V-Care Pharmacy

V-Care Pharmacy Aims to Bring quality services and Health care products to its valued customers.

We believe that quality Health Care should be accessible to every one & we are determined to provide safe and affordable pharmacy with prompt,convenient & courteous service.

25/06/2023
11/06/2022

جیسے ہی 1989ء میں انقلابِ فرانس کے دو سو سال مکمل ہوئے، تو اسے جشن کے طور پر منانے کے لئے تقریبات کی دھوم دھام سے تیاریاں ہونے لگیں۔ فرانس کے صدر متراں نے اس سلسلے میں عالمی سرمایہ دارانہ استعمار کے سب سے بڑے اتحاد "G.7" کی کانفرنس بلانے کا بھی اعلان کر دیا۔ یہ گروپ امریکہ، برطانیہ، فرانس، کینیڈا، جرمنی، جاپان اور اٹلی پر مشتمل ہے۔

فرانس کے وہ دانشور اور انقلابی سوچ رکھنے والے اہم افراد، جو انقلابِ فرانس کو بادشاہتوں اور آمریتوں کے خلاف جدوجہد کا سنگِ میل سمجھتے تھے، انہوں نے متراں کے اس اقدام کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کی ٹھانی۔ ان شخصیات نے مل کر ایک گروپ تشکیل دیا جس کا فرانسیسی میں نام "Ca Suffat Commaci" رکھا گیا جس کا مطلب ہے " It's enough" یعنی بہت ہو گیا۔

اس گروپ کے اہم لوگوں میں فرانس کا مشہور ادیب اور ناول نگار گائز پیرول (Gilles Perrault) اور انتہائی مقبول گلوکار رینوڈ (Renaud) شامل تھے۔ لیکن ان انقلابیوں میں ایک ایسا فرد بھی تھا جس نے عالمی مالیاتی سودی نظام کے غریب ملکوں کو قرضے کے جال میں پھنسانے کے ہتھکنڈوں کے خلاف کئی سالوں سے آواز بلند کر رکھی تھی۔

اس شخص کا نام ارنسٹ مینڈل (Ernest Mandel) تھا جو بلجیئم کا رہنے والا ایک ماہرِ معاشیات تھا۔ اس نے ستر کی دہائی سے یہ تصور پیش کرنا شروع کیا تھا کہ دُنیا میں امن، سکون، فلاح اور اطمینان اس وقت ہی ممکن ہے اگر سرمایہ دار ممالک نے جو قرض غریب اقوام کو دے رکھا ہے، وہ یہ تمام قرض معاف کر دیں۔

اوّل تو یہ ان ممالک سے پہلے ہی کئی گنا وصول کر چکے ہیں اور دوسرا یہ کہ ان تمام غریب ممالک کے وسائل اس قابل ضرور ہیں کہ وہ اپنے پائوں پر کھڑے ہو سکیں، لیکن قرض کی ادائیگی انہیں ایسا کرنے نہیں دیتی۔ مینڈل کے اس نعرۂ مستانہ کو قرضوں سے آزادی "Debt Jubilee" کے نام سے آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ پیرس میں جی۔ 7 کے انعقاد کے خلاف جہاں بڑے بڑے مظاہرے ہوئے، وہیں بیسٹائل اپیل "Bastille Appeal" کے نام سے ایک جاندار تحریر لکھی گئی کہ تمام ترقی یافتہ ممالک غریب ملکوں کے قرضے معاف کر دیں۔

اس تحریر کی کوکھ سے ایک انتہائی متحرک اور جاندار تنظیم نے جنم لیا جس کا نام ہے "Committee for the Abolition of Illegitimate Debt"۔ ناجائز قرضوں کے خاتمے کی کمیٹی رکھا گیا۔ اس تنظیم کا قیام ارنسٹ مینڈل کے ایک دوست اور اسی کے ملک کے باسی ایرک تسانٹ "Eric Toussaint" اور اس کے ساتھیوں کی وجہ سے ہوا۔

برسلز میں قائم یہ تنظیم اس وقت تک جنوبی امریکہ کے چار ممالک کو اپنی کوششوں اور شبانہ روز محنت سے عالمی قرضوں سے نجات دلا چکی ہے۔ ان ممالک میں ایکواڈور اور پیراگوائے سرفہرست ہیں۔ یہ کمیٹی دُنیا پر غاصبانہ طور پر قابض عالمی سودی مالیاتی نظام کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہونے والی سب سے توانا آواز ہے۔

عمران خان کی حکومت کو گئے ہوئے تقریباً دو ماہ مکمل ہونے کو ہیں، جبکہ پاکستان میں اس سیاسی بحران کو نازل ہوئے نوے دن کا عرصہ ہو چکا ہے۔ دُنیا بھر کے تجزیہ نگار اخبارات و رسائل میں تبصرے شائع ہو رہے ہیں، ٹیلی ویژن چینل پر ٹاک شوز ہو رہے۔

پاکستان کے میڈیا کو اشتہارات کی لذت حکومت کی ڈانٹ نے بہت حد تک خاموش کر دیا ہے، مگر پھر بھی آزادانہ تبصرہ برآمد ہو ہی جاتا ہے۔ لیکن اس دو ماہ کے عرصے میں پاکستان کے بدترین معاشی حالات پر بھی، ناجائز قرضوں کے خاتمے کی اسی کمیٹی (CADTM)کی ویب سائٹ پر کوئی گفتگو نہ ہوئی، لیکن اب چند دن پہلے پاکستان پر ایک تفصیلی مضمون شائع ہوا ہے جس میں عمران خان کی حکومتی تبدیلی (Regime Change) کی وجوہات، اس کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی بھونچال (Political Turmoil) اور پاکستان پر گہرے ہوتے ہوئے قرضوں کے سائے کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

مضمون میں عمران خان حکومت سے امریکہ کی ناراضگی کی تین بڑی وجوہات بتائی گئیں ہیں جن میں سب سے اہم وجہ عمران خان کا وہ اقدام تھا جس کے تحت اس نے دُنیا بھر کے ممالک کے سرمایہ کاروں کے پاکستان کے ساتھ ہونے والے تیئس (23) معاہدوں کی منسوخی اور ان کے ساتھ نئے معاہدوں کو تحریر کرنے کا آغاز کیا تھا۔ عمران خان نے برسراقتدار آتے ہی اس بات کا اندازہ کر لیا تھا گذشتہ حکومتیں پاکستان کو ایسے عالمی معاہدوں میں پھنسا گئی ہیں جن کی وجہ سے حکومت کے ہاتھ مکمل طور پر بندھ چکے ہیں اور ملک کا مفاد تباہ ہو رہا ہے۔

سرمایہ کار کا تحفظ (Investor Protection) کا عالمی تصور وہ جال ہے جس کے تحت کوئی بھی مقامی حکمران عوامی مفاد کے تحت کوئی قدم نہیں اُٹھا سکتا۔ عمران خان کے اقتدار میں آنے کے ایک سال بعد ہی ورلڈ بینک کے ایک ذیلی ادارے "انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انوسٹمنٹ ڈسپیوٹس" (ICSID) نے تین پرائیویٹ ججوں کا ایک ٹربیونل بنایا جس کی تمام کارروائی بند کمرے میں ہوتی رہی۔

اس ٹربیونل نے اپنے اس خفیہ چلائے جانے والے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان کو چھ ارب ڈالر اس آسٹریلین کمپنی کو تاوان کے طور کو ادا کرنے کے لئے کہا جس کا لائسنس اس بنیاد پر منسوخ کر دیا گیا تھا کہ اس پراجیکٹ سے ماحولیاتی آلودگی ہو سکتی ہے۔ ایک اور مقدمے میں ٹیتھیان کاپر (Tethyan Copper) کو بھی ایسے ہی ایک اور ٹربیونل نے پاکستان کو گیارہ ارب ڈالر تاوان ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس ٹربیونل کی کارروائی بھی بند کمرے میں خفیہ طور پر ہوتی رہی۔ یہ ٹربیونل عالمی چیمبر آف کامرس کے تحت قائم تھا۔

عمران خان کی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف طویل قانونی جدوجہد کی۔ یہ موقف بھی اپنایا گیا کہ اس فیصلے پر عمل درآمد سے ہماری غربت میں اضافہ ہو گا اور کمپنی کے لئے بھی ایسی فضا میں کام کرنا مشکل ہو جائے گا۔ مگر "ICSID" کے فیصلے کو نافذ کرنے والی امریکی عدالت نے پاکستان کے مقدمے کا تمسخر اُڑاتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بے سروپا خواہش کے سوا کچھ نہیں۔

عمران خان نے دوست ممالک کے بیرونی مصالحت کاروں کے ذریعے ٹیتھیان سے گفتگو کا آغاز کیا اور 2022ء کے آغاز میں ہی کمپنی کے ساتھ معاہدہ مکمل کر لیا۔ اس معاہدے کے اعلان کے فوراً بعد دُنیا بھر کے سرمایہ کاروں میں ایک خوف کی لہر دوڑ گئی۔ اس لئے کہ اب ICSID کو ان تمام کیسوں کا فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان کے اس معاہدے کو بھی نظر میں رکھنا پڑنا تھا۔

اس ٹربیونل کے سامنے اس وقت میکسیکو میں او ڈیسی کمپنی کا 4 ارب ڈالر کا معاہدہ اور دیگر کئی عالمی معاہدے زیرِ سماعت تھے۔ یہ صرف ایک معاہدہ نہیں تھا جو پاکستان کے مفادات کے خلاف کیا گیا تھا بلکہ ایسے کئی معاہدوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے خلاف دس کمپنیاں عالمی عدالتوں میں جا چکی تھیں۔ ایسے تیئس معاہدے تھے جو زرداری اور نواز شریف حکومتوں نے پاکستان کے مفادات کے خلاف کئے تھے، جن کا جائزہ لینے کے لئے عمران خان نے ایک ٹربیونل بنا دیا۔

وہ دس معاہدے جن کے خلاف کمپنیاں عالمی عدالتوں میں چلی گئی تھیں ان میں سے نو کمپنیوں کے ملکوں کی حکومتوں سے پاکستان نے رابطہ کیا اور معاہدوں میں ترامیم کے لئے گفتگو شروع کی۔ ان کمپنیوں کے ساتھ حکومتوں کے ذریعے طویل مذاکرات ہوئے اور معاہدات کو ازسر نو تحریر کرنے پر اتفاق ہو گیا۔ اس تبدیلی کے لئے سمری 5 اگست 2021ء کو تیار کر لی گئی۔

اس سمری کے تحت تیئس کمپنیوں کے معاہدات دوبارہ لکھے جانا تھے اور سولہ مزید معاہدات جن پر اتفاق تو ہو چکا تھا مگر سرکاری منظوری (Ratify) ابھی باقی تھی ان کو کینسل کر دیا گیا۔ یہ ہے "رجیم چینج" کی کہانی کی مختصر سی جھلک۔ یہ ہے وہ ناقابلِ معافی جرم جو عمران خان کی حکومت سے سرزد ہوا۔ اگر عمران خان ایسا کر گزرتا تو نہ صرف یہ کہ پاکستان کا مالی مفاد مستحکم ہو جاتا بلکہ دُنیا بھر کے ممالک میں پھیلے ہوئے عالمی مالیاتی شکنجے کے خلاف بھی لاتعداد آوازیں اُٹھنے لگتیں۔

ایسے "ناخلف" اور گستاخ شخص کی حکومت کو تو برطرف ہونا ہی تھا۔

24/05/2022

An ISOPP webinar on ISOPP Standards of Practice - Revised Release Update Saturday, May 21, 2022 at 07:00 PDT (Click here to find your local time)

جب ملک کی دولت لوٹ کر بیرونی ملک لے جاکر اپنی جائیدادیں بناتے رھے 70 سالوں میں.  جب ملک کی ایکسپورٹ کم ہونے لگ جائے اور ...
09/05/2022

جب ملک کی دولت لوٹ کر بیرونی ملک لے جاکر اپنی جائیدادیں بناتے رھے 70 سالوں میں.
جب ملک کی ایکسپورٹ کم ہونے لگ جائے اور امپورٹ بڑھتی جائے.

جب عوام کے ٹیکس پر عیاشی کی جائے.

جب بیرونی ملک پاکستانیوں کی وطن واپسی پر لوٹا جائے.

تو اورسیز پاکستانی وطن واپس نہیں ائیں گے اور نا وہ پاکستان میں اپنا سرمایہ لگائیں گے.

جب ملک میں ڈیم نہیں ہوگا. تو پانی نہیں ہوگا. تو بجلی نہیں ہوگی. تو انڈسٹریز بند ہو جائیں گی.

تو فصلیں نہیں ہوگی. تو ایکسپورٹ نہیں ہوگی.

تو بجلی نہیں ہوگی بجلی ہوگی تو بہت مھنگی ہوگی. بیروزگاری بڑھے گی.

ملک میں جب اپ کے لیڈران قوم کو فقیر قوم بول دے اور ملک میں فقیروں کی تعداد بڑھتی جائے. سندھ بلوچستان کی عوام غریب سے غریب ہوتی جا رھی ہے.

سری لنکا کی طرح پاکستان بھی ادم استحکام کی طرف بڑھتا جا رہا ہے.

شھباز شریف روس سے سستا تیل اور گندم کیوں نہیں خرید سکتا.

ضروری ہے سعودی عرب سے مھنگا تیل خریدا جائے.

شھباز شریف سرکولر ڈیبٹ کیوں ختم نہیں کرسکتا ہے. ضروری ہے فرنس ائل. گیس. کول کے بجلی کے گھر کی مھنگی بجلی عوام کو دی جائے. پانی سے سستی بجلی پیدا کر کے عوام کو کیوں نہیں دی جاسکتی. اس لئے کہ پانی سے پیدا ہونے والی سستی بجلی پر حکومت کا اختیار ہوتا ہے. جبکہ گیس کول تیل سے چلنے والے بجلی گھروں پر ن لیگ یا زرداری کی حکمرانی ہے.

اپنے لیڈروں سے پوچھو ایسا کیوں کیا.

تو ملک کیا خاک ترقی کرے گا.

Number of people visit and complian about their Lower back Is Hurting.. Its although affects your productivity and a you...
24/09/2020

Number of people visit and complian about their Lower back Is Hurting.. Its although affects your productivity and a your dedication towards work.Its a common disorder among the desk or office users as they are maintaining a same posture for a long time. Prolonged sitting can make your back muscles stiff and can cause you mild moderate or severe pain.. Here are some effective poses that can help you to relieve from the symptoms of Lower back pain.. For a further assistance visit a medical professionalist. WARNING: Do not neglect the mild pain as it can cause severe damage to the backbone..

Pluse oximeter Avilable
03/07/2020

Pluse oximeter Avilable

Address

Shop # 15 Al-Mansoor Plaza Block 13-C, Gulshan-e-Iqbal
Karachi
75300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when V-Care Pharmacy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to V-Care Pharmacy:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram