15/11/2025
بس پاؤں کے انگوٹھے ہلاتے رہیں۔۔۔
دو دن پہلے ماموں ریاض صاحب سے فون پر بات ہوئی۔
عمر قریباً پچاسی برس ہے مگر ان کی مسکراہٹ، شفقت، ویسی ہی ہے جو برسوں سے خاندان میں روشنی بکھیرتی رہی ہے۔ بتایا کہ آنکھ کا آپریشن کروا لیا، اب بہتر دکھائی دے رہا ہے۔ میں نے خوشی سے کہا، "ماشاءاللہ ماموں جان، اب واک کے لیے آسانی ہوگی۔" ہنس کر بولے، "ارے جاوید میاں، ٹانگیں اب ساتھ نہیں دیتیں۔" یہ جملہ سنتے ہی دل جیسے ٹھہر سا گیا۔ میں چند لمحے خاموش رہا، پھر نرمی سے کہا، "ماموں جان، ایک وعدہ کر لیں، ہر گھنٹے میں اپنے پاؤں کے انگوٹھے دس بار ہلائیں، بس۔ پھر رفتہ رفتہ گنتی بڑھائیں۔ دیکھ لیجیے گا چند ہفتوں میں بہتری ضرور محسوس ہوگی۔" وہ مسکرا کر بولے، "ٹھیک ہے، وعدہ رہا۔"
یہ بات محض ایک ذاتی گفتگو نہیں بلکہ ہمارے گھروں
کی عام کہانی ہے۔ عمر کے ساتھ ٹانگوں، پنڈلیوں اور گھٹنوں کے مسلز آہستہ آہستہ کمزور پڑنے لگتے ہیں۔ پہلے پہل تھوڑی تھوڑی جلن یا بوجھ، پھر چلنے میں دقت، اور آخرکار وہی جملہ: "ٹانگیں اب ساتھ نہیں دیتیں۔" لوگ عموماً اسے بڑھاپے کا حصہ سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں، حالانکہ یہ جسم کا خاموش پیغام ہوتا ہے کہ حرکت کم ہو گئی ہے۔
سائنس بتاتی ہے کہ پاؤں کے ٹخنے اور پنڈلی کے درمیان چھوٹے مگر نہایت اہم مسلز ہوتے ہیں جنہیں سولیئس (Soleus) کہا جاتا ہے۔ یہ خون کو دل کی طرف واپس دھکیلنے میں مدد دیتے ہیں، جیسے زمین سے پانی اوپر کھینچنے والا چھوٹا پمپ۔ جب ہم ایڑی اٹھاتے یا پنجہ موڑتے ہیں تو یہی مسلز خون کی روانی تیز کرتے ہیں، جسم میں تازہ آکسیجن اور غذائیت پہنچاتے ہیں۔ تحقیقی مطالعات کے مطابق روزانہ کی چھوٹی مگر بار بار کی حرکتیں خون میں شوگر کے توازن، دل کی کارکردگی اور توانائی میں نمایاں بہتری لا سکتی ہیں۔
عملی طور پر یہ کوئی مشکل ورزش نہیں۔
جیسے آپ چائے کے انتظار میں کرسی پر ہلکی سی جنبش دیتے ہیں بالکل ویسی ہی حرکت بار بار کیجیے۔ ہر گھنٹے میں اپنے پاؤں کے انگوٹھے اور پنجے دس بار اوپر نیچے کریں، پھر آہستہ آہستہ گنتی بڑھائیں۔ کچھ دن بعد ایڑی کو ٹخنے کی طرف اوپر نیچے حرکت دیں۔ اگر کرسی پر بیٹھے ہیں تو ایڑیاں ہلکی ہلکی اٹھاتے رہیں، یہی حرکت دراصل “سولیس پش” کہلاتی ہے۔ جیسے گاڑی کے انجن کو اسٹارٹ کر کے روزانہ چند لمحے گرم کیا جاتا ہے، ویسے ہی پاؤں کو بھی حرکت کے چند منٹ روز چاہییں۔
ابتدائی دنوں میں ہلکا درد یا کھنچاؤ معمول کی بات ہے، کیونکہ جسم اپنے پرانے نظام کو دوبارہ جگا رہا ہوتا ہے۔ آہستگی اور تسلسل کے ساتھ چلیں، جلدبازی سے بچیں۔ ایک ماہ کے اندر اکثر لوگ محسوس کرتے ہیں کہ گھٹنوں کا بوجھ کم ہوا، چلنے میں روانی آئی، نیند بہتر ہوئی۔
میری اپنی عادت ہے کہ میں جاگتے وقت کا بڑا حصہ
پاؤں ہلاتے گزارتا ہوں، چائے پیتے، پڑھتے یا لکھتے ہوئے۔ اس معمول نے گھٹنوں کی اکڑن اور جسم کی تھکن میں حیرت انگیز کمی کی ہے۔ یہ کوئی دوائی نہیں، بس ایک چھوٹی سی فطری عادت ہے جو جسم کے کا انجن گرم رکھتی ہے۔
البتہ اگر کسی کو دل، ریڑھ کی بیماری ہو تو اپنے
معالج سے ایک مشورہ ضرور لے لے۔ مقصد بھاری ورزش نہیں بلکہ پاؤں کو زندہ رکھنا ہے۔ پاؤں وہ بنیاد ہیں جن پر پوری زندگی کھڑی ہے۔ جب بنیاد مضبوط رہتی ہے تو عمر کا بوجھ بھی آسان لگتا ہے۔
یہ پیغام صرف بزرگوں کے لیے نہیں بلکہ ان نوجوانوں
کے لیے بھی ہے جو دن بھر کرسیوں پر جمے رہتے ہیں۔ تھوڑی سی حرکت، دن بھر کا نفع۔ اگر آپ نے حوصلہ کر کے یہ مضمون مکمل پڑھ لیا تو مبارک ہو، آپ نے اپنی صحت کے لیے پہلا قدم اٹھا لیا۔ اب صرف روز چند منٹ اپنے پاؤں ہلائیے، اور پھر دیکھیے، زندگی کے قدم خود بخود تیز ہو جاتے ہیں۔
اللہ ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے
Copied