07/02/2026
بیس سال لگے اس قوم کو یہ شعور دینے میں کہ پتنگ بازی کوئی ثقافتی تہوار نہیں بلکہ ایک خونی کھیل ہے۔ ایک ایسا کھیل جو ڈور سے زیادہ گلے کاٹتا ہے۔ مائیں بیٹے کھوتی رہیں، بچے یتیم ہوتے رہے، راہگیر سڑکوں پر مرتے رہے — تب جا کر ریاست کو ہوش آیا تھا اور پابندیاں لگیں۔
مگر افسوس… ایک سیاسی خواہش نے بیس سال کی قربانیوں کا جنازہ نکال دیا۔
آج پھر وہی منظر ہے — سڑکوں پر موٹرسائیکلیں نہیں، موت کے موبائل پھرتے نظر آ رہے ہیں۔ لوگوں نے اپنی بائیکس پر لوہے کی سلاخیں اور پائپ باندھ رکھے ہیں، جیسے شہر نہیں جنگل کا قانون ہو۔ کسی کے گلے پر ڈور پھرے، کسی کی گردن کٹے، کسی کا چہرہ چِرے — کسی کو پرواہ نہیں۔
یہ کھیل نہیں
یہ شوق نہیں
یہ روایت نہیں
یہ سیدھی سیدھی عوام کی جانوں سے کھیلنے کی اجازت ہے۔
اور سب کچھ صرف اس لیے کہ اقتدار میں بیٹھی ایک ڈائن کو یہ تماشا اچھا لگتا ہے۔ عوام کا خوف، ماؤں کی چیخیں، اسپتالوں کی ایمرجنسی، سڑکوں پر بہتا خون — یہ سب شاید اہم نہیں۔
پیغام بالکل واضح ہے:
انسانی جان سستی ہے، حکمران کی مرضی مہنگی۔
جب ریاست خود آنکھیں بند کر لے، تو حادثے نہیں ہوتے — لاپرواہی کو پالیسی بنا دیا جاتا ہے۔
اور پھر ہر مرنے والا صرف ایک خبر نہیں ہوتا، بلکہ اس نظام پر ایک سوالیہ نشان ہوتا ہے۔