Hakeem Amir House

Hakeem Amir House Tamam Beemarion ka illaj kia jata Hy.

09/09/2023

کریلے ہمارے لیے بہت ضروری ہیں:_
کریلا اگرچہ ذائقہ میں کڑوا اورکسیلا ہوتا ہے لیکن یہ ضروری غذائی اجزاء سے بھرپور ہوتا ہےاورنہایہت فائدےمندبھی ہے۔۔ کریلا وٹامن، فولیٹ، زنک، میگنیشیم، مینگنیج، فاسفورس کا ایک بہترین ذریعہ ہے اور اس میں غذائی ریشہ کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے۔ کریلا آئرن سے بھرپور ہوتا ہے اور اس میں پالک کے کیلشیم سے دوگنا کیلشم، بروکلی کے بیٹا کیروٹین سے دوگنا اور کیلے کے پوٹاشیم سے دوگنا مقدار میں پوٹاشیم موجود ہوتا ہے۔
کچے کریلے کا جوس پینے سے بہترین طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ یہ ذیابیطس اور دمہ کے مریضوں کے لیے ٹانک کا کام کرتا ہے۔ کریلا اینٹی آکسیڈینٹس، الفا، بیٹا کیروٹینز، زانتھینز اور لیوٹین سے بھرا ہوتا ہے کیونکہ یہ سب جسم سے آزاد ریڈیکلز کے اخراج کو کنٹرول کرنے اور جسمانی سوزش کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔
ذیابیطس اور کینسر جیسے امراض کی نشوونما کی یہ سب سے اہم وجہ ہے اور کریلا وقت سے پہلے بڑھاپے کی وجہ سے اس طرح کی بیماریوں کو روکنے یا اسے طول دینے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور آزاد اینٹی آکسیڈنٹ وٹامن سی کریلا میں موجود ہے اور تقریباً 100 گرام کریلا روزانہ مطلوبہ خوراک کا 100 فیصد سے زیادہ فراہم کرتا ہے کریلا کے صحت سے متعلق کچھ فوائد جاننے کی کوشیش کرتے ہیں۔

کریلا میں پائے جانے والے غذائی اجزاء
کریلے کے فوائد
۔1 کریلا جلد کو بہتر کرتا ہے
۔2 قوت مدافعت کو بہتر بناتا ہے
۔3 کریلا آپ کے خون کو صاف کرتا ہے
۔4 بلڈ شوگر کی سطح کو کم کرتا ہے
۔5 کریلا آپ کے بالوں کے لیے اچھا ہے
۔6 کریلا وزن کم کرنے میں مدد کرتا ہے
۔7 خراب کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتا ہے
۔8 سانس کے انفیکشن کا علاج کرتا ہے
۔9 آنکھوں کی صحت کو بڑھاتا ہے
۔10 کریلا قبض کا علاج کرتا ہے
کریلا میں پائے جانے والے غذائی اجزاء
کیلوریز: 24
فیٹ: 0.2 گرام
فائبر: 2.5 گرام
شوگر: 2.4 گرام
پروٹین: 1 گرام
سوڈیم: 392 ملی گرام
کاربوہائیڈریٹ: 5.4 گرام

کریلے کے فائدے کیا ہیں۔؟

۔1 کریلا جلد کےلئے بہت زیادہ فائدہ مند ہے ۔ یہ جلدکو بہتر کرتا ہے
کریلے میں پائے جانے والے مختلف وٹامنز جیسے آئرن اور میگنیشیم کی موجودگی اسے جلد اور بالوں کی دیکھ بھال کے لیے بہترین غذا بناتی ہے۔ آپ نے لوگوں کو ایکنی سے پاک جلد کے لیے کریلا کا جوس باقاعدگی سے پینا چاہیئے ۔ جس کا استعمال کرتے ہوئے جلد کو صاف شاف بنایا جا سکتا ہے۔

کریلے کا جوس پئیں۔ کریلا کےجوس آپ کے جلد کے لیے بے شمار فوائد ہیں کیونکہ اس میں وٹامن اے، وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔
یہ مرکبات آپ کی جلد کو مہاسوں سے لڑنے، بڑھاپے کو کم کرنے اور جلد کے داغوں کو دور کر کے صحت مند رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔
کریلے کا جوس روزانہ پینے سے جلد کے انفیکشن جیسے چنبل، خارش وغیرہ کا علاج بھی ممکن ہے۔

۔2 قوت مدافعت کو بہتر بناتا ہے
بیماریوں سے لڑنے کے لیے قوت مدافعت بہت ضروری ہے۔اور مدافعتی نظام کو بہتر رکھنے کے لیے جسم کو زیادہ مقدار میں اینٹی آکسیڈنٹس اور وٹامن سی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کریلا میں دونوں مرکبات کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
یہ اینٹی سوزش خصوصیات کا ایک بھرپور ذریعہ بھی ہے جو جسم میں آزاد ریڈیکلز کی تلاش کرتا ہے اور دوسرے خطرناک مرکبات کو جسم میں داخل ہونے سے روکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں آپ اپنے آپ کو بار بار ہونے والی بیماری سے بچا سکتے ہیں
کریلے کے استمال سے دل کے مسائل اور جگر کی خرابی جیسی دائمی حالتوں کو بھی روک سکتے ہیں۔

۔3 کریلا مصفی خون کےطور پر خون کو صاف کرتا ہےاور پھوڑے پھنسیوں سے بھی بچاتا ہے ۔داد چنبل اور خارش کو بھی نافے ہے ۔
کریلے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ اپنے اینٹی آکسیڈنٹ اور مضبوط اینٹی مائکروبیل خصوصیات کی مدد سے آپ کے خون کو صاف کرنے میں مدد کرتا ہے۔ نتیجے کے طور پر یہ یقینی بناتا ہے کہ خون آپ کے دل تک مناسب طریقے سے پہنچتا ہے ۔
۔4 بلڈ شوگر کی سطح کو کم کرتا ہے
شوگر کے مریضوں کے لیے صبح کے وقت ایک گلاس کریلے کا جوس پینا انتہائی مفید ہے۔ کریلے کے جوس میں تین بنیادی اجزا پائے جاتے ہیں جیسے کہ پولی پیپٹائڈ پی، چارنٹین اور وایسین وغیرہ۔ کریلے میں موجود اجزاء گلوکوز کو کم کرنے والے اثرات رکھتے ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ پولی پیپٹائڈ پی انسولین کی طرح کام کرتا ہے۔
یہ خون سے شوگر کے خلیوں اور ٹشوز میں داخل ہونے کو آسان بنا کر بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتا ہے۔

خون میں شکر کی سطح کو بھی ویسین اور چارنٹین سے کم کرنا ثابت ہوا ہے۔ مزید برآں کریلے کے جوس میں موجود کئی اضافی اجزاء آپ کے لبلبے میں خلیوں کی تخلیق نو اور تحفظ میں مدد کر سکتے ہیں جو انسولین پیدا کرنے کا ذمہ دار عضو ہے۔ جب کہ یہ نتائج حوصلہ افزا ہیں جس کے ذریعے کڑوے کریلے یا اس کا جوس خون میں شکر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

۔5 کریلا آپ کے بالوں کے لیے اچھا ہے
کریلے کا جوس باقاعدگی سے پینے سے آپ چمکدار بال حاصل کر سکتے ہیں۔ کریلے کے جوس میں زنک، بایوٹین، وٹامن اے اور وٹامن سی موجود ہوتے ہیں جو کہ صحت مند بالوں کے لیے ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ کریلا کے جوس میں امائنو ایسڈز بہت زیادہ ہوتے ہیں جو اینٹی میکروبیل خصوصیات پیش کرتے ہیں جو سر کی جلد کے مسائل کے علاج کے لیے اچھی طرح کام کرتے ہیں۔ کریلے کے جوس کو باہری طور پر سر کی جلد پر بھی لگانے سے خشکی، بالوں کا گرنا، سر کی خارش اور دیگر مسائل کے علاج میں مدد مل سکتی ہے۔

۔6 کریلا وزن کم کرنے میں مدد کرتا ہے
کریلا کا جوس وزن کم کرنے اور دیگر صحت کے فوائد فراہم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ ہائیڈریٹنگ، کیلوریز میں کم اور فائبر سے بھرپور ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ فائبر سادہ کاربوہائیڈریٹس سے زیادہ آہستہ آہستہ غذائی اجزاء جذب کرتا ہے اس لیے یہ مجموعہ آپ کو زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ چونکہ یہ بھوک کو روکتا ہے اس لیے یہ آپ کو ایسے کھانا کھانے سے روک سکتا ہے جن میں کیلوریز زیادہ ہوں اور غذائی اجزاء کم ہوں۔

۔7 خراب کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتا ہے
کریلے کے رس کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ یہ خون میں کولیسٹرول کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ کم کثافت لیپو پروٹین (LDL) جسے اکثر برُا کولیسٹرول کہا جاتا ہے یہ شریانوں میں بنتا ہے اور ایتھروسکلروسیس، ہارٹ اٹیک، اور کورونری دل کے دیگر مسائل کا سبب بنتا ہے۔ کریلے کے جوس میں سوزش کے اثرات ہوتے ہیں اور یہ ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتا ہے کیونکہ اس میں بہت زیادہ آئرن ہوتا ہے جو قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے۔

۔8 سانس کے انفیکشن کا علاج کرتا ہے
کریلا وٹامن سی کا ایک اچھا ذریعہ ہے جو آئرن کو جذب کرنے میں مدد کرتا ہے۔ آئرن ہیموگلوبن اور سرخ خون کے خلیات (RBCs) کے ساتھ ساتھ سفید خون کے خلیات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آپ کو اینٹی باڈیز بنانے کے لیے آئرن کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو کہ ایسے پروٹین ہیں جو نقصان دہ جراثیم یا وائرس کو تباہ کرکے آپ کے جسم کو انفیکشن سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔

۔9 آنکھوں کی صحت کو بڑھاتا ہے
کریلے کی اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات فری ریڈیکلز سے ہونے والے نقصان کو روکنے میں مدد کرتی ہیں۔ یہ موتیابند، گلوکوما، ذیابیطس ریٹینوپیتھی اور رات کے اندھے پن کی علامات کے خلاف لڑنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ خشک آنکھوں کے خطرے کو کم کرنے میں بھی مدد کرتا ہے کیونکہ اس میں بیٹا کیروٹین جیسے کیروٹینائڈز ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ایک طاقتور اینٹی آکسیڈینٹ ہے جو آپ کے جسم کو آکسیڈیٹیو تناؤ سے بچاتا ہے۔

۔10 کریلا قبض کا علاج کرتا ہے
کریلا فائبر اور پانی کا ایک اچھا ذریعہ ہے جو کھانے کے عمل انہضام میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ یہ آنتوں سے خون میں غذائی اجزاء کو جذب کرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔ یہ میٹابولزم کو بہتر بنانے، آنتوں کے معمول کے کام کو برقرار رکھنے اور قبض کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔ کریلے میں اینتھراکوئنز نامی مرکبات ہوتے ہیں جن میں جلاب کی خصوصیات ہوتی ہیں جو قبض کے علاج میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ اینتھراکوئنز آپ کی آنتوں میں پیرسٹالٹک حرکت کو متحرک کرتے ہیں جس سے آ تیزی سے ریفلوکس سے باہر نکالنے میں مدد ملتی ہے ۔غرض یہ بات واضح ہے کہ کریلا کا استعمال ہماری صحت کے لیے بہت مفید ثابت ہوتا ہے اسکو اپنی روزمرہ کی غذا میں شامل کریں اور فائدے اٹھائیں ۔

Happy independence day
12/08/2023

Happy independence day

09/08/2023
عناب :اس کو انگریزی میں جوجوبی jujube Fruit کہتے ہیں لاطینی زبان میں zuzyphus کہتے ہیں ۔یےایک مشھور پھل ہے جو بیر کے مشا...
07/08/2023

عناب :
اس کو انگریزی میں جوجوبی jujube Fruit کہتے ہیں لاطینی زبان میں zuzyphus کہتے ہیں ۔
یےایک مشھور پھل ہے جو بیر کے مشابہ ہوتا ہے آس کا رنگ سرخ اور گول شکل میں ہوتا ہے ۔مزے میں شریں سوکھے ہوئے بیر کی مانند ہوتا ہے ۔اسکا درخت بیری کے مانند ھوتا ھے ۔اس کے پتے بیری کے پتوں سے ضخیم اور لمبے ہوتے ہیں ۔
مزاج:گرمی سردی میں معتدل اور رطوبت کی طرف مائل یے ۔
افعال:
گاڑھے خلطوں کو نرم کرتاہے اور ملین طبع ہے ۔سینہ کو صاف کرتاہے اورمنفث بلغم ہے۔خون کی حدت اور جوش کو تسکین دیتا ہے خون کو صاف کرتاہے ۔خسرہ, چیچک ٫نذلہ ۔زکام اور خشک کھانسی ۔خشونت سینی کو نافع ہے ۔
اس کا شربت یا خسیاندہ بنایا جاتا ہے ۔خاکسر کے ساتھ جوش دےکر پینا معیادی بخار کےلے سود مند ہے ۔
معدے اور ضعف باہ کے مریض معالج کے مشورے سے استعمال کریں ۔اس کے مشھور مرکبات شربت عناب ۔شربت اعجاز لعوق سپستاں ۔

پنیر بوٹی (تخم حیات) کے فوائد:    پنیر بوٹی کا استعمال معمول بنالیں جو کرے آپ کی شوگر کو کنٹرول اور ساتھ ساتھ وزن میں بھ...
27/07/2023

پنیر بوٹی (تخم حیات) کے فوائد:

پنیر بوٹی کا استعمال معمول بنالیں جو کرے آپ کی شوگر کو کنٹرول اور ساتھ ساتھ وزن میں بھی کمی'اور جلدی امراض میں بھی آس کا استعمال فائدے مند ہے.
اس کا ذائقہ کڑوا مگر مجموعی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرنے والی جڑی بوٹی ہے۔
’پنیر بوٹی‘ کے استعمال کے بے شمار فوائد ہیں، اس میں موجود طاقت ور قدرتی اینٹی آکسیڈنٹ ہی اسے متعدد بیماریوں کی بہترین دوا بناتے ہیں، پنیر بوٹی کا روزانہ کی بنیاد پر اگر استعمال کر لیا جائے تو بہت سی شکایات سے دائمی طور پر چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین جڑی بوٹیوں کی جانب سے پنیر بوٹی کو اس کی افادیت اور صحت پر بے شمار فوائد حاصل ہونے کے سبب ’ تخم حیات ‘ کا نام دیا گیا ہے۔
پنیر بوٹی کو پنیر ڈوڈی بھی کہا جاتا ہے،
پنسار کی دکان سے با آسانی مناسب قمیت میں حاصل کی جانے والی پنیر بوٹی شوگر، وزن میں کمی، رنگ صاف کرنے، پیٹ، جسم اور جوڑوں کے درد وغیرہ میں بے حد مفید ثابت ہوتی ہے۔
اس کا روانہ کا استعمال بہت سی بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے ۔

پنیر بوٹی کے فوائد:
پنیر بوٹی کے استعمال سے صحت پر حاصل ہونے والے اثرات کو سائنس بھی تسلیم کر چکی ہے، یہ جڑی بوٹی شوگر کے مریضوں کے لیے بے حد مددگار ثابت ہوتی ہے، یہ انسولین کی قدرتی افزائش میں کردار ادا کرتی ہے، معدے کو طاقت بخشتی ہے، اپھار میں کمی لاتی ہے، بد ہضمی، تیزابیت اور پیٹ کے درد کا خاتمہ کرتی ہے، جِلدی امراض یعنی کیل، مہاسے، جھائیاں دور کرتی ہے،
ہیپاٹائٹس سے بچاؤ اور اس کے علاج کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے، بڑھے ہوئے بلڈ کولیسٹرول اور موٹاپے میں کمی لاتی ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق اگر اس جڑی بوٹی کو پیس کر کیپسول کی صورت میں کھایا جائے تو اس کے زیادہ فوائد سامنے آتے ہیں جبکہ اسے زیادہ تر دیسی طریقے سے پانی میں بھگو کر پیا جاتا ہے۔

پنیر بوٹی استعمال کرنے کا طریقہ :
ایک گلاس پانی میں 12 دانے پنیر بوٹی کے بھگو دیں اور رات بھر کے لیے گلاس کو ڈھانپ کر چھوڑ دیں۔
پنیر بوٹی کے اس پانی کو نتھار کر صبح نہار منہ پی لیں۔
بہترین نتائج حاصل کرنے کے لیے اس نسخے کو کم از کم 3 ماہ تک جاری رکھیں۔ کیپسول کی صورت میں اگرام والا کیپسول ایک صبحِ اور ایک شام پانی سے کھایا جاتا ہے ۔

تخم حیات کا استعمال کن افراد کے لیے منع ہے :
ماہرین جڑی بوٹیوں کے مطابق پنیر بوٹی صحت پر بے شمار فوائد کی حامل ہے مگر اس کا استعمال ہر کسی کے لیے یکسر مفید ثابت نہیں ہوتا۔
ماہرین کی جانب سے ٹی بی مریضوں، نمونیا کے شکار افراد، نزلہ، زکام اور کھانسی سے متاثر افراد اور سینے میں انفیکشن کی شکایت رکھنے والے افراد یآ جن کو بلغمی امراض ہیں ان کے لیے ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔

انار کا شمار سب سے بہترین پھلوں میں ہوتا ہے جو صحت کے لیے بے حد مفید ہیں۔ دوسرے پھلوں کے برعکس انار میں وٹامنز، منرلز، ا...
06/07/2023

انار کا شمار سب سے بہترین پھلوں میں ہوتا ہے جو صحت کے لیے بے حد مفید ہیں۔ دوسرے پھلوں کے برعکس انار میں وٹامنز، منرلز، اور نباتاتی مرکبات زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ انار کو اس کے ذائقے اور رنگ کی وجہ سے بہت سے پھلوں کی نسبت زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔
انار کا ذکر قرآن میں بھی موجود ہے
طبی تحقیقات کے مطابق اگر انار کو باقاعدگی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو بہت سے امراض سے محفوظ رہا جا سکتا ہے، جب کہ یہ پھل صحت کو برقرار رکھنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔
انار کا استعمال موٹاپے کا شکار افراد کے لیے نہایت مفید ثابت ہوتا ہے کیوں کہ اس میں کیلوریز کم مقدار میں پائی جاتی ہیں اور فائبر زیادہ مقدار میں۔ اس کے ساتھ ساتھ انار میں پروٹین بھی پایا جاتا ہے۔
ایک عام اندازے کے مطابق دو سو بیاسی گرام یا دوسونوے گرام انار کے دانوں میں دو سو چونتیس کیلوریز، تقریباً چھ گرام پروٹین، ساڑھے تین گرام فیٹ، باون گرام کاربوہائڈریٹس، ساڑھے چالیس گرام شوگر، اور گیارہ گرام فائبر پایا جاتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ انار میں کیلشیم، آئرن، میگنیشیم، فاسفورس، پوٹاشیم، وٹامن سی، اور وٹامن بی 9 (فولیٹ) بھی پائے جاتے ہیں۔
انار کے فوائد
دل کی صحت کے لیے مفید
اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور
بواسیر کا مؤثر علاج
گردے کے مریضوں کے لیے فائدہ مند
سوزش میں کمی.

انار کے فوائد:
(1)انار کو اگر باقاعدگی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو مندرجہ ذیل طبی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

(2)دل کی صحت کے لیے مفید
انار کو دل کی صحت کے لیے ایک مفید پھل تصور کیا جاتا ہے کیوں کہ یہ فائبر سے بھرپور ہوتا ہے، اور ڈاکٹر دل کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے ایسے پھلوں یا سبزیوں کو استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں جو فائبر سے بھرپور ہوتی ہیں۔

(3) انار کے دانوں میں پایا جانے والا فائبر ایل ڈی ایل یعنی جسم کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے جس کی وجہ سے دل کی بیماریوں کے خطرات بہت حد تک کم ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ نقصان دہ کولسیٹرول کی سطح کم ہونے کی وجہ سے فالج کے خطرات میں بھی واضح کمی آتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ انار میں پوٹاشیم بھی کافی مقدار میں پائی جاتی ہے اس لیے ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو یہ پھل ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق ہی استعمال کرنا چاہیئے تا کہ انہیں طبی مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

(4)اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور
جسم میں موجود سیلز کو فری ریڈیکلز کی وجہ سے کافی نقصان پہنچتا ہے، اس لیے سیلز کو اس نقصان سے بچانے کے لیے ایسی غذائیں استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے جو اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہیں۔

(5) انار میں پولی فینولک کمپاؤنڈ جیسے اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو کہ جسم کو فری ریڈیکلز سے پہنچنے والے نقصان سے بچاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انار میں اور بھی کئی طرح کے اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو کہ صحت کے لیے نہایت مفید تصور کیے جاتے ہیں۔

انار کے ساتھ اگر آپ دوسر پھلوں یا سبزیوں کو بھی استعمال کریں جو اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہیں تو آسانی کے ساتھ صحت میں بہتری لائی جا سکتی ہے اور مدافعتی نظام کو مضبوط بنا کر بہت سی بیماریوں سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

بواسیر کا مؤثر علاج
انار کو اگر باقاعدگی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو اسے بواسیر کا مؤثر علاج سمجھا جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق انار کے باقاعدہ استعمال سے ہاضمہ کے نظام میں بہت بہتری آتی ہے جس سے بڑی آنت کی سوزش میں واضح کمی آتی ہے اور قبض کی علامات میں بھی بہتری آتی ہے۔ بڑی آنت کی صحت میں بہتری آنے سے بواسیر کی شدت میں کمی آتی ہے۔

اس کے علاوہ انار کو بواسیر کا مؤثر علاج سمجھی جانے والی ادویات کے ساتھ بھی استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے تا کہ آسانی کے ساتھ اس تکلیف بیماری سے نجات حاصل کی جا سکے۔

گردے کے مریضوں کے لیے فائدہ مند
انار کو گردے کے مریضوں کے لیے بھی فائدہ مند سمجھا جاتا ہے کیوں کہ انار کو باقاعدگی کے ساتھ استعمال کرنے سے خون سے مضر صحت ذرات کا خاتمہ ہوتا ہے اور خون صاف ہوتا ہے جس سے گردوں کی صحت میں بہتری آنا شروع ہوتی ہے۔

ایک عام اندازے کے مطابق انار کے ایک سو گرام جوس میں پینسٹھ کیلوریز پائی جاتی ہیں اس لیے یہ گردوں کے مریضوں کے لیے نقصان دہ نہیں سمجھا جاتا۔ انار کے جوس سے فائدہ حاصل کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے صبح کے وقت نہار منہ یا شام کے وقت استعمال کیا جائے۔
شدید اور دائمی سوزش کی وجہ سے دل کی بیماریوں، ذیابیطس ٹائپ ٹو، اور کینسر کے خطرات میں واضح اضافہ ہوتا ہے۔ انار کو اگر باقاعدگی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو دائمی سوزش کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ انار میں سوزش کو کم کرنے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں اور اس کے علاوہ
اینٹی آکسیڈنٹس خصوصیات کی وجہ سے سوزش کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

انار کو اگر باقاعدگی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو بہت سے طبی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں انار کے چھلکے کو سوکھا کر منجن میں بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔اس کا بیج انار دانہ بھی ہاضم دواؤں میں استعمال ہوتا ہے ۔غرض پورا انار بہترین فوائد کا حامل ہے

25/06/2023

گرمیوں کے موسم میں ام اتا ہے اس کو پھلوں کا بادشاہ

بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا ذائقہ اور مٹھاس ہر ایک کو بھاتی ہے۔
آم کیونکہ قدرتی طور پر بہت زیادہ میٹھا ہوتا ہے اور زیادہ غذائی اجزا سے بھرپور بھی ہوتا ہے۔
آم میں متعدد اقسام کے وٹامنز اور منرلز موجود ہوتے ہیں جو اسے صحت کے لیے فائدہ مند بناتے ہیں .
کیا آم سے شوگر بڑھتی ہے ؟
ایک آم میں 99 کیلوریز، 1.4 پروٹین، 0.6 چکنائی، 25 گرام نشاستہ، 22.5 گرام مٹھاس، 2.6 گرام فائبر، وٹامن سی کا 67 فیصد حصہ، کاپر کا 20 فیصد، فولیٹ کا 18 فیصد، وٹامن اے اور ای کا 10 فیصد اور پوٹاشیم کا 6 فیصد حصہ جبکہ میگنیشم، کیلشیئم، فاسفورس، آئرن اور زنک کی بھی کچھ مقدار پائی جاتی ہے۔
اسی وجہ سے اس کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ آم میں 90 فیصد سے زیادہ کیلوریز قدرتی مٹھاس کا نتیجہ ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس سے ذیابیطس کے مریضوں میں بلڈ شوگر کی سطح بڑھ سکتی ہے۔
مگر ساتھ ہی اس میں فائبر اور متعدد اقسام کے اینٹی آکسائیڈنٹس بھی موجود ہیں جو بلڈشوگر کے مجموعی اثرات کو کم کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
فائبر خون میں مٹھاس کو جذب کرنے کی شرح کم کردیتا ہے، جبکہ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس بلڈ شوگر کی سطح میں اضافے سے ہونے والے تناؤ کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس سے جسم کے لیے نشاستہ کی زیادہ مقدار کو قابو میں کرنے اور بلڈ شوگر لیول کو متوازن رکھنا آسان ہوجاتا ہے۔
آم کا گلیسمک انڈیکس 51 ہوتا ہے، جو تیکنیکی طور پر اسے کم جی آئی غذا بناتا ہے یعنی جی آئی غذا سے مراد وہ غذا جن کا محدود مقدار میں استعمال کرنا شوگر کے مریضوں کے لئے نقصان دہ نہیں۔
آم کو شوگر کے مریضوں کے لیے بہتر کیسے بنایا جائے؟
ماہرین کے مطابق آم کا ایک سلائیس یا کٹے ہوئے آم کا آدھا چھوٹا کپ کھایا جاسکتا ہے،
مگر مینگو شیک، جوس وغیرہ سے گریز کرنا چاہئے۔ اور اگر آپ شوگر کے مریض ہیں اور آم کھانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے مختلف طریقوں کو استعمال کرکے بلڈشوگر کی سطح کو بڑھنے سے روک سکتے ہیں۔
ایک وقت میں بہت زیادہ آم کھانے سے گریز کیا جائے۔
چاولوں میں کاربوہائیڈریٹس کی شرح زیادہ ہوتی ہے تو آم کھاتے ہوئے چاول کھانے سے گریز کریں ۔
دوپہر اور رات کے کھانے کے درمیان آم کو کھائیں۔
شروعات میں صرف آدھا کپ یا 75 گرام آم کھائیں۔ آم میں فائبر تو ہوتا ہے مگر پروٹین کی مقدار کچھ خاص نہیں ہوتی اس لئے آم کے ساتھ کوئی پروٹین والی غٖذا مثلاً ایک ابلا ہوا انڈا، پنیر کا ایک ٹکڑا کھانا بلڈ شوگر کی سطح کو بڑھنےسے روک سکتا ہے۔

Address

6/12 Firdous Colony Nazimabad, Karachi
Karachi

Opening Hours

Monday 19:00 - 22:00
Tuesday 19:00 - 22:00
Wednesday 19:00 - 22:00
Thursday 19:00 - 22:00
Friday 19:00 - 22:00
Saturday 19:00 - 22:00
Sunday 19:00 - 22:00

Telephone

+923312542471

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hakeem Amir House posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Hakeem Amir House:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram