ بائیبل کا بیان ہے کہ دولت اسرائیل کے فرمانروا عمری نے ایک شخص ’’ سمر ‘‘ نامی سے وہ پہاڑ خریدا تھا جس پر اس نے بعد میں اپنا دار السلطنت تعمیر کیا ۔ اور چونکہ پہاڑ کے سابق مالک کا نام سمر تھا اس لیے اس شہر کا نام سامریہ رکھا گیا ( سلاطین 1 ، بابا 16 ۔ آیت 24 ) ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ سامریہ کے وجود میں آنے سے پہلے ’’ سمر ‘‘ نام کے اشخاص پائے جاتے تھے اور ان سے نسبت پا کر ان کی نسل یا قبیلے کا نام سامری ، اور مقامات کا نام سامریہ ہونا کم از کم ممکن ضرور تھا *
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :64*
’’ اچھا وعدہ نہیں کیا تھا ‘‘ بھی ترجمہ ہو سکتا ہے ۔ متن* میں جو ترجمہ ہم نے اختیار کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آج تک تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جتنی بھلائیوں کا وعدہ بھی کیا ہے وہ سب تمہیں حاصل ہوتی رہی ہیں ۔ تمہیں مصر سے بخیریت نکالا ، غلامی سے نجات دی ، تمہارے دشمن کو تہس نہس کیا ، تمہارے لیے ان صحراؤں اور پہاڑی علاقوں میں سائے اور خوراک کا بندوبست کیا ۔ کیا یہ سارے اچھے وعدے پورے نہیں ہوئے ؟ دوسرے ترجمے کا مطلب یہ ہو گا کہ تمہیں شریعت اور ہدایت نامہ عطا کرنے کا جو وعدہ کیا گیا تھا ، کیا تمہارے نزدیک وہ کسی خیر اور بھلائی کا وعدہ نہ تھا ؟*
سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :*65*
دوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ’’ کیا وعدہ پورا ہونے* میں بہت دیر لگ گئی کہ تم بے صبر ہو گئے ؟‘‘ پہلے ترجمے کا مطلب یہ ہو گا کہ تم پر اللہ تعالیٰ ابھی ابھی جو عظیم الشان احسانات کر چکا ہے ، کیا ان کو کچھ بہت زیادہ مدت گزر گئی ہے کہ تم انہیں بھول گئے ؟ کیا تمہاری مصیبت کا زمانہ بیتے قرنیں گزر چکی ہیں کہ تم سرمست ہو کر بہکنے لگے ؟ دوسرے ترجمے کا مطلب صاف ہے کہ ہدایت نامہ عطا کرنے کا جو وعدہ کیا گیا تھا ، اس کے وفا ہونے میں کوئی تاخیر تو نہیں ہوئی ہے جس کو تم اپنے لیے عذر اور بہانہ بنا سکو ۔*
سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :*66*
اس سے مراد وہ وعدہ ہے جو ہر قوم اپنے نبی سے کرتی* ہے ۔ اس کے اتباع کا وعدہ ۔ اس کی دی ہوئی ہدایت پر ثابت قدم رہنے کا وعدہ ۔ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرنے کا وعدہ ۔*
🌈فی ظلال القرآن🌈
*قال فانا قدفتنا قومک من بعدلک واضلھم السامری (٠٢ : ٥٨) فرمایا اچھا تو سنو ، کہ ہم نے تمہارے پیچھے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا ار سامری نے انہیں گمراہ کر ڈالا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس ابتلاء کا پتہ نہ تھا۔ اللہ کے ساتھ ملاقات میں پہلی بار ان کو پتہ چلا۔ حضرت موسیٰ نے یہ تختیاں لیں۔ ان میں ہدایت تھی۔ اس میں بنی اسرائیل کی زندگی کی تعمیر کے لئے ایک ایسا دستور تھا جو انہیں اس مقصد کے لئے تیار کر کے دیا گیا تھا جس کے لئے انہیں اٹھایا گیا تھا۔ یہاں کوہ طور موسیٰ (علیہ السلام) کی مناجات کا منظر جلدی سے لپیٹ دیا جاتا ہے تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ان تاثرات کو قلم بند کیا جائے جو ان پر وقم کی گمراہی کی خبر سن کر طاری ہوئے۔ واپسی کے لئے ان کی جلدی بھی منظر پر آئے اور یہ دکھایا جائے کہ وہ کس قدر غیض و غضب میں ہیں۔ اس قوم کو تو انہوں نے حال ہی میں فرعون کی غلامی سے چھڑایا تھا اور بت پرستی کی ذلت سے نجات دلائی تھی۔ پھر اللہ نے صحرا میں ان کے لئے کھانے پینے کی سہولتیں مہیا کیں اور صاف صاف ہدایات بھی دیں کہ گمراہی سے بچنا اور گمراہی کے عواقب اور نتائج بھی بتا دیئے۔ لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ وہ پہلی ہی پکار پر بت پرست بن گئے اور پھر مصنوعی گو سالہ کی پرستش میں لگ گئے۔ یہاں قرآن مجید صراحت کے ساتھ یہ نہیں بتاتا کہ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کی ضلالت کی تفصیلات بتا دی تھی یا نہیں لیکن واپسی پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا غیض و غضب کا اظہار کرنا ، نہایت ہی ناراض ہونا ، بھائی پر غصہ ہونا اور قوم کو ملامت کرنا ، یہ سب امور یہ بتلاتے ہیں کہ اللہ نے ان کو سب کچھ بتلا دیا تھا اور وہ جان گیء تھے کہ بنی اسرائیل نے کسی نہایت ہی بری حرکت کا ارتکاب کیا ہے۔*
*ہارون (موسیٰ کے آنے سے) پہلے ہی ان سے کہہ چکا تھا کہ لوگو تم اس کی وجہ سے فتنے میں پڑگئے ہو ، تمہارا رب تو رحمٰن ہے ، پس تم میری پیروی کرو اور میری بات مانو۔ مگر انہوں نے اس سے کہہ دیا کہ ہم تو اسی کی پرستش کرتے رہیں گے جب تک کہ موسیٰ ہمارے پاس واپس نہ آجائے۔ یہ ہے وہ فتنہ جس کے ذریعہ بنی اسرائیل گمراہ ہوئے لیکن قرآن اس کا تذکرہ اس وقت کرتا ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے سامنے آ کر تحقیق کرتے ہیں۔ اس سے قبل اللہ کے ساتھ مناجات کے موقعہ پر قرآن نے اس کا اظہار نہیں کیا۔ ان تفصیلات کو خفیہ رکھا تاکہ ان کو اس وقت ظاہر کیا جائے جب موسیٰ (علیہ السلام) خود تحقیقات کرلیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) واپس ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کی قوم ایک ایسے مصنوعی بچھڑے کی پوجا کر رہی جو آواز نکالتا ہے۔ یہ بچھڑا سونے سے بنا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ہے تمہارا رب اور یہی ہے موسیٰ کا رب۔ موسیٰ غلطی سے طور پر چلے گئے ، رب سے ملاقات کے لئے حالانکہ رب تو یہ ہے حاضر تمہارے سامنے ! ! جب موسیٰ (علیہ السلام) آئے تو نہایت ہی طیش کی حالت میں ان سے پوچھنے لگے۔ یقوم الم یعدکم ربکم وعدا حسناً (٠٢ : ٦٨) اے میری قوم کے لوگو ، کیا تمہارے رب نے تم سے اچھے وعدے نہیں کئے تھے۔ اللہ نے ان سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر تم عقیدہ توحید پر جمے رہے تو تم ارض مقدس میں داخل ہوگئے اور تمہیں نصرت ملے گی۔ اس عہد اور اس کے آثار کے ظہور پر کوئی زیادہ طویل عرصہ تک نہ گزر گیا تھا۔ وہ ان کی سخت گوشمالی کرتے ہیں۔ افطال علیکم العھد ام اردتم ان یحل علیکم غضب من ربکم (٠٢ : ٦٨) کیا تمہیں دن لگ گئے تھے یا تم اپنے رب کا غضب ہی اپنے اوپر لانا چاہتے تھے۔ کیونکہ تمہارا یہ عمل تو ایسا ہے کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تم اللہ کے غضب کے طلبگار ہو ، تم نے گویا عمداً یہ حرکت کی ہے اور قصداً تم اللہ کا غضب چاہت یہو۔ کیا کوئی بہت ہی طویل عرصہ گزر گیا تھا۔ فاخلفتم موعدی (٠٢ : ٦٨) تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی۔ تم نے یو وعدہ کیا تھا کہ میرے آنے تک تم میرے عہد پر قائم رہو گے۔ تم اپنے نظریات و عمل میں کوئی تبدیلی نہ کرو گے بغیر میری اجازت کے۔ اب ذرا ان کی معذرت کو دیکھو ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طویل ترین غلامی نے ان کے قلب و نظر کو فاسد کردیا تھا اور ان کا دماغ بھی صحیح طرح کام نہ کر رہا تھا۔*
•┈•❀❁❀•┈•
*📿نماز نیند سے بہتــــــــــر ہے📿*
*📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕*
•┈•❀❁❀•┈•
Follow the Dr Mahmood Abbasi channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029VaU9fa177qVNkg7QTG0v