Tariq

Tariq dr of Medicine 💊

03/01/2026
یہ وہ لمحہ ہــــــے جب ایک عورت اپنے شوہر کی نسل کو بڑھانے کے لیئــــــے اپنی جان تک کی پرواہ نہیں کرتی...اسے نہیں معلوم...
03/01/2026

یہ وہ لمحہ ہــــــے
جب ایک عورت اپنے شوہر کی نسل کو
بڑھانے کے لیئــــــے اپنی جان تک کی پرواہ نہیں کرتی...
اسے نہیں معلوم کے آپریشن تھیٹر سے یہ زندہ واپس آئــــے گی یا نہیں
پر پھر بھی وہ اپنی جان پر پہ کھیل کر
اولاد کی خوشی دیتی ہـــــے۔
آئیں دعا کریں ماؤں کے لیے کہ اللّٰہ تعالیٰ تمام خواتین کو صحت مند لمبی زندگی عطاء فرمائے اور انکو ہر خوشی ملے,اولاد کا سکھ نصیب ہو...
جو بے اولاد ہیں
رب العالمین پیارے آقاﷺ جان کے صدقے اولاد کی نعمت نصیب فرمائے...
آمین ثم آمین 💕

عطائی کون ھے۔ اگرچہ یہ ڈسپنسر ،فارمیسی ٹیکنیشن ڈپلومہ ہولڈر ہوتے ہیں  لیکن ابتدائی طبی امداد کے بارے میں خوب جانتے ہیں ا...
01/01/2026

عطائی کون ھے۔
اگرچہ یہ ڈسپنسر ،فارمیسی ٹیکنیشن ڈپلومہ ہولڈر ہوتے ہیں لیکن ابتدائی طبی امداد کے بارے میں خوب جانتے ہیں اور اسی پر ان کو اگاہی دی جاتی اور پریکٹیکل کروایا جاتا ہے،درحقیقت ہر وہ شخص عطائی ہے جس کے پاس نہ تو کسی بھی قسم کا،ہومیو پیتھک ڈاکٹر کا ڈپلومہ ،پیرامیڈک ڈپلومہ نرسنگ،ڈسپنسر،فارمیسی ٹیکنیشن ،فارماسسٹ،میڈیکل اسسٹنٹ یا میڈیکل کی کوئی ڈگری ہے بلکہ چند میڈیکل سے منسلک شعبہ کے لوگوں کے ساتھ کام کرنے کے بعد اپنے آپ کو ڈاکٹر کہلانے والا عطائی ہے جو ابتدائی طبی امداد کے ساتھ ساتھ بڑے سے بڑے مرض کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور میڈیکل کے شعبہ کو کمائی کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔ بہت عرصہ دراز سے پاکستان میں ڈسپنسر یا فارمیسی ٹیکنیشن حضرات کو صحت کے شعبے میں اہمیت حاصل رہی ہے اور ان کا ایک کلیدی کردار رہا ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا حتی کہ آج کے دور میں بھی پاکستان کے تمام صوبوں میں مختلف اضلاع میں آج بھی ڈسپنسر یا فارمیسی ٹیکنیشن کسی گاؤں گلی محلے میں یا گورنمنٹ کی ڈسپنسری میں گورنمنٹ کی زیر نگرانی اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں لیکن دوسری طرف عوام کو صحت کی سہولیات گھر گھر پہنچانے کی بجائے اعلی تعلیم یافتہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر حضرات اور اسی طرح ادویات سے منسلک لوگ ڈسپنسر اور فارمیسی ٹیