Rohani Ilajj

Rohani Ilajj We welcome all religion believers.

Permanently closed.
22/04/2024

خواتین کیلئے خصوصی تحریر
Heart_touching

┈┉┅━❀🍃🌸🍃❀━┅┉┈

میں پاگل ہو جاؤں گی… میری شکل دیکھو میں بھکارن بن گئی ہوں ، تھک گئی ہوں میں…
میرے پاس بیٹھ کر بولا:
تُو ہر وقت جھگڑتی رہتی ہے کبھی تو پیار سے بات کر لیا کر میرے ساتھ ۔
میں نے اسے سائیڈ پہ دھکا دیا ، وہ خاموش ہو گیا ۔
میں تھک ہار گئی تھی ، اب سوچ رہی تھی بس اس سے طلاق لے لوں گی ، اپنے ایک دو کزن سے بھی بات کی تھی جو وکیل تھے ، انھوں نے تسلی دی کہ ہم ساتھ ہیں آپ کے… طلاق لے لو اس کمینے سے… ۔ میں سوچ رہی تھی آج گھر آئے گا تو بس اس کو بول دوں گی طلاق دے دو مجھے ۔
میں انتظار کر رہی تھی ، وہ رات 10 بجے آیا… بچے سو رہے تھے ، دونوں بچوں کے ماتھوں پر اس نے بوسہ دیا ، ان کے ہاتھ چومے ، پھر چارپائی پہ بیٹھ کر مجھے آواز دی:
شہناز مجھے روٹی دے !
میں کروٹ بدلے لیٹی رہی ، اس نے پھر آواز دی ، شہناز ! سن لے ، اٹھ جا…
میں چپ رہی ، وہ پاس آیا مجھے دیکھا ، میں نے آنکھیں بند کر لیں ؛ مجھ پہ کمبل اوڑھا کر بولا: تھک جاتی ہے سارا دن… پھر کچن میں گیا ، کھانا دیکھنے لگا ، کچھ بھی نہیں تھا کھانے کے لیے… ایک پیالی میں نمک مرچ ڈال کر اس میں تھوڑا پانی ملا کر سوکھی روٹی کھانے لگا ، میں دیکھ رہی تھی ، میں دل میں سوچنے لگی: یہ مرتا بھی نہیں ہے ، وہ کھانا کھا کر سو گیا ۔
دوسرے دن صبح صبح ہم کسی بات پہ جھگڑنے لگے ، میں نے اسے کہا:
بس مجھے طلاق دے دو میں اب برداشت نہیں کر سکتی ، میں تھک گئی ہوں ، غصے میں مَیں نے اس کے کپڑے بھی پھاڑ دیئے ؛ وہ طلاق کا نام سنتے ہی چپ ہو گیا ، جلدی سے کپڑے چینج کرنے لگا ، پھر بائیک لی اور باہر جانے لگا ۔
میں نے چلا کر کہا:
ﷲ کرے تو مر جائے ، میری جان تو چھوٹ جائے تم سے… وہ بائیک باہر کھڑی کر کے کمرے میں گیا ، کسی کاپی پہ کچھ لکھا ، چلا گیا ۔
میں گالیاں دے رہی تھی ، رو رو کر تھک گئی تھی ، اسے بدعا دے رہی تھی ، میں نے ارادہ کر لیا تھا بس اب اس انسان کے ساتھ نہیں رہنا ۔
دو چار گھنٹے گذرے ، اور میں میکے جانے لگی ، بچوں کو ساتھ لے لیا… اتنے میں گلی میں ایک شور سا برپا ہوا ، میں رو رہی تھی ، ہمارے دروازے پہ دستک ہوئی ، میں نے دروازہ کھولا ، پورا گاؤں چارپائی اٹھائے میرے دروازے کے سامنے کھڑا تھا ، میں حیران تھی کیا ہوا ۔۔۔؟

اتنے میں ایک لڑکا فون پہ بات کر رہا تھا ، یار اکبر کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور وہ مر گیا ہے ۔
یہ سنتے ہی جیسے مجھ پر قیامت ٹوٹ پڑی ، میں ساکت ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔ چارپائی صحن میں رکھی گئی ، سب لوگ قبر کھودنے کی بات کرنے لگے ، کچھ جنازے کا ٹائم دیکھنے لگے ، مسجد میں اعلان ہونے لگا… اکبر میرے سامنے چارپائی پہ لیٹا ہوا تھا ، کون یقین کرے وہ مر چکا ہے ؛ میں چیخنے چلانے لگی:
اکبر اٹھ جا ، میں نہیں کچھ مانگتی ، مجھے کچھ نہیں چاہیے ، میں طلاق کی بات بھی نہیں کرتی.

میں اس کے پاؤں چومنے لگی… اکبر اٹھ جا میری جان اٹھ جا ، دیکھ ، دیکھ میں کہیں نہیں جا رہی ، مجھے تیرے ساتھ ہی رہنا ہے ؛ میں بھوکی پیاسی رہ لوں گی ، مجھے یوں چھوڑ کر نہ جا… میں کھانا بنا کر لاتی ہوں ، بھوک لگی ہے نا تم کو ۔۔۔؟؟
لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی ، اب وہ مجھے چھوڑ کر جا چکا تھا… میں چیختی چلاتی رہی لیکن وہ منوں مٹی تلے جا سویا ۔
اس کے جانے کے بعد مجھے دنیا کے رنگ نظر آنے لگے ، مجھے رشتے بدلتے دکھائی دینے لگے ، پھر جو اپنے تھے وہ سب منہ موڑنے لگے ، مجھ پہ دنیا نظریں کسنے لگی ، بچے بابا ڈھونڈنے لگے ، اب کون ان کا نیند میں آ کر ماتھا چومے گا؟؟
کون مجھے آواز دے گا ، کون میرے تلخ لہجے برداشت کرے گا۔۔۔؟
مجھ سے مکان چھین لیا گیا ، جو حصہ بنتا تھا وہ بھی نہ دیا ، میں اکبر کے بعد در بدر ٹھوکریں کھانے لگی ۔
اب بچے بھی کچھ فرمائش نہیں کرتے ، وہ جانتے ہیں بابا اب نہیں رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے سگے بھائی بھی منھ موڑ گئے ، میں لوگوں کے گھروں میں نوکرانی بن کے کام کرنے لگی ۔
ایک دن مجھے اس کی ڈائری ملی ، جس پہ لکھا تھا:
شہناز سے شادی کر کے بہت خوش ہوں ، شہناز سے بہت پیار کرتا ہوں ۔۔۔
وہ پاگل ہے بلکل سمجھتی ہی نہیں جھگڑتی رہتی ہے ، دیکھو آج اس نے مجھے کھانا نہیں دیا ۔
وہ کہتی ہے: مہنگا موبائل لا کر دو ، اسے کیسے بتاؤں نہیں لا سکتا… !
آج میرے بچوں کو میرے بھائی نے گالی دی ، میں بہت رویا ہوں میرے بچے میری جان ہیں ۔۔۔
شہناز کو بخار ہے وہ بیچاری میرے لیے کیا کچھ برداشت کر رہی ہے ، ﷲ نے چاہا تو ہمارے حالات بدل جائیں گے ، پھر شہناز کو دنیا کی ہر خوشی دوں گا ؛ اب وہ مجھے کھانا نہیں دیتی ، میں جانتا ہوں ناراض ہے مجھ سے.… میں نے نمک مرچ کےساتھ سوکھی روٹی کھائی ہے ، آج میری کمر میں اینٹ لگی ہے ، زخم بہت گہرا ہے… یہ شہناز کو نہیں بتاؤں گا وہ پریشان ہو جائے گی بیچاری ۔
ڈاکٹر کہہ رہا تھا 15 ٹانکے لگنے ہیں ، آج مجھے چوٹ لگی ہے ، کہہ رہی ہے طلاق دے دو ، میں مر جاؤں گا اس کے بنا… ابھی غصے میں ہے ٹھیک ہو جائے گی ۔ میں ڈائری کو سینے لگا کر چیخ چیخ کر رونے لگی…

ہمسفر تو ہمسفر ہوتا ہے نا ، وہ جیسا بھی تھا میرا سایہ تھا ، میری ڈھال تھا ، اس کے بعد زمانے کی ٹھوکریں کھا کر سمجھی ہوں اس کے ساتھ میرے دونوں جہاں تھے…

تھک ہار کر گھر آتی ہوں ، اب ٹوٹ گئی ہوں ، میں بچوں کی خاطر زندہ ہوں بس ؛ ورنہ کب کی ختم ہو جاتی…
میں خود کو اذیت دیتی ہوں ، کیوں جھگڑتی تھی اس کے ساتھ ، کیوں اس کو ستاتی تھی ، کیوں میں لوگوں کو دیکھ کر بڑے خواب دیکھتی تھی ، وہ میرے ساتھ ہوتا تو کیسی زندگی گذار رہی ہوتی ۔
کیا میں بخشی جاؤں گی ۔۔۔؟؟
ﷲ مجھے معاف کرے گا ۔۔۔۔ ؟
میں مشکل وقت میں اس کا سہارا ، اس کی ہمت نہ بن سکی ؛ میں مطلب پرست لالچی ہو گئی تھی ، اب تو اکثر لوگ میری مدد کرتے ہوئے میرے جسم کی بات بھی کرتے ہیں…
سب عورتوں سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتی ہوں کہ پیسہ ہمسفر کے سامنے خاک بھی نہیں ہے ، لالچ اور بڑے بڑے خواب کی تمنا میں لوگوں کی نوکرانی نہ بن جانا… شوہر اگر ایک وقت کی روٹی بھی کھلائے تو مسکرا کر سینے سے لگ جانا ، ﷲ کی قسم، زمانے کی لاکھ تلخیوں کو وہ تمھاری خاطر اپنے سینے پہ برداشت کرتا ہے ، پلیز اگر کوئی بہن اپنے شوہر سے بیزار ہے تو وہ سمجھ جائے… اس سے پہلے کہ آنسو اس کا مقدر بن جائیں ۔ ۔ ۔

نوٹ ثواب کی نیت سے شیئر ضرور کریں ❤💫

🌸نصیحت آموز کہانیاں __🌸
*

12/09/2023

انتہائی ایمان افروز تحریر ۔ خود لازمی پڑھیں اور ھر مسلمان اسکو کاپی کر کے اپنی وال پر شئیر کرے ۔

💫 حضورنبی کریم ﷺ نے متعدد نکاح کیوں کیے؟ 💫
ایک پروفیسر صاحب لکھتے ہیں کہ کافی عرصہ کی بات ہے کہ جب میں لیاقت میڈیکل کا لج جامشورو میں سروس کررہا تھا تو وہاں لڑکوں نے سیرت النبی ﷺ کانفرس منعقد کرائی اورتمام اساتذہ کرام کو مدعو کیا ۔
چنانچہ میں نے ڈاکٹر عنایت اللہ جوکھیو ( جو ہڈی جوڑ کے ماہر تھے) کے ہمراہ اس کانفرنس میں شرکت کی۔ اس نشست میں اسلامیات کے ایک لیکچرار نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی پرائیویٹ زندگی پر مفصل بیان کیا اور آپ کی ایک ایک شادی کی تفصیل بتائی کہ یہ شادی کیوں کی اور اس سے امت کو کیا فائدہ ھوا۔
یہ بیان اتنا موثر تھا کہ حاضرین مجلس نے اس کو بہت سراہا ۔ کانفرس کے اختتام پر ہم دونوں جب جامشورو سے حیدر آباد بذریعہ کار آرہے تھے تو ڈاکٹر عنایت اللہ جوکھیو نے عجیب بات کی...
اس نے کہا کہ ۔۔۔۔۔۔ آج رات میں دوبارہ مسلمان ھوا ھوں
میں نے تفصیل پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ آٹھ سال قبل جب وہ FRCS کے لیے انگلستان گئے تو کراچی سے انگلستان کا سفر کافی لمبا تھا ہوائی جہاز میں ایک ائیر ہوسٹس میرے ساتھ آ کر بیٹھ گئی ۔
ایک دوسرے کے حالات سے آگاہی کے بعد اس عورت نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا مذہب کیا ہے؟
میں نے بتایا اسلام ۔ ہمارے نبی ﷺ کا نام پوچھا میں نے حضرت محمد ﷺ بتایا ، پھر اس لڑکی نے سوال کیا کہ کیا تم کو معلوم ہے کہ تمہارے نبی ﷺ نے گیارہ شادیاں کی تھیں؟
میں نے لاعلمی ظاہر کی تو اس لڑکی نے کہا یہ بات حق اور سچ ہے ۔ اس کے بعد اس لڑکی نے حضور ﷺ کے بارے میں (معاذاللہ ) نفسانی خواہشات کے غلبے کے علاوہ دو تین دیگر الزامات لگائے، جس کے سننے کے بعد میرے دل میں (نعوذ بااللہ) حضور ﷺکے بارے میں نفرت پیدا ہوگئی اور جب میں لندن کے ہوائی اڈے پر اترا تو میں مسلمان نہیں تھا۔
آٹھ سال انگلستان میں قیام کے دوران میں کسی مسلمان کو نہیں ملتا تھا، حتیٰ کہ عید کی نماز تک میں نے ترک کر دی۔ اتوار کو میں گرجوں میں جاتا اور وہاں کے مسلمان مجھے عیسائی کہتے تھے۔
جب میں آٹھ سال بعد واپس پاکستان آیا تو ہڈی جوڑ کا ماہر بن کر لیاقت میڈیکل کالج میں کام شروع کیا ۔ یہاں بھی میری وہی عادت رہی ۔ آج رات اس لیکچرار کا بیان سن کر میرا دل صاف ہو گیا اور میں نے پھر سے کلمہ پڑھا ہے۔
غور کیجئے ایک عورت کے چند کلمات نے مسلمان کو کتنا گمراہ کیا اور اگر آج ڈاکٹر عنایت اللہ کا یہ بیان نہ سنتا تو پتہ نہیں میرا کیا بنتا؟
اس کی وجہ ہم مسلمانوں کی کم علمی ہے۔ ہم حضور ﷺ کی زندگی کے متعلق نہ پڑھتے ہیں اور نہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔
کئی میٹنگز میں جب کوئی ایسی بات کرتا ہے تو مسلمان کوئی جواب نہیں دیتے، ٹال دیتے ہیں۔ جس سے اعتراض کرنے والوں کےحوصلے بلند ہوجاتے ہیں ۔
اس لئیے بہت اہم ہے کہ ہم اس موضوع کا مطالعہ کریں اور موقع پر حقیقت لوگوں کو بتائیں ۔
میں ایک دفعہ بہاولپور سے ملتان بذریعہ بس سفر کر رہا تھا کہ ایک آدمی لوگوں کو حضور ﷺ کی شادیوں کے بارے میں گمراہ کر رہا تھا۔ میں نے اس سے بات شروع کی تو وہ چپ ہوگیا اور باقی لوگ بھی ادھر ادھر ہوگئے۔
لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کی خاطر جانیں قربان کی ہیں۔ کیا ہما رے پاس اتنا وقت نہیں کہ ہم اس موضوع کے چیدہ چیدہ نکات کو یاد کر لیں اور موقع پر لوگوں کو بتائیں ۔
اس بات کا احساس مجھے ایک دوست ڈاکٹر نے دلایا جو انگلستان میں ہوتے ہیں اور یہاں ایک جماعت کے ساتھ آئے تھے ۔ انگلستان میں ڈاکٹر صاحب کے کافی دوست دوسرے مذاہب سے تعلق رکھتے تھے ، وہ ان کو اس موضوع پر صحیح معلومات فراہم کرتے رہتے ہیں ۔
انہوں نے چیدہ چیدہ نکات بتائے، جو میں پیش خدمت کررہا ہوں۔ اتوار کے دن ڈاکٹر صاحب اپنے دوستو ں کے ذریعے ”گرجا گھر“ چلے جاتے ہیں ، وہاں اپنا تعارف اور نبی کریم ﷺکا تعارف کراتے ہیں ۔ عیسائی لوگ خاص کر مستورات آپ کی شادیوں پر اعتراض کرتی ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب جو جوابات دیتے وہ مندرجہ ذیل ہیں:
◀ (1) میرے پیارے نبی ﷺ نے عالم شباب میں (25 سال کی عمر میں) ایک سن رسیدہ بیوہ خاتون حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر 40 سال تھی اور جب تک حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا زندہ رہیں آپ نے دوسری شادی نہیں کی۔
50 سال کی عمر تک آپ نے ایک بیوی پر قناعت کیا ۔ (اگر کسی شخص میں نفسانی خواہشات کا غلبہ ہو تو وہ عالم ِ شباب کے 25 سال ایک بیوہ خاتون کے ساتھ گزارنے پر اکتفا نہیں کرتا ) حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد مختلف وجوہات کی بناء پر آپ ﷺنے نکا ح کئے ۔

پھر اسی مجمع سے ڈاکٹر صاحب نے سوال پوچھا کہ یہاں بہت سے نوجوان بیٹھے ہیں ...... آپ میں سے کون جوان ہے جو 40 سال کی بیوہ سے شادی کرے گا....؟
سب خاموش رھے ۔ ڈاکٹر صاحب نے ان کو بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے یہ کیا ہے ، پھر ڈاکٹر صاحب نے سب کو بتایا کہ جو گیارہ شادیاں آپ ﷺنے کی ہیں سوائے ایک کے، باقی سب بیوگان تھیں ۔ یہ سن کر سب حیران ہوئے ۔
پھر مجمع کو بتایا کہ جنگ اُحد میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہوئے ۔ نصف سے زیادہ گھرانے بے آسرا ہوگئے ، بیوگان اور یتیموں کا کوئی سہارا نہ رہا۔
اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بیوگان سے شادی کرنے کو کہا ، لوگوں کو ترغیب دینے کے لئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔۔۔
◀ (2) حضرت سودہ رضی اللہ عنہا
◀ (3) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور
◀ (4)حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا سے مختلف اوقات میں نکاح کئے ۔ آپ کو دیکھا دیکھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیوگان سے شادیاں کیں جس کی وجہ سے بے آسرا خواتین کے گھر آباد ہوگئے -
◀ (5) عربوں میں کثرت ازواج کا رواج تھا۔ دوسرے شادی کے ذریعے قبائل کو قریب لانا اور اسلام کے فروغ کا مقصد آپ ﷺ کے پیش نظر تھا۔
ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ عربوں میں دستور تھا کہ جو شخص ان کا داماد بن جاتا اس کے خلاف جنگ کرنا اپنی عزت کے خلاف سمجھتے۔
ابوسفیان رضی اللہ عنہ اسلام لانے سے پہلے حضور ﷺکے شدید ترین مخالف تھے ۔ مگر جب ان کی بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے حضور ﷺ کا نکاح ہوا تو یہ دشمنی کم ہو گئی۔ ہوا یہ کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا شروع میں مسلمان ہو کر اپنے مسلمان شوہر کے ساتھ حبشہ ہجرت کر گئیں ، وہاں ان کا خاوند نصرانی ہو گیا ۔
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اس سے علیحدگی اختیار کی اور بہت مشکلات سے گھر پہنچیں ۔ حضور ﷺ نے ان کی دل جوئی فرمائی اور بادشاہ حبشہ کے ذریعے ان سے نکاح کیا.
◀ (6) حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کا والد قبیلہ مصطلق کا سردار تھا۔ یہ قبیلہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان رہتا تھا ۔ حضور ﷺ نے اس قبیلہ سے جہاد کیا ، ان کا سردار مارا گیا ۔
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا قید ہوکر ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مشورہ کر کے سر دار کی بیٹی کا نکاح حضور ﷺ سے کر دیا اور اس نکاح کی برکت سے اس قبیلہ کے سو گھرانے آزاد ہوئے اور سب مسلمان ہو گئے ۔
◀ (7) خیبر کی لڑائی میں یہودی سردار کی بیٹی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا قید ہو کر ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مشورے سے ا ن کا نکاح حضور اکرم ﷺ سے کرا دیا ۔
◀ (8) اسی طر ح میمونہ رضی الله عنہا سے نکاح کی وجہ سے نجد کے علاقہ میں اسلام پھیلا ۔ ان شادیوں کا مقصد یہ بھی تھا کہ لوگ حضور ﷺکے قریب آسکیں ، اخلاقِ نبی کا مشاہدہ کر سکیں تاکہ انہیں راہ ہدایت نصیب ہو ۔
◀ (9) حضرت ماریہ رضی اللہ عنہا سے نکاح بھی اسی سلسلہ کی کڑی تھا۔ آپ پہلے مسیحی تھیں اور ان کا تعلق ایک شاہی خاندان سے تھا۔ ان کو بازنطینی بادشاہ شاہ مقوقس نے بطور ہدیہ کے آپ ﷺکی خدمت اقدس میں بھیجا تھا۔
◀ (10) حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح متبنی کی رسم توڑنے کے لیے کیا ۔ حضرت زید رضی الله عنہ حضور ﷺ کے متبنی(منہ بولے بیٹے) کہلائے تھے، ان کا نکاح حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے ہوا ۔ مناسبت نہ ہونے پر حضرت زید رضی الله عنہ نے انہیں طلاق دے دی تو حضور ﷺنے نکاح کر لیا اور ثابت کردیا کہ متبنی ہرگز حقیقی بیٹے کے ذیل میں نہیں آتا.
◀ (11) اپنا کلام جاری رکھتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ علوم اسلامیہ کا سرچشمہ قرآنِ پاک اور حضور اقدس ﷺ کی سیرت پاک ہے۔
آپ ﷺکی سیرت پاک کا ہر ایک پہلو محفوظ کرنے کے لیے مردوں میں خاص کر اصحاب ِ صفہ رضی الله عنہم نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ عورتوں میں اس کام کے لئیے ایک جماعت کی ضرورت تھی۔
ایک صحابیہ سے کام کرنا مشکل تھا ۔ اس کام کی تکمیل کے لئیے آپ ﷺ نے کئی نکاح کیے ۔ آپ نے حکما ً ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کو ارشاد فرمایا تھا کہ ہر اس بات کو نوٹ کریں جو رات کے اندھیرے میں دیکھیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جو بہت ذہین، زیرک اور فہیم تھیں، حضور ﷺ نے نسوانی احکام و مسائل کے متعلق آپ کو خاص طور پر تعلیم دی ۔
حضور اقدس ﷺ کی وفات کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا 48 سال تک زندہ رہیں اور 2210 احادیث آپ رضی اللہ عنہا سے مروی ہیں ۔
صحابہ کرام رضی اللہ علیہم اجمعین فرماتے ہیں کہ جب کسی مسئلے میں شک ہوتا ہے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس کا علم ہوتا ۔

اسی طرح حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایات کی تعداد 368 ہے ۔
ان حالا ت سے ظاہر ہوا کہ ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے گھر، عورتوں کی دینی درسگاہیں تھیں کیونکہ یہ تعلیم قیامت تک کے لئیے تھیں اور سار ی دنیا کے لیے تھیں اور ذرائع ابلاغ محدود تھے، اس لیے کتنا جانفشانی سے یہ کام کیا گیا ہو گا، اس کا اندازہ آج نہیں لگایا جاسکتا۔
آخر میں ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ یہ مذکورہ بالا بیان میں گرجوں میں لوگوں کو سناتا ہوں اور وہ سنتے ہیں ۔ باقی ہدایت دینا تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ۔
اگر پڑھے لکھے مسلمان ان نکات کو یاد کرلیں اور کوئی بدبخت حضور ﷺ کی ذات پر حملہ کرے تو ہم سب اس کا دفاع کریں ۔
🌹جزی الله عنا سيدنا محمدا صلی اللہ علیہ وسلم بما هو اهله🌹
کم سے کم اسکو اپنے ہر گروپ وہاٹساپ فیس بک اور تمام کونٹیکٹ بک پر شیر کرکے اپنی ذمہ داری نبھائیں
اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے اور عمل کرنے والا بنائے ۔ (آمین

This live is so much fun!
18/02/2023

This live is so much fun!

55 watched this livestream

لسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهالحمدللہ! آپ لوگوں کے تعاون اور کوشش سے اس دفعہ 2021-01-31 کو  ماشااللہ س...
05/02/2021

لسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُه

الحمدللہ! آپ لوگوں کے تعاون اور کوشش سے اس دفعہ 2021-01-31 کو ماشااللہ سے یہ ایصال ثواب کیا گیا ہے

ماشااللہ سے *40 کڑور، 73 لاکھ، 22 ہزار درود شریف* ایصال ثواب کیا گیا ہے
ماشااللہ سے *2کروڑ 51لاکھ کلمہ طیبہ* ایصال ثواب کیا گیا ہے

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.esawab

ہمارے ادارے کا مقصد "ایصال ثواب" ایپ کو 👆🏼👆🏼
امت محمدیہ میں متعارف کروانا ہے،
جن کے پیارے اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے ہیں اور ان کے لواحقین میں کوئی ان کو ذکر و اذکار پڑھ کر بخشنے والا نہیں اور اگر کوئی ہے بھی تو دنیاوی مصروفیات کے باعث وہ زیادہ ذکر و اذکار پڑھ کر اپنے پیاروں کو ایصال نہیں کرسکتے تو یہ ایپ ایک بہترین ذریعہ ہے
اس کے ذریعے آپ اپنے پیاروں کو لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں ایصال ثواب بھیج سکتے ہیں،
ہر مہینے ماہانہ اجتماعی دعا میں تمام پڑھا ہوا ذکر و اذکار لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں اکٹھا کرکے آپکے درج کیئے گئے مرحومین کو ایصال ثواب کیا جاتا ہے، اور آپکی بھیجی گئی حاجات کی اجتماعی دعا کروائی جاتی ہے
تو آپ بھی اپنے مرحومین کے نام کے ساتھ اپنا پڑھا ہوا ذکر و اذکار اور حاجات اس ایپ میں اندراج کروائیں
اس ایپ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں اور ڈھیروں نیکیاں کمائیں
یہ آپ کی آخرت کیلیئے صدقہ جاریہ ہے
اللّٰہ پاک ہماری اس کوشش کو قبول فرمائے آمین
یہ ایپ انسٹال یااستعمال کرتے ہوئے اگر کوئی مشکل پیش آئے تو ان👇نمبروں پر رابطہ کر سکتے ہیں
علی باجوہ سیفی: 03343910635
اجمل سیفی: 03463247051

ایصال ثواب گروپ(1)
https://chat.whatsapp.com/3oGKPZsiM6qEiQe3PwJ3na
ایصال ثواب گروپ(2)
https://chat.whatsapp.com/L41H5Exw44BBxF7UQpNi4l *

*باب الاحسان مرکزی کمیٹی کراچی*

Please Namaz ki pabandi lazmi Raken.Or mojooda halat me ziada se ziada ye parhte rahen.
25/03/2020

Please Namaz ki pabandi lazmi Raken.
Or mojooda halat me ziada se ziada ye parhte rahen.

21/12/2019
06/11/2019

ھمارے اندر تقریبا ساڑھے تین کروڑ نسیں ہیں ذکر قلبی کا نور نس نس سے پورے خون میں چلا جاتا ہے۔ جب پورے خون میں چلا گیا تو اس وقت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ تو ایک دفعہ اللہ کرے گا تجھے ساڑھے تین کڑوڑ اللہ اللہ کرنے کا ثواب ملے گا۔
یہ تیرے اندر ساڑھے تین کروڑ نسیں ہیں دل نے ایک دفعہ اللہ کیا ساڑھے تین کروڑ نسیں اﷲ کے ذکرسے گونج اُٹھیں۔ اگر کسی کا دل ایک دفعہ اللہ کرے تو۔ یہ جو مسام ہیں جہاں سے پسینہ آتا ہے یہ بہتر ہزار ہوتے ہیں۔ دل نے ایک دفعہ اللہ کا ذکر کیا 72ہزاربارمسام بھی ذکر الله کرنے لگے اور
یہ جو انسان کے اندر ریڈ جمز ہوتے ہیں وہ بھی اللہ اللہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ وہ تو کھربوں کے حساب سے ہوتے ہیں۔

جب دل ذاکر ہوگیا تو سوتے جاگتے، کھاتے پیتے ہر وقت دل ذکر اللہ، اللہ، اللہ، کرتا رہے گا۔ اگر آپ یہ قلبی دولت حاصل کرنا چاھتے ہیں
تو ان لوگوں کے پاس بیٹھیں جنکا دل ذاکر ہے .انشااللہ آپ کو ذکر کرنے کا طریقہ بھی سکھائیں گے اور انکی نگاہ کے صدقے اپکا دل بھی ذکرالله کرنے لگے گا ..
پھرحقیقت میں ایک نئی زندگی ملے گی گناہوں سے نفرت ہوجائے گی نمازوعبادت میں سکون و سرور ملے گا.
انشاءاللہ،،، رامین
0334-3331223

Address

Gulistan-e-jouhar
Karachi

Telephone

+923022247561

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rohani Ilajj posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Rohani Ilajj:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram