Pakistan Homoeopathic Medical Association

Pakistan Homoeopathic Medical Association Pakistan Homoeopathic Medical Association (PHMA) is Leading Homoeopathic association in Pakistan
(1)

پاکستان ہومیوپیتھک میڈیکل ایسوسی ایشن
تعارف
پاکستان ہومیوپیتھک میڈیکل ایسوسی ایشن کا قیام 1975ءمیں لایا گیا اور اسکی باقاعدہ رجسٹریشن 1976ءمیں سوسائٹیز ایکٹ 1860ءکے تحت کروائی گئی۔ اس وقت تک ملک بھر میں ایک صد سے زائد ہومیوپیتھک تنظیمیں مصروف عمل تھیں۔ ہومیوپیتھک اکابرین نے انکے ادغام کے بعد پاکستان ہومیوپیتھک میڈیکل ایسوسی ایشن کی داغ بیل ڈالی۔
ڈاکٹر محبوب عالم قریشی اسکے پہلے صدر اور ڈاکٹر جاوید

اعوان جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔

ڈاکٹر محبوب عالم قریشی کے انتقال کے بعد ڈاکٹر یعقوب مرزا (کراچی) صدر منتخب ہوئے اور انکے انتقال کے بعد ڈاکٹر فاروق اسماعیل (حیدر آباد) صدر بنے جبکہ پنجاب کے پہلے صدر ڈاکٹر محمد صدیق اعوان اور پھر انکے بعد پروفیسر ڈاکٹر حاجی احمد حسین صاحب صدر منتخب ہوئے اور انکے انتقال کے بعد ڈاکٹر گلزار کیانی صدر بنے۔
اس وقت ہومیوپیتھک ڈاکٹر جاوید اعوان صدر اور ہومیوپیتھک ڈاکٹر محمودالحق عباسی سیکریٹری جنرل پاکستان ہیں
گزشتہ 35 سال سے یہ تنظیم ہومیوپیتھک سائنس کی ترویج و ترقی ہومیوپیتھک ڈاکٹروں، کالجوں اور ہومیوپیتھک طلبہ و طالبات کے حقوق کی ترقی کیلئے مصروف عمل ہے۔ آج تک ہومیوپیتھی کی ترقی کیلئے جو بھی اقدامات ہوئے اسکا سہرا صرف پاکستان ہومیوپیتھک میڈیکل ایسوسی ایشن کے سر ہے ۔
آئیے اور اپنے بھرپور تعاون سے اسے مزید مضبوط بنائیں۔

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷**🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*‏•┈•❀❁❀•┈•*5 ذیعقد الحرام 1...
23/04/2026

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷*
*🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*5 ذیعقد الحرام 1447 ھِجْرِیْ​*
*23 اپریل 2026 عِیسَـوی جمعرات*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*‏أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْـــــــــمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم🌹*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌸اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا صَلَّــيْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابه وسلم🌸*
‏•┈•❀❁❀•┈
*🌹سورة طٰهٰ آیت 85-86*
*قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَـتَنَّا قَوْمَكَ مِنْ بَعْدِكَ وَاَضَلَّهُـمُ السَّامِـرِىُّ (85)*
*فَرَجَعَ مُوْسٰٓى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ اَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا ۚ اَفَطَالَ عَلَيْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّـمْ اَنْ يَّحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُـمْ مَّوْعِدِىْ (86)*
*📜ترجمہ:*
*فرمایا ” اچھا ، تو سنو ، ہم نے تمہارے پیچھے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا اور سامری 63 نے انہیں گمراہ کر ڈالا ۔ ”*
*موسی ( علیہ السلام ) سخت غصے اور رنج کی حالت میں اپنی قوم کی طرف پلٹا ۔ جا کر اس نے کہا ” اے میری قوم کے لوگو ، کیا تمہارے رب نے تم سے اچھے وعدے نہیں کیے تھے؟ 64 کیا تمہیں دن لگ گئے ہیں؟ 65 یا تم اپنے رب کا غضب ہی اپنے اوپر لانا چاہتے تھے کہ تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی؟ ” 66*
*📜English Translation:*
*Said He: ""Verily We tested your people in your absence and the Samiri led them astray.""*
*Moses returned to his people full of wrath and grief and said: ""My people! Has your Lord not made good an excellent promise He made to you? And has a long time passed since those promises were fulfilled? Or was it to incur the wrath of your Lord that you broke your promise with me?""*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
*🤲🏿"اے اللہ، ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔ ہم فتنوں اور وسوسوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں جو ہمیں راہِ راست سے بھٹکا کر تیری یاد سے غافل کر دیں۔ ہمیں ان لوگوں میں شامل نہ کر جو تجھ سے کیے ہوئے عہد کو توڑ دیتے ہیں اور نہ ان میں جو اپنی نادانی کی وجہ سے تیرے غضب کو دعوت دیتے ہیں۔ یا رب العالمین ہمیں ان لوگوں میں شامل کر جو تیرے وعدوں پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ ہمارے ایمان کی حفاظت فرما اور ہماری نسلوں کو ہر طرح کی گمراہی سے محفوظ رکھ۔ آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْن"🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏻Prayer🤲🏼🌹*
*🤲🏿” O Allah Almighty, keep our hearts steadfast upon Your religion. We seek Your refuge from the tribulations and whispers that lead us astray from the straight path and cause us to become heedless of Your remembrance. Do not include us among those who break their covenant with You, nor among those who invite Your wrath through their ignorance. O Lord of the Worlds, include us among those who have perfect faith in Your promises. Protect our faith and safeguard our future generations from every form of misguidance. Ameen, O Lord of the Worlds.🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🔎📖تفہیم القرآن📖🔎*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :63*
**یہ اس شخص کا نام نہیں ہے ، بلکہ یائے نسبتی کی صریح علامت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہرحال کوئی نہ کوئی نسبت ہی ہے ، خواہ قبیلے کی طرف ہو یا نسل کی طرف یا مقام کی طرف ۔ پھر قرآن جس طرح السامری کہہ کر اس کا ذکر کر رہا ہے اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانے میں سامری قبیلے یا نسل یا مقام کے بہت سے لوگ موجود تھے جن میں سے ایک خاص سامری وہ شخص تھا جس نے بنی اسرائیل میں سنہری بچھڑے کی پرستش پھیلائی ۔ اس سے زیادہ کوئی تشریح قرآن کے اس مقام کی تفسیر کے لیے فی الحقیقت درکار نہیں ہے ۔ لیکن یہ مقام ان اہم مقامات میں سے ہے جہاں عیسائی مشنریوں ، اور خصوصاً مغربی مستشرقین نے قرآن پر حرف گیری کی حد کر دی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ، معاذاللہ ، قرآن کے مصنف کی جہالت کا صریح ثبوت ہے ، اس لیے کہ دولت اسرائیل کا دارالسلطنت ’’ سامریہ ‘‘ اس واقعہ کے کئی صدی بعد 965 ق م کے قریب زمانے میں تعمیر ہوا ، پھر اس کے بھی کئی صدی بعد اسرائیلیوں اور غیر اسرائیلیوں کی وہ مخلوط نسل پیدا ہوئی جس نے ’’ سامریوں ‘‘ کے نام سے شہرت پائی ۔ ان کا خیال یہ ہے کہ ان سامریوں میں چونکہ دوسری مشرکانہ بدعات کے ساتھ ساتھ سنہری بچھڑے کی پرستش کا رواج بھی تھا ، اور یہودیوں کے ذریعہ سے محمد ( ﷺ ) نے اس بات کی سن گن پا لی ہو گی ، اس لیے انہوں نے لے جا کر اس کا تعلق حضرت موسیٰ کے عہد سے جوڑ دیا اور یہ قصہ تصنیف کر ڈالا کہ وہاں سنہری بچھڑے کی پرستش رائج کرنے والا ایک سامری شخص تھا ۔ اسی طرح کی باتیں ان لوگوں نے ہامان کے معاملہ میں بنائی ہیں جسے قرآن فرعون کے وزیر کی حیثیت سے پیش کرتا ہے ، اور عیسائی مشنری اور مستشرقین اسے اخسویرس ( شاہ ایران ) کے درباری امیر ہامان سے لے جا کر ملا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ قرآن کے مصنف کی جہالت کا ایک اور ثبوت ہے ۔ شاید ان مدعیان علم و تحقیق کا گمان یہ ہے کہ قدیم زمانے میں ایک نام کا ایک ہی شخص یا قبیلہ یا مقام ہوا کرتا تھا اور ایک نام کے دو یا زائد اشخاص یا قبیلہ و مقام ہونے کا قطعاً کوئی امکان نہ تھا ۔ حالانکہ سُمیری قدیم تاریخ کی ایک نہایت مشہور قوم تھی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور میں عراق اور اس کے آس پاس کے علاقوں پر چھائی ہوئی تھی ، اور اس بات کا بہت امکان ہے کہ حضرت موسیٰ کے عہد میں اس قوم کے ، یا اس کی کسی شاخ کے لوگ مصر میں سامری کہلاتے ہوں ۔ پھر خود اس سامریہ کی اصل کو بھی دیکھ لیجیے جس کی نسبت سے شمالی فلسطین کے لوگ بعد میں سامری کہلانے لگے ۔ بائیبل کا بیان ہے کہ دولت اسرائیل کے فرمانروا عمری نے ایک شخص ’’ سمر ‘‘ نامی سے وہ پہاڑ خریدا تھا جس پر اس نے بعد میں اپنا دار السلطنت تعمیر کیا ۔ اور چونکہ پہاڑ کے سابق مالک کا نام سمر تھا اس لیے اس شہر کا نام سامریہ رکھا گیا ( سلاطین 1 ، بابا 16 ۔ آیت 24 ) ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ سامریہ کے وجود میں آنے سے پہلے ’’ سمر ‘‘ نام کے اشخاص پائے جاتے تھے اور ان سے نسبت پا کر ان کی نسل یا قبیلے کا نام سامری ، اور مقامات کا نام سامریہ ہونا کم از کم ممکن ضرور تھا *
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :64*
’’ اچھا وعدہ نہیں کیا تھا ‘‘ بھی ترجمہ ہو سکتا ہے ۔ متن* میں جو ترجمہ ہم نے اختیار کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آج تک تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جتنی بھلائیوں کا وعدہ بھی کیا ہے وہ سب تمہیں حاصل ہوتی رہی ہیں ۔ تمہیں مصر سے بخیریت نکالا ، غلامی سے نجات دی ، تمہارے دشمن کو تہس نہس کیا ، تمہارے لیے ان صحراؤں اور پہاڑی علاقوں میں سائے اور خوراک کا بندوبست کیا ۔ کیا یہ سارے اچھے وعدے پورے نہیں ہوئے ؟ دوسرے ترجمے کا مطلب یہ ہو گا کہ تمہیں شریعت اور ہدایت نامہ عطا کرنے کا جو وعدہ کیا گیا تھا ، کیا تمہارے نزدیک وہ کسی خیر اور بھلائی کا وعدہ نہ تھا ؟*
سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :*65*
دوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ’’ کیا وعدہ پورا ہونے* میں بہت دیر لگ گئی کہ تم بے صبر ہو گئے ؟‘‘ پہلے ترجمے کا مطلب یہ ہو گا کہ تم پر اللہ تعالیٰ ابھی ابھی جو عظیم الشان احسانات کر چکا ہے ، کیا ان کو کچھ بہت زیادہ مدت گزر گئی ہے کہ تم انہیں بھول گئے ؟ کیا تمہاری مصیبت کا زمانہ بیتے قرنیں گزر چکی ہیں کہ تم سرمست ہو کر بہکنے لگے ؟ دوسرے ترجمے کا مطلب صاف ہے کہ ہدایت نامہ عطا کرنے کا جو وعدہ کیا گیا تھا ، اس کے وفا ہونے میں کوئی تاخیر تو نہیں ہوئی ہے جس کو تم اپنے لیے عذر اور بہانہ بنا سکو ۔*
سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :*66*
اس سے مراد وہ وعدہ ہے جو ہر قوم اپنے نبی سے کرتی* ہے ۔ اس کے اتباع کا وعدہ ۔ اس کی دی ہوئی ہدایت پر ثابت قدم رہنے کا وعدہ ۔ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرنے کا وعدہ ۔*
🌈فی ظلال القرآن🌈
*قال فانا قدفتنا قومک من بعدلک واضلھم السامری (٠٢ : ٥٨) فرمایا اچھا تو سنو ، کہ ہم نے تمہارے پیچھے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا ار سامری نے انہیں گمراہ کر ڈالا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس ابتلاء کا پتہ نہ تھا۔ اللہ کے ساتھ ملاقات میں پہلی بار ان کو پتہ چلا۔ حضرت موسیٰ نے یہ تختیاں لیں۔ ان میں ہدایت تھی۔ اس میں بنی اسرائیل کی زندگی کی تعمیر کے لئے ایک ایسا دستور تھا جو انہیں اس مقصد کے لئے تیار کر کے دیا گیا تھا جس کے لئے انہیں اٹھایا گیا تھا۔ یہاں کوہ طور موسیٰ (علیہ السلام) کی مناجات کا منظر جلدی سے لپیٹ دیا جاتا ہے تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ان تاثرات کو قلم بند کیا جائے جو ان پر وقم کی گمراہی کی خبر سن کر طاری ہوئے۔ واپسی کے لئے ان کی جلدی بھی منظر پر آئے اور یہ دکھایا جائے کہ وہ کس قدر غیض و غضب میں ہیں۔ اس قوم کو تو انہوں نے حال ہی میں فرعون کی غلامی سے چھڑایا تھا اور بت پرستی کی ذلت سے نجات دلائی تھی۔ پھر اللہ نے صحرا میں ان کے لئے کھانے پینے کی سہولتیں مہیا کیں اور صاف صاف ہدایات بھی دیں کہ گمراہی سے بچنا اور گمراہی کے عواقب اور نتائج بھی بتا دیئے۔ لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ وہ پہلی ہی پکار پر بت پرست بن گئے اور پھر مصنوعی گو سالہ کی پرستش میں لگ گئے۔ یہاں قرآن مجید صراحت کے ساتھ یہ نہیں بتاتا کہ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کی ضلالت کی تفصیلات بتا دی تھی یا نہیں لیکن واپسی پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا غیض و غضب کا اظہار کرنا ، نہایت ہی ناراض ہونا ، بھائی پر غصہ ہونا اور قوم کو ملامت کرنا ، یہ سب امور یہ بتلاتے ہیں کہ اللہ نے ان کو سب کچھ بتلا دیا تھا اور وہ جان گیء تھے کہ بنی اسرائیل نے کسی نہایت ہی بری حرکت کا ارتکاب کیا ہے۔*
*ہارون (موسیٰ کے آنے سے) پہلے ہی ان سے کہہ چکا تھا کہ لوگو تم اس کی وجہ سے فتنے میں پڑگئے ہو ، تمہارا رب تو رحمٰن ہے ، پس تم میری پیروی کرو اور میری بات مانو۔ مگر انہوں نے اس سے کہہ دیا کہ ہم تو اسی کی پرستش کرتے رہیں گے جب تک کہ موسیٰ ہمارے پاس واپس نہ آجائے۔ یہ ہے وہ فتنہ جس کے ذریعہ بنی اسرائیل گمراہ ہوئے لیکن قرآن اس کا تذکرہ اس وقت کرتا ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے سامنے آ کر تحقیق کرتے ہیں۔ اس سے قبل اللہ کے ساتھ مناجات کے موقعہ پر قرآن نے اس کا اظہار نہیں کیا۔ ان تفصیلات کو خفیہ رکھا تاکہ ان کو اس وقت ظاہر کیا جائے جب موسیٰ (علیہ السلام) خود تحقیقات کرلیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) واپس ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کی قوم ایک ایسے مصنوعی بچھڑے کی پوجا کر رہی جو آواز نکالتا ہے۔ یہ بچھڑا سونے سے بنا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ہے تمہارا رب اور یہی ہے موسیٰ کا رب۔ موسیٰ غلطی سے طور پر چلے گئے ، رب سے ملاقات کے لئے حالانکہ رب تو یہ ہے حاضر تمہارے سامنے ! ! جب موسیٰ (علیہ السلام) آئے تو نہایت ہی طیش کی حالت میں ان سے پوچھنے لگے۔ یقوم الم یعدکم ربکم وعدا حسناً (٠٢ : ٦٨) اے میری قوم کے لوگو ، کیا تمہارے رب نے تم سے اچھے وعدے نہیں کئے تھے۔ اللہ نے ان سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر تم عقیدہ توحید پر جمے رہے تو تم ارض مقدس میں داخل ہوگئے اور تمہیں نصرت ملے گی۔ اس عہد اور اس کے آثار کے ظہور پر کوئی زیادہ طویل عرصہ تک نہ گزر گیا تھا۔ وہ ان کی سخت گوشمالی کرتے ہیں۔ افطال علیکم العھد ام اردتم ان یحل علیکم غضب من ربکم (٠٢ : ٦٨) کیا تمہیں دن لگ گئے تھے یا تم اپنے رب کا غضب ہی اپنے اوپر لانا چاہتے تھے۔ کیونکہ تمہارا یہ عمل تو ایسا ہے کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تم اللہ کے غضب کے طلبگار ہو ، تم نے گویا عمداً یہ حرکت کی ہے اور قصداً تم اللہ کا غضب چاہت یہو۔ کیا کوئی بہت ہی طویل عرصہ گزر گیا تھا۔ فاخلفتم موعدی (٠٢ : ٦٨) تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی۔ تم نے یو وعدہ کیا تھا کہ میرے آنے تک تم میرے عہد پر قائم رہو گے۔ تم اپنے نظریات و عمل میں کوئی تبدیلی نہ کرو گے بغیر میری اجازت کے۔ اب ذرا ان کی معذرت کو دیکھو ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طویل ترین غلامی نے ان کے قلب و نظر کو فاسد کردیا تھا اور ان کا دماغ بھی صحیح طرح کام نہ کر رہا تھا۔*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*📿نماز نیند سے بہتــــــــــر ہے📿*
*📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕*
‏•┈•❀❁❀•┈•


‎Follow the Dr Mahmood Abbasi channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029VaU9fa177qVNkg7QTG0v

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷**🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*‏•┈•❀❁❀•┈•*4 ذیعقد الحرام 1...
21/04/2026

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷*
*🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*4 ذیعقد الحرام 1447 ھِجْرِیْ​*
*22 اپریل 2026 عِیسَـوی بدھ*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*‏أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْـــــــــمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم🌹*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌸اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا صَلَّــيْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابه وسلم🌸*
‏•┈•❀❁❀•┈
*🌹سورة طٰهٰ آیت 83-84*
*وَمَآ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ يَا مُوْسٰى (83)*
*قَالَ هُـمْ اُولَآءِ عَلٰٓى اَثَرِىْ وَعَجِلْتُ اِلَيْكَ رَبِّ لِتَـرْضٰى (84)*
*📜ترجمہ:*
*61 اور کیا چیز تمہیں اپنی قوم سے پہلے لے آئی موسی ( علیہ السلام ) ؟ 62*
*اس نے عرض کیا ” وہ بس میرے پیچھے آہی رہے ہیں ۔ میں جلدی کر کے تیرے حضور آگیا ہوں اے میرے رب ، تاکہ تو مجھ سے خوش ہو جائے ۔ “*
*📜English Translation:*
*But O Moses what has made you come in haste from your people?""*
*He said: ""They are close behind me and I hastened to You Lord that You may be pleased with me.""*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
*🤲🏿 یارب العالمین، یارب! ہمیں بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسا وہ جذبہ اور تڑپ عطا فرما کہ ہم تیرے حکم کی تعمیل میں سستی نہ کریں، بلکہ تیری رضا کی طرف دوڑ کر لپکنے والے بن جائیں۔ یا اللہ! ہمارے قدموں کو اپنی اطاعت میں تیز کر دے۔یا اللہ! ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن کا مقصد صرف تیری خوشنودی ہے، نہ کہ لوگوں کی واہ واہ۔یا اللہ! جب ہم تیرے حضور حاضر ہوں، تو تو ہم سے راضی ہو اور ہم تجھ سے راضی ہوں۔آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏻Prayer🤲🏼🌹*
*🤲🏿O Almighty ALLAH,”Lord of the worlds! Grant us too the passion and yearning like that of Prophet Musa (peace be upon him), so that we do not show laziness in obeying Your command, but instead become those who rush and hasten toward Your pleasure. O ALLAH! Make our steps swift in Your obedience. O ALLAH! Include us among those whose sole purpose is Your approval, not the praise of people. O ALLAH! When we appear before You, may You be pleased with us and may we be pleased with You.”Ameen.🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🔎📖تفہیم القرآن📖🔎*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :61*
*یہاں سے سلسلہ بیان اس واقعہ کے ساتھ جڑتا ہے جو ابھی اوپر بیان ہوا ہے ۔ یعنی بنی اسرائیل سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ تم طور کے دائیں جانب ٹھہرو، اور چالیس دن کی مدت گزرنے پر تمہیں ہدایت نامہ عطا کیا جائے گا ۔*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :62*
*اس فقرے سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم کو راستے ہی میں چھوڑ کر حضرت موسیٰ اپنے رب کی ملاقات کے شوق میں آگے چلے گئے تھے۔ طور کی جانب ایمن میں، جہاں کا وعدہ بنی اسرائیل سے کیا گیا تھا، ابھی قافلہ پہنچنے بھی نہ پایا تھا کہ حضرت موسیٰ اکیلے روانہ ہو گئے اور حاضری دے دی۔ اس موقع پر جو معاملات خدا اور بندے کے درمیان ہوئے ان کی تفصیلات سورہ اعراف رکوع 17 میں درج ہیں ۔ حضرت موسیٰ کا دیدار الہٰی کی استدعا کرنا اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ تو مجھے نہیں دیکھ سکتا، پھر اللہ کا ایک پہاڑ پر ذرا سی تجلی فرما کر اسے ریزہ ریزہ کر دینا اور حضرت موسیٰ کا بیہوش ہو کر گر پڑنا، اس کے بعد پتھر کی تختیوں پر لکھے ہوئے احکام عطا ہونا، یہ سب اسی وقت کے واقعات ہیں۔ یہاں ان واقعات کا صرف وہ حصہ بیان کیا جا رہا ہے جو بنی اسرائیل کی گو سالہ پرستی سے متعلق ہے۔ اس کے بیان سے مقصود کفار مکہ کو یہ بتانا ہے کہ ایک قوم میں بت پرستی کا آغاز کس طرح ہوا کرتا ہے اور اللہ کے نبی اس فتنے کو اپنی قوم میں سر اٹھاتے دیکھ کر کیسے بے تاب ہو جایا کرتے ہیں۔*
🌈فی ظلال القرآن🌈
*حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یہ سن کر حیران رہ گئے۔ وہ رب تعالیٰ کی ملاقات کے لئے بےتاب تھے۔انہوں نے چالیس دن کا وقت بھی گزار لیا تھا اور ملاقات کی تیاری بھی کرلی تھی تاکہ وہ بنی اسرائیل کے لئے نیا نظام زندگی حاصل کرلیں کیونکہ ابھی ابھی وہ آپ کی قیادت میں فرعون کی غلامی سے رہا ہوئے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ بنی اسرائیل ایک ایسی امت ہو جس کے پاس ایک پیغام ہو اور اس کے کچھ فرائض ہوں۔ لیکن بنی اسرائیل کی حالت یہ تھی کہ ایک طویل ذلت کی زندگی اور بت پرستانہ فرعونیت کی غلامی نے ان کا ضمیر بدل دیا تھا۔ وہ مشقت برداشت کرنے کے قابل نہ تھے۔ نہ مشکلات میں صبر کرسکتے تھے اور نہ کسی قول وقرار پر ثابت قدم رہ سکتے تھے۔ ان کے شعور میں غلامی تقلید اور سہل پسندی رچ بس گئی تھی۔ جونہی موسیٰ ان کو حضرت ہارون کی نگرانی میں چھوڑ کر ان سے ذرا دور ہوئے ان کے عقائد بدل گئے اور پہلی ہی آزمائش میں وہ چار شانے چت ہوگئے۔ ان کے لئے تو مسلسل امتحان ضروری تھا اور مسلسل مشکلات اور آزمائشوں میں ان کو بار بار ڈالنا ضروری تھا تاکہ ان کی نفسیاتی تربیت ہو۔ گوسالہ پرستی ان کی پہلی آزمائش تھی، یہ ایک مصنوعی بچھڑا تھا جو سامری نے ان کے لئے تیار کیا تھا۔*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*📿نماز نیند سے بہتــــــــــر ہے📿*
*📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕*
‏•┈•❀❁❀•┈•

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷**🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*‏•┈•❀❁❀•┈•*3 ذیعقد الحرام 1...
20/04/2026

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷*
*🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*3 ذیعقد الحرام 1447 ھِجْرِیْ​*
*21 اپریل 2026 عِیسَـوی منگل*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*‏أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْـــــــــمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم🌹*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌸اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا صَلَّــيْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابه وسلم🌸*
‏•┈•❀❁❀•┈
*🌹سورة طٰهٰ آیت 81-82*
*كُلُوْا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَلَا تَطْغَوْا فِيْهِ فَيَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبِىْ ۖ وَمَنْ يَّحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِىْ فَقَدْ هَوٰى (81)*
*وَاِنِّـىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُـمَّ اهْتَدٰى (82)*
*📜ترجمہ:*
*کھاؤ ہمارا دیا ہوا پاک رزق اور اسے کھا کر سرکشی نہ کرو ، ورنہ تم پر میرا غضب ٹوٹ پڑے گا ۔ اور جس پر میرا غضب ٹوٹا وہ پھر گر کر ہی رہا ۔*
*البتہ جو توبہ کر لے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے ، پھر سیدھا چلتا رہے ، اس کے لیے میں بہت درگزر کرنے والا ہوں ۔ 60*
*📜English Translation:*
*saying: ""Partake of the good things that We have provided for you but do not transgress lest My wrath fall upon you; for he upon whom My wrath falls is ruined.*
*But I am indeed Most Forgiving to him who repents and believes and does righteous works and keeps to the Right Way.""*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
*🤲🏿 "یارب العالمین! ہمیں پاکیزہ اور حلال رزق عطا فرما اور ہمیں اپنی نعمتوں پر سرکشی کرنے سے محفوظ رکھ۔ یا رب! ہمیں سچی توبہ، کامل ایمان اور اعمالِ صالحہ کی توفیق دے کر ہدایت کے راستے پر ثابت قدمی عطا فرما۔یا رب! ہمارے گناہوں کو معاف فرما اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کر جن کے لیے تو نے دائمی بخشش کا وعدہ کیا ہے۔ آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏻Prayer🤲🏼🌹*
*🤲🏿"O Almighty ALLAH! Grant us pure and lawful sustenance and protect us from becoming rebellious through Your blessings.​O Allah Almighty! Bestow upon us the guidance for sincere repentance, perfect faith, and righteous deeds, and grant us steadfastness on the path of guidance.​O Allah Almighty! Forgive our sins and include us among those for whom You have promised everlasting forgiveness. ” Ameen.🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🔎📖تفہیم القرآن📖🔎*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :60
یعنی مغفرت کے لیے چار شرطیں ہیں ۔ اول توبہ ، یعنی سرکشی و نافرمانی یا شرک و کفر سے باز آ جانا ۔ دوسرے ، ایمان ، یعنی اللہ اور رسول اور کتاب اور آخرت کو صدق دل سے مان لینا ۔ تیسرے عمل صالح ، یعنی اللہ اور رسول کی ہدایات کے مطابق نیک عمل کرنا ۔ چوتھے اہتداء ، یعنی راہ راست پر ثابت قدم رہنا اور پھر غلط راستے پر نہ جا پڑنا ۔*
🌈فی ظلال القرآن🌈
*ولا تطغوا فیہ فیحل علیکم غضبی و من یحلل علیہ غضبی فقد ھوی (٠٢ : ١٨) سرکشی نہ کرو ، ورنہ تم پر میرا غضب ٹوٹ پڑے گا اور جن پر میرا غضب ٹوٹا ، وہ پھر گر کر ہی رہا۔ حال ہی میں وہ دیکھ چکے تھے کہ فرعون کس طرح گرا۔ وہ تخت سے بھی گرا اور پھر سمندر میں بھی گرا۔ گرنا جس طرح اوپر سے نیچے کے عمل کو دکھاتا ہے ، اسی طرح سرکشی اور تکبر نیچے سے اوپر کی طرف جانے کے عمل کو ظاہر کرتا ہے۔ ان دونوں چیزوں کو قرآن کریم اپنے مخصوص انداز بیان کے مطابق باہم مربوط کر کے پیش کرتا ہے جس میں مفہومات باہم مقابل ہوتے ہیں۔ یہ تنبیہ اور ڈراوا اس قوم کے لئے ہے جو حال ہی میں ایک مخصوص مقصد کے لئے مصر سے نکلی ہے تاکہ آزادی اور عیش پرستی ان کو گمراہ نہ کر دے۔ وہ عیش پرستی اختیار کر کے کمزور نہ ہوجائیں۔ لیکن اس تنبیہ اور ڈراوے کے ساتھ ساتھ توبہ کا دروازہ بھی کھلا رہتا ہے تاکہ اگر کسی سے غلطی ہو تو وہ واپس آسکے۔*
*وانی لغفار لمن تاب و امن و عمل صالحا ثم اھتدی (٠٢ : ٢٨) البتہ جو توبہ کرے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے ، پھر سیدھا چلے ، اس کے لئے میں بہت درگزر کرنے والا ہوں۔ یہ یاد رہے کہ توبہ صرف لفظ کا نام نہیں ہے کہ کوئی اسے گائے بلکہ یہ تو قلبی عزم کا نام ہے۔ اس کے مفہوم کا تعین ایمان اور عمل صالح کے ذریعہ ہی ہوتا ہے اور اس کا ظہور عالم واقعہ میں انسانی طرز عمل سے ہوتا ہے۔ اگر توبہ کرلی ، ایمان درست رہا اور عمل نے اس کی تصدیق کی تو تب انسان کو ہدایت یافتہ انسان کہا جاسکتا ہے ، انسان ہدایت اور عمل صالح کی ضمانت غرض جب توبہ کے بعد ہدایت نہ ہو یعنی عملی تبدیلی نہ ہو تو توبہ کا کوئی مفہوم نہیں رہتا۔ یہاں تک ہم بنی اسرائیل کی کامیابی اور اس پر تبصرہ و نصیحت کا منظر دیکھ رہے تھے ، اب پردہ گرتا ہے اور اس کے بعد دوسرے منظر میں حضرت موسیٰ طور ایمان پر اللہ تعالیٰ سے ہم کلام نظر آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ طور پر چالیس روز گزاریں اور اس کے بعد اللہ سے ہم کلا مہو کر اس سے احکام لیں۔ یعنی شکست کے بعد فتح حاصل کرنے کے احکام۔ فتح حاصل کرنا کچھ تقاضے بھی رکھتا ہے۔ ہر نظریہ کے کچھ تقاضے بھی ہوتے ہیں۔ نیز احکام لینے کے لئے نفسیاتی تیاری اور اپنے اندر استعداد پیدا کرنا کچھ تقاضے بھی رکھتا ہے۔ ہر نظریہ کے کچھ تقاضے بھی ہوتے ہیں۔ نیز احکام لینے کے لئے نفسیاتی تیاری اور اپنے اندر استعداد پیدا کرنا بھی ضروری تھا۔ حضرت موسیٰ پہاڑ پر چڑھ گئے اور قوم کو نیچے چھوڑ دیا اور حضرت ہارون کو ان میں اپنا نائب مقرر کیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس ملاقات کا بےحد شوق تھا ، اللہ کے سامنے حاضری دینا بڑا اعزاز تھا ، وہ اس کے لئے بےتاب تھے۔ اس سے قبل وہ اللہ کے ساتھ ہمکلامی کی مٹھاس چکھ چکے تھے۔ اس لئے وہ بےحد شوق سے جلدی میں طور پر پہنچ گئے۔ اللہ کے سامنے کھڑے ہوگئے ، لیکن ان کو معلوم نہیں تھا کہ ان کی قوم نے ان کے بعد کیا گل کھلائے ہیں کیونکہ وہ ان کو پہاڑ کے نیچے چھوڑ آئے تھے۔ یہاں موسیٰ (علیہ السلام) کو رب تعالیٰ بتا دیتے ہیں کہ تمہارے بعد بنی اسرائیل نے کیا حرکت کی ہے۔ ذرا منظر کو دیکھیں اور گفتگو سنیں 😗
‏•┈•❀❁❀•┈•
*📿نماز نیند سے بہتــــــــــر ہے📿*
*📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕*
‏•┈•❀❁❀•┈•

