21/11/2025
اس تصویر میں
Epictetus
کا قول درج ہے:
"No man is free who is not a master of himself."
اس قول کا بنیادی مقصد انسان کی اندرونی آزادی، خود پر قابو، اور مضبوط کردار کی طرف توجہ دلانا ہے۔
پروفیشنل اور وضاحتی انداز میں اس کا مفہوم یوں سمجھا جا سکتا ہے:
یہ قول بتاتا ہے کہ حقیقی آزادی باہر کی دنیا میں نہیں، بلکہ انسان کے اپنے اندر موجود ہوتی ہے۔ جس شخص کے جذبات، خواہشات، عادات، غصہ، خوف، اور فیصلے اُس کے اپنے قابو میں نہ ہوں، وہ بیرونی طور پر چاہے جتنا بھی آزاد ہو، حقیقت میں آزادی سے محروم رہتا ہے۔
انسان اس وقت آزاد ہوتا ہے جب وہ اپنی کمزوریوں، جذباتی ردعمل، اندرونی انتشار اور خواہشات کے غلام نہ رہے۔
اس مجسمے جیسی تصویر دراصل خود پر کنٹرول اور مضبوط ارادے کی علامت کی صورت میں رکھی گئی ہے۔ مضبوط جسم صرف جسمانی طاقت کا نہیں، بلکہ ضبطِ نفس، حوصلے اور اپنے آپ پر حکمرانی کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔
مختصراً:
اندرونی آزادی = خود پر مکمل اختیار
خود پر اختیار = مضبوط کردار
اور مضبوط کردار ہی انسان کو زندگی کے ہر میدان میں حقیقی آزادی بخشتا ہے۔
یہ پیغام ذہنی تربیت، اخلاقی مضبوطی اور اصولی طرزِ زندگی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