Dr. Seema Saeed

Dr. Seema Saeed Homeopath. Hijama Master. Acupuncturist. Al-Karim Health Care wishes to provide a healthy future by correct classical homeopathic treatment.

Al-Karim Health Care - Physician Online

Our team comprises of Doctors who are keen to help the sick, and their only mission is to bring about permanent relief and restore the sick to health without further complicating the case.We assure to alleviate your sufferings in the best possible manner provided your given correct and honest history. As the Technology and Life Style has changed today, Quality Care can be offered in the comfort of your Home. Clinic Overview
Site Provides, Herbal & Homoepathic Treatment | Hair Care | Skin Care | Body Care | Men and Women About Health | Homoeopathic Philosophy|and Herbs
Psychological or mental disorder Depression,Epilepsy Hydrophobia, Hysteria ,Self-Abuse,
Headache, migraine Meningitis,

Influenza, nasal polyps nose block
Lungs disorders ..Asthma, Bronchitis, Whooping Cough, , , , Cough,

stomach disorder.. mouth ulcers .Acidity , Colic, Constipation, Dyspepsia, , Fever, Gastric Ulcer, Diarrhea, Dysentery
Joints pain Gout, Arthritis sciatica cramps
Anemia, Angina
Lever disorders .. Jaundice Diabetes
Female problems Leucorrhea, menstrual cycle disorder, sterility Impotence,
UTI and kidneys stone .
,
Sleep disorder & Dream, Nightmare insomnia
Skin problems : Ulseration, ,Irritation, Itching Wounds, ,carbuncle, Chicken Pox ,burns Eczema , heel Cracks,Dandruff, Nettle-Rash, Haemorrhoids, hernia,,Mumps
Warts, Worms ... specialy Homoepathic Treatment for Hair fall balness, hair growth

بس پاؤں کے انگوٹھے ہلاتے رہیں۔۔۔دو دن پہلے ماموں ریاض صاحب سے فون پر بات ہوئی۔عمر قریباً پچاسی برس ہے مگر ان کی مسکراہٹ،...
15/11/2025

بس پاؤں کے انگوٹھے ہلاتے رہیں۔۔۔

دو دن پہلے ماموں ریاض صاحب سے فون پر بات ہوئی۔
عمر قریباً پچاسی برس ہے مگر ان کی مسکراہٹ، شفقت، ویسی ہی ہے جو برسوں سے خاندان میں روشنی بکھیرتی رہی ہے۔ بتایا کہ آنکھ کا آپریشن کروا لیا، اب بہتر دکھائی دے رہا ہے۔ میں نے خوشی سے کہا، "ماشاءاللہ ماموں جان، اب واک کے لیے آسانی ہوگی۔" ہنس کر بولے، "ارے جاوید میاں، ٹانگیں اب ساتھ نہیں دیتیں۔" یہ جملہ سنتے ہی دل جیسے ٹھہر سا گیا۔ میں چند لمحے خاموش رہا، پھر نرمی سے کہا، "ماموں جان، ایک وعدہ کر لیں، ہر گھنٹے میں اپنے پاؤں کے انگوٹھے دس بار ہلائیں، بس۔ پھر رفتہ رفتہ گنتی بڑھائیں۔ دیکھ لیجیے گا چند ہفتوں میں بہتری ضرور محسوس ہوگی۔" وہ مسکرا کر بولے، "ٹھیک ہے، وعدہ رہا۔"

یہ بات محض ایک ذاتی گفتگو نہیں بلکہ ہمارے گھروں
کی عام کہانی ہے۔ عمر کے ساتھ ٹانگوں، پنڈلیوں اور گھٹنوں کے مسلز آہستہ آہستہ کمزور پڑنے لگتے ہیں۔ پہلے پہل تھوڑی تھوڑی جلن یا بوجھ، پھر چلنے میں دقت، اور آخرکار وہی جملہ: "ٹانگیں اب ساتھ نہیں دیتیں۔" لوگ عموماً اسے بڑھاپے کا حصہ سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں، حالانکہ یہ جسم کا خاموش پیغام ہوتا ہے کہ حرکت کم ہو گئی ہے۔

سائنس بتاتی ہے کہ پاؤں کے ٹخنے اور پنڈلی کے درمیان چھوٹے مگر نہایت اہم مسلز ہوتے ہیں جنہیں سولیئس (Soleus) کہا جاتا ہے۔ یہ خون کو دل کی طرف واپس دھکیلنے میں مدد دیتے ہیں، جیسے زمین سے پانی اوپر کھینچنے والا چھوٹا پمپ۔ جب ہم ایڑی اٹھاتے یا پنجہ موڑتے ہیں تو یہی مسلز خون کی روانی تیز کرتے ہیں، جسم میں تازہ آکسیجن اور غذائیت پہنچاتے ہیں۔ تحقیقی مطالعات کے مطابق روزانہ کی چھوٹی مگر بار بار کی حرکتیں خون میں شوگر کے توازن، دل کی کارکردگی اور توانائی میں نمایاں بہتری لا سکتی ہیں۔

عملی طور پر یہ کوئی مشکل ورزش نہیں۔
جیسے آپ چائے کے انتظار میں کرسی پر ہلکی سی جنبش دیتے ہیں بالکل ویسی ہی حرکت بار بار کیجیے۔ ہر گھنٹے میں اپنے پاؤں کے انگوٹھے اور پنجے دس بار اوپر نیچے کریں، پھر آہستہ آہستہ گنتی بڑھائیں۔ کچھ دن بعد ایڑی کو ٹخنے کی طرف اوپر نیچے حرکت دیں۔ اگر کرسی پر بیٹھے ہیں تو ایڑیاں ہلکی ہلکی اٹھاتے رہیں، یہی حرکت دراصل “سولیس پش” کہلاتی ہے۔ جیسے گاڑی کے انجن کو اسٹارٹ کر کے روزانہ چند لمحے گرم کیا جاتا ہے، ویسے ہی پاؤں کو بھی حرکت کے چند منٹ روز چاہییں۔

ابتدائی دنوں میں ہلکا درد یا کھنچاؤ معمول کی بات ہے، کیونکہ جسم اپنے پرانے نظام کو دوبارہ جگا رہا ہوتا ہے۔ آہستگی اور تسلسل کے ساتھ چلیں، جلدبازی سے بچیں۔ ایک ماہ کے اندر اکثر لوگ محسوس کرتے ہیں کہ گھٹنوں کا بوجھ کم ہوا، چلنے میں روانی آئی، نیند بہتر ہوئی۔

میری اپنی عادت ہے کہ میں جاگتے وقت کا بڑا حصہ
پاؤں ہلاتے گزارتا ہوں، چائے پیتے، پڑھتے یا لکھتے ہوئے۔ اس معمول نے گھٹنوں کی اکڑن اور جسم کی تھکن میں حیرت انگیز کمی کی ہے۔ یہ کوئی دوائی نہیں، بس ایک چھوٹی سی فطری عادت ہے جو جسم کے کا انجن گرم رکھتی ہے۔

البتہ اگر کسی کو دل، ریڑھ کی بیماری ہو تو اپنے
معالج سے ایک مشورہ ضرور لے لے۔ مقصد بھاری ورزش نہیں بلکہ پاؤں کو زندہ رکھنا ہے۔ پاؤں وہ بنیاد ہیں جن پر پوری زندگی کھڑی ہے۔ جب بنیاد مضبوط رہتی ہے تو عمر کا بوجھ بھی آسان لگتا ہے۔

یہ پیغام صرف بزرگوں کے لیے نہیں بلکہ ان نوجوانوں
کے لیے بھی ہے جو دن بھر کرسیوں پر جمے رہتے ہیں۔ تھوڑی سی حرکت، دن بھر کا نفع۔ اگر آپ نے حوصلہ کر کے یہ مضمون مکمل پڑھ لیا تو مبارک ہو، آپ نے اپنی صحت کے لیے پہلا قدم اٹھا لیا۔ اب صرف روز چند منٹ اپنے پاؤں ہلائیے، اور پھر دیکھیے، زندگی کے قدم خود بخود تیز ہو جاتے ہیں۔

اللہ ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے
Copied

بیماری یا بُڑھاپابہت سی بیماریاں دراصل بیماریاں نہیں بلکہ بڑھاپے کی قدرتی علامتیں ہیں۔بیجنگ کے ایک اسپتال کے ڈائریکٹر نے...
05/11/2025

بیماری یا بُڑھاپا

بہت سی بیماریاں دراصل بیماریاں نہیں بلکہ بڑھاپے کی قدرتی علامتیں ہیں۔
بیجنگ کے ایک اسپتال کے ڈائریکٹر نے بزرگوں کے لیے پانچ قیمتی مشورے دیے ہیں:

> "آپ بیمار نہیں ہیں، آپ صرف بوڑھے ہو رہے ہیں۔"
بہت سی چیزیں جنہیں آپ بیماری سمجھتے ہیں، دراصل جسم کے بڑھاپے کی علامتیں ہیں۔

1. یادداشت کی کمزوری
یہ الزائمر نہیں بلکہ دماغ کا خود حفاظتی نظام ہے۔
خود کو خوفزدہ نہ کریں۔ یہ دماغ کے بڑھنے کی علامت ہے، بیماری نہیں۔
اگر آپ صرف چابی یا چیزیں کہاں رکھی ہیں بھول جاتے ہیں مگر بعد میں ڈھونڈ لیتے ہیں، تو یہ ڈیمنشیا نہیں۔
2. چلنے میں سستی یا لڑکھڑاہٹ
یہ فالج نہیں بلکہ پٹھوں کی کمزوری (Degeneration) ہے۔
علاج دوائی نہیں بلکہ حرکت ہے۔ جتنا ہو سکے چلیے، متحرک رہیے۔
3. نیند نہ آنا (انسومنیا)
یہ بیماری نہیں بلکہ دماغ کا اپنی رفتار بدلنا ہے۔
عمر کے ساتھ نیند کے اوقات بدل جاتے ہیں۔
نیند کی گولیاں بار بار استعمال کرنا خطرناک ہے، اس سے گرنے، یادداشت کمزور ہونے اور دماغی نقصان کا خطرہ بڑھتا ہے۔
بزرگوں کے لیے بہترین نیند کی دوا سورج کی روشنی ہے — دن میں دھوپ لیں اور مقررہ وقت پر سونے جاگنے کی عادت بنائیں۔
4. جسم میں درد
یہ گٹھیا یا روماتزم نہیں بلکہ اعصاب کے بڑھاپے کی علامت ہے۔
یہ جسم کا نارمل ردِ عمل ہے۔
5. بازو، ٹانگوں یا جوڑوں کا درد
اکثر بزرگ کہتے ہیں کہ پورا جسم دکھتا ہے — یہ عموماً ہڈیوں کی کمزوری نہیں بلکہ اعصاب کی رفتار سست ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
دماغ درد کے سگنلز زیادہ محسوس کرتا ہے — اسے Central Sensitization کہا جاتا ہے۔
اس کا علاج درد کی گولیاں نہیں بلکہ ورزش، گرم پانی سے پاؤں دھونا، گرم کپڑا لگانا اور ہلکی مالش ہے۔
یہ علاج دوا سے زیادہ مؤثر ہے۔
6. میڈیکل رپورٹس کی بے ترتیبی

اکثر جسمانی معائنے کی رپورٹس بیماری نہیں بلکہ پرانے معیاروں پر بنے ہوئے نتائج دکھاتی ہیں۔
7. ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق
بزرگوں کے لیے طبی معیار نرم ہونے چاہئیں۔
مثلاً تھوڑا سا زیادہ کولیسٹرول نقصان دہ نہیں، بلکہ لمبی عمر کی علامت ہے —
کیونکہ کولیسٹرول ہارمونز اور سیلز کے لیے ضروری جزو ہے۔
بلڈ پریشر بھی بزرگوں کے لیے 150/90 mmHg سے کم ہونا کافی ہے، 140/90 نہیں۔
لہٰذا بڑھاپے کو بیماری نہ سمجھیں اور جسمانی تبدیلی کو نقصان نہ جانیں۔
8. بڑھاپا بیماری نہیں بلکہ زندگی کا قدرتی سفر ہے۔
بزرگوں اور ان کے بچوں کے لیے چند نصیحتیں:
1. یاد رکھیں: ہر تکلیف بیماری نہیں ہوتی۔
2. بزرگوں کو خوفزدہ نہ کریں۔ رپورٹس یا اشتہارات سے ڈرائیں نہیں۔

3. اولاد کا سب سے بڑا فرض صرف والدین کو اسپتال لے جانا نہیں،
بلکہ ان کے ساتھ چلنا، بات کرنا، دھوپ میں بیٹھنا، کھانا کھانا اور وقت گزارنا ہے۔
> بڑھاپا دشمن نہیں، بلکہ "زندگی" کا دوسرا نام ہے۔
رک جانا ہی اصل دشمن ہے۔
🌿 صحت مند رہیں – خوش رہیں 🌿

یہ پیغام ہر بزرگ اور ان کے بچوں کے سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔
ایک برازیلین آنکالوجسٹ (کینسر کے ماہر) کی چند خوبصورت باتیں:

1. بڑھاپا 60 سال سے شروع ہو کر 80 سال تک رہتا ہے۔
2. "چوتھا دور" یعنی زیادہ بڑھاپا 80 سے 90 سال تک ہوتا ہے۔
3. "طویل العمری" 90 کے بعد شروع ہو کر موت پر ختم ہوتی ہے۔
4. بزرگوں کا سب سے بڑا مسئلہ تنہائی ہے۔
اکثر شوہر یا بیوی میں سے کوئی ایک پہلے چلا جاتا ہے۔
بیوہ یا اکیلا شخص اپنے خاندان کے لیے بوجھ محسوس ہوتا ہے۔
اس لیے دوستوں سے رابطہ قائم رکھنا، ملنا جلنا، بات چیت کرنا ضروری ہے۔
چند سنہری اصول:
اپنی زندگی پر خود اختیار رکھیں —
کب، کہاں، کس سے ملنا ہے، کیا کھانا ہے، کیا پہننا ہے، کہاں رہنا ہے —
یہ فیصلے خود کریں، ورنہ دوسروں پر بوجھ بن جائیں گے۔

ولیم شیکسپیئر نے کہا:

> "میں ہمیشہ خوش رہتا ہوں!"
کیوں؟ کیونکہ میں کسی سے امید نہیں رکھتا۔
انتظار ہمیشہ اذیت دیتا ہے۔
مسائل کبھی ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتے، ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے —
سوائے موت کے۔
زندگی کے چھ اصول:

1. ردِ عمل دینے سے پہلے — گہری سانس لیں۔
2. بولنے سے پہلے — سنیں۔
3. تنقید سے پہلے — خود کو دیکھیں۔
4. لکھنے سے پہلے — سوچیں۔
5. حملہ کرنے سے پہلے — خود کو روکیں۔
6. مرنے سے پہلے — زندگی کو خوبصورت بنائیں۔
یاد رکھیں:
بہترین تعلق کامل انسان سے نہیں، بلکہ اُس شخص سے ہوتا ہے جو زندگی کو خوبصورت طریقے سے جینا سیکھ رہا ہے۔
دوسروں کی کمزوریاں دیکھیں مگر ان کی خوبیوں کی بھی تعریف کریں۔

اگر آپ خوش رہنا چاہتے ہیں، تو کسی اور کو خوش کریں۔
اگر کچھ پانا چاہتے ہیں، تو پہلے خود کچھ دیں۔
اچھے، مخلص اور دلچسپ لوگوں کے ساتھ رہیں — اور خود بھی ویسے بنیں۔
مشکل وقت میں، آنکھوں میں آنسو ہونے کے باوجود مسکرا کر کہیے:
* * "سب ٹھیک ہے، کیونکہ ہم ارتقائی سفر کے خوبصورت پھل ہیں!"*

تحریر
DrSindhu Almas

ان نشانیوں اشاروں پر توجہ دیں۔ ہمارے جسم اکثر ہم سے بات کرتے ہیں لیکن بہت سے معاملات میں، ہم سننے میں بہت مصروف نظر آتے ...
13/10/2025

ان نشانیوں اشاروں پر توجہ دیں۔

ہمارے جسم اکثر ہم سے بات کرتے ہیں لیکن بہت سے معاملات میں، ہم سننے میں بہت مصروف نظر آتے ہیں۔ لیکن یہ ابھی تک سگنل بھیجتا ہے جب اس میں اہم غذائی اجزاء کی کمی ہوتی ہے۔

میں آپ کو ان علامات کی فہرست دیتا ہوں جن پر آپ کو توجہ دینی چاہیے اور ان کا کیا مطلب ہو سکتا ہے:

1. آپ کے منہ کے کونوں میں دراڑیں: آئرن، زنک، یا بی وٹامنز (خاص طور پر B2، B3، اور B12) کی کمی کی نشاندہی کر سکتی ہے۔

2. ٹوٹے ہوئے بال اور ناخن: اکثر بایوٹین (B7) کی کمی یا پروٹین کی کم مقدار کی علامت ہوتی ہے۔

3. پٹھوں میں درد یا اینٹھن: اس کا مطلب میگنیشیم، پوٹاشیم یا کیلشیم کی کمی ہو سکتی ہے۔

4. بار بار تھکاوٹ یا کمزوری: لوہے، وٹامن ڈی، یا B12 کی کم سطح کی طرف اشارہ کر سکتا ہے۔

5. خشک یا کھردری جلد: وٹامن A اور C، یا ضروری فیٹی ایسڈز کی ضرورت کی نشاندہی کر سکتی ہے۔

6. خراب نائٹ ویژن یا خشک آنکھیں: اکثر وٹامن اے کی کمی سے منسلک ہوتے ہیں۔

7. ہاتھوں اور پیروں میں جھنجھناہٹ یا بے حسی: بی وٹامن کی کم سطح کا اشارہ دے سکتا ہے، خاص طور پر B6، B12، یا فولیٹ۔

8. مسوڑھوں سے خون بہنا یا آسانی سے خراشیں: وٹامن سی کی کم مقدار کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔

9. مسلسل منہ کے چھالے یا زخم: آئرن، زنک، یا بی وٹامنز کی ضرورت کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔

10. بے چین ٹانگیں یا نیند میں پریشانی: میگنیشیم یا آئرن کی کمی سے منسلک ہو سکتا ہے۔

11. ناخنوں پر سفید دھبے: اکثر زنک کی کمی سے جڑے ہوتے ہیں۔

12. بالوں کا پتلا ہونا یا بالوں کا گرنا: کم آئرن، پروٹین یا بایوٹین کی نشاندہی کر سکتا ہے۔

13. ہلکی یا پیلی جلد: آئرن، B12، یا فولیٹ کی کمی کا مشورہ دے سکتی ہے۔

14. مسلسل بھوک یا خواہش: کم پروٹین، فائبر، یا میگنیشیم جیسے مخصوص مائیکرو نیوٹرینٹس کی علامت ہو سکتی ہے۔

15. ٹھنڈے ہاتھ اور پاؤں: آئرن کی کمی یا تھائیرائیڈ کے عدم توازن کی وجہ سے خراب گردش کا اشارہ دے سکتا ہے۔

16. زخم کا سست ہونا: اکثر وٹامن سی، زنک یا پروٹین کی کمی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

17. بار بار سر درد یا چکر آنا: پانی کی کمی یا لوہے کی کم سطح کی نشاندہی کر سکتا ہے۔

18. پریشانی یا موڈ میں تبدیلی: کم میگنیشیم، زنک، یا اومیگا 3 فیٹی ایسڈ سے متعلق ہو سکتا ہے.

19. جوڑوں کا درد یا سختی: وٹامن ڈی یا اومیگا 3 کی کمی کی نشاندہی کر سکتی ہے۔

20. قبض یا ہاضمے کے مسائل: ناکافی فائبر، میگنیشیم، یا پانی کی مقدار کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔

میرے بھائی اور میری بہن، میں ان علامات پر توجہ دینے کی درخواست کرتا ہوں۔ صحیح غذائی اجزاء کے ساتھ اپنے جسم کی پرورش توازن کو بحال کرنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتی ہے۔
Cracks at the Corners of Your Mouth
♦️✿✿نوٹ
پوسٹ شئیرنگ مفید معلومات و مفاد عامہ ایجوکیشنل پرپوز کے لیے ہے، جو اظہار کیا گیا ہے تشخیص و تجویز علاج معالج کا بدل نہیں، برائے مہربانی صحت کے مسائل کے کسی بھی علاج کے لیے اپنے ہیلتھ فزیشن سے رجوع کریں

بارشوں اور سیلاب کے بعد کھڑے پانی میں مچھروں کی افزائش خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔اس کے نتیجے میں ڈینگی اور ملیریا جیسے امر...
03/10/2025

بارشوں اور سیلاب کے بعد کھڑے پانی میں مچھروں کی افزائش خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
اس کے نتیجے میں ڈینگی اور ملیریا جیسے امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔

🦟 اگر آپ چاہتے ہیں کہ مچھر آپ سے دور رہیں:
👉 Ledum Pal 200 کے 4 قطرے روزانہ ایک بار، ایک ہفتہ تک استعمال کریں۔

⚠️ اگر خدانخواستہ ڈینگی یا ملیریا ہو جائے تو یہ دوائیں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں:

Eupatorium Perf 200 روزانہ

China sulph 30 صبح دوپہر شام
گھبراہٹ ہو تو
Arsenic 200
بخار بار بار پلٹ آئے تو
Crotalus 30

📌

🤲 اللہ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔
دعاؤں میں یاد رکھیں۔

لوگ سچ کہتے ہیں عورتیں بہت عجیب ہوتی ہیں ۔رات بھر پورا سوتی نہیںتھوڑا تھوڑا جاگتی رہتی ہیں ۔نیند کی سیاہی میں انگلی ڈوبو...
01/10/2025

لوگ سچ کہتے ہیں
عورتیں بہت عجیب ہوتی ہیں ۔
رات بھر پورا سوتی نہیں
تھوڑا تھوڑا جاگتی رہتی ہیں ۔
نیند کی سیاہی میں
انگلی ڈوبو کر
دن کا حساب لکھتی ہیں
ٹٹولتی رہتی ہیں
دروازوں کی کنڈیاں
بچوں چادر ۔۔شوہر کا من ۔
اور جب جاگتی ہیں ۔۔
تو پورا نہیں جاگتی ۔نیند میں ہی بھاگتی ہیں ۔
سچ میں عورتیں بہت عجیب ہوتی ہیں ۔
ہوا کی طرح گھومتی کبھی گھر کبھی باہر ۔ٹفن میں روز رکھتی نئی نظمیں ۔گملوں میں روز بوتی امیدیں ۔
پرانےعجیب سے گانے گنگناتی چل دیتی ہیں ۔ پھر نیے دن کا مقابلہ کرنے ۔سب سے دور ہوکر بھی سب کے قریب ہوتی ہیں ۔
عورتیں سچ میں بہت عجیب ہوتی ہیں ۔
کبھی کوئی خواب پورا نہیں دیکھتیں ۔ بیچ میں ہی چھوڑ کر دیکھنے لگتی ہیں چولہے پر چڑھا دودھ ۔
کبھی کوئی کام پورا نہیں کرتی ۔
بیچ میں چھوڑ کرڈھونڈنے لگتیں
موزے ۔بچوں کی پینسل ۔ربڑ ۔جوتے ۔
اپنے بچپن کی یادیں ۔
سہیلیوں کی باتیں ۔۔
بہنوں سے لڑائی اور انکا ماننا ۔۔
اور کچھ نہیں تو بسس
ماں کو یاد کر کہ رو دینا ۔
ابّا کی گڑیاں لانی یاد آجاتی ۔ ۔۔
اور پرانے صندوق سے کچھ ادھوری یادیں ڈھونڈنا
کچھ ان کہی لفظوں کی کہانی کھویا ہوا
ورق ڈھونڈنا ۔۔
برسات کو یاد کرنا ۔۔
جب ہو جائے تو ۔بھاگتے رہنا کپڑے بھیگ نا جائے ۔اچار ۔پاپڑ خراب نا ہو جائے ۔۔
سچ میں عورتیں بہت عجیب ہوتی ہیں
خوشی کی امید پر پوری زندگی بتا دیتی ہیں ۔
ان گنت کھائیوں کے پل کو پاٹ دیتی ہیں
سچ میں عورتیں عجیب ہوتی ہیں ۔

‎“میری دوست کا لندن میں آپریشن ہو رہا تھا۔ وہ دو بچوں کی ماں اور عرصہ دراز سے پیٹ میں درد کی وجہ سے بے حال رہتی تھی۔ ماہ...
30/09/2025

‎“میری دوست کا لندن میں آپریشن ہو رہا تھا۔ وہ دو بچوں کی ماں اور عرصہ دراز سے پیٹ میں درد کی وجہ سے بے حال رہتی تھی۔ ماہواری کے ساتھ ہونے والا درد روز مرہ کے معمولات کو مشکل بنانے کے ساتھ زندگی کے رنگ بھی پھیکے بنا چکا تھا۔ کوئی انجیکشن اور کوئی گولی ایسی نہ تھی جو کچھ گھڑیاں سکون سے گزرنے دیتیں۔

‎ازدواجی تعلقات میں ہم بستری بھی کسی عذاب سے کم نہ تھی، محض تصور ہی رگوں میں انگارے بھر دیتا۔

‎کافی دواؤں کے استعمال کے بعد جب کچھ افاقہ نہ ہوا تو ڈاکٹرز نے آپریشن کرنے کی ٹھانی۔ لیکن لیپروسکوپ ( laparosccope) میں جو نظر آیا وہ بیماری کی انتہا یعنی آخری سٹیج تھی۔اندرونی اعضائے مخصوصہ انتڑیوں سے جڑے ہوئے تھے۔ ڈاکٹرز کے لئے آپریشن مکمل کرنا ممکن نہیں تھا۔ اب بتائیے کیا کیا جائے؟”

‎ہم کچھ مدت سے سوچ ہی رہے تھے کہ اس موذی مرض پہ لکھا جائے جس کی آگہی نہ ہونے کے برابر ہے اور مرض ایسا کہ زندگی کی سب مسکراہٹیں چھین کے بھی بہتر نہ ہو۔ بد قسمتی سے اس بیماری کا ابھی تک قاعدے کا علاج بھی دریافت نہیں ہوا۔

‎بیماری کے احوال سے پہلے کچھ بنیادی باتیں جان لیجیے۔ ماہواری میں آنے والے خون میں رحم کی اندرونی جھلی بھی شامل ہوتی ہے جسے endimetrium کہا جاتا ہے۔ ماہواری کے دوران رحم وقفے وقفے سے اپنے آپ کو سکیڑتے ہوئے اس خون مکسڈ اینڈومیٹریم کو جسم سے خارج کرتا ہے۔ رحم جہاں بیرونی فضا سے ویجائنا کے ذریعے تعلق رکھتا ہے وہیں اندرونی جسم سے فیلوپین ٹیوبز کے ذریعے سے منسلک رہتا ہے۔ یہ فیلوپین ٹیوبز وہی ہیں جو بیضہ دانی سے بیضہ رحم کو منتقل کرتی ہیں بلکہ بیضہ اور سپرم کا ملاپ بھی ٹیوب میں ہی ہوتا ہے۔ نارمل ٹیوبز کے بنا حمل نہیں ٹھہر سکتا۔

‎جب کبھی ماہواری کا خون رحم سے باہر آنے کے ساتھ ساتھ ٹیوبز کے ذریعے پیٹ کے اندر بیضہ دانی کے اردگرد والی جگہ پہ جانے لگے اور وہاں اس خون ملی اینڈومیٹریم سے اعضا کی نارمل ہیت بگڑنے لگے، وہی اس بیماری کا نقطہ آغاز ہے جسے endometriosis کہا جاتا ہے۔
‎اس بیماری کی پہچان ہی شدید قسم کا درد ہے جو پیٹ کے نچلے حصے اور کمر میں اٹھتا ہے۔ ماہواری کے دوران روح کھینچ لینے والا درد، ہم بستری سے ہونے والی جان لیوا تکلیف، بول و براز سے وابستہ درد اور پیٹ کے نچلے حصے میں ہمیشہ رہنے والی تکلیف دہ کیفیت اسی بیماری کا شاخسانہ ہے۔

‎اینڈومیٹریوسس صرف درد کو ہی جنم نہیں دیتا بلکہ مختلف پیچیدگیوں کو بھی جنم دیتا ہے۔ بانجھ پن، بیضہ دانی میں بننے والی چاکلیٹ سسٹ (chocolate cyst), انتڑیوں کے ساتھ رحم اور ٹیوبز کا جڑ جانا (adhesions), ٹیوبز کا پھیل کے پائپ (Hydrosalpinx) بن جانا بھی اسی کا تحفہ ہیں۔

‎اینڈومیٹریوسس کا المیہ یہ ہے کہ ابھی تو سائنسی تحقیقات یہ دریافت نہیں کر سکیں کہ اس بیماری کا آغاز کن اسباب کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ایک تھیوری تو ہم نے شروع میں بتا دی، دوسری تھیوریز میں جینیٹک اور امیون سسٹم کا دفاعی نظام کمزور ہونا ہے۔ ان سب تھیوریز کے باوجود حتمی طور پہ کچھ معلوم نہیں کیا جا سکا کہ کون سی خواتین اس کا شکار بنیں گی اور کب؟

‎اینڈومیٹریوسس کا علاج بھی اسی دبدھا کا شکار ہے۔ کوئی بھی دوا اس بیماری کو مکمل طور پہ نہ تو روک سکتی ہے اور نہ ہی اس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے بچا سکتی ہے۔

‎اینڈومیٹریوسس کی مریضہ کا بنیادی مسلہ درد ہے۔ اگر درد ختم کرنے والی دواؤں سے آرام نہ آئے تو ہارمونز دیے جاتے ہیں۔ ہارمونز کے سائیڈ ایفیکٹس بعض مرتبہ ان کے طویل استعمال میں ایک رکاوٹ ثابت ہوتے ہیں۔ ایک اور طریقہ علاج دواؤں کی مدد سے ماہواری روک دینا ہے جس سے درد میں بہت افاقہ ہوتا ہے۔ لیکن جب بھی دوائیں روکی جائیں، ماہواری دوبارہ چالو ہوتے ہی درد لوٹ آتا ہے۔
‎سرجری میں کیمرے نما اوزاروں (Laparoscopy) سے چاکلیٹ سسٹ نکالی جاتی ہیں لیکن یہ سسٹ دوباره تو بنتی ہیں ہی، بیضہ دانی سے انڈہ بننے کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے جس سے بانجھ پن کی شکایت سامنے آتی ہے۔

‎اعضا کے آپس میں جڑ جانے سے پیدا ہونے والی شدید درد کا نہ تو دواؤں سے آرام آتا ہے اور نہ ہی کوئی حتمی علاج سوائے اس کے کہ رحم، ٹیوبز اور بیضہ دانی ہی آپریشن کر کے نکال دی جائے تاکہ مریضہ ایک تکلیف دہ زندگی سے نجات پائے۔ اکثر اوقات مریضہ کے خاندان کو یہ حل قبول نہیں ہوا کرتا کہ وہ اس درد کو محسوس ہی نہیں کر سکتے جس سے مریضہ گزر رہی ہوتی ہے۔

‎ہمیں اپنی ایک مریضہ یاد آ گئیں جو اپنے اعزا کی مرضی کے خلاف گھر سے بھاگ کر یہ کہتے ہوئے ہسپتال پہنچ گئیں تھیں کہ جس طرح کی زندگی وہ گزار رہی ہیں اس سے نجات کے لئے آدھا جسم بھی کٹوانا پڑا تو انہیں قبول ہو گا۔

‎اینڈومیٹریوسس اگر اپنی چوتھی اور آخری سٹیج پہ پہنچ جائے تو اس کا واحد حل یہی ہے کہ سرجن اور گائناکالوجسٹ مل کر آپریشن کریں اور رحم، ٹیوبز، بیضہ دانیوں کے ساتھ اگر ضرورت ہو تو انتڑیوں کا کچھ حصہ نکال دیا جائے جس سے جسم کے بقیہ معمولات متاثر نہیں ہوتے۔ اور اگر کہیں کچھ مسئلہ ہو بھی تو کوالٹی آف لائف اس بیماری کے علاج میں ایک بنیادی امر گردانا جاتا ہے۔

‎اینڈومیٹریوسس جیسی موذی اور ظالم بیماری زندگی کو ایک ایسے روگ میں بدل دیتی ہے جس کا مستقل بنیادوں پہ سرجری کے علاوہ کوئی علاج نہیں۔ مرے پہ سو درے کے مصداق ہمارے معاشرے میں ہر درجے پہ آگہی کی کمی اس بیماری کو ایک ڈراؤنا خواب بنا دیتی ہے جسے دیکھنے والا اور خواب سننے والا دونوں ہی کنفیوژن کا شکار رہتے ہیں کہ کونسا راستہ اختیار کیا جائے۔

———-

طاہرہ کاظمی

*ہاٹ فلیش Hot Flash 5**50 سال کے بعد خواتین میں اچانک حرارت، پسینہ اور گلے کی خشکی کا احساس۔!**خواتین میں پچاس برس کے بع...
24/09/2025

*ہاٹ فلیش Hot Flash 5*
*50 سال کے بعد خواتین میں اچانک حرارت، پسینہ اور گلے کی خشکی کا احساس۔!*

*خواتین میں پچاس برس کے بعد ایک فطری تبدیلی آتی ہے جسے (سِن یاس) کہتے ہیں، انگریزی میں اسے Menopause (مینوپاز) کہا جاتا ہے۔* اس دور میں اکثر خواتین کو ہاٹ فلیش (Hot Flash) یعنی اچانک گرمی اور تپش کی کیفیت کا سامنا ہوتا ہے۔ اس کی عام علامات میں اچانک پسینہ آ جانا، چہرے اور گلے کا سرخ ہونا، دھڑکن تیز ہونا، گھبراہٹ محسوس ہونا، گلے اور منہ کی خشکی، نیند کا ٹوٹ جانا، جسم میں کپکپی یا گرمی کے جھونکے، سر میں بوجھ یا ہلکا درد، توجہ میں کمی اچانک بے چینی شامل ہیں۔ یہ کیفیت بعض خواتین کے لیے روزمرہ زندگی کو مشکل بنا دیتی ہے۔

*قدیم چین میں*
*اس کے علاج کے لیے ایک مؤثر طریقہ علاج ایکو پریشر (Acupressure) ہے، جو ہزاروں برس پرانا اور آج بھی مستند مانا جاتا ہے۔* ہاٹ فلیشز کے لیے ایک خاص پوائنٹ UB 60 (یو بی 60) ہے، جو پاؤں کے ٹخنے کے بالکل پیچھے ہوتا ہے۔ اسے ڈھونڈنے کا طریقہ یہ ہے کہ ٹخنے کی نوک پر انگوٹھا اور انگلیاں رکھیں اور آدھا انچ نیچے آئیں، وہاں دباؤ ڈالنے پر نرمی اور گڑھا سا محسوس ہوگا، یہی یو بی UB 60 پوائنٹ ہے۔ دونوں پیروں میں اس پوائنٹ پر اپنے ہاتھ کے انگوٹھے اور پہلی انگلی سے چٹکی بھر کر درمیانہ دباؤ ڈالنا ہے ، یعنی دبائیں اور چھوڑیں، پھر دوبارہ دبائیں اور چھوڑیں۔ یہ عمل تین تین منٹ تک کریں، اور گہری سانسیں لینا نہ بھولیں۔ یہ طریقہ *ان شا ء اللہ* فوری سکون بھی دے گا ۔

*یو بی 60 UB صرف ہاٹ فلیشز کے لیے نہیں بلکہ کئی دیگر تکالیف میں بھی فائدہ مند ہے۔* یہ پوائنٹ کمر درد، ٹانگوں کی کھنچاؤ، ایڑی کا درد، گردن کی اکڑن، سر درد اور مائیگرین، بے خوابی، گھٹنوں کا درد، دماغی دباؤ، چڑچڑاپن اور دورانِ خون کی کمی کو بھی بہتر کرتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ اسے دن میں پانچ بار، خصوصاً نماز کے بعد باقاعدگی سے کیا جائے، لیکن اگر اچانک رات کو ہاٹ فلیش ہو تو فوراً کریں ۔ اس دوران گہرے سانس لینا لازمی ہے تاکہ جسم اور دماغ دونوں کو یکساں سکون اور توانائی ملے۔

*اللہ ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف
عطا فرمائے۔*
جاوید اختر آرائیں

24/09/2025

Rabies !!
پاگل کتے کاٹنے سے پیدا ہونے والی بیماری
ایک سنگین بیماری ہے جو دماغ اور اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہے۔
جب کوئی متاثرہ جانور، عام طور پر کتا، کسی شخص کو کاٹتا یا کھرچتا ہے۔ وائرس جسم کے ذریعے سفر کرتا ہے، جس کی وجہ سے بخار، سر درد، اور الجھن جیسی علامات پیدا ہوتی ہیں۔

اگر علاج نہ کیا جائے تو ریبیز جان لیوا ہو سکتا ہے۔ کسی بھی جانور کے کاٹنے یا خراش کے بعد، خاص طور پر جنگلی یا آوارہ جانوروں کی طرف سے فوری طور پر طبی مدد حاصل کرنا
ضروری ہے۔

اگر کتا بلی یا کوئ دوسرا جانور یا بچہ کاٹ لے تو زخم کو پانچ سے دس منٹ تک نلکے کے نیچے دھوئیں پھر دھلے ھوئی تولئے سے تھپک کر صاف کریں
بعض اوقات بلی کا کاٹا ھوا کتے کے کاٹے سے بھی زیادہ خطرناک ھو سکتا ھے ۔ اگر کسی کو تین چار دن کے اندر انفیکشن کے اثرات ظاھر نہ ھوں تو اس کا مطلب ھے کہ کسی قسم کی انفیکشن سے محفوظ ھے
چھوٹے کترنے والے جانوروں سے انفیکشن کا خطرہ کم ھوتا ھے۔ ان کے پنجے یا دانتوں کے جراثیم سے کوئی دوسری انفیکشن ھو سکتی ھے۔ اسکے لیئے بھی ضروری ھے کہ زخم کو اچھی طرح صاف کر کے اس کی نگرانی کی جائے اور اگر اس میں سوزش بڑھے تو فوری ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ھے۔

پاگل کتے کے کاٹے کی ابتدائی علامات

بخار
سر درد
متلی
قے
اعصابی تناؤ
پانی یا مائعات نگلنے میں دشواری
ضرورت سے زیادہ تھوک۔
آگے بڑھ کر اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہیں
بےچینی اور خارش
پٹھوں میں انتہائی تشنج، مریض جھٹکے کھاتا ہے کسی قابو میں نہیں آتا چیختا ہے اشتعال انگیزی اور جارحیتاور منہ سے
ضرورت سے زیادہ لعاب یعنی تھوک یا رال
ہیلوسینیشن۔۔۔, Hydrophobia
پانی سے خوف ۔۔ پانی نا پی سکے نا دیکھ سکے حتی کہ پانی آواز سے بھی خوف کھائے سکے اور دورے
پٹھوں کی کمزوری جو کاٹنے کی جگہ سے شروع ہوتی ہے۔
جسم میں بتدریج فالج پھیلنا
احساس کا نقصان اور بالآخر کوما
اور موت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے
اگر آپ یا کسی کو جانور کے کاٹنے کے بعد یہ علامات ظاہر ہوں تو فوراً طبی مدد حاصل کریں۔ ابتدائی علاج زندگی بچا سکتا ہے۔

ہومیوپیتھی میں اسکی دوا .
1.Hydrophobinum
جسے Lyssin
بھی کہتے ہیں
2.Agave Americana
ہومیو ڈاکٹر سیماسعید

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ شیطان کیا کھاتے ہیں؟ مطلب حرفی طور پر نہیں مجازی طور پر بھی نہیںکیا چیز انہیں قوت دیتی ہے؟ کیا...
21/09/2025

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ شیطان کیا کھاتے ہیں؟ مطلب حرفی طور پر نہیں مجازی طور پر بھی نہیں
کیا چیز انہیں قوت دیتی ہے؟ کیا چیز انہیں زندہ رکھتی ہے؟
جب آپ سمجھ لیں گے کہ وہ کیا کھاتے ہیں
تو آپ اس دنیا کے خفیہ ماحولیاتی نظام کو دیکھنا شروع کر دیں گے
اور سمجھ جائیں گے کہ آپ اس میں کیوں پھنسے ہوئے محسوس کرتے ہیں۔ اجازت دیں میں بتا دوں

شیطان… پیراسائٹس… منفی مخلوقات…
یہ خوف، غصہ، صدمے، نشے اور مایوسی پر پلتے ہیں

یہ آپ کی ضائع ہوتی توانائی پر پھلتے پھولتے ہیں
وہ خام، بےترتیب توانائی جو آپ میں بہتی ہے جب آپ پریشان، گم، تنہا یا بکھرے ہوئے ہوتے ہیں

وہ محض آپ کی تکلیف سے لطف اندوز نہیں ہوتے بلکہ اسی سے اپنی طاقت لیتے ہیں
اسی لیے آپ کے جتنے بھی نظام ہیں وہ آپ کو بقا کے موڈ میں رکھنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں
اسی لیے خبریں، جنگیں، انتشار، بے ہنگم صارفیت اور نشے چلتے رہتے ہیں (جب آپ ان سے ڈرتے ہیں)
کیونکہ یہ حالات حیاتیاتی خوراک پیدا کرتے ہیں
اس لیے عِلمِ باہِوشی اور ہمت آپ کے لیے نہایت اہم ہیں

کائناتی خوراکی زنجیر خون اور گوشت سے نہیں بلکہ ارتعاشات، ہم آہنگیوں اور فریکوئنسیز سے بنی ہے

آپ صرف ایک جسم میں نہیں رہتے آپ ایک سگنل بھی بھیجتے ہیں
اور آپ کی نفسیاتی کیفیت کے مطابق یا تو آپ پیراسائٹس کو کھلاتے ہیں یا خدا سے رابطہ قائم کرتے ہیں

اسی لیے اس علم کو دفن کر دیا گیا تھا
کیونکہ جب آپ سمجھتے ہیں کہ آپ خود چُن رہے ہیں کہ کیا آپ کو کھائے گا
تو آپ اپنی طاقت واپس لے لیتے ہیں
آپ شکار ہونا بند کر دیتے ہیں
آپ غلامی سے باہر آ جاتے ہیں

یہ محض روحانی بات نہیں ہے یہ توانائی کی فزکس ہے
یقین رکھیے ذکرِ خدا انہیں خوفزدہ کرتا ہے۔
شیطانوں کو صرف تڑپتی قربانیوں کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ایسی روح کی ضرورت ہوتی ہے جو خدا کو نہ پہچانتی ہو، صبح و شام کے اذکار و دعاؤں سے بیگانہ ہو

وہ آپ کے توازن کی خلل پر جی رہے ہیں
لہٰذا اگر آپ واقعی اپنی زندگی بدلنا چاہتے ہیں
اگر آپ اپنی حفاظت کرنا چاہتے ہیں اور اس سسٹم سے اوپر اٹھنا چاہتے ہیں
تو وہ توانائی تبدیل کریں جو آپ خارج کر رہے ہیں
محبت، سکون اور سچائی پھیلائیے
یہ اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ بقا کا طریقہ ہے۔ صرف اللہ ہی کے لیے۔
کیونکہ جو آپ محسوس کرتے ہیں وہی آپ کھلاتے ہیں
ادھر دیکھیں شیطان بھوکے ہیں

#کاپیڈ

گروئنگ پینز (Growing Pains) زیادہ تر تین سے چار سال کی عمر کے بچوں میں دیکھے جاتے ہیں۔ بعض اوقات یہ مسئلہ آٹھ سے بارہ سا...
20/09/2025

گروئنگ پینز (Growing Pains) زیادہ تر تین سے چار سال کی عمر کے بچوں میں دیکھے جاتے ہیں۔ بعض اوقات یہ مسئلہ آٹھ سے بارہ سال کی عمر تک بھی برقرار رہ سکتا ہے۔ یہ درد عام طور پر شام یا رات کے وقت شروع ہوتا ہے اور بعض اوقات بچے کو نیند سے جگا دیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب بچہ صبح اٹھتا ہے تو وہ بالکل ٹھیک ہوتا ہے اور کسی قسم کی تکلیف محسوس نہیں کرتا۔

یہ درد زیادہ تر دونوں ٹانگوں، پنڈلیوں، گھٹنوں کے پیچھے یا پاؤں میں محسوس ہوتا ہے۔ جن دنوں بچے زیادہ کھیل کود یا بھاگ دوڑ کرتے ہیں، ان دنوں یہ درد بڑھ جاتا ہے۔ اس دوران اگر بچے کی ٹانگوں یا پاؤں کا معائنہ کیا جائے تو ان پر کسی چوٹ یا سوجن کا نشان نظر نہیں آتا۔

زیادہ تر بچوں میں یہ درد ہفتے میں ایک یا دو بار ہوتا ہے۔ لیکن جن بچوں میں کیلشیم یا وٹامن ڈی کی کمی ہو، ان میں یہ درد زیادہ شدت اور زیادہ بار بھی ہو سکتا ہے۔ اس کی اصل وجہ ابھی تک مکمل طور پر سامنے نہیں آسکی، لیکن عام مشاہدہ ہے کہ جن بچوں میں یہ علامات زیادہ پائی جاتی ہیں وہ درد برداشت کرنے کی صلاحیت میں دوسروں کے مقابلے میں کچھ کمزور ہوتے ہیں۔

اس بیماری کی تشخیص کے لیے کسی خاص ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ماہرِ اطفال صرف طبی معائنہ کرکے اس کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔ گروئنگ پینز عام طور پر ایک سے دو سال میں خود ہی ختم ہو جاتے ہیں، تاہم بعض بچوں میں یہ مسئلہ اس سے زیادہ عرصے تک بھی رہ سکتا ہے۔

والدین گھر پر ہی بچے کی تکلیف کم کرنے کے لیے چند آسان طریقے اپنا سکتے ہیں۔ مثلاً ٹانگوں کی نرم مالش کرنا، اسٹریچنگ ایکسرسائز کروانا، ٹانگوں پر احتیاط کے ساتھ ہیٹنگ پیڈ رکھنا اور اگر درد بہت زیادہ ہو تو ڈاکٹر کے مشورے سے دوا استعمال کرنا۔

البتہ اگر بچے کو کسی جگہ چوٹ لگ جائے، بخار ہو، وزن یا بھوک کم ہو جائے، بچہ چلنے میں دشواری محسوس کرے، ایک ہی ٹانگ میں درد ہو، جوڑ میں سوجن آجائے یا غیر معمولی کمزوری اور تھکاوٹ ہو تو ایسی صورت میں فوری طور پر قریبی ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

اللہ تعالیٰ سب بچوں کو صحت اور سکون عطا فرمائے۔ آمین۔

کدو کے بیج کے کچھ فوائد: یہ ایک ایسا خزانہ جنہیں اکثر لوگ بے کار سمجھ کر پھینک دیتے ہیں، حالانکہ یہی بیج صحت کے کئی حیرت...
03/09/2025

کدو کے بیج کے کچھ فوائد:

یہ ایک ایسا خزانہ جنہیں اکثر لوگ بے کار سمجھ کر
پھینک دیتے ہیں، حالانکہ یہی بیج صحت کے کئی حیرت انگیز راز چھپائے ہوئے ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ ان چھوٹے سے بیجوں میں قدرت نے اومیگا 3 اور 6 فیٹی ایسڈز، زنک، میگنیشیم، پروٹین، آئرن، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس جیسے بیش قیمت اجزاء بھر دیے ہیں؟
آئیے جانتے ہیں کہ یہ کیسے آپ کی زندگی بدل سکتے ہیں:

---

🔸 ہارمونل توازن کی بحالی
خواتین کو اکثر ہارمونز کی گڑبڑ کا سامنا ہوتا ہے، چاہے وہ حیض کی بے ترتیبی ہو یا مينوپاز کے مسائل۔ کدو کے بیج میں موجود فائٹوایسٹروجنز ہارمونز کو قدرتی طور پر بیلنس کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

🔸 شوگر لیول کو کنٹرول کریں
کدو کے بیج میں موجود فائبر اور پروٹین بلڈ شوگر کو تیزی سے بڑھنے سے روکتے ہیں۔ جو لوگ ذیابیطس یا پری-ڈایابیٹیز سے دوچار ہیں، ان کے لیے یہ بیج نعمت سے کم نہیں۔

🔸 دل کے لیے تحفظ
ان میں پائے جانے والے اومیگا 3 اور 6 فیٹی ایسڈز، خون کی روانی کو بہتر کرتے ہیں، شریانوں کو نرم رکھتے ہیں اور دل کے دورے کے خطرات کو کم کرتے ہیں۔

🔸 قوت مدافعت میں اضافہ
کدو کے بیج زنک سے بھرپور ہوتے ہیں، جو جسم کو انفیکشن، نزلہ زکام اور موسمی بیماریوں سے لڑنے کی طاقت دیتے ہیں۔

🔸 طاقت اور توانائی کا خزانہ
صرف ایک مٹھی بیج روزانہ... اور آپ کو ملے گا قدرتی پروٹین، جو جسم کو توانائی دیتا ہے، پٹھوں کی مرمت کرتا ہے اور تھکاوٹ سے بچاتا ہے۔

🔸 ہڈیوں کی مضبوطی
ان میں موجود میگنیشیم اور زنک ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں، خاص طور پر خواتین میں بڑھتی عمر کے ساتھ ہڈیوں کی کمزوری کو روکنے میں معاون ہیں۔

🔸 دماغی سکون اور بہتر نیند
کدو کے بیجوں میں موجود ٹرپٹوفین دماغ کو سکون دیتا ہے، تناؤ کم کرتا ہے اور پرسکون نیند میں مدد دیتا ہے۔

🔸 خوبصورت اور چمکدار جلد
اینٹی آکسیڈنٹس جیسے وٹامن ای اور کیروٹین جلد سے جھریاں، دھبے اور خشکی دور کر کے نکھار پیدا کرتے ہیں۔

🔸 وزن کم کرنے میں مددگار
ان بیجوں میں فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو دیر تک بھوک نہیں لگنے دیتا۔ نتیجہ؟ وزن میں قدرتی کمی۔

🔸 کولیسٹرول کو کم کریں
کدو کے بیجوں میں موجود فائیٹوسٹیرولز خون میں برے کولیسٹرول کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

🔸 بالوں کی جڑوں تک طاقت
زنک، آئرن اور اینٹی آکسیڈنٹس بالوں کی جڑوں کو مضبوط کرتے ہیں، خشکی کم کرتے ہیں اور بال گرنے سے روکتے ہیں۔

🔸 خون کی کمی کا علاج
آئرن سے بھرپور کدو کے بیج خون کے سرخ خلیات بڑھاتے ہیں، جس سے تھکن، چکر آنا اور کمزوری میں بہتری آتی ہے۔

🔸 زخم جلدی بھرنا
زنک اور وٹامن ای زخموں کے جلد بھرنے میں مدد دیتے ہیں، خاص طور پر جلدی انفیکشن یا چوٹ کے بعد۔

---

💡 استعمال کا صحیح طریقہ:
کدو کے بیجوں کو پیسنے کے بجائے ثابت کھائیں تاکہ ان کا فائبر اور اصل غذائیت محفوظ رہے۔
انہیں ناشتہ میں شامل کریں، دہی پر چھڑکیں، یا شام کے اسنیک کے طور پر مٹھی بھر لے لیں۔

---

قدرت کا دیا ہوا یہ خزانہ نہ صرف آپ کی صحت کو بہتر بناتا ہے، بلکہ آپ کی روزمرہ توانائی، ذہنی سکون اور ظاہری خوبصورتی میں بھی اضافہ کرتا ہے۔
#کاپیڈ

01/09/2025

🌟 Oedema (سوجن و درد) – جانیں مکمل حقیقت 🌟

🔹 Oedema کیا ہے؟
اڈیما جسم میں غیر ضروری پانی جمع ہونے کی وجہ سے ہونے والی سوجن کو کہا جاتا ہے۔ یہ سوجن زیادہ تر پاؤں، ٹخنوں، ہاتھوں اور کبھی چہرے پر بھی ظاہر ہو سکتی ہے۔

🔹 درد کی کیفیت
جب پانی یا فلوئڈ ٹشوز میں جمع ہو جاتا ہے تو دباؤ بڑھنے لگتا ہے جس سے متاثرہ جگہ بھاری، سخت، کھنچاؤ اور کبھی کبھی جلن یا درد جیسی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔

---

⚠️ وجوہات

گردوں کی کمزوری

دل کی بیماریاں (دل کی کمزوری یا ہارٹ فیلیر)

جگر کی بیماری (Liver Cirrhosis)

ہائی بلڈ پریشر / ذیابیطس

دورانِ خون میں رکاوٹ

طویل وقت تک کھڑے رہنا یا زیادہ نمک کا استعمال

---

🩺 اہم علامات

پاؤں یا ہاتھوں میں سوجن

دبانے سے گڑھا پڑ جانا (pitting oedema)

بھاری پن یا چلنے میں مشکل

سانس پھولنا (اگر دل یا پھیپھڑوں کا مسئلہ ہو)

رات کو پیشاب زیادہ آنا

---

🥗 احتیاط و غذا
✅ نمک اور زیادہ پانی کا استعمال محدود کریں
✅ تلی ہوئی اور چکنائی والی اشیاء سے پرہیز کریں
✅ سبز پتوں والی سبزیاں، پھل، دلیہ اور ہلکی غذا استعمال کریں
✅ ٹانگوں کو اونچا رکھ کر آرام کریں
✅ وزن کنٹرول میں رکھیں
✅ ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر دوائیں بند نہ کریں

---

🌿 ہومیوپیتھک علاجدوائیں ڈاکٹر کے
ہومیوپیتھی میں Oedema کے مریض کی مکمل علامات کے مطابق علاج کیا جاتا ہے۔ عام طور پر درج ذیل دوائیں مفید ثابت ہوتی ہیں:

Apis Mellifica → اچانک سوجن، جلن اور چبھن والے درد میں

Arsenicum Album → کمزوری، بے چینی اور رات کو زیادہ تکلیف میں

Digitalis → دل کی کمزوری سے ہونے والی سوجن میں

Helleborus → دماغی یا گردے کی بیماری سے پیدا سوجن میں

---
تمام دعائیں ڈاکٹر کے مشورہ سے استعمال کیجئے ۔

Homeopathic Treatment
Dr Sajid Mehmood
Homeopathic Doctor | Emergency Medical Technician @ Rescue 1122

Address

Karachi
75850

Opening Hours

Monday 20:00 - 22:00
Tuesday 20:00 - 22:00
Wednesday 20:00 - 22:00
Thursday 20:00 - 22:00
Friday 20:00 - 17:00

Telephone

+923310242426

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Seema Saeed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr. Seema Saeed:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category