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷**🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*‏•┈•❀❁❀•┈•*2 ذیعقد الحرام 1...
19/04/2026

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷*
*🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*2 ذیعقد الحرام 1447 ھِجْرِیْ​*
*20 اپریل 2026 عِیسَـوی اتوار*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*‏أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْـــــــــمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم🌹*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌸اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا صَلَّــيْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابه وسلم🌸*
‏•┈•❀❁❀•┈
*🌹سورة طٰهٰ آیت 79-80*
*وَاَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٝ وَمَا هَدٰى (79)*
*يَا بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ قَدْ اَنْجَيْنَاكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَوَاعَدْنَاكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَيْمَنَ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى (80)*
*📜ترجمہ:*
*فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا تھا ، کوئی صحیح رہنمائی نہیں کی تھی ۔ 55*
*56 اے بنی اسرائیل ، ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی ، اور طور کے دائیں جانب 57 تمہاری حاضری کے لیے وقت مقرر کیا 58 اور تم پر من و سلوی اتارا 59 ۔ ۔ ۔ ۔*
*📜English Translation:*
*Pharaoh led his people astray; he did not guide them aright.*
*Children of Israel! We saved you from your enemy and made a covenant with you on the right side of the Mount and sent down on you manna and quails.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
*🤲🏿 یارب العالمین، ہمارے پروردگار!
ہمیں فرعون صفت لوگوں کے شر اور ان کی گمراہیوں سے محفوظ فرما، جو اپنی قوم کو سیدھی راہ سے بھٹکاتے ہیں اور جن کی رہنمائی میں سوائے خسارے کے کچھ نہیں۔
اے کرم کرنے والے رب! ہمیں بھی اپنی خاص رحمتوں کے سائے میں جگہ دے، جیسے تو نے طور کی دائیں جانب کا مبارک وقت مقرر فرمایا۔ اور جس طرح تو نے اپنے بندوں پر من و سلویٰ کی نعمتیں نازل کیں، ہمارے رزق میں بھی خیر و برکت عطا فرما اور ہمیں بھی اپنی بہترین نعمتوں سے نواز دے۔ آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏻Prayer🤲🏼🌹*
*🤲🏿O Almighty ALLAH, ”O our Sustainer! Protect us from the evil and misguidance of people with the nature of Pharaoh, who lead their nations astray from the straight path and whose guidance brings nothing but loss. O Most Generous ALLAH ! Grant us a place under the shade of Your special mercies, just as You appointed the blessed time at the right side of Mount Tur. And just as You sent down the blessings of manna and quails upon Your servants, grant goodness and abundance in our sustenance and favor us with Your finest bounties.”Ameen🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🔎📖تفہیم القرآن📖🔎*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :55*
*بڑے لطیف انداز میں کفار مکہ کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ تمہارے سردار اور لیڈر بھی تم کو اسی راستے پر لیے جا رہے ہیں جس پر فرعون اپنی قوم کو لے جا رہا تھا۔ اب تم خود دیکھ لو کہ یہ کوئی صحیح رہنمائی نہ تھی ۔*
*اس قصے کے خاتمے پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بائیبل کے بیانات کا بھی جائزہ لے لیا جائے تاکہ ان لوگوں کے جھوٹ کی حقیقت کھل جائے جو کہتے ہیں کہ قرآن میں یہ قصے بنی اسرائیل سے نقل کر لیے گئے ہیں۔ بائیبل کی کتاب خروج ( Exodus ) میں اس قصے کی جو تفصیلات بیان ہوئی ہیں ، ان کے حسب ذیل اجزاء قابل توجہ ہیں 😗
1 ) ۔ *باب 4 ، آیت 2 ۔ 5 میں بتایا گیا ہے کہ عصا کا معجزہ حضرت موسیٰ کو دیا گیا تھا۔ اور آیت 17 میں انہی کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ’’ تو اس لاٹھی کو اپنے ہاتھ میں لیے جا اور اسی سے ان معجزوں کو دکھانا۔‘‘ مگر آگے جا کر نہ معلوم یہ لاٹھی کس طرح حضرت ہارون کے قبضے میں چلی گئی اور وہی اس سے معجزے دکھانے لگے۔ باب 7 سے لے کر بعد کے ابواب میں مسلسل ہم کو حضرت ہارون ہی لاٹھی کے معجزے دکھاتے نظر آتے ہیں ۔*
2 ) ۔ *باب 5 میں فرعون سے حضرت موسیٰ ؑ کی پہلی ملاقات کا حال بیان کیا گیا ہے، اور اس میں سرے سے اس بحث کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی ربوبیت کے مسئلے پر ان کے اور فرعون کے درمیان ہوئی تھی۔ فرعون کہتا ہے کہ ’’ خداوند کون ہے کہ میں اس کی بات مانوں اور بنی اسرائیل کو جانے دوں؟ میں خداوند کو نہیں جانتا۔‘‘ مگر حضرت موسیٰ ؑ اور ہارون اس کے سوا کچھ جواب نہیں دیتے کہ ’’ عبرانیوں کا خدا ہم سے ملا ہے۔‘‘ ( باب 5 ۔ آیت 2 ۔ 3 ) ۔*
3 ) ۔ *جادوگروں سے مقابلے کی پوری داستان میں ان چند فقروں میں سمیٹ دی گئی ہے ،*
’’ *اور خداوند نے موسیٰ ؑ اور ہارون سے کہا کہ جب فرعون تم کو کہے کہ اپنا معجزہ دکھاؤ تو ہارون سے کہنا کہ اپنی لاٹھی کو لے کر فرعون کے سامنے ڈال دے تاکہ وہ سانپ بن جائے۔ اور موسٰی اور ہارون فرعون کے پاس گئے اور انہوں نے خداوند کے حکم کے مطابق کی اور ہارون نے اپنی لاٹھی فرعون اور اس کے خادموں کے سامنے ڈال دی اور وہ سانپ بن گئی۔ تب فرعون نے بھی داناؤں اور جادوگروں کو بلوایا اور مصر کے جادوگروں نے بھی اپنے جادو سے ایسا ہی کیا۔ کیونکہ انہوں نے بھی اپنی اپنی لاٹھی سامنے ڈالی اور وہ سانپ بن گئیں۔ لیکن ہارون کی لاٹھی ان کی لاٹھیوں کو نگل گئی۔( باب 7 ۔ آیت 8 ۔ 12 ) ۔*
*اس بیان کا مقابلہ قرآن کے بیان سے کر کے دیکھ لیا جائے کہ قصے کی ساری روح یہاں کس بری طرح فنا کی گئی ہے۔ سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ جشن کے دن کھلے میدان میں باقاعدہ چیلنج کے بعد مقابلہ ہونا، اور پھر شکست کے بعد جادوگروں کا ایمان لانا، جو قصے کی اصل جان تھا، سرے سے یہاں مذکور ہی نہیں ہے۔*
4 ) ۔ *قرآن کہتا ہے کہ حضرت موسیٰ کا مطالبہ بنی اسرائیل کی رہائی اور آزادی کا تھا۔ بائیبل کا بیان ہے کہ مطالبہ صرف یہ تھا ’’*
*ہم کو اجازت دے کہ ہم تین دن کی منزل بیابان میں جا کر خداوند اپنے خدا کے لیے قربانی کریں ۔‘‘ ( باب 5 ۔ آیت 3 )
5 ) ۔ مصر سے نکلنے اور فرعون کے غرق ہونے کا مفصل حال باب 11 سے 14 تک بیان کیا گیا ہے ۔ اس میں بہت سی مفید معلومات ، اور قرآن کے اجمال کی تفصیلات بھی ہمیں ملتی ہیں اور ان کے ساتھ متعدد عجیب باتیں بھی ۔ مثلاً باب 14 کی آیات 15 ۔ 16 میں حضرت موسیٰ کو حکم دیا جاتا ہے کہ ’’ تو اپنی لاٹھی ( جی ہاں ، اب لاٹھی حضرت ہارون سے لے کر پھر حضرت موسیٰ کو دے دی گئی ہے ) اٹھا کر اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھا اور اسے دو حصے کر اور بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چل کر نکل جائیں گے۔‘‘ لیکن آگے چل کر آیت 21 ۔ 22 میں کہا جاتا ہے کہ ’’ پھر موسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھایا اور خداوند نے رات بھر تند پوربی آندھی چلا کر اور سمندر کو پیچھے ہٹا کر اسے خشک زمین بنا دیا اور پانی دو حصے ہو گیا اور بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چل کر نکل گئے اور ان کے داہنے اور بائیں ہاتھ پانی دیوار کی طرح تھا۔‘‘ یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ آیا یہ معجزہ تھا یا طبعی واقعہ؟ اگر معجزہ تھا تو عصا کی ضرب سے ہی رونما ہو گیا ہو گا، جیسا کہ قرآن میں کہا گیا ہے ۔ اور اگر طبعی واقعہ تھا تو یہ عجیب صورت ہے کہ مشرقی آندھی نے سمندر کو بیچ میں سے پھاڑ کر پانی کو دونوں طرف دیوار کی طرح کھڑا کر دیا اور بیچ میں سے خشک راستہ بنا دیا۔ کیا فطری طریقے سے ہوا کبھی ایسے کرشمے دکھاتی ہے؟
تلمود کا بیان نسبۃً بائیبل سے مختلف اور قرآن سے قریب تر ہے ، مگر دونوں کا مقابلہ کرنے سے صاف محسوس ہو جاتا ہے کہ ایک جگہ براہ راست علم وحی کی بنا پر واقعات بیان کیے جا رہے ہیں، اور دوسری جگہ صدیوں کی سینہ بسینہ روایات میں واقعات کی صورت اچھی خاصی مسخ ہو گئی ہے ۔ ملاحظہ ہو : The Talmud Selections, H. Polano. Pp. 150-54*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :56
سمندر کو عبور کرنے سے لے کر کوہ سینا کے دامن میں پہنچنے تک کی داستان بیچ میں چھوڑ دی گئی ہے ۔ اس کی تفصیلات سورۂ اعراف رکوع 16 ۔ 17 میں گزر چکی ہیں ۔ اور وہاں یہ بھی گزر چکا ہے کہ مصر سے نکلتے ہی بنی اسرائیل جزیرہ نمائے سینا کے ایک مندر کو دیکھ کر اپنے لیے ایک بناوٹی خدا مانگ بیٹھے تھے ( تفہیم القرآن ۔ جلد دوم ، الاعراف ، حاشیہ 98 )
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :57*
*یعنی طور کے مشرقی دامن میں *
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :58*
*سورہ بقرہ رکوع 6 ، اور سورہ اعراف رکوع 17 میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو شریعت کا ہدایت نامہ عطا کرنے کے لیے چالیس دن کی میعاد مقرر کی تھی جس کے بعد حضرت موسیٰ کو پتھر کی تختیوں پر لکھے ہوئے احکام عطا کیے گئے*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :59*
*من و سلویٰ کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول البقرہ ، حاشیہ 73 ۔ الاعراف ، حاشیہ 119 ۔ بائیبل کا بیان ہے کہ مصر سے نکلنے کے بعد جب بنی اسرائیل دشت سین میں ایلیم اور سینا کے درمیان گزر رہے تھے اور خوراک کے ذخیرے ختم ہو کر فاقوں کی نوبت آ گئی تھی، اس وقت من و سلویٰ کا نزول شروع ہوا، اور فلسطین کے آباد علاقے میں پہنچنے تک پورے چالیس سال یہ سلسلہ جاری رہا ( خروج ، باب 16 ۔ گنتی باب 11 ، آیت 7 ۔ 9 ۔ یشوع ، باب 5 ، آیت 12 ) کتاب خروج میں من و سلویٰ کی یہ کیفیت بیان کی گئی ہے*
’’ *اور یوں ہوا کہ شام کو اتنی بٹیریں آئیں کہ ان کی خیمہ گاہ کو ڈھانک لیا۔ اور صبح کو خیمہ گاہ کے آس پاس اوس پڑی ہوئی تھی اور جب وہ اوس جو پڑی تھی سوکھ گئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ بیابان میں ایک چھوٹی چھوٹی گول گول چیز ، ایسی چھوٹی جیسے پالے کے دانے ہوتے ہیں، زمین پر پڑی ہے۔ بنی اسرائیل اسے دیکھ کر آپس میں کہنے لگے «مَن؟» کیونکہ وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا ہے ‘‘ ( باب 16 ۔ آیت 13 ۔ 15 ) ۔*
’’ *اور بنی اسرائیل نے اس کا نام من رکھا اور وہ دھنیے کے بیج کی طرح سفید اور اس کا مزہ شہد کے بنے ہوئے پوئے کی طرح تھا ( آیت 31 ) ۔
گنتی میں اس کی مزید تشریح یہ ملتی ہے ؟ لوگ ادھر ادھر جا کر اسے جمع کرتے اور اسے چکی میں پیستے یا اوکھلی میں کوٹ لیتے تھے۔ پھر اسے ہانڈیوں میں ابال کر روٹیاں بناتے تھے۔ اس کا مزہ تازہ تیل کا سا تھا ۔ اور رات کو جب لشکر گاہ میں اوس پڑتی تو اس کے ساتھ من بھی گرتا تھا ‘‘ اب 11 ۔ آیت 8 ۔ 9 )*
*یہ بھی ایک معجزہ تھا ۔ کیونکہ 40 برس بعد جب بنی اسرائیل کے لیے خوراک کے فطری ذرائع بہم پہنچ گئے تو یہ سلسلہ بند کر دیا گیا ۔ اب نہ اس علاقے میں بٹیروں کی وہ کثرت ہے ، نہ من ہی کہیں پایا جاتا ہے ۔ تلاش و جستجو کرنے والوں نے ان علاقوں کو چھان مارا ہے جہاں بائیبل کے بیان کے مطابق بنی اسرائیل نے 40 سال تک دشت نوردی کی تھی ۔ من ان کو کہیں نہ ملا۔ البتہ کاروباری لوگ خریداروں کو بیوقوف بنانے کے لیے من کا حلوا ضرور بیچتے پھرتے ہیں۔*
🌈فی ظلال القرآن🌈
*اب تو خطرے کا علاقہ گزر گیا۔ بنی اسرائیل کامیابی سے طور کی طرف سینائی کے میدان میں آگئے۔ فرعون اور اس کی افواج سمندر میں غرق ہوگئیں۔ بنی اسرائیل کی اس نجات پر ابھی تک زیادہ عرصہ نہیں گزرا، یہ ان کے حافظے میں تازہ واقعہ ہے لیکن اس تازہ ترین نعمت کی طرف بھی باری تعالیٰ ان کی توجہ مبذول کراتے ہیں کہ تم اس واقعہ کو کہیں بھول نہ جائو۔ غور کرو اور شکر کرو۔ یہاں بنی اسرائیل کے ساتھ طور ایمان کے جس وعدے کا ذکر ہے، یہ واقعہ ہوچکا ہے۔ مصر سے اخراج کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے طور پر بلایا تھا تاکہ وہ اللہ کے ساتھ ملاقات کے لئے تربیت حاصل کریں گی اور اللہ سے وہ تعلیمات سنیں جو الواح میں انہیں دی جاتی تھیں۔ جن کا تعلق دین اور شریعت سے تھا اور بنی اسرائیل اس عالم کردار کے لئے تیار اور منظم ہوں جو انہوں نے ارض مقدس میں سرانجام دینا تھا۔ پھر ان کے لئے من نازل کرنا، من ایک ایسا میٹھا مادہ تھا جو درختوں کے پتوں پر جمع ہوجاتا تھا اور سلویٰ ایک پرندہ تھا جو وہاں بکثرت ان کے لئے صحرا میں جمع ہوجاتا تھا، جسے بہ سہولت پکڑا اور کھایا جاسکتا تھا۔ یہ دونوں چیزیں ان کے لئے اس چٹیل میدان اور غیر آباد صحرا میں خصوصی انعام تھیں۔ یہ چیزیں ان کو روزمرہ کے کھانے میں فراہم ہوجاتی تھیں اور بڑی سہولت سے فراہم ہوجاتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو یہ انعامات یاد دلا کر یہ نصیحت کرتا ہے کہ ان کو کھاؤ، لیکن سرکشی مت کرو اور عیش و عشرت میں گم ہو کر ان مقاصد اور اس نصب العین کو نہ بھول جاؤ جس کے لئے تم مصر سے نکلے ہو، اور جس بات سے یہاں خصوصاً انہیں منع کیا جا رہا ہے وہ سرکشی ہے۔ سرکشی کو تو وہ مصر میں دیکھ چکے تھے۔اس کے تحت وہ مظالم سہہ چکے تھے اور اس کا انجام بھی دیکھ چکے تھے۔*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*📿نماز نیند سے بہتــــــــــر ہے📿*
*📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕*
‏•┈•❀❁❀•┈•

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Homoeopathic Medical Association posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Pakistan Homoeopathic Medical Association:

Share