Pakistan Homoeopathic Medical Association

Pakistan Homoeopathic Medical Association Pakistan Homoeopathic Medical Association (PHMA) is Leading Homoeopathic association in Pakistan

پاکستان ہومیوپیتھک میڈیکل ایسوسی ایشن
تعارف
پاکستان ہومیوپیتھک میڈیکل ایسوسی ایشن کا قیام 1975ءمیں لایا گیا اور اسکی باقاعدہ رجسٹریشن 1976ءمیں سوسائٹیز ایکٹ 1860ءکے تحت کروائی گئی۔ اس وقت تک ملک بھر میں ایک صد سے زائد ہومیوپیتھک تنظیمیں مصروف عمل تھیں۔ ہومیوپیتھک اکابرین نے انکے ادغام کے بعد پاکستان ہومیوپیتھک میڈیکل ایسوسی ایشن کی داغ بیل ڈالی۔
ڈاکٹر محبوب عالم قریشی اسکے پہلے صدر اور ڈاکٹر جاوید اعوان جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔

ڈاکٹر محبوب عالم قریشی کے انتقال کے بعد ڈاکٹر یعقوب مرزا (کراچی) صدر منتخب ہوئے اور انکے انتقال کے بعد ڈاکٹر فاروق اسماعیل (حیدر آباد) صدر بنے جبکہ پنجاب کے پہلے صدر ڈاکٹر محمد صدیق اعوان اور پھر انکے بعد پروفیسر ڈاکٹر حاجی احمد حسین صاحب صدر منتخب ہوئے اور انکے انتقال کے بعد ڈاکٹر گلزار کیانی صدر بنے۔
اس وقت ہومیوپیتھک ڈاکٹر جاوید اعوان صدر اور ہومیوپیتھک ڈاکٹر محمودالحق عباسی سیکریٹری جنرل پاکستان ہیں
گزشتہ 35 سال سے یہ تنظیم ہومیوپیتھک سائنس کی ترویج و ترقی ہومیوپیتھک ڈاکٹروں، کالجوں اور ہومیوپیتھک طلبہ و طالبات کے حقوق کی ترقی کیلئے مصروف عمل ہے۔ آج تک ہومیوپیتھی کی ترقی کیلئے جو بھی اقدامات ہوئے اسکا سہرا صرف پاکستان ہومیوپیتھک میڈیکل ایسوسی ایشن کے سر ہے ۔
آئیے اور اپنے بھرپور تعاون سے اسے مزید مضبوط بنائیں۔

23/03/2026

معجزات قرآن حکیم فرقان حمید
اللہ اکبر

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷**🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*‏•┈•❀❁❀•┈•❤️🌹عیدالفطر تیسرا...
23/03/2026

