29/10/2025
ہمارے ہاں عموما چینی کو برا
جبکہ شکر گڑ شہد کو اچھا سمجھا جاتا ہے۔
چلیں آج ان سب کی نیوٹریشن ویلیو دیکھتے ہیں
اور دیکھتے ہیں کہ ہمارے لئے سب سے بہتر کیا ہے۔
چلیں چینی سے شروع کرتے ہیں
فیس بک اور باقی سوشل میڈیا پر چینی کو کوکین سے برا اور زہر بتایا جاتا ہے۔
سب سے زیادہ ہر جگہ چینی ہی استعمال ہوتی ہے
بہت ہی زیادہ پراسیس ہوا ایک میٹھا جو گنے سے ہی بنتا ہے
اس کا گلائمکس انڈیکس 65 سے 70 تک ہوتا ہے۔
کیلوریز کی بات کریں تو 390 کیلوریز ایک سو گرام چینی سے ہمیں ملتی ہیں
کوئی خاص نیوٹریشن یا منرلز نہیں۔ بس اچانک سے پیور انرجی بوسٹ
2- شکر یا گڑ
جو لوگ چینی کو ولن بناتے ہیں وہی شکر یا گڑ کو مہان سمجھتے ہیں اور اسے ہیلتھی سمجھتے ہیں
اس میں بہت ہی کم مقدار میں آئرن اور پوٹاشیم پایا جاتا ہے۔
اگر گلائسمکس انڈیکس کی بات کریں تو 70 سے 84 تک جاتا ہے۔ یعنی یہ چینی سے کہیں زیادہ بلڈ شوگر کو سپائک دیتا ہے۔
اگر کیلوریز کی بات کریں تو 380 کیلوریز 100 گرام شکر سے ملتی ہیں
اور رہی بات پراسیس کی تو بہت سے لوگ اسے گورا چٹا کرنے کے لئے نہ جانے کیا کیا ملاتے ہیں۔ اس کا درست ڈیٹا بھی موجود نہیں۔
3- شہد
میرا اور آپ سب کا پسندیدہ
حکیموں کے نزدیک یہ بلاشک و شبہ شوگر کے مریض کھا سکتے ہیں۔
لیکن ہم اسے بھی چیک کرتے ہیں
مکھی نے ہی پراسیس کیا
بہت شاندار اینٹی آکسیڈین
پیٹ کے لئے بہت شاندار چیز
گلائمیکس انڈیکس 45-69 تک
کیلوریز کی بات کریں تو 240 سے 330 تک ایک سو گرام میں
شہد کی قسم کے حساب سے کیلوریز ہوتی ہیں
4- کھجور
ایک مکمل پھل
زیرو پراسیس
آئرن اور فائبر سے بھرپور
انتڑیوں کے لئے شاندار
گلائمیکس انڈیکس صرف 40-55 تک
کھجور کی قسم کے حساب سے ہی انڈیکس ہوتا ہے۔
اگر کیلوریز کی بات کریں تو 315 کیلوریز / سو گرام
تو اس ساری تفصیل کا اگر نچوڑ نکالیں تو چینی چھوڑ کے باقی چیزیں استعمال کرنے سے آپ کی کیلوریز کو کچھ خاص فرق پڑنے والا نہیں۔ نہ ہی چینی ولن اور باقی چیزیں دوست ہوں گی۔
لیکن ایک بہتر چوائس شہد اور کھجور ہو سکتی ہے پر وہ بھی لمٹ میں رہ کے۔
یعنی ایک دن میں تین کھجوریں ہی کافی ہیں۔
اگر چینی استعمال کرنی ہو تو بھی سارے دن میں دو چمچ کافی ہیں
چلیں اب بات کرتے ہیں کہ اگر شوگر کے مریض ہیں اور میٹھا نہیں چھوڑ سکتے تو سٹیو یا یا پھر مونک فروٹ پاؤڈر کے استعمال کا
اٹیویا وور مونک فروٹ دونوں ہی زیرو کیلوریز ہیں
آٹو یا چینی سے دو سو گنا میٹھا ہوتا ہے۔
جہاں چینی کا ایک چمچ درکار ہوتا ہے وہیں سٹو یا کی ایک چٹکی کافی رہتی ہے
لیکن اس میں ایک برائی ہے کہ یہ بعد میں کڑواہٹ لاتا ہے
پاؤڈر استعمال کریں یا پتے۔ مرضی آپ کی
وہیں مونک فروٹ کی بات کریں تو یہ تین سو گنا تک زیادہ مٹھاس دیتا ہے۔
اور استعمال کے بعد بھی مٹھاس بحرحال موجود رہتی ہے
یہ سویٹنر کے طور پر استعمال کئے جا سکتے ہیں
لیکن اگر شوگر نہیں ہے تو آپ چینی بھی گزارے لائق استعمال کر سکتے ہیں۔
WHO کے مطابق آپ اپنی روز کی کیلوریز کا دس فیصد چینی سے لے سکتے ہیں
لیکن میرے خیال سے اس سے بھی تھوڑا کم ہی استعمال کریں تو بہتر ہے۔ تاکہ کیلوریز کا پورشن بچ سکے۔
جو سویٹنر آپ کے استعمال نہیں کرنے ان کے نام
Sucralose
یہ ڈائٹ پیپسی میں استعمال ہوتا ہے۔
ہمارے پیٹ کے اچھے بیکٹیریا کی موت کی وجہ بن سکتا ہے۔
Aspartame
یہ ڈائٹ کوک میں استعمال ہوتا ہے
یا پھر پیپسی میکس میں بھی یہی ہوتا ہے
Acesulfame-k
یہ کوک زیرو میں موجود ہوتا ہے اور کچھ انرجی ڈرنکس جو شوگر فری کے نام پر مارکیٹ میں موجود ہیں
Saccharin-
یہ بھی کافی قسم کے میٹھے شوگر فری کیکس میں استعمال ہوتا ہے
Neotame
یہ بھی لو کیلوریز بیکری اور ڈیرے آئسکریم وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے۔
اس لئے یاد رکھیں ہر شوگر فری کا مطلب ہیلتھی نہیں ہے
یہ پوسٹ اپنے ان دوستوں کے ساتھ شئیر کریں جو چینی سے تو پرہیز کرتے ہیں لیکن چینی سے بچتے ہوئے خطرناک کیمیکل استعمال کرتے ہیں