13/08/2025
یہ مقدس زمین ہمیں کیسے ملی؟
پاکستان کئی قربانیوں کے بعد معرضِ وجود میں آیا، اس میں لاکھوں مسلمانوں کی ہجرت، جان و مال کی قربانیاں، اور سیاسی جدوجہد شامل ہیں۔ برطانوی راج سے آزادی کے حصول کے لئے مسلمانوں نے بے پناہ قربانیاں دیں تاکہ ایک الگ وطن حاصل کیا جا سکے جہاں وہ اپنے مذہبی اور ثقافتی اقدار کے مطابق زندگی گزار سکیں۔
قیامِ پاکستان کے لئے مسلمانوں کو جن مشکلات اور قربانیوں کا سامنا کرنا پڑا ان میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
ہجرت اور بے دخلی:
تقسیمِ ہند کے بعد لاکھوں مسلمانوں کو اپنے گھروں اور زمینوں کو چھوڑ کر پاکستان ہجرت کرنا پڑی۔ اس ہجرت کے دوران انہیں بے شمار مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا، جن میں بھوک، پیاس، بیماری اور تشدد شامل ہیں۔
مالی نقصانات:
ہجرت کرنے والے مسلمانوں کو اپنے گھر، کاروبار اور جائیدادیں چھوڑنی پڑیں جس کے نتیجے میں انہیں مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
جانوں کی قربانی:
ہجرت کے دوران اور اس سے پہلے، ہندو مسلم فسادات میں لاکھوں مسلمانوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔
سیاسی جدوجہد:
مسلمانوں نے ایک الگ وطن کے حصول کے لیے طویل سیاسی جدوجہد کی۔ قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں تحریکِ پاکستان نے برطانوی حکومت اور ہندو رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کیے اور آخر کار پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔
ثقافتی اور مذہبی قربانیاں:
قیامِ پاکستان کا مقصد مسلمانوں کو ایک ایسا ملک فراہم کرنا تھا جہاں وہ اپنے مذہبی اور ثقافتی اقدار کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے اپنی ثقافتی اور مذہبی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے بے تحاشہ قربانیاں دیں۔
حصول وطن میں علماء کا کردار، شہادتیں وقربانیاں:
آزادی دنيا کی سب سے بڑی نعمت اور غلامی دنيا کی سب سے بڑی لعنت ہے، آزادی کی زندگی کا ايک دن غلامی کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے - آزادی يوں ہی نہيں مل جاتی آزادی بہت قيمت مانگتی ہے. اس عظيم نعمت کو حاصل کرنے کے ليۓ انسان کو بيش بہا قربانياں دينا پڑتی ہيں -
تاريخ اٹھا کر ديکھيں تو پتا چلتا ہے ہر دور ميں انسان نے اس کی قيمت ادا کی ہے. دنيا کے نقشے پر آزاد ممالک کا نام بے تحاشہ جدوجہد ، قربانيوں اور دکھوں کے بعد تحرير ہوا ہے. الجزائر کے لوگ اس وقت تک منزل آزادی سے ہمکنار نہيں ہوئے جب تک بن نيلا کے بدن پر زخموں کے ستر نشان ثبت نہيں ہوئے. انڈونيشيا کي عوام کے ليے غلامی کی سياہ رات اس وقت تک نہین بدلی جب تک انہوں نے اپنے زخمی ہاتھوں سے اپنے لہو کے چراغ نہيں جلائے۔
پاکستان اس وقت تک نقشہ عالم پر نہيں ابھرا جب تک شہروں ، بستيوں ، گليوں اور بازاروں ميں خون کی ہولی نہيں کھيلی گئ. اس کے ليۓ ان گنت ماؤں کے کليجے کٹ کٹ کر گرے، لاکھوں عورتوں نے اپنے سہاگ اس کی نظر کر ديۓ اور لاکھوں بچے يتيم ہو گۓ -
قومیں جب عزت وسعادت کی میز پر آمنے سامنے بیٹھتیں ھیں تو وہاں ووٹ نہیں لاشیں شمار کی جاتی ھیں ..
جس قوم کی لاشیں زیادہ ھوں گی وھی اول دستہ کہلائے گی
جدوجھد آزادی میں قربانیوں کی لمبی دستانیں ھیں۔
لیکن
اس مختصر تحریر میں صرف، ان جانباز علما کا اجمالی تذکرہ کروں گا جن کو توپوں کے دھانوں کے ساتھ باندھ کر اڑیاگیا ..
جن کو سور کے کھال میں سلواکر گرم تیل میں ڈالاگیا، مالٹا، کالا پانی جیسے بد نام زمانە جیلوں میں رە کر تختە دار کو چوم کر بھی فرنگی سامراج کے خلاف جدوجھد آزادی سے دسبردار نە ھوئے
بلکە آئندہ نسلوں میں علما اور مشائخ کو یە پیغام دے گئے۔
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری ..
(1) 👈1600ء کے بعد انگریز برصغیر میں داخل ہوا اور یہاں کی آزادی پر ڈاکہ ڈالا گیا -
(2) 👈1803ء میں شاہ عبدالعزیز رحمتە اللہ نے انگریز کے خلاف جہاد کا فتویٰ صادر فرمایا -
(3)👈 تحریک کی کمان رحمتە اللہ اور شاہ اسماعیل رح نے کی اور بے شمار علاقوں میں انگریز کو شکست دی -
(4) 👈1831ء میں سیّد احمد رحمتہ اللہ ا ور شاہ اسماعیل رحمتە اللہ بالاکوٹ کے مقام پر بیشمار رفقاء کے ہمراہ جام شھادت نوش فرمائی....
یہ بالاکوٹ کی نگری شہیدوں کی نشانی ہے
بیاں کرتی وفائے دین و ملت کی کہانی ہے
اسی دھرتی پہ گونجی تھی صدائے حق نما یارو
اسی خطے سے وابستہ فلک کی ترجمانی ہے
زمینِ ہند سے تحریک اٹھی گرم جوشوں کی
پلٹ کر رکھ دیں جس نے بازیاں سب دہر پوشوں کی
تھے قائد شاہ اسماعیل اور احمد شہید ان کے
تھی طاری کفر پر ہیبت جیالے سرفروشوں کی
(5)👈 1857ء کی جنگ آزادی کا اہم ترین معرکہ "شاملی" کے میدان میں لگا, جہاں انگریز کو سخت جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا - اس معرکہ کے سپہ سالار حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ تھے اور انکے خاص کمانڈروں میں حافظ محمد ضامن,مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی جیسے جلیل القدر علماء شامل تھے. اس معرکہ میں بے شمار علماء و طلباء شہید ہوئے اور مسلمانوں کو شکست سے دو چار ہونا پڑا -
بیس بڑے مسلمان نامی کتاب میں لکھا ھے کہ دھلی اور بمبئی کے درمیان کوئی درخت ایسا نە تھا جہاں علما کی لاشیں نە لٹک رہیں ھو..
(6)👈 مولانا فضل حق خیر آبادی ودیگر علماء کو فتویٰ جہاد کے جرم میں کالے پانی (جزائر انڈومان) سزا دی گئی -
(7) 👈1857ء کی شکشت کے بعد مولانا محمد قاسم نانوتوی رح ودیگر اکابرین نے اسلامی روایات کے تحفظ اور ملک کی آزادی کی خاطر 1866ء میں قصبہ دیوبند میں "دارالعلوم" نامی علمی درس گاہ کی بنیاد ڈالی- جو آگے چل کر آزادی کی تحریکوں کا مرکز و سر چشمہ ثابت ہوئی -
(8)👈 دارالعلوم دیوبند کے پہلے طالب علم محمد حسن (شیخ الہند) نے آزادی کے لیے "تحریک ریشمی رومال" شروع کی -
(9)👈 1917ء میں شریف مکہ کی غداری کی وجہ سے حجاز مقدس سے شیخ الہند کو گرفتار کرکے مولانا عزیز گل, مولانا حکیم نصرت حسین, مولانا وحید احمد, کے ہمراہ بحیرہ روم میں واقع جزائر مالٹا کی جیل میں جلا وطن کردیا گیا -
(10)👈 1919ء میں مولانا محمد علی جوہر نے انگریزوں کے خلاف تحریک خلافت شروع کی، مولانا شوکت علی اور ابوالکلام آزاد جیسے عظیم قائدین بھی ساتھ تھے-
(11)👈 مفتی محمد شفیع رح نے "مطالبہ پاکستان " کو مدلل فتویٰ کی صورت میں پیش کرکے تحریک آزادی پاکستان میں فیصلہ کُن اور موثر ترین کردار ادا کیا -
(12)👈 مفتی محمد شفیع اور مولانا شبیر احمد عثمانی نے صوبہ سرحد (خیبرپختونخوا) میں مسلم لیگ کی کامیابی کے لیے نتیجہ خیز کاوشیں اور کوششیں سر انجام دیں -
👈(13)
کسی قوم کی تاریخ اس کا اجتماعی حافظہ ھوتی ھے
اگر کسی قوم کو اس کی تاریخ سے محروم کردیا جائے تو
تو وە قوم اپنی جڑ سے کٹ جاتی ھے
15 اگست 1947 قیام پاکستان کے اگلے دن پاکستان کے دارالحکومت کراچی میں مولانا شبیر احمد عثمانی
جبکہ ڈھاکہ میں مولانا ظفر احمد عثمانی نے
پاکستان کی پہلی پرچم کشائی کا اعزاز حاصل کیا یہ دراصل قائد اعظم کی طرف سے
اعلان اور اظہار تھا کە
اس پرچم کی حفاظت صرف اور صرف علما کرسکتے ھیں ..ان محفوظ ھاتھوں سے یە پرچم کھبی سر نگو نە ھوگا
اس لئے پرچم کشائی بھی انہیں ھاتھوں سے کرائی
(14)👈 11 ستمبر 1948ء میں جب بانی پاکستان قائد اعظم رح کا انتقال ہوا تو ان کی وصیت کے مطابق مولانا شبیر احمد عثمانی رح نے ان کی نماز جنازہ کی امامت فرمائی اور تدفین کے سارے مراحل سرانجام دیے -
(15) 👈مارچ 1949ء میں پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے "قرارداد مقاصد" کے عنوان سے ایک قرارداد منظور کی تو اس میں اسلام کی بنیادی تعلیمات اساس احکامات اور اہم جزئیات کو آئین کا حصہ بنانے میں مولانا شبیر احمد عثمانی اور انکے رفقائے کار نے اپنا بھر پور کردار ادا کیا ...
تحقیق وتحریر:
✍️ محمد جاوید حُسینی
ناشر: خانقاہ حُسینیہ نقشبندیہ شاذلیہ