Hussaini Islamic Center

Hussaini Islamic Center Islamic Subjects

spiritual and physical healing, Guidance Islamic Sharia issues. & Online Quran/Qaida classes.
روحانی وجسمانی بیماری کا علاج۔
تشخیص و رہنمائی، اعمال و وظائف۔
شرعی وفقہی مسائل میں رہنمائی۔
آنلائن قرآن، حدیث، وفقہ کلاسس۔

سلسلہ وار روحانی مسائل اور انکا حلسلسلہ نمبر : 29سہل ولادت یعنی ولادت میں آسانی کا عمل سورہ انشقاق آیت نمبر 1 تا 5 روزان...
21/10/2025

سلسلہ وار روحانی مسائل اور انکا حل
سلسلہ نمبر : 29
سہل ولادت یعنی ولادت میں آسانی کا عمل
سورہ انشقاق آیت نمبر 1 تا 5 روزانہ 41 دفعہ پڑھ کر گُڑ پر دم کرکے عورت کو کھلائیں۔ پانی دم کرکے پئے۔ یہ عمل 41 دن کریں۔
حسب توفیق صدقہ لازمی دیں۔
نوٹ:..............:
وظائف، اذکار، اعمال، بطور سبب و اتمامِ حجت کے اختیار کرتے ہیں۔
فرائض و واجبات، حقوق اللہ وحقوق العباد سے غافل رہ کر حلال حرام کی تمیز کئے بغیر زندگی گزارتے ہوئے محض وظائف کرنے سے فوائد ونتائج حاصل نہیں ہونگے۔ اسباب اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ توکل اور فرائض واجبات کی پابندی ضروری ہے۔ محنت اور کوشش انسان کے ہاتھ میں ہے اسکے بعد نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں۔

اجازت خاص کیلئے کمنٹ میں ”یا اللہ“ لکھ کر اس عمل (پوسٹ) کو آگے دیگر احباب اور گروپس میں شئیر کردیں۔

مزید کسی بھی قسم کے روحانی وجسمانی مسائل کے حل، علاج، ورہنمائی کیلئے
مرکزِ علاج روحانی وقرآنی کا وزٹ کریں۔
https://facebook.com/groups/201554383225875/

یا مرکز کے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔
00923020940803 (صرف واٹس ایپ)
https://wa.me/923020940803

ناشر:
مرکز علاج روحانی وقرآنی
حُسینی اسلامک سینٹر
زیر انتظام:
خانقاہ حُسینیہ نقشبندیہ شاذلیہ

*⚠️ اہم اطلاع: ڈینگی بخار تیزی سے پھیل رہا ہے ⚠️*مرکز علاج کے تمام ممبرانز سے گزارش ہے کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔  🦟...
20/10/2025

*⚠️ اہم اطلاع: ڈینگی بخار تیزی سے پھیل رہا ہے ⚠️*
مرکز علاج کے تمام ممبرانز سے گزارش ہے کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔

🦟 *ڈینگی وائرس مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے، خاص طور پر صبح اور شام کے وقت۔*
📈 *اس وقت ڈینگی کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اسپتالوں میں بیڈز کم پڑ رہے ہیں،*
لہٰذا احتیاط ہی سب سے بہتر علاج ہے۔

*🛡️ احتیاطی تدابیر:*
✅ جسم کو ڈھانپ کر رکھیں (لمبی آستین، پینٹ)
✅ مچھر مار اسپرے یا لوشن استعمال کریں
✅ گھروں، چھتوں اور آس پاس پانی کھڑا نہ ہونے دیں
✅ مچھر دانی اور جالیوں کا استعمال کریں
✅ بچوں کو خاص طور پر محفوظ رکھیں

*📌 اگر کسی کو بخار، جسم درد، آنکھوں کے پیچھے درد یا سر درد ہو تو فوراً ٹیسٹ کروائیں اور ڈاکٹر سے رجوع کریں۔*

*اپنا، اپنے بچوں کا اور آس پاس کے لوگوں کا خیال رکھیں۔ یہ پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں تاکہ سب محفوظ رہیں۔*
اور درج ذیل تصویر پر دئے جانے والے اعمال کا اہتمام کریں۔

ڈینگی وائرس الرٹ !!!!!سلسلہ وار روحانی مسائل اور انکا حلسلسلہ نمبر : 28آج کل پورے پاکستان خاص کر کراچی میں مختلف وائرس ت...
28/09/2025

ڈینگی وائرس الرٹ !!!!!

سلسلہ وار روحانی مسائل اور انکا حل

سلسلہ نمبر : 28

آج کل پورے پاکستان خاص کر کراچی میں مختلف وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے جس میں سب سے خطرناک ڈینگی وائرس ہے۔ اسکے لئے انتہائی مجرب المجرب عمل حاضر ہے

”یاسلامُ“ ( 101) دفعہ۔

”یا قھارُ“ (100) دفعہ۔

” یا مُھَیمِنُ“ (29) دفعہ ۔

”سورہ فاتحہ“ (111) دفعہ۔

”یا قَوِّیُ“ (101) دفعہ۔

اول و آخر درود شریف گیارہ دفعہ۔

جب تک صحت مکمل طور پر بحال نہ ہو عمل روز کریں۔

اپنے اوپر دم کریں اور پانی پر دم کرکے پئے۔

مریض خود نہ کرسکے تو دوسرا شخص کرکے دے۔

سلسلہ نقشبندیہ شاذلیہ کی طرف سے اجازت عام ہے۔

۔صدقہ جاریہ کے طور پر زیادہ سے زیادہ شئیر کریں

حسب توفیق صدقہ لازمی دیں۔

نوٹ:..............:

وظائف، اذکار، اعمال، بطور سبب و اتمامِ حجت کے اختیار کرتے ہیں۔

فرائض و واجبات، حقوق اللہ وحقوق العباد سے غافل رہ کر حلال حرام کی تمیز کئے بغیر زندگی گزارتے ہوئے محض وظائف کرنے سے فوائد ونتائج حاصل نہیں ہونگے۔ اسباب اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ توکل اور فرائض واجبات کی پابندی ضروری ہے۔ محنت اور کوشش انسان کے ہاتھ میں ہے اسکے بعد نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں۔

اجازت خاص کیلئے کمنٹ میں ”یا اللہ“ لکھ کر اس عمل (پوسٹ) کو آگے دیگر احباب اور گروپس میں شئیر کردیں۔

مزید کسی بھی قسم کے روحانی وجسمانی مسائل کے حل، علاج، ورہنمائی کیلئے

مرکزِ علاج روحانی وقرآنی کا وزٹ کریں۔

https://facebook.com/groups/201554383225875/

یا مرکز کے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔

00923020940803 (صرف واٹس ایپ)

https://wa.me/923020940803

ناشر:

مرکز علاج روحانی وقرآنی

حُسینی اسلامک سینٹر

زیر انتظام:

خانقاہ حُسینیہ نقشبندیہ شاذلیہ

یہ مقدس زمین ہمیں کیسے ملی؟پاکستان کئی قربانیوں کے بعد معرضِ وجود میں آیا، اس میں لاکھوں مسلمانوں کی ہجرت، جان و مال کی ...
13/08/2025

یہ مقدس زمین ہمیں کیسے ملی؟

پاکستان کئی قربانیوں کے بعد معرضِ وجود میں آیا، اس میں لاکھوں مسلمانوں کی ہجرت، جان و مال کی قربانیاں، اور سیاسی جدوجہد شامل ہیں۔ برطانوی راج سے آزادی کے حصول کے لئے مسلمانوں نے بے پناہ قربانیاں دیں تاکہ ایک الگ وطن حاصل کیا جا سکے جہاں وہ اپنے مذہبی اور ثقافتی اقدار کے مطابق زندگی گزار سکیں۔
قیامِ پاکستان کے لئے مسلمانوں کو جن مشکلات اور قربانیوں کا سامنا کرنا پڑا ان میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
ہجرت اور بے دخلی:
تقسیمِ ہند کے بعد لاکھوں مسلمانوں کو اپنے گھروں اور زمینوں کو چھوڑ کر پاکستان ہجرت کرنا پڑی۔ اس ہجرت کے دوران انہیں بے شمار مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا، جن میں بھوک، پیاس، بیماری اور تشدد شامل ہیں۔
مالی نقصانات:
ہجرت کرنے والے مسلمانوں کو اپنے گھر، کاروبار اور جائیدادیں چھوڑنی پڑیں جس کے نتیجے میں انہیں مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
جانوں کی قربانی:
ہجرت کے دوران اور اس سے پہلے، ہندو مسلم فسادات میں لاکھوں مسلمانوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔
سیاسی جدوجہد:
مسلمانوں نے ایک الگ وطن کے حصول کے لیے طویل سیاسی جدوجہد کی۔ قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں تحریکِ پاکستان نے برطانوی حکومت اور ہندو رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کیے اور آخر کار پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔
ثقافتی اور مذہبی قربانیاں:
قیامِ پاکستان کا مقصد مسلمانوں کو ایک ایسا ملک فراہم کرنا تھا جہاں وہ اپنے مذہبی اور ثقافتی اقدار کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے اپنی ثقافتی اور مذہبی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے بے تحاشہ قربانیاں دیں۔

حصول وطن میں علماء کا کردار، شہادتیں وقربانیاں:

آزادی دنيا کی سب سے بڑی نعمت اور غلامی دنيا کی سب سے بڑی لعنت ہے، آزادی کی زندگی کا ايک دن غلامی کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے - آزادی يوں ہی نہيں مل جاتی آزادی بہت قيمت مانگتی ہے. اس عظيم نعمت کو حاصل کرنے کے ليۓ انسان کو بيش بہا قربانياں دينا پڑتی ہيں -
تاريخ اٹھا کر ديکھيں تو پتا چلتا ہے ہر دور ميں انسان نے اس کی قيمت ادا کی ہے. دنيا کے نقشے پر آزاد ممالک کا نام بے تحاشہ جدوجہد ، قربانيوں اور دکھوں کے بعد تحرير ہوا ہے. الجزائر کے لوگ اس وقت تک منزل آزادی سے ہمکنار نہيں ہوئے جب تک بن نيلا کے بدن پر زخموں کے ستر نشان ثبت نہيں ہوئے. انڈونيشيا کي عوام کے ليے غلامی کی سياہ رات اس وقت تک نہین بدلی جب تک انہوں نے اپنے زخمی ہاتھوں سے اپنے لہو کے چراغ نہيں جلائے۔

پاکستان اس وقت تک نقشہ عالم پر نہيں ابھرا جب تک شہروں ، بستيوں ، گليوں اور بازاروں ميں خون کی ہولی نہيں کھيلی گئ. اس کے ليۓ ان گنت ماؤں کے کليجے کٹ کٹ کر گرے، لاکھوں عورتوں نے اپنے سہاگ اس کی نظر کر ديۓ اور لاکھوں بچے يتيم ہو گۓ -
قومیں جب عزت وسعادت کی میز پر آمنے سامنے بیٹھتیں ھیں تو وہاں ووٹ نہیں لاشیں شمار کی جاتی ھیں ..
جس قوم کی لاشیں زیادہ ھوں گی وھی اول دستہ کہلائے گی
جدوجھد آزادی میں قربانیوں کی لمبی دستانیں ھیں۔
لیکن
اس مختصر تحریر میں صرف، ان جانباز علما کا اجمالی تذکرہ کروں گا جن کو توپوں کے دھانوں کے ساتھ باندھ کر اڑیاگیا ..
جن کو سور کے کھال میں سلواکر گرم تیل میں ڈالاگیا، مالٹا، کالا پانی جیسے بد نام زمانە جیلوں میں رە کر تختە دار کو چوم کر بھی فرنگی سامراج کے خلاف جدوجھد آزادی سے دسبردار نە ھوئے
بلکە آئندہ نسلوں میں علما اور مشائخ کو یە پیغام دے گئے۔
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری ..

(1) 👈1600ء کے بعد انگریز برصغیر میں داخل ہوا اور یہاں کی آزادی پر ڈاکہ ڈالا گیا -
(2) 👈1803ء میں شاہ عبدالعزیز رحمتە اللہ نے انگریز کے خلاف جہاد کا فتویٰ صادر فرمایا -
(3)👈 تحریک کی کمان رحمتە اللہ اور شاہ اسماعیل رح نے کی اور بے شمار علاقوں میں انگریز کو شکست دی -
(4) 👈1831ء میں سیّد احمد رحمتہ اللہ ا ور شاہ اسماعیل رحمتە اللہ بالاکوٹ کے مقام پر بیشمار رفقاء کے ہمراہ جام شھادت نوش فرمائی....
یہ بالاکوٹ کی نگری شہیدوں کی نشانی ہے
بیاں کرتی وفائے دین و ملت کی کہانی ہے
اسی دھرتی پہ گونجی تھی صدائے حق نما یارو
اسی خطے سے وابستہ فلک کی ترجمانی ہے
زمینِ ہند سے تحریک اٹھی گرم جوشوں کی
پلٹ کر رکھ دیں جس نے بازیاں سب دہر پوشوں کی
تھے قائد شاہ اسماعیل اور احمد شہید ان کے
تھی طاری کفر پر ہیبت جیالے سرفروشوں کی

(5)👈 1857ء کی جنگ آزادی کا اہم ترین معرکہ "شاملی" کے میدان میں لگا, جہاں انگریز کو سخت جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا - اس معرکہ کے سپہ سالار حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ تھے اور انکے خاص کمانڈروں میں حافظ محمد ضامن,مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی جیسے جلیل القدر علماء شامل تھے. اس معرکہ میں بے شمار علماء و طلباء شہید ہوئے اور مسلمانوں کو شکست سے دو چار ہونا پڑا -
بیس بڑے مسلمان نامی کتاب میں لکھا ھے کہ دھلی اور بمبئی کے درمیان کوئی درخت ایسا نە تھا جہاں علما کی لاشیں نە لٹک رہیں ھو..
(6)👈 مولانا فضل حق خیر آبادی ودیگر علماء کو فتویٰ جہاد کے جرم میں کالے پانی (جزائر انڈومان) سزا دی گئی -
(7) 👈1857ء کی شکشت کے بعد مولانا محمد قاسم نانوتوی رح ودیگر اکابرین نے اسلامی روایات کے تحفظ اور ملک کی آزادی کی خاطر 1866ء میں قصبہ دیوبند میں "دارالعلوم" نامی علمی درس گاہ کی بنیاد ڈالی- جو آگے چل کر آزادی کی تحریکوں کا مرکز و سر چشمہ ثابت ہوئی -
(8)👈 دارالعلوم دیوبند کے پہلے طالب علم محمد حسن (شیخ الہند) نے آزادی کے لیے "تحریک ریشمی رومال" شروع کی -
(9)👈 1917ء میں شریف مکہ کی غداری کی وجہ سے حجاز مقدس سے شیخ الہند کو گرفتار کرکے مولانا عزیز گل, مولانا حکیم نصرت حسین, مولانا وحید احمد, کے ہمراہ بحیرہ روم میں واقع جزائر مالٹا کی جیل میں جلا وطن کردیا گیا -
(10)👈 1919ء میں مولانا محمد علی جوہر نے انگریزوں کے خلاف تحریک خلافت شروع کی، مولانا شوکت علی اور ابوالکلام آزاد جیسے عظیم قائدین بھی ساتھ تھے-
(11)👈 مفتی محمد شفیع رح نے "مطالبہ پاکستان " کو مدلل فتویٰ کی صورت میں پیش کرکے تحریک آزادی پاکستان میں فیصلہ کُن اور موثر ترین کردار ادا کیا -
(12)👈 مفتی محمد شفیع اور مولانا شبیر احمد عثمانی نے صوبہ سرحد (خیبرپختونخوا) میں مسلم لیگ کی کامیابی کے لیے نتیجہ خیز کاوشیں اور کوششیں سر انجام دیں -
👈(13)
کسی قوم کی تاریخ اس کا اجتماعی حافظہ ھوتی ھے
اگر کسی قوم کو اس کی تاریخ سے محروم کردیا جائے تو
تو وە قوم اپنی جڑ سے کٹ جاتی ھے
15 اگست 1947 قیام پاکستان کے اگلے دن پاکستان کے دارالحکومت کراچی میں مولانا شبیر احمد عثمانی
جبکہ ڈھاکہ میں مولانا ظفر احمد عثمانی نے
پاکستان کی پہلی پرچم کشائی کا اعزاز حاصل کیا یہ دراصل قائد اعظم کی طرف سے
اعلان اور اظہار تھا کە
اس پرچم کی حفاظت صرف اور صرف علما کرسکتے ھیں ..ان محفوظ ھاتھوں سے یە پرچم کھبی سر نگو نە ھوگا
اس لئے پرچم کشائی بھی انہیں ھاتھوں سے کرائی
(14)👈 11 ستمبر 1948ء میں جب بانی پاکستان قائد اعظم رح کا انتقال ہوا تو ان کی وصیت کے مطابق مولانا شبیر احمد عثمانی رح نے ان کی نماز جنازہ کی امامت فرمائی اور تدفین کے سارے مراحل سرانجام دیے -
(15) 👈مارچ 1949ء میں پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے "قرارداد مقاصد" کے عنوان سے ایک قرارداد منظور کی تو اس میں اسلام کی بنیادی تعلیمات اساس احکامات اور اہم جزئیات کو آئین کا حصہ بنانے میں مولانا شبیر احمد عثمانی اور انکے رفقائے کار نے اپنا بھر پور کردار ادا کیا ...

تحقیق وتحریر:
✍️ محمد جاوید حُسینی
ناشر: خانقاہ حُسینیہ نقشبندیہ شاذلیہ

یکم محرم کے مختلف پاور فل مجربات واعمال سلسلہ وار روحانی مسائل اور انکا حلسلسلہ نمبر : 28(1) سال بھر کے حصار کیلئے آیتہ ...
26/06/2025

یکم محرم کے مختلف پاور فل مجربات واعمال

سلسلہ وار روحانی مسائل اور انکا حل
سلسلہ نمبر : 28

(1) سال بھر کے حصار کیلئے آیتہ الکرسی کا بہترین طاقتور عمل۔

(2) بسم اللہ شریف کے مختلف خواص اور عمل۔

آیۃ الکرسی کا عمل (تفصیل)
اپنے اور اپنی فیملی، کاروبار، مکان دوکان اور دیگر مقامات کے طاقتور حصار کیلئے یکم محرم جیسے ہی چاند نظر آجائے اسی وقت مغرب کے بعد 360 دفعہ پڑھیں مقصد کا تصور کرکے۔ پڑھ کر جس جس کی نیت ہو سب پر دم کریں۔ پانی کی بوتل میں دم کرکے رکھ دیں۔ اسکے بعد روزانہ صرف 71 یا 11 دفعہ پڑھیں۔ گیارہ دن تک جاری رکھیں۔ اسکے بعد چاہے تو سال بھر روزانہ 71 دفعہ پڑھ لیا کریں یا پھر صرف گیارہ دفعہ۔ یہ اختیاری ہے۔

بسم اللہ شریف کا عمل (تفصیل)
حضرت مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمہ اللّٰہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ:
جو شخص محرم کی پہلی تاریخ کو 113 مرتبہ پوری ”بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم“ کاغذ پر لکھ کر اپنے پاس رکھے گا، ہر طرح کی آفات ومصائب سے محفوظ رہے گا، مجرّب ہے۔
(جواہر الفقہ: احکام وخواصِ بسم اللہ، جلد: 2 صفحہ: 187)
یہ عمل مفتی شفیع صاحب رحمه اللہ تعالیٰ کی کتاب "جواہر الفقہ" سے نقل کیا جاتا ہے.

اکثر لوگ اس عمل کو مفتی صاحب کا مجرب عمل کہہ کر نقل کرتے ہیں، جب کہ یہ عمل مفتی شفیع صاحب نے شمس المعارف نامی کتاب سے نقل کیا ہے، اور اس کتاب میں بسم اللہ کا فقط یہی ایک عمل منقول نہیں بلکہ بسم اللہ کے بہت سے اعمال اور خواص منقول ہیں، جن میں سے چند اعمال مندرجہ ذیل ہیں:

■ خواص بسم اللہ الرحمن الرحيم:*
بسم اللہ شریف کے دیگر اعمال کسی بھی وقت کیلئے۔
نوٹ : یہ والے اعمال کسی بھی وقت کر سکتے ہیں۔ یکم محرم کے ساتھ خاص نہیں۔ سوائے اوپر مذکور ایک عمل کے۔

*١. پہلا عمل:*
*حاجات کی تکمیل اور بادشاہوں کی نگاہ میں محترم ہونا:*
جمعرات کو روزہ رکھے، کھجور اور زیتون کے تیل سے افطار کرے، پھر مغرب کی نماز پڑھے، اور بسم اللہ کو 121 بار پڑھے، پھر پڑھتا چلا جائے یہانتک کہ سوجائے، جمعہ کی صبح فجر کی نماز پڑھے اور 121 بار پڑھ لے، پھر مشک، زعفران اور گلاب کے پانی سے اس کو لکھ لے، اور اس کاغذ کو عود اور عنبر کی دھونی دے، جو شخص یہ عمل کرےگا لوگوں کی نگاہ میں چاند کی طرح محترم ہو جائےگا، اس کی ہیبت ہوگی اور ہر شخص اس سے محبت کرےگا اور اس کی ضرورت پوری کرےگا،

*٢. دوسرا عمل:*
*کشادگی رزق کیلئے:*
اگر ہرن کی کھال پر 121 مرتبہ مشک، زعفران، گلاب کا پانی اور دیگر اشیاء سے لکھ کر کوئی رزق کی تنگی کا شکار شخص رکھےگا تو اس کے رزق میں وسعت ہوگی، اور اس کے قرضے اتر جائینگے، اور ہر مشکل سے حفاظت ہوگی.

*٣. تیسرا عمل:*
*بیماری اور ولادت کی سہولت کیلئے:*
اگر کسی شیشے کے برتن میں 40 بار لکھ لیا جائے، اور اس کو زمزم کے پانی یا کسی میٹھے کنویں کے پانی سے دھو کر پی لیا جائے، اور کسی بیمار کو پلایا جائے تو اس کی بیماری دور ہو جائےگی، اور اگر کسی خاتون کیلئے ولادت میں مشکل ہو تو وہ مشکل ختم ہو جائےگی.

*٤. چوتھا عمل:*
*گھر اور دکان کی حفاظت اور برکت کیلئے:*
اگر 35 بار لکھ کر کسی مکان میں لٹکایا جائے تو وہ گھر شیطان اور جنات سے محفوظ ہوگا اور اس کی برکت بڑھ جائےگی، اور اگر اسی پرچے کو کسی دکان میں لٹکایا جائے تو اس دکان کی برکت بڑھ جائےگی.

*٥. پانچواں عمل:*
*عمر بھر کی حفاظت:*
اگر محرم کی پہلی تاریخ کو 130 بار لکھ کر اپنے پاس رکھ لیا جائے تو اس شخص اور اس کے گھر والوں کو عمر بھر کوئی تکلیف نہ پہنچے.
یکم محرم الحرام کا دن پورا غروب آفتاب سے پہلے تک ہے۔

*٦. چھٹا عمل:*
*بےاولاد عورت کا علاج:*
اگر بسم اللہ 110 مرتبہ لکھ کر کسی بےاولاد عورت کو دی جائے، تو اس بسم اللہ کی برکت سے اس کا حمل ٹھہرےگا، اور اس کاغذ کو ساٹھ دن پاس رکھے تو نیک صالح اولاد ہوگی، اور حمل کی کوئی تکلیف نہ ہوگی.

*٧. ساتواں عمل:*
*اولاد زندہ رہنے کا عمل:*
اگر بسم اللہ 61 بار لکھی جائے اور جن کی اولاد زندہ نہ رہتی ہو ان کو دے دیا جائے، تو اولاد زندہ رہےگی.

*٨. آٹھواں عمل:*
*کھیتوں کی حفاظت کا عمل:*
اگر بسم اللہ کو 101 مرتبہ لکھ کر کسی کھیت میں دفن کردیا جائے تو اس کھیت کی فصل بڑھےگی اور وہ کھیت محفوظ رہےگا....

⬅️ تنبیہ:
یہ عمل قرآن وسنت سے تو ثابت نہیں، اس لیے ان کو مستحب، سنت یا لازم نہیں سمجھنا چاہیے اور نہ ہی یکم محرم کے احکامات میں سے سمجھنا چاہیے، البتہ یہ بزرگوں کے مجربات اور مفید عمل ہیں، اس لیے شرعی حدود میں رہتے ہوئے ان پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ بلکہ مفید ہیں۔
نوٹ:..............:
وظائف، اذکار، اعمال، بطور سبب و اتمامِ حجت کے اختیار کرتے ہیں۔
فرائض و واجبات، حقوق اللہ وحقوق العباد سے غافل رہ کر حلال حرام کی تمیز کئے بغیر زندگی گزارتے ہوئے محض وظائف کرنے سے فوائد ونتائج حاصل نہیں ہونگے۔ اسباب اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ توکل اور فرائض واجبات کی پابندی ضروری ہے۔ محنت اور کوشش انسان کے ہاتھ میں ہے اسکے بعد نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں۔

اجازت خاص کیلئے کمنٹ میں ”یا اللہ“ لکھ کر اس عمل (پوسٹ) کو آگے دیگر احباب اور گروپس میں شئیر کردیں۔

مزید کسی بھی قسم کے روحانی وجسمانی مسائل کے حل، علاج، ورہنمائی کیلئے
مرکزِ علاج روحانی وقرآنی کا وزٹ کریں۔
https://facebook.com/groups/201554383225875/

یا مرکز کے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔
00923020940803 (صرف واٹس ایپ)
https://wa.me/923020940803

ناشر:
مرکز علاج روحانی وقرآنی
حُسینی اسلامک سینٹر
زیر انتظام:
خانقاہ حُسینیہ نقشبندیہ شاذلیہ

سلسلہ وار روحانی مسائل اور انکا حلسلسلہ نمبر : 27یکم محرم الحرام بعد مغرب کا مجرب ترین عمل۔سال بھر کے مضبوط ترین حصار و ...
25/06/2025

سلسلہ وار روحانی مسائل اور انکا حل
سلسلہ نمبر : 27
یکم محرم الحرام بعد مغرب کا مجرب ترین عمل۔
سال بھر کے مضبوط ترین حصار و حفاظت کا عمل۔
سال بھر مضبوط ترین حصار و حفاظت کیلئے یکم محرم کا چاند نظر آتے ہی اسی وقت مغرب کے بعد آیۃ الکرسی 360 دفعہ پڑھنا شروع کردیں، اول آخر گیارہ گیارہ دفعہ درود شریف کے ساتھ۔ پڑھ کر آخر میں اپنے وجود میں دم کریں، گھر کے تمام کونوں میں دم کردیں، گھر کے تمام افراد پر دم کردیں۔ اور ایک بڑی پانی کی بوتل میں دم کرکے رکھ دیں۔ بوقت ضرورت وہ پانی پینے میں استعمال کریں، اسکے بعد روزانہ صبح شام صرف گیارہ گیارہ دفعہ پڑھ لیا کریں۔
نوٹ: 360 دفعہ ایک مجلس یا ایک بیٹھک میں پڑھنا ضروری نہیں۔ جیسے سہولت اور آسانی ہو پڑھ لیں دوسرے دن مغرب سے پہلے پہلے مکمل کرلیں۔
حسب توفیق صدقہ لازمی دیں۔
نوٹ:..............:
وظائف، اذکار، اعمال، بطور سبب و اتمامِ حجت کے اختیار کرتے ہیں۔
فرائض و واجبات، حقوق اللہ وحقوق العباد سے غافل رہ کر حلال حرام کی تمیز کئے بغیر زندگی گزارتے ہوئے محض وظائف کرنے سے فوائد ونتائج حاصل نہیں ہونگے۔ اسباب اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ توکل اور فرائض واجبات کی پابندی ضروری ہے۔ محنت اور کوشش انسان کے ہاتھ میں ہے اسکے بعد نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں۔

اجازت خاص کیلئے کمنٹ میں ”یا اللہ“ لکھ کر اس عمل (پوسٹ) کو آگے دیگر احباب اور گروپس میں شئیر کردیں۔

مزید کسی بھی قسم کے روحانی وجسمانی مسائل کے حل، علاج، ورہنمائی کیلئے
مرکزِ علاج روحانی وقرآنی کا وزٹ کریں۔
https://facebook.com/groups/201554383225875/

یا مرکز کے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔
00923020940803 (صرف واٹس ایپ)
https://wa.me/923020940803

ناشر:
مرکز علاج روحانی وقرآنی
حُسینی اسلامک سینٹر
زیر انتظام:
خانقاہ حُسینیہ نقشبندیہ شاذلیہ

*یومِ عرفہ کا روزہ کب ہوگا؟جانئے مکمل تحقیق**یوم عرفہ کی فضیلت* *یوم عرفہ کا روزہ کی فضیلت*پاکستان میں *یوم عرفہ یعنی 9 ...
04/06/2025

*یومِ عرفہ کا روزہ کب ہوگا؟
جانئے مکمل تحقیق*
*یوم عرفہ کی فضیلت*
*یوم عرفہ کا روزہ کی فضیلت*
پاکستان میں *یوم عرفہ یعنی 9 ذوالحجہ 1446 بروز جمعہ 6 جون 2025* کو ہے۔
واضح رہے کی سعودیہ عرب سے پار وہ ممالک جن کے ہاں چاند کی تاریخ عام طور پر ایک دن پیچھے ہوتی ہے، ان ممالک کے لئے *٩ ذی الحج یعنی یوم عرفہ* کا روزہ اپنے ملک کی چاند کی تاریخ کے اعتبار سے ہوگا، کیونکہ *جس طرح رمضان کے فرض روزے میں ہر ملک کی رؤیت کا اعتبار ہے، اسی طرح یوم عرفہ کے نفلی روزے میں بھی اسی ملک کی رؤیت کا اعتبار ہے۔*
*1- یوم عرفہ کے روزے کی فضیلت*
١- حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ *مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ رکھنے سے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ معاف فرما دے* (ترمذی)
*2- حاجی کے لئے یوم عرفہ کے دن روزہ رکھنے کا حکم*
٢- حضرت ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ عرفہ کے روز میرے سامنے کچھ لوگ حضور اکرم ﷺ کے روزہ کے بارے میں بحث کرنے لگے، بعض لوگ تو کہہ رہے تھے کہ آپ ﷺ آج روزہ سے ہیں اور بعض لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ آپ ﷺ آج روزہ سے نہیں ہیں، یہ دیکھ کر میں نے دودھ کا ایک پیالہ آپ ﷺ کے پاس بھیجا آپ اس وقت میدان عرفات میں اپنے اونٹ پر کھڑے تھے چنانچہ آپ ﷺ نے وہ دودھ لے کر پی لیا۔ (متفق علیہ)
*فائدہ : حضرت ام فضل رضی اللہ عنہا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ اور حضور اکرم ﷺ کی چچی سمجھ دار خاتون تھیں، انہوں نے ایسا طریقہ اختیار فرمایا کہ جس سے معلوم ہوجائے کہ حضور اکرم ﷺ روزہ سے ہیں یا نہیں؟ کیونکہ بسا اوقات پوچھنے میں تکلیف ہوتی ہے، انہوں نے دودھ پیش کیا اور آپ ﷺ نے قبول فرما کر نوش فرمایا، چنانچہ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ عرفہ کے دن روزہ رکھنا حج کرنے والے کے لئے تو مسنون نہیں ہے البتہ دوسرے لوگوں کے لئے مسنون ہے۔

*امام ترمذی رحمہ اللہ* فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کے ساتھ حج کیا تو آپ ﷺ نے عرفہ کے دن روزہ نہیں رکھا، اسی طرح حضرات خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم سے بھی عرفہ کے دن حج میں روزہ نہ رکھنا منقول و مستحب ہے تاکہ حاجی دعاؤں وغیرہ کے وقت کمزوری محسوس نہ کرے۔
*امام ترمذی رحمہ اللہ* نے ذکر کیا ہے کہ عام حالات میں علماء کے نزدیک یوم عرفہ کا روزہ مستحب ہے مگر حاجی کے لئے میدان عرفات میں نہ رکھنا بہتر ہے (یعنی جب میدان عرفات میں ہو تو مستحب نہیں)۔

*3- حاجی کے لئے مشقت کے اندیشہ کی وجہ سے یوم عرفہ کا نفلی روزہ ترک کرنا مستحب ہے*
٣- حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نقل کرتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے عرفات میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔ (ابوداؤد)
*فائدہ : حج کرنے والا اگر عرفہ کے دن روزہ رکھے تو ہو سکتا ہے کہ اس کی وجہ سے ضعف لاحق ہوجائے جس کی بناء پر عرفات میں دوسرے افعال وارکان میں نقصان وخلل واقع ہو اس لئے ایسے شخص کے لئے عرفہ کا روزہ رکھنے کی ممانعت فرمائی گئی لیکن یہ ممانعت تحریمی کے طور پر نہیں ہے بلکہ یہ نہی تنزیہی ہے۔(مستفاد از مظاہر حق)
*4- یومِ عرفہ کی تحقیق*
*۹ ذی الحج کو یومِ عرفہ کہنے کی فقہاء نے تین وجوہات بیان کی ہیں*
۱- حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ۸ ذی الحج کی رات خواب میں نظر آیا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں، تو ان کو اس خواب میں اللہ تعالی کی طرف سے ہونے یا نہ ہونےمیں کچھ تردد ہوا، پھر ۹ ذی الحج کو دوبارہ یہی خواب نظر آیا تو ان کو یقین ہوگیا کہ یہ خواب اللہ تعالی کی طرف سے ہی ہے، چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ معرفت اور یقین ۹ ذی الحج کو حاصل ہوا تھا، اسی وجہ سے ۹ ذی الحج کو *یومِ عرفہ* کہتے ہیں۔
۲- ٩ ذی الحج کو حضرت جبریل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تمام مناسکِ حج سکھلائے تھے، مناسکِ حج کی معرفت کی مناسبت سے ۹ ذی الحج کو *یومِ عرفہ* کہتے ہیں۔
۳- ۹ ذی الحج کو حج کرنے والے حضرات چونکہ میدانِ عرفات میں وقوف کیلئے جاتے ہیں، تو اس مناسبت سے ۹ ذی الحج کو *یومِ عرفہ* بھی کہہ دیتے ہیں۔
مذکورہ اقوال سے معلوم ہوا کہ تسمیہ کے اعتبار سے *یومِ عرفہ* کو صرف وقوفِ عرفہ کے ساتھ خاص کرنا درست نہیں ہے، بلکہ یہ ۹ ذی الحج کا مختلف وجوہات کی بنا پر دوسرا نام ہے، لہٰذا یہ ہر ملک میں اپنی تاریخ کے اعتبار سے ہوگا، یعنی پاکستان میں جس دن ۹ ذی الحج ہوگی وہی دن *یومِ عرفہ* کہلائے گا، چاہےاس دن سعودی عرب میں یومِ عرفہ نہ ہو۔
نیز یہ بھی واضح رہے کہ مذکورہ مسئلہ کا دارومدار اس بات پر ہے کہ سعودی عرب کی رؤیت پاکستان کے حق میں معتبر ہے یا نہیں؟ تو اس بارے میں احناف کا راجح قو ل یہ ہے کہ بلادِ بعیدہ جن کے طلوع و غروب میں کافی فرق پایا جاتا ہے، ان کی رؤیت ایک دوسرے کے حق میں معتبر نہیں ہے اور سعودی عرب اور پاکستان کے مطلع میں کافی فرق ہونا بار بار کے مشاہدہ سے ثابت ہے، لہذا جس طرح نمازوں کے اوقات تہجد اور سحر و افطار وغیرہ میں ہر ملک کا اپنا وقت معتبر ہے، سعودی عرب کے نمازوں کے اوقات کو پاکستان میں نمازوں کے لئے معیار قرار نہیں دیا جاسکتا، اسی طرح عید، روزہ اور قربانی میں بھی ہر ملک کی اپنی رؤیت کا اعتبارہے اور عرفہ کے روزہ کے بارے میں بھی ہر ملک کی اپنی رؤیت معتبر ہے، لہذا جس دن پاکستان کے حساب سے ذی الحج کی نویں تاریخ ہوگی، وہی دن پاکستان میں *یوم عرفہ* کہلائے گا اور اسی دن عرفہ کا روزہ رکھنا مستحب ہوگا، اگرچہ اس دن مکہ مکرمہ میں عید کا دن ہو۔
(مأخذہ التبویب : ٣٦٠/٣٩ و نظیرہ فی معارف القرآن ٧٩٤/٨ تحت تفسیر سورة القدر)
ویسے تو یہ دس دن مکمل ہی بہت زیادہ فضیلت کے حامل ہیں۔ لیکن نو ذی الحج کی فضیلت بھی اس سے مزید اوپر ہے۔
اس دن کرنے کے کچھ مسنون مستحب اور مجرب اعمال۔
رات کو نوافل کا اہتمام کریں کثرت سے۔ اللہ سے خوب لو لگائے۔ اپنے گناہوں سے چھٹکارا حاصل کریں۔
اور دن میں روزہ رکھیں۔
کثرت درود شریف کا اہتمام کریں۔
پہلا کلمہ اور تیسرا کلمہ کثرت سے ورد رکھیں۔
تسبیح تمحید کثرت سے پڑھیں۔
استغفار کی کثرت رکھیں۔
سورہ اخلاص کم سے کم 1000 دفعہ پڑھیں کسی بھی مقصد کیلئے۔

*البناية شرح الهداية (٢١١/٤)*
وإنما سمي يوم عرفة لأن جبريل - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - علم إبراهيم - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - المناسك كلها يوم عرفة، فقال: أعرفت في أي موضع تطوف؟ وفي أي موضع تسعى؟ وفي أي موضع تقف؟ وفي أي موضع تنحر وترمي؟ فقال: عرفت فسمي يوم عرفة

● *تبيين الحقائق و حاشية الشلبي (٢٣/٢)*
قَوْلُهُ أَيْ تَفَكَّرَ أَنَّ مَا رَآهُ مِنْ اللَّهِ) أَيْ أَمْ مِنْ الشَّيْطَانِ فَمِنْ ذَلِكَ سُمِّيَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ فَلَمَّا رَأَى اللَّيْلَةَ الثَّانِيَةَ عَرَفَ أَنَّهُ مِنْ اللَّهِ فَمِنْ ثَمَّ سُمِّيَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَلَمَّا رَأَى اللَّيْلَةَ الثَّالِثَةَ هَمَّ بِنَحْرِهِ فَسُمِّيَ يَوْمَ النَّحْرِ كَذَلِكَ فِي الْكَشَّافِ۔

نوٹ: جملہ روحانی وجسمانی مسائل و بیماری کے حل، علاج، ورہنمائی کیلئے یا شرعی وفقہی مسائل کے جوابات کیلئے درج ذیل لنک، گروپ، اور مرکز علاج کے واٹس ایپ پر رابطہ فرمائے۔
https://facebook.com/groups/201554383225875/

واٹس ایپ
https://wa.me/923020940803
تحقیق وترتیب :
محمد جاوید حُسینی
ناشر:
حسینی اسلامک سینٹر
مرکز علاج روحانی وقرآنی
زیر انتظام: خانقاہ حُسینیہ نقشبندیہ شاذلیہ

بے اولاد حضرات کیلئے انتہائی مجرب تحفہ (اپنے تمام متعلقین تک پوسٹ کو شیئر لازمی کریں)جن کے ہاں اولاد نہ ہوں یا اولاد تو ...
02/06/2025

بے اولاد حضرات کیلئے انتہائی مجرب تحفہ
(اپنے تمام متعلقین تک پوسٹ کو شیئر لازمی کریں)

جن کے ہاں اولاد نہ ہوں یا اولاد تو ہوں پر نافرمان ہو ضدی یا بد تمیز یا شریر ہو یا بے دین ہو تو ایسے تمام لوگوں کیلئے یہ عمل کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ اولاد نرینہ کیلئے بھی مجرب ہے۔۔۔

عمل کا طریقہ یہ ہیکہ 7.8.9.10 ذی الحجہ کے ان چار دنوں میں درج ذیل تمام آیات کو 101 بار پڑھنا ہے کسی بھی وقت چاہے تو ایک مجلس میں پڑھ لیں یا وقفے وقفے سے پورے دن میں پڑھ لیں میاں بیوی دونوں۔ یا کوئی ایک کرلے۔ عورتیں مخصوص ایام میں بھی جاری رکھ سکتی ہیں۔
اسکے بعد روزانہ صرف 11 بار پڑھیں اس طرح 41 دن مکمل کرلیں۔ پڑھنے کے بعد روزانہ اپنے مقاصد کیلئے اللہ سے دعا کریں۔ اور جن کے اولاد موجود ہوں ان پر دم کردیں۔ اور پانی پر دم کرکے پلادیا کریں۔

﴿ رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنَ الصَّالِحِیْن﴾
( الصافّات : آیت نمبر 100) (101 دفعہ)

﴿ رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا ﴾
( الفرقان : آیت نمبر 74 ) (101 دفعہ)

﴿ رَبِّ لا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ ﴾
(الانبیاء آیت نمبر 89) (101 دفعہ)

﴿ رَبِّ ھَب٘ لِی مِن٘ لَّدُن٘کَ ذُرِّیَّـۃً طَیِّبَۃً إِنَّکَ سَمِی٘عُ الدُّعَاءِ ﴾
( آل عمران : آیت نمبر 38) (101 دفعہ)

نوٹ: جملہ روحانی وجسمانی مسائل کے حل، علاج، ورہنمائی کیلئے یا شرعی وفقہی مسائل کے جوابات کیلئے درج ذیل لنک، گروپ، اور مرکز علاج کے واٹس ایپ پر رابطہ فرمائے۔
https://facebook.com/groups/201554383225875/

واٹس ایپ
https://wa.me/923020940803
تحریر وترتیب: مولانا محمد جاوید حُسینی
ناشر: خانقاہ حُسینیہ نقشبندیہ شاذلیہ
مرکز علاج روحانی وقرآنی و حُسینی اسلامک سینٹر

قربانی کا نصاب،  قربانی نہ کرنے پر وعید  اور قربانی کے احکام وضروری مسائل۔پوسٹ کو دیگر احباب تک پہنچا کر صدقہ جاریہ میں ...
25/05/2025

قربانی کا نصاب، قربانی نہ کرنے پر وعید اور قربانی کے احکام وضروری مسائل۔
پوسٹ کو دیگر احباب تک پہنچا کر صدقہ جاریہ میں حصہ ملائے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کو وسعت ہو اور وہ وسعت کے باوجود (قربانی کے ایام میں) قربانی نہ کرے، تو وہ ہمارے مصلی (عید گاہ) کے قریب نہ آئے۔ (سنن ابن ماجه: حدیث نمبر: 3123)

قربانی واجب ہونے کا نصاب وہی ہے جو صدقۂ فطر کے واجب ہونے کا نصاب ہے، یعنی جس عاقل، بالغ ، مقیم ، مسلمان مرد یا عورت کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں، واجب الادا اخراجات (قرضہ وغیرہ) منہا (مائنس) کرنے کے بعد ضرورت سے زائد اتنا مال یا سامان موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا اس سے زائد ہو (خواہ ضرورت سے زائد مال نقدی ہو یا سونا چاندی ہو یا کسی اور شکل میں ہو، اسی طرح مالِ تجارت نہ بھی ہو) تو ایسے مرد وعورت پر قربانی واجب ہے۔

نوٹ: (اس وقت ایک تولہ چاندی کی قیمت 3400 روپے ہے چونکہ چاندی کی قیمت گھٹتی بڑھتی رہتی ہے اس لحاظ سے ساڑے باون تولہ چاندی کی قیمت پاکستان میں کم وبیش (178000) ایک لاکھ اٹھتر ہزار روپے ہے۔ احتیاطاً سونار سے بھاؤ معلوم کرکے نصاب نکال لیا جائے۔

الفتاوى الهندية (1/ 191):
"وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلاً عن حوائجه الأصلية، كذا في الاختيار شرح المختار، ولايعتبر فيه وصف النماء، ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب، هكذا في فتاوى قاضي خان".

*{قربانی کے مسائل}*

*(1)* قربانی صحیح ہونے کے لئے قربانی کی نیت سے جانور خریدنا یا ذبح کرتے وقت قربانی کی نیت کرنا ضروری ہے ورنہ قربانی صحیح نہیں ہوگی۔

*(2)* قربانی کی نیت سے جانور خریدا عین ذبح کے وقت قربانی کرنے والے کو نیت کا خیال نہ رہا تو قربانی ہوجائے گی۔

*(3)* اگر قربانی کے جانور اور اس میں شریک افراد میں سے کسی نے ثواب کی نیت نہ کی، نا ہی واجب ادا کرنے کی نیت کی، بلکہ گوشت کھانے یا شادی کی دعوت نمٹانے کی نیت کی تو اس سے قربانی صحیح نہ ہوگی اور کسی کی قربانی نہیں ہوگی۔

*(4)* قربانی کے جانور میں شریک افراد میں سے کسی نے نفل قربانی کی نیت کی اور کسی نے واجب قربانی کی یا کسی نے قربانی کی نیت کی اور دوسرے نے عقیقہ کی نیت کی تو قربانی ہوجائے گی کیونکہ سب نے ثواب حاصل کرنے کی نیت سے حصہ لیا ہے۔

*(5)* جہاں زندہ جانور وزن سے فروخت کرنے کا رواج ہے وہاں وزن کے حساب سے جانور خریدنا جائز ہے کیونکہ اس میں دھوکہ کم ہوتا ہے اور ناتجربہ کار لوگ نقصان اٹھانے سے بچ جاتے ہیں۔

*(6)* قربانی کرنے والے کے لئے مستحب یہ ہے کہ بقر عید کی نماز کے بعد قربانی کر کے ناخن کاٹے قربانی نہ کرنے والے بھی قربانی کرنے والوں کی مشابہت اختیار کر کے عام لوگوں کی قربانی کے بعد ناخن کاٹے تو وہ بھی ثواب سے محروم نہیں ہونگے۔

*(7)* اگر نابالغ بچہ جانور کو ذبح کر سکتا ہے اور بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر اس جانور کو ذبح کیا تو جائز ہے اور گوشت کھانا حلال ہے۔

*(8)* امیر باپ پر نابالغ اولاد کی طرف سے قربانی کرنا واجب نہیں مستحب ہے اگر قربانی کرے گا ثواب ملے گا نہیں کرے گا کوئی گناہ نہیں ہوگا۔

*(9)* قربانی کے دنوں میں میت کے ایصال ثواب کے لئے پیسہ وغیرہ صدقہ کرنے سے قربانی کرنا افضل ہے اور اس کا ثواب میت کو پہنچانا افضل ہے کیونکہ صدقہ خیرات میں صرف مال ادا کیا جاتا ہے اور قربانی میں مال ادا کرنے کے ساتھ ساتھ فدا کرنا بھی ہے، اس لیے قربانی کرنا افضل ہے۔

*(10)* میت کی طرف سے قربانی کرنی ہو تو ہر ایک میت کے لئے الگ الگ حصہ رکھنا ضروری ہے ایک حصہ ایک سے زائد میت کے لئے کافی نہیں ہے البتہ اپنی طرف سے نفلی قربانی کرکے اس کا ثواب ایک سے زیادہ مردوں اور زندوں کو بخشنا درست ہے جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قربانی کا ثواب پوری امت کو بخشاتھا، گنجائش ہو تو مردوں کے لیے ضرور قربانی کریں بڑے ثواب کا کام ہے اس سے مردوں کو بڑا فائدہ ہوتا ہے۔
نوٹ: قربانی سمیت دیگر شرعی، فقہی و روحانی مسائل کی معلومات، رہنمائی اور روحانی علاج کیلئے
"مرکز علاج روحانی وقرآنی" کے گروپ میں سوال بھیجیں۔
https://facebook.com/groups/201554383225875/
یا واٹس ایپ کریں
https://wa.me/923020940803
مرتبہ: محمد جاوید حسینی
ناشر:
حسینی اسلامک سینٹر
مرکز علاج روحانی وقرآنی
زیر انتظام: خانقاہ حُسینیہ نقشبندیہ شاذلیہ

ضرورت خون
29/04/2025

ضرورت خون

شوال کے چھ روزے، شوال کے روزوں کے ساتھ قضاء روزےاحکام، فضائل ومسائل۔۔۔۔۔۔(1) شوال کے روزے شوال کے چھ روزے رکھنا مستحب ہے...
01/04/2025

شوال کے چھ روزے، شوال کے روزوں کے ساتھ قضاء روزے
احکام، فضائل ومسائل۔۔۔۔۔۔
(1) شوال کے روزے شوال کے چھ روزے رکھنا مستحب ہے، احادیثِ مبارکہ میں اس کی فضیلت وارد ہوئی ہے، چناں چہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی صحیح سند کے ساتھ حدیث کی مستند کتابوں میں موجود ہے:

’’عن أبي أیوب عن رسول اﷲﷺ قال: من صام رمضان ثم أتبعه ستًّا من شوال فذاک صیام الدهر‘‘. رواه الجماعة إلا البخاري والنسائي‘‘. ( اعلاء السنن لظفر احمد العثمانی -کتاب الصوم - باب استحباب صیام ستۃ من شوال وصوم عرفۃ -رقم الحدیث ۲۵۴۱- ط: ادارۃ القرآن کراچی )
ترجمہ:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے اورپھرشوال کے چھ روزے رکھے تویہ ہمیشہ (یعنی پورے سال)کے روزے شمارہوں گے‘‘۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآنِ کریم کے وعدہ کے مطابق ہر نیکی کا بدلہ کم از کم دس گنا ملتا ہے، گویا رمضان المبارک کے ایک ماہ کے روزے دس ماہ کے روزوں کے برابر ہوئے، اور شوال کےچھ روزے ساٹھ روزوں کے برابر ہوئے، جو دو ماہ کے مساوی ہیں، اس طرح رمضان کے ساتھ شوال کے روزے رکھنے والاگویا پورے سال روزہ رکھنے والا ہوجاتا ہے۔
شوال کے چھ روزے یکم شوال یعنی عید کے دن کو چھوڑ کر شوال کی دوسری تاریخ سے لے کر مہینہ کے آخر تک الگ الگ کرکے اور اکٹھے دونوں طرح رکھے جاسکتے ہیں۔ لہذا ان روزوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ البتہ اگر کوئی روزہ نہ رکھے تو اسے طعن و تشنیع کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے؛ کیوں کہ یہ مستحب روزہ ہے، جسے رکھنے پر ثواب ہے اور نہ رکھنے پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔

(2) نفل روزے میں فرض کی قضاء کی نیت کرنا۔۔۔۔۔

نفل روزہ الگ ہے اور فرض کی قضا کا روزہ الگ اور مستقل حیثیت رکھتا ہے، روزہ میں نفل کی نیت کرنے سے وہ نفلی روزہ ہوگا اور قضا کی نیت کرنے سے وہ قضا کا روزہ ہوگا، ایک روزہ میں نفل اور قضا دونوں کی نیت نہیں کرسکتے ہیں؛ لہذا شوال کے چھ روزوں یا ذی الحجہ، عاشورہ کے روزوں کے ساتھ،قضا روزوں کی ادائیگی کی نیت کرنا صحیح نہیں ہے۔ اس لئے اگر شوال کے مہینے میں شوال کے چھ روزوں کی نیت کی ہے تو وہ نفلی روزے ہوں گے قضا کے نہیں ہوں گے، اور اگر ان دنوں میں قضا کی نیت کی ہے تو وہ قضا کے روزے ہوں گے اور اس سے نفلی کا ثواب نہیں ملے گا۔
اگر یہ گمان ہو کہ شوال کے روزے رکھے تو بعد میں قضا روزے رکھنا مشکل ہوگا تو پہلے قضا روزے رکھنے چاہییں، بصورتِ دیگر شوال میں نفل روزے رکھ لے، اور پھر قضا کرلے۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 299) :
"ولو نوى قضاء رمضان والتطوع كان عن القضاء في قول أبي يوسف، خلافاً لمحمد فإن عنده يصير شارعاً في التطوع، بخلاف الصلاة فإنه إذا نوى التطوع والفرض لايصير شارعاً في الصلاة أصلاً عنده، ولو نوى قضاء رمضان وكفارة الظهار كان عن القضاء استحساناً، وفي القياس يكون تطوعاً، وهو قول محمد، كذا في الفتاوى الظهيرية".

تحقیق وترتیب: محمد جاوید حُسینی نقشبندی شاذلی
مدیر: مرکز علاج روحانی وقرآنی 03020940803
ناشر: خانقاہ حُسینیہ نقشبندیہ شاذلیہ
حسینی اسلامک سینٹر ۔۔
برائے رابطہ: روحانی وجسمانی جملہ مسائل، علاج، وظائف ورہنمائی۔
https://facebook.com/groups/201554383225875/

رابطہ برائے دیگر:
https://www.facebook.com/profile.php?id=100064062934552

واٹس ایپ،
WhatsApp. https://wa.me/923020940803

عیدکم سعید کل عام وانتم بخیر تقبل اللہ منا ومنکم عالم اسلام خصوصاً اہل پاکستان کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے عید الفطر کی م...
30/03/2025

عیدکم سعید
کل عام وانتم بخیر
تقبل اللہ منا ومنکم

عالم اسلام خصوصاً اہل پاکستان کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے عید الفطر کی مسرتیں بہت بہت مبارک ہو۔
اس خوشی کے موقع پر اپنے ارد گرد یتیموں مسکینوں اور ضرورت مندوں کا خاص خاص خیال رکھیں۔ اور انہیں بھی اپنی خوشیوں میں شامل حال رکھیں۔

‏​‏​‏‏​ནྱཾ༩ྀ༄ *تهنئـــــة خـــاصــــــة* ༄ནྱཾ༩ྀ

يسرني أن أتقدم إليكم بأصدق التهاني
*تقبل اللہ منا ومنکم صالح الاعمال*
*کل عام وانتم بخیر*
بمناسبة عيد الفطر ،
سائلا المولى ان يجعل أيامكم سعيدة،
وأن يعيده علينا وعليكم أعواما عديدة،
وازمنة مديدة، وأنتم في أحسن حال .

*﮼ * حُسینی اسلامک سینٹر*﮼ *
*﮼ * خانقاہ حُسینیہ نقشبندیہ شاذلیہ *﮼ *
*﮼ * مرکز علاج روحانی وقرآنی *﮼ *

Address

1
Karachi

Opening Hours

Monday 00:00 - 00:00
Tuesday 00:00 - 00:00
Wednesday 00:00 - 00:00
Thursday 00:00 - 00:00
Friday 00:00 - 00:00
Saturday 00:00 - 00:00

Telephone

03131215415

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hussaini Islamic Center posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Hussaini Islamic Center:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram