18/01/2025
سردیوں میں پانی کم پینے کی عادت کئی صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ اگرچہ سرد موسم میں پیاس کم لگتی ہے، لیکن جسم کو پانی کی ضرورت ہر موسم میں ہوتی ہے۔ پانی کی کمی کے اثرات درج ذیل ہیں:
1. جلد کی خشکی:
پانی کم پینے سے جلد خشک اور بے جان ہو جاتی ہے کیونکہ نمی کی کمی جلد پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔
2. نظامِ انہضام کے مسائل:
پانی کی کمی سے قبض کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ پانی آنتوں کی حرکت کو نرم اور سہولت بخش بناتا ہے۔
3. قوتِ مدافعت میں کمی:
پانی جسم کے زہریلے مادوں کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کی کمی سے قوتِ مدافعت کمزور ہو سکتی ہے، جس سے بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
4. سردرد اور تھکن:
پانی کی کمی سے خون گاڑھا ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے دماغ تک آکسیجن اور غذائیت کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، اور سردرد یا تھکن محسوس ہو سکتی ہے۔
5. جوڑوں کا درد:
پانی جوڑوں میں موجود کارٹیلیج کو نم رکھتا ہے۔ کمی کی صورت میں جوڑوں میں درد یا سختی محسوس ہو سکتی ہے۔
6. گردوں پر اثرات:
پانی کم پینے سے گردے اپنے افعال درست طریقے سے انجام نہیں دے پاتے، اور گردے کی پتھری یا دیگر مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
7. وزن بڑھنا:
پانی کی کمی سے بھوک بڑھ سکتی ہے کیونکہ دماغ پیاس کو بھوک سمجھ سکتا ہے، اور زیادہ کھانے کی عادت وزن بڑھا سکتی ہے۔
سردیوں میں پانی پینے کے مشورے:
دن بھر وقفے وقفے سے پانی پینے کی عادت ڈالیں، چاہے پیاس نہ لگے۔
گرم مشروبات (جیسے ہربل چائے یا نیم گرم پانی) کو پانی کے متبادل کے طور پر شامل کریں۔
تازہ پھل اور سبزیاں کھائیں جن میں پانی زیادہ ہوتا ہے، جیسے مالٹے اور کھیرے۔
پانی کی مناسب مقدار کا استعمال سردیوں میں بھی جسمانی نظام کو متوازن اور صحت مند رکھتا ہے۔