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷*
*🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*
‏•┈•❀❁❀•┈•
❤️🌹عیدالفطر تیسرا دن مبارک🌹❤️
*3 شوال المکرم 1447 ھِجْرِیْ​*
*23 مارچ 2026 عِیسَـوی سوموار*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*‏أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْـــــــــمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم🌹*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌸اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا صَلَّــيْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابه وسلم🌸*
‏•┈•❀❁❀•┈
*🌹سورة طٰهٰ آیت 45-46-47*
*قَالَا رَبَّنَـآ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ يَّفْرُطَ عَلَيْنَـآ اَوْ اَنْ يَّطْغٰى (45)*
*قَالَ لَا تَخَافَـآ اِنَّنِىْ مَعَكُـمَآ اَسْـمَعُ وَاَرٰى (46)*
*فَاْتِيَاهُ فَقُوْلَآ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ وَلَا تُعَذِّبْـهُـمْ ۖ قَدْ جِئْنَاكَ بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ ۖ وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى (47)*
*📜ترجمہ:*
*دونوں 18 نے عرض کیا ” پروردگار ، ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا پل پڑے گا ۔*
*فرمایا ” ڈرو مت ، میں تمہارے ساتھ ہوں ، سب کچھ سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں ۔*
*جاؤ اس کے پاس اور کہو کہ ہم تیرے رب کے فرستادے ہیں ، بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کےلیے چھوڑ دے اور ان کو تکلیف نہ دے ۔ ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لے کر آئے ہیں اور سلامتی ہے اس کے لیے جو راہ راست کی پیروی کرے ۔*
*📜English Translation:*
*The two said:"" Lord! We fear he may commit excesses against us or transgress all bounds.""*
*He said: ""Have no fear. I am with you hearing and seeing all.*
*So go to him and say: ''Behold both of us are the Messengers of your Lord. Let the Children of Israel go with us and do not chastise them. We have come to you with a sign from your Lord; and peace shall be for him who follows the true guidance.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
*🤲🏿 یارب العالمین، دعوت دین کو سمجھنے میں ہماری رہنمائی فرما حکمت دین کا فہم عطا کر،خوف دشمن سے نجات عطا فرما ہمیں بھی ظالم اور جابر حکمران کے آگے کلمہ حق کہنے والوں میں شامل فرما۔آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏻Prayer🤲🏼🌹*
*🤲🏿O Almighty ALLAH,“Lord of the worlds, guide us in understanding the call of faith, grant us wisdom of religion, free us from fear of enemies, and include us among those who speak the truth before oppressive and tyrant rulers.”Ameen.🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🔎📖تفہیم القرآن📖🔎*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :18 ( الف )*
معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب* حضرت موسیٰ مصر پہنچ گئے اور حضرت ہارون عملاً ان کے شریک کار ہو گئے ۔ اس وقت فرعون کے پاس جانے سے پہلے دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ گزارش کی ہو گی۔*
🌈فی ظلال القرآن🌈
*قالا ابنا اننا۔۔۔۔۔۔ علی من کذب و تولی ( ٥٤ تا ٨٤ ) ۔اس سے قبل جو طویل بحث ہوئی تھی اور جس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) رب تعالیٰ کے ساتھ وادی طوی میں ہم کلام تھے اس میں حضرت ہارون موجود نہ تھے۔ وہ ایک طویل مناجات تھی اور وسیع سوال و جواب اس میں ہوتے رہے۔اس لیے حضرت موسیٰ اور ہارون دونوں کا یہ جواب
اننا نخاف ان۔۔۔۔۔۔ ان یطغیٰ (٠٢ : ٥٤) دونوں نے عرض کیا پروردگار ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا پل پڑے گا۔ وادی طوی میں مناجات کی جگہ میں نہ تھا۔قرآن کریم کا قصص کے بارے میں یہ طریقہ ہے کہ وہ قصص کے غیر ضروری حصے درمیان میں سے کاٹ دیتا ہے اور قصص کے جو مناظر وہ دکھاتا ہے اس کے درمیان ایک واضح خلا (Gap ) چھوڑ دیتا ہے۔یہ خلا عقل انسانی خود پر کردیتی ہے اور سیاق کلام یا منظر آگے بڑھ کر زیادہ موثر اور زیادہ مفید زندہ اور متحرک مناظر پیش کرنا شروع کردیتا ہے جن کا انسان کے وجدان پر اثر ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ طور سے واپسی پر موسیٰ (علیہ السلام) مصر پہنچے اللہ نے حضرت ہارون کو بھی یہ منصب دے دیا اور ان کو بھی یہ حکم دے دیا گیا کہ تم حضرت موسیٰ کے معاون پیغمبر ہو۔اور تمہیں بھی بھائی کے ساتھ فرعون کو دعوت دینے کے لئے جانا ہے۔اب جب وہ تیاریاں کر کے جانے لگتے ہیں تو پھر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہیں۔ قالا ربنا اننا۔۔۔۔۔ او ان یطغی (٠٢ : ٥٤) دونوں عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا پل پڑے گا۔فرط کا لغوی مفہوم یہ ہے کہ کوئی جلدی سے کسی کو اذیت دے۔ فوراً بات کرتے ہیں اور طغیان کا مفہوم فرط اور اذیت سے زیادہ جامع ہے اور فرعون ان دنوں ایک ایسا جبار حکمران تھا جس سے سب کچھ متوقع تھا۔ یہاں اب ان کو فیصلہ کن تسلی دے دی جاتی ہے جس کے بعد نہ کوئی خوف رہتا ہے اور نہ خدشہ۔*
قال لاتخافآ اننی معکما اسمع واری (٠٢ : ٦٣) فرمایا ڈرو مت، میں تمہارے ساتھ ہوں۔ سب کچھ سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں۔ میں تمہارے ساتھ ہوں، اگر وہ قوی ہے، بڑا ہے اور سرکش ہے تو اللہ تو تمام سرکشوں بندوں کے اوپر کنٹرول کرنے والا ہے۔ھو القاھر فوق عبادہ۔۔۔ وہ تمام کائنات، تمام انسانوں، تمام حیوانات اور تمام اشیاء کو صرف کن سے پیدا کرتا ہے۔ کن سے زیادہ اسے کچھ نہیں کہنا پڑتا۔ میں تمہارے ساتھ ہوں بس یہ اجمالی تسلی کافی ہے۔ لیکن اللہ ان کے اندر مزید طمانیت اور احساس جگانے کے لئے فرماتے ہیں : اسمع واری (٠٢ : ٦٣) میں سنتا بھی ہوں اور دیکھتا بھی ہوں۔فرعون کیا ہوتا ہے؟ اس کی ملکیت میں کیا ہے؟ وہ کیونکر زیادتی اور سرکشی کرسکتا ہے؟ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ یہ اطمینان دلانے کے بعد ان کو انداز دعوت بھی سکھایا جاتا ہے اور مختصر دعوت بھی۔*
*فاتیہ فقولاً ……وتولی (٨٣) (٠٢ : ٨٣-٨٣) جاؤ اس کے پاس اور کہو کہ ہم تیرے رب کے فرستادے ہیں، بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لئے چھوڑ دے اور ان کو تکلیف نہ دے۔ ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لے کر آئے اور سلامتی ہے اس کے لئے جو راہ راست کی پیروی کرے۔ہم کو وحی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب ہے، اس کے لئے جو جھٹلائے اور منہ موڑے۔ اللہ نے آغاز ہی میں بتا دیا کہ ان کی رسالت کی دعوت کیا ہے۔ انا رسول ربک (٨٣) ہم تیرے رب کے دو فرستادے ہیں۔ پہلی آواز میں اس کو یہ بتا دیا جائے کہ تمہارے اوپر حکمران ایک ذات رب کی ہے، جو لوگوں کا بھی رب ہے، یہ صرف موسیٰ اور ہارون کا خدا اور رب نہیں۔ نہ وہ صرف بنی اسرائیل کا رب ہے۔ جیسا کہ اس وقت کی بت پرستانہ خرافات میں یہ عقیدہ ہوتا تھا کہ ہر قوم کا ایک رب ہوتا ہے اور ہر قبیلے کا اپنا خدا یا دیوتا ہوتا ہے۔ ایک یا زیادہ، خود مصر کی تاریخ میں یہ تصور موجود رہا ہے کہ فرعون بھی رب تھا کیونکہ وہ دیوتاؤں کی نسل سے تھا۔ اس کے بعد ان کی رسالت کے اصل موضوع اور مضمون کی وضاحت کی جاتی ہے۔ فارسل معنا بنی اسرآئیل ولاتعذبھم (٠٢ : ٨٣) بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لئے چھوڑ دے اور ان کو تکلیف نہ دے۔ فرعون سے ان کا اصل مطالبہ یہ تھا کہ تم بنی اسرائیل کو رہائی دو، وہ عقیدہ توحید کی طرف واپس آجائیں، اس سر زمین کی طرف واپس آجائیں جو اللہ نے ان کے لئے لکھی ہے کہ وہ یہاں رہیں گے یہاں تک کہ وہ اس میں فساد برپا کردیں اور مکمل طور پر تباہ کردیئے جائیں۔ اس کے بعد ان کو بتایا جاتا ہے کہ تمہاری رسالت کی سچائی پر شہادت یہ ہوگی۔ قد جئنک بایۃ من ربک (٠٢ : ٨٣) ہم تیرے پاس رب کی نشانی لے کر آئے ہیں۔ یہ نشانی، یہ معجزہ ہماری سچائی پر دلیل صادق ہے۔ اللہ کے حکم سے آنا تمہاری سچائی کی دلیل ہے۔ اس کے بعد اسے ترغیب دی جاتی ہے اور دعوت قبول کرنے کی طرف اسے مائل کیا جاتا ہے۔ والسلم علی من اتبع الھدی (٠٢ : ٨٣) اور سلامتی ہے اس کے لئے جو راہ راست کی پیروی کرے۔ شاید کہ وہ راہ ہدایت پالے اور ان سے اسلام کی دعوت سیکھ لے۔ اس کے بعد نہایت ہی عمدہ اور بالواسطہ طرز کلام میں اس کو کہا جاتا ہے تاکہ اسے غصہ نہ آجائے اور اس کو اپنے غرور کی وجہ سے بات بری نہ لگے۔ انا قداوحی الینا ان العذاب علی من کذب وتولی (٠٢ : ٨٣) ہم کو وحی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب ہے اس کے لئے جو جھٹلائے اور منہ موڑے۔ ہو سکتا ہے کہ تم ان میں سے نہ ہو اور یہ بات ہم نہیں کہتے، ہم پر وحی آتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے موسیٰ و ہارون کو دولت اطمینان سے مالا مال کر کے، دعوت کا طریق کارسمجھا کر بھیجا تاکہ وہ پوری طرح تیار ہو کر اپنا مشن اچھی طرح جانتے ہوئے جائیں۔ اب پردہ گر جاتا ہے، اگلا منظر فرعون کا دربار ہے۔*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*📿نماز نیند سے بہتــــــــــر ہے📿*
*📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕*
‏•┈•❀❁❀•┈•

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷**🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*‏•┈•❀❁❀•┈•🤲رمضان مبارک اللہ...
05/03/2026

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷*
*🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*
‏•┈•❀❁❀•┈•
🤲رمضان مبارک اللہ پاک ہم سب کو ان بابرکت ساعتوں کی رحمت،مغفرت،جہنم سے خلاصی حاصل کرنے اور اس میں موجود تمام برکات و فیوض سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین🤲
*15 رمضان المبارک 1447 ھِجْرِیْ​*
*5 مارچ 2026 عِیسَـوی بدھ*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*‏أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْـــــــــمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم🌹*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌸اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا صَلَّــيْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابه وسلم🌸*
‏•┈•❀❁❀•┈
*🌹سورة طٰهٰ آیت 36-37*
*قَالَ قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يَا مُوْسٰى (36)*
*وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَيْكَ مَرَّةً اُخْرٰى (37)*
*📜ترجمہ:*
*فرمایا ” دیا گیا جو تو نے مانگا اے موسی ( علیہ السلام )*
*، ہم نے پھر ایک مرتبہ تجھ پر احسان کیا ۔ 17*
*📜English Translation:*
*He said: ""Moses your petition is granted.*
*We have again bestowed Our favour upon you.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
*🤲🏿 یارب العالمین، ہم سے راضی ہو جا،ہمیں بن مانگے وہ عطا فرما جس کا وعدہ آپ نے اپنے پیارے فرمانبردار بندوں سے کیا،بیشک آپ کے بیشمار احسان ہیں ہم پہ ہر حال میں اپنا کرم فرما ، اپنا رحم اور برکتیں عطا فرما آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏻Prayer🤲🏼🌹*
*🤲🏿”O Almighty ALLAH, Lord of the worlds, be pleased with us, grant us without asking what You've promised Your beloved obedient servants. Indeed, You have countless favors upon us; show Your kindness, mercy, and blessings upon us in every situation.”Ameen.🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🔎📖تفہیم القرآن📖🔎*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :17*
*اس کے بعد اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ کو ایک ایک کر کے وہ احسانات یاد دلاتا ہے جو پیدائش کے وقت سے لے کر اس وقت تک اس نے ان پر کیے تھے ۔ ان واقعات کی تفصیل سورہ قصص میں بیان ہوئی ہے ۔ یہاں صرف اشارات کیے گئے ہیں جن سے مقصود حضرت موسیٰ ؑ کو یہ احساس دلانا ہے کہ تم اسی کام کے لیے پیدا کیے گئے ہو اور اسی کام کے لیے آج تک خاص طور پر سرکاری نگرانی میں پرورش پاتے رہے ہو جس پر اب تمہیں مامور کیا جا رہا ہے ۔*
🌈فی ظلال القرآن🌈
*قال قد اوتیت سولک یمٰوسیٰ (٦٣) فرمایا دیا گیا جو تو نے مانگا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! ۔ ایک ہی فقرہ میں تمام سوالات منظور ایک ہی اجمالی آرڈر کردیا گیا۔تفصیلات دینے کی ضرورت ہی نہیں۔ وعدہ بھی نہیں بلکہ فائنل منظوری بلکہ دستی تعمیل۔ جو مانگا وہی دے دیا گیا۔ نہ دیر اور نہ بار بار کا مطالبہ۔درخواست کی منظوری کے ساتھ ساتھ لطف و کرم کا اظہار بھی ہے تعظیم و تکریم بھی ہے پھر محبت کا اظہار یوں نام لے کر (اے موسیٰ ) اس سے بڑھ کر تکریم اور کیس ہو سکتی ہے۔ کہ پوری کائنات کی مجلس میں اللہ ایک بندے کا نام لے کر اس کے مطالبے منظور کرے۔ یہاں تک آپ نے دیکھا کہ اللہ کے فضل وکرم کی تکمیل کس قدر ہوچکی ہے محبت اور بےتکلفی کی باتیں ہو چکیں۔ طویل عر صے تک بھی قائم رہی مناجات ہوتی رہی تمام درخواستیں منظور اور فوراً تعمیل ہوگئی لیکن ان کے فضل پر کوئی داروغہ نہیں ہے۔ اور اللہ کی رحمتوں پر کوئی کنٹرول کرنے والا نہیں ہے۔ اللہ اس بندے پر مزید فضل کرنا چاہتے ہیں اپنی رضا مندی کا یہ فیض ان پر طویل تر کرتے جاتے ہیں۔اس دربار میں ان کی حاضری کا وقت مزید بڑھا دیا جاتا ہے۔ اللہ اب موسیٰ (علیہ السلام) پر اپنی سابقہ مہربانیاں گنوا کر ان کے ساتھ مزید ہمکلام ہونا چاہتے ہیں کہ ان کو مزید اطمینان ہو وہ مزید بےتکلف ہوجائیں اللہ اپنی رحمتوں اور قدیم مہربانیوں کا ذکر شروع کردیتے ہیں۔اس دربار علیہ میں ان کے لقاء کے وقت میں جس قدر اضافہ ہوتا ہے وہ ان کے لئے سرمایہ زندگی ہے اور باعث افتخار ہے۔ وہ ایک نہایت ہی روشن اور مقدس مقام پر کھڑے ہیں سنئے 😗
*و لقد مننا علیک۔۔۔۔۔ واصطنعتک لنفسی (٧٣ تا ١٤) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایسے بادشاہ کے دربار میں پیغام حق پہنچانے کے لیے جارہے ہیں جو اس وقت اس کرئہ ارض پر نہایت ہی سرکش ظالم اور داداگیر بادشاہ تھا ، وہ کفر و ایمان کے معف کہ میں داخل ہو رہے تھے وہ پہلی بار فرعون کے دربار میں جارہے تھے۔ وہاں ان کے لیے مسائل واقعات اور مشکلات کے پہاڑ کھڑے تھے۔ پھر ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ ایک طویل عرصہ ذلت اور غلامی کی زندگی گزارتے گزارتے وہ اس کی خ اگر ہوگئے تھے۔ ان کی فطرت ہی بدل گئی موسیٰ (علیہ السلام) اگر اپنی مہم میں کامیاب ہوئے بھی تو ان کی قوم اس آزادی کے لئے نہ موزوں ہے نہ تیار۔ ان کے رب ان کو بتاتے ہیں کہ تمہیں تیاری کے بعد بھیجا جا رہا ہے اور وہ کسی بھی رسول کو جب بھیجتے ہیں کہ اس کے ارسال کے لیے اسٹیج تیار ہوتا ہے۔ یہ کہ اے موسیٰ تمہاری تربیت بھی ہم ایک عرصہ سے اپنی نگرانی میں کر رہے ہیں۔ جب تم دودھ پیتے بچے تھے تب سے ہم نے تمہیں تربیت دینا شروع کی ہے۔ اس ضیعف و ناتوانی کی حالت میں اللہ کا فضل تمہارے شامل حال رہا ہے ۔ تم فرعون کے ہاتھ میں تھے۔ تمہارے پاس کوئی قوت نہ تھی لیکن یہ اللہ ہہی کی حکمت تھی جس نے فرعون کی دست درازیوں سے تمہیں بچایا۔ یہ دست قدرت تھا جو تمہاری مدد کر رہا تھا۔ اللہ کی نظروں میں تم تھے۔ قدم قدم پر تمہاری نگرانی اور نگہبانی ہو رہی تھی ۔ لہٰذا آج بھی فرعون تمہارا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گا ، آج تو تم جوان ہو۔ رب تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا ہوگیا ہے اور تم اس کی بارگاہ میں ہو۔ اور میں نے تمہیں خود اپنے مشن کے لئے پیدا کیا ہے اور تربیت دی ہے اور چنا ہے۔ ولقد مننا علیک مرۃ اخری (٠٢ : ٧٣) ہم نے پھر ایک مرتبہ تجھ پر احسان کیا ۔ تم پر تو زمانہ قدیم سے مسلسل مہربانیاں ہو رہم ہیں۔ ایک عرصے سے اللہ کی مہربانی اور فضل تمہارے شامل حال ہے اور اس مشن کی سپردگی کے بعد تو یہ مسلسل جاری رہے گا۔ دیکھو تم پر یہ احسان کیا کم تھا کہ فرعون بچوں کو قتل کر رہا تھا اور ہم نے تیری ماں کو یہ الہام کیا کہ ان اقذفیہ فی ۔۔۔۔۔ الیم بالساحل (٠٢ : ٥٣) ہم نے تیری ماں کو اشارہ دیا ایسا اشارہ جو وحی کے ذریعے ہی کیا جاتا ہے کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ دے اور صندوق کو دریا میں چھوڑ دے دریا اسے ساحل پر پھینک گا ۔ یہ ایسے افعال ہیں جن میں سختی پائی جاتی ہے، بچے کو تابوت میں گرانا تابوت کو نذر سمندر کرنا سمندر کی طرف سے اسے ساحل پر پھینک دینا اور پھر کیا؟ یہ تابوت اب کہاں جائے گا اس میں بچہ پھینکا گیا ہے تابوت سمندر کی لہروں کے کرم پر ہے۔ لہریں اسے ساحل پر پھینک دیتی ہیں۔کون اب اسے لے گا ؟عدولی وعدولہ (٠٢ : ٩٣) اسے میرا دشمن اور اس بچے کا شمن اٹھا لے گا۔ان خطرات کے ہجوم میں اور ان صدمات کے بعد کیا ہوتا ہے ؟ اس ضعیف ناتوان اور بےبس بچے کو جو تابوت میں قید ہے کیا پیش آتا ہے ؟ کون اسے بچاتا ہے۔*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*📿نماز نیند سے بہتــــــــــر ہے📿*
*📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕*
‏•┈•❀❁❀•┈•


https://whatsapp.com/channel/0029VaU9fa177qVNkg7QTG0v/1036

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷**🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*‏•┈•❀❁❀•┈•🤲رمضان مبارک اللہ...
02/03/2026

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷*
*🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*
‏•┈•❀❁❀•┈•
🤲رمضان مبارک اللہ پاک ہم سب کو ان بابرکت ساعتوں کی رحمت،مغفرت،جہنم سے خلاصی حاصل کرنے اور اس میں موجود تمام برکات و فیوض سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین🤲
*13 رمضان المبارک 1447 ھِجْرِیْ​*
*2 مارچ 2026 عِیسَـوی سوموار*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*‏أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْـــــــــمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم🌹*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌸اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا صَلَّــيْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابه وسلم🌸*
‏•┈•❀❁❀•┈
*🌹سورة طٰهٰ آیت 25-26*
*قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِىْ صَدْرِىْ (25)*
*وَيَسِّـرْ لِـىٓ اَمْرِىْ (26)*
*وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِىْ (27)*
*يَفْقَهُوْا قَوْلِىْ (28)*
*📜ترجمہ:*
*موسی ( علیہ السلام ) نے عرض کیا ” پروردگار ، میرا سینہ کھول دے ، 14*
*اور میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے*
*اور میری زبان کی گرہ سلجھا دے*
*تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں ، 15*
*📜English Translation:*
*Moses said: ""Lord! Open up my heart for me;*
*and ease my task for me*
*and loosen the knot from my tongue*
*so that they may understand my speech;*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
*🤲🏿 یارب العالمین،"اے ربِ ذوالجلال! ہمارے سینوں کو اپنے کلام کی فہم کے لیے کشادہ فرما دے۔ ہمارے مشن کو ہمارے لیے آسان کر دے اور ہماری زبانوں کی لکنت دور فرما، تاکہ جب ہم دین کی تبلیغ، تعلیم اور معاشرتی اصلاح کی بات کریں، تو لوگ اسے آسانی سے سمجھ سکیں اور وہ ان کے دلوں میں گھر کر جائے۔"آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏻Prayer🤲🏼🌹*
*🤲🏿”O Almighty ALLAH, O Lord of Majesty! Open our hearts to the wisdom of Your message. Grant us success and ease in our mission, and bless us with such clarity of speech that when we share the teachings of religion and social guidance, our words are easily understood and leave a lasting impact on people's hearts.”Ameen.🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🔎📖تفہیم القرآن📖🔎*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :14*
*یعنی میرے دل میں اس منصب عظیم کو سنبھالنے کی ہمت پیدا کر دے ۔ اور میرا حوصلہ بڑھا دے ۔ چونکہ یہ ایک بہت بڑا کام حضرت موسیٰ ؑ کے سپرد کیا جا رہا تھا جس کے لیے بڑے دل گردے کی ضرورت تھی ، اس لیے آپ نے دعا کی کہ مجھے وہ صبر ، وہ ثبات ، وہ تحمل ، وہ بے خوفی اور وہ عزم عطا کر جو اس کام کے لیے درکار ہے ۔*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :15*
*بائیبل میں اس کی جو تشریح بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے عرض کیا ’’ اے خداوند ، میں فصیح نہیں ہوں نہ پہلے ہی تھا اور نہ جب سے تو نے اپنے بندے سے کلام کیا۔ بلکہ رک رک کر بولتا ہوں اور میری زبان کند ہے ‘‘ ( خروج 10:4 ) ۔مگر تلمود میں اس کا ایک لمبا چوڑا قصہ بیان ہوا ہے ۔اس میں یہ ذکر ہے کہ بچپن میں جب حضرت موسیٰ ؑ فرعون کے گھر پرورش پا رہے تھے، ایک روز انہوں نے فرعون کے سر کا تاج اتار کر اپنے سر پر رکھ لیا۔ اس پر یہ سوال پیدا ہوا کہ اس بچے نے یہ کام بلاارادہ کیا ہے یا یہ محض طفلانہ فعل ہے۔ آخرکار یہ تجویز کیا گیا کہ بچے کے سامنے سونا اور آگ دونوں ساتھ رکھے جائیں۔ چنانچہ دونوں چیزیں لا کر سامنے رکھی گئیں اور حضرت موسیٰ ؑ نے اٹھا کر آگ منہ میں رکھ لی۔ اس طرح ان کی جان تو بچ گئی ، مگر زبان میں ہمیشہ کے لیے لکنت پڑ گئی ۔
یہی قصہ اسرائیلی روایات سے منتقل ہو کر ہمارے ہاں کی تفسیروں میں بھی رواج پا گیا۔ لیکن عقل اسے ماننے سے انکار کرتی ہے ۔ اس لیے کہ اگر بچے نے آگ پر ہاتھ مارا بھی ہو تو یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ وہ انگارے کو اٹھا کر منہ میں لے جا سکے بچہ تو آگ کی جلن محسوس کرتے ہی ہاتھ کھینچ لیتا ہے۔ منہ میں لے جانے کی نوبت ہی کہاں آ سکتی ہے؟ قرآن کے الفاظ سے جو بات ہماری سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے اندر خطابت کی صلاحیت نہ پاتے تھے اور ان کو اندیشہ لاحق تھا کہ نبوت کے فرائض ادا کرنے کے لیے اگر تقریر کی ضرورت کبھی پیش آئی ( جس کا انہیں اس وقت تک اتفاق نہ ہوا تھا) تو ان کی طبیعت کی جھجک مانع ہو جائے گی۔ اس لیے انہوں نے دعا فرمائی کہ یا اللہ میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ میں اچھی طرح اپنی بات لوگوں کو سمجھا سکوں ۔ یہی چیز تھی جس کا فرعون نے ایک مرتبہ ان کو طعنہ دیا کہ یہ شخص تو اپنی بات بھی پوری طرح بیان نہیں کر سکتا ‘‘ «( لَا یَکَادُ یُبِیْنُ ۔ الزُخْرف ۔ 52 )»* *اور یہی کمزوری تھی جس کو محسوس کر کے حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے بڑے بھائی حضرت ہارون کو مددگار کے طور پر مانگا۔ سورہ قصص میں ان کا یہ قول نقل کیا گیا ہے ، «وَاَخِیْ ھٰرُوْنَ ھُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَاناً فَاَرْسِلْہُ مَعِیَ رِدْاً» ،’’ میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ زبان آور ہے، اس کو میرے ساتھ مددگار کے طور پر بھیج ۔‘‘ آگے چل کر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی یہ کمزوری دور ہو گئی تھی اور وہ خوب زور دار تقریر کرنے لگے تھے، چنانچہ قرآن میں اور بائیبل میں ان کی بعد کے دور کی جو تقریریں آئی ہیں وہ کمال فصاحت و طاقت لسانی کی شہادت دیتی ہیں*۔
*یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ہکلے یا توتلے آدمی کو اپنا رسول مقرر فرمائے۔ رسول ہمیشہ شکل، صورت، شخصیت اور صلاحیتوں کے لحاظ سے بہترین لوگ ہوئے ہیں جن کے ظاہر و باطن کا ہر پہلو دلوں اور نگاہوں کو متاثر کرنے والا ہوتا تھا۔ کوئی رسول ایسے عیب کے ساتھ نہیں بھیجا گیا اور نہیں بھیجا جا سکتا تھا جس کی بنا پر وہ لوگوں میں مضحکہ بن جائے یا حقارت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔*
🌈فی ظلال القرآن🌈
*قال رب اشرح لی۔۔۔۔ انک کنت بنا بصیرا (٥٢ تا ٥٣) اس ذریں موقعہ پر حضرت موسیٰ نے یہ درخواست کی کہ اے اللہ میرے سینے کو اس کام کے لئے کھول دے۔ جب انسان کو شرح صدر حاصل ہوجائے تو مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہوجاتا ہے۔ اس میں انسان کو لذت حاصل ہوتی ہے۔ اس سے انسان کی زندگی ہلکی ہوجاتی ہے۔ اس پر کوئی بوجھ نہیں رہتا اور انسان سبک رفتاری سے زندگی بسر کرتا ہے۔ انہوں نے یہ درخواست بھی کی کہ اللہ میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ میری بات کو اچھی طرح سمجھ جائیں۔ روایات میں آتا ہے کہ آپ کی زبان میں لکنت تھی راجح بات یہ ہے کہ ان کا سوال اس لکنت کو دور کرنے کے بارے میں تھا، دوسری سورة میں اس کے بارے میں یوں آیا ہے۔*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*📿نماز نیند سے بہتــــــــــر ہے📿*
*📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕*
‏•┈•❀❁❀•┈•

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷**🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*‏•┈•❀❁❀•┈•🤲رمضان مبارک اللہ...
26/02/2026

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷*
*🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*
‏•┈•❀❁❀•┈•
🤲رمضان مبارک اللہ پاک ہم سب کو ان بابرکت ساعتوں کی رحمت،مغفرت،جہنم سے خلاصی حاصل کرنے اور اس میں موجود تمام برکات و فیوض سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین🤲
*8 رمضان المبارک 1447 ھِجْرِیْ​*
*26 فروری 2026 عِیسَـوی جمعرات*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*‏أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْـــــــــمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم🌹*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌸اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا صَلَّــيْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابه وسلم🌸*
‏•┈•❀❁❀•┈
*🌹سورة طٰهٰ آیت 15-16*
*اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ اَكَادُ اُخْفِيْـهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعٰى (15)*
*فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْـهَا مَنْ لَّا يُؤْمِنُ بِـهَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ فَـتَـرْدٰى (16)*
*📜ترجمہ:*
*قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے ۔ میں اس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں ، تاکہ ہر متنفس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے ۔ 10*
*پس کوئی ایسا شخص جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کو اس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے ، ورنہ تو ہلاکت میں پڑ جائے گا ۔ ۔ ۔ ۔ *
*📜English Translation:*
*The Hour of Resurrection is coming. I have willed to keep the time of its coming hidden so that everyone may be recompensed in accordance with his effort.*
*Let him who does not believe in it and follows his lust not turn your thought away from it lest you are ruined.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
*🤲🏿 یارب العالمین، قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے۔ اور آپ ہی نے اس کا وقت مصلحتأ مخفی رکھا ہوا ہے تاکہ ہر متنفس اپنی سعی کے مطابق عمل کرے اور بدلہ پائے۔پس ہمیں اس پر کامل یقین اور ایمان عطا فرما۔ اپنی رضا سے اطاعت و بندگی والی زندگی عطا فرما خواہش نفس کا بندہ بننے سے بچا،اور اس گھڑی کی فکر عطا فرما، اور ہمیں اس گھڑی کی ہلاکت سے بچا لے۔ آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏻Prayer🤲🏼🌹*
*🤲🏿O Almighty ALLAH, Lord of the worlds, the Hour of Judgment is surely coming. And it is You who has kept its time hidden for expediency so that every soul will act according to its effort and get reward. So grant us complete faith and faith in it. Grant us a life of obedience and servitude by your will, save us from becoming a slave of desire, and give us the care of this hour, and save us from the destruction of this hour.Ameen.🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🔎📖تفہیم القرآن📖🔎*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :10
توحید کے بعد دوسری حقیقت جو ہر زمانے میں تمام انبیاء علیہم السلام پر منکشف کی گئی اور جس کی تعلیم دینے پر وہ مامور کیے گئے ، آخرت ہے ۔ یہاں نہ صرف اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے بلکہ اس کے مقصد پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے ۔ یہ ساعت منتظرہ اس لیے آئے گی کہ ہر شخص نے دنیا میں جو سعی کی ہے اس کا بدلہ آخرت میں پائے ۔ اور اس کے وقت کو مخفی بھی اس لیے رکھا گیا ہے کہ آزمائش کا مدعا پورا ہو سکے ۔ جسے عاقبت کی کچھ فکر ہو اس کو ہر وقت اس گھڑی کا کھٹکا لگا رہے اور یہ کھٹکا اسے بے راہ روی سے بچاتا رہے ۔ اور جو دنیا میں گم رہنا چاہتا ہو وہ اس خیال میں مگن رہے کہ قیامت ابھی کہیں دور دور بھی آتی نظر نہیں آتی ۔*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*📿نماز نیند سے بہتــــــــــر ہے📿*
*📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕*
‏•┈•❀❁❀•┈•

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷**🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*‏•┈•❀❁❀•┈•🤲رمضان مبارک اللہ...
24/02/2026

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷*
*🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*
‏•┈•❀❁❀•┈•
🤲رمضان مبارک اللہ پاک ہم سب کو ان بابرکت ساعتوں کی رحمت،مغفرت،جہنم سے خلاصی حاصل کرنے اور اس میں موجود تمام برکات و فیوض سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین🤲
*6 رمضان المبارک 1447 ھِجْرِیْ​*
*24 فروری 2026 عِیسَـوی منگل*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*‏أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْـــــــــمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم🌹*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌸اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا صَلَّــيْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابه وسلم🌸*
‏•┈•❀❁❀•┈
*🌹سورة طٰهٰ آیت 11-12*
*فَلَمَّآ اَتَاهَا نُـوْدِىَ يَا مُوْسٰى (11)*
*اِنِّـىٓ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ ۖ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى (12)*
*📜ترجمہ:*
*وہاں پہنچا تو پکارا گیا*
*اے موسی ( علیہ السلام ) ، میں ہی تیرا رب ہوں ، جوتیاں اتار دے ۔ 7 تو وادی مقدس طوی میں ہے ۔ 8*
*📜English Translation:*
*When he came to it a voice called out: ""Moses!*
*Verily I am your Lord! Take off your shoes. You are in the sacred valley Tuwa!*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
*🤲🏿 یارب العالمین، جس طرح تو نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اندھیری رات میں اپنی پکار سے نوازا اور انہیں تنہائی میں اپنی قربت کا احساس دلایا، ہمارے دلوں کو بھی اپنی یاد اور معرفت کے نور سے روشن کر دے۔ جب ہم زندگی کے راستوں میں بھٹکنے لگیں، تو ہمیں بھی اسی طرح اپنے کلام پاک کی پکار سننا نصیب فرما اور قران مقدس کی طرف بلا لے اور ادراک حقیقی نصیب فرما کہ تو ہی ہمارا رب ہے۔ ہمیں ہدایت کا وہ راستہ دکھا جو سیدھا تیری طرف جاتا ہو۔ یا رب ہمیں اپنے حضور عجز و انکساری اور ادب نصیب فرما۔ آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏻Prayer🤲🏼🌹*
*🤲🏿”O Almighty ALLAH, Just as You blessed Prophet Moses (peace be upon him) with Your call in the darkness of the night and granted him the sense of Your closeness in his solitude, enlighten our hearts as well with the light of Your remembrance and divine recognition. When we begin to wander astray in the paths of life, grant us the privilege of hearing the call of Your Holy Word and summon us toward the Sacred Quran. Grant us the true realization that You alone are our Lord. Show us the path of guidance that leads directly to You. O ALLAH, bestow upon us humility and true reverence in Your presence.”Ameen.🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🔎📖تفہیم القرآن📖🔎*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :7*
*غالباً اسی واقعہ کی وجہ سے یہودیوں میں یہ شرعی مسئلہ بن گیا کہ جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے ۔ نبی ﷺ نے اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے فرمایا : «خالفوا الیھود فانھم لا یصلّون فی فعالہم ولا خفافہم ،» یہودیوں کے خلاف عمل کرو ۔ کیونکہ وہ جوتے اور چمڑے کے موزے پہن کر نماز نہیں پڑھتے ‘‘ ( ابوداؤد ) ۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ضرور جوتے ہی پہن کر نماز پڑھنی چاہیے ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایسا کرنا جائز ہے ، اس لیے دونوں طرح عمل کرو ۔ ابوداؤد میں عمْرو ؓ بن عاص کی روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دونوں طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے ۔ مسند احمد اور ابوداؤد میں ابوسعید خُدرِی ؓ کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا ’’ جب تم میں سے کوئی مسجد آئے تو جوتے کو پلٹ کر دیکھ لے ۔ اگر کوئی گندگی لگی ہو تو زمین سے رگڑ کر صاف کر لے اور انہی جوتوں کو پہنے ہوئے نماز پڑھ لے ۔‘‘ ابوہریرہ ؓ کی روایت میں حضور کے یہ الفاظ ہیں ’’ اگر تم میں سے کسی نے اپنے جوتے سے گندگی کو پامال کیا ہو تو مٹی اس کو پاک کر دینے کے لیے کافی ہے ۔‘‘ اور حضرت ام سَلَمہ کی روایت میں ہے : «یطھرہ مابعدہ» ، یعنی ’’ ایک جگہ گندگی لگی ہو گی تو دوسری جگہ جاتے جاتے خود زمین ہی اس کو پاک کر دے گی ۔‘‘ ان کثیرالتعداد روایات کی بنا پر امام ابوحنیفہ ، امام ابویوسف ، امام اوزاعی اور اسحاق بن راھَوَیہ وغیرہ فقہا اس بات کے قائل ہیں کہ جوتا ہر حال میں زمین کی مٹی سے پاک ہو جاتا ہے ۔ ایک ایک قول امام احمد اور امام شافعی کا بھی اس کی تائید میں ہے ۔ مگر امام شافعی کا مشہور قول اس کے خلاف ہے ۔ غالباً وہ جوتا پہن کر نماز پڑھنے کو ادب کے خلاف سمجھ کر منع کرتے ہیں ، اگرچہ سمجھا یہی گیا ہے کہ ان کے نزدیک جوتا مٹی پر رگڑنے سے پاک نہیں ہوتا ۔ ( اس سلسلے میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مسجد نبوی میں چٹائی تک کا فرش نہ تھا ، بلکہ کنکریاں بچھی ہوئی تھیں ۔ لہذا ان احادیث سے استدلال کر کے اگر کوئی شخص آج کی مسجدوں کے فرش پر جوتے لے جانا چاہے تو یہ صحیح نہ ہو گا ۔ البتہ گھاس پر یا کھلے میدان میں جوتے پہنے پہنے نماز پڑھ سکتے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو میدان میں نماز جنازہ پڑھتے وقت بھی جوتے اتارنے پر اصرار کرتے ہیں ، وہ دراصل احکام سے ناواقف ہیں ) ۔*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :8*
*عام خیال یہ ہے کہ ’’ طویٰ ‘‘ اس وادی کا نام تھا ۔ مگر بعض مفسرین نے ’’ وادی مقدس طُویٰ ‘‘ کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ ’’ وہ وادی جو ایک ساعت کے لیے مقدس کر دی گئی ہے ۔‘‘*
🌈فی ظلال القرآن🌈
*فلمآ اتھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فتردی* (٢١ : ٦١) ’ *اور میں نے تجھے چن لیا ہے سن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے۔ میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے پس تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لئے نماز قائم کر۔ قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے۔ میں اس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر متنفس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے۔ پس کوئی ایسا شخص جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کو اس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے ورنہ تو ہلاکت میں پڑجائے گا ۔ انسان کا خون خشک ہوجاتا ہے اور جسم پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ محض اس منظر کے تصور سے ایک غیرآباد پہاڑی پر موسیٰ اکیلے کھڑے ہیں۔ تاریک اور سیاہ رات ہے۔ ہر سو اندھیرا ہی اندھیرا، عجیب اور خوفناک خاموشی ہے طور کے دامن سے انہوں نے آگ دیکھی تھی وہ اس کی تلاش میں نکلے تھے لیکن ان کو ہر طرف سے پوری کائنات کی طرف سے یہ ندا آرہی ہے : انی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لما یوحی (٣١) (٠٢ : ٢١۔ ٣١) اے موسیٰ میں تیرا رب ہوں جو تیاں اتار دے تو وادی مقدس طوی میں ہے اور میں نے تجھ کو چن لیا ہے ۔ یہ چھوٹا سا ذرہ ناچیز یہ محدود بشر لامحدود رب ذوالجلال کے سامنے کھڑا ہے جسے آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ وہ عظمت و جلال جس کے مقابلے میں یہ نظر آنے والی کائنات زمین و آسمان سب حقیر ہیں یہ ذرہ ضعیف انسانی قوائے مدرکہ کے ساتھ ایک لامحدود کے ساتھ مربوط ہوگیا اس کی آواز سن رہا ہے کس طرح ؟ اللہ کی خاص رحمت ہے ورنہ کیسے ممکن ہے۔محدود اور لامحدود کا اتصال ؟ پوری انسانیت اب موسیٰ (علیہ السلام) کی شکل میں اٹھائی جارہی ہے سربلند کی جارہی ہے کہ ایک لمحے کے لئے وہ بشری شخصیت کو لئے ہوئے ہی لامحدود فیض وصول کررہی ہے۔ اس انسانیت کے لئے کیا یہ کوئی کم شرف ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس کا اتصال اور رابطہ اس انداز میں رب ذوالجلال کے ساتھ ہوگیا لیکن ہم نہیں جانتے کہ کیونکر ہو گیا یہ ؟ کیونکہ انسانی قوائے مدرکہ اس حقیقت کا نہ ادراک کرسکتی ہیں اور نہ اس بارے میں کوئی فیصلہ دے سکتی ہیں۔ انسان کی قوائے مدرکہ کا بس یہ کام ہے کہ وہ حیران رہ کر اپنے قصور کا اعتراف کریں ایمان لائیں اور شہادت دیں کہ یہ حق ہے۔ فلما۔۔۔۔۔۔۔ یموسی (١١) انی اناربک (٢١) (١٢ : ١١۔ ٢١) جب وہاں پہنچا تو پکارا گیا اے موسیٰ میں ہی تیرا رب ہوں ۔ پکارا گیا ماضی مجہول کا صیغہ استعمال ہوا۔ کیونکہ آواز کے مصدر اور جہت کا تعین ممکن نہیں ہے۔ نہ آواز کی صورت اور کیفیت کا تعین ممکن ہے۔ نہ اس بات کا تعین ممکن ہے کہ کس طرح سنا اور کس طرح سمجھے۔ پکارا گیا جس طرح پکارا گیا اور انہوں نے سمجھا جس طرح سمجھا۔ کیونکہ یہ اتصال ان امور میں سے ہے جن پر ہم ایمان لاتے ہیں کہ ایسا ہوا مگر اس کی کیفیت کے بارے میں نہیں پوچھتے کیونکہ یہ کیفیت انسانی قوت مدر کہ اور انسانی دائرہ تصور سے وراء ہے۔ انی انا۔۔۔۔۔۔۔ طوی (٠٢ : ٢١) اے موسیٰ میں ہی تیرا رب ہوں، جو تیاں اتار دے تو وادی مقدس طوی میں ہے۔ تم بار گاہ رب العزت میں ہو اس لیے پاؤں سے جوتے اتار دو تاکہ تم ننگے پاؤں آؤ، ایک ایسی وادی میں جس پر پاکیزہ انوار کا نزول ہورہا ہے۔ اس لیے اس وادی کو اپنے جوتوں سے نہ روندو۔*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*📿نماز نیند سے بہتــــــــــر ہے📿*
*📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕*
‏•┈•❀❁❀•┈•



https://whatsapp.com/channel/0029VaU9fa177qVNkg7QTG0v/1026

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Homoeopathic Medical Association posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Pakistan Homoeopathic Medical Association:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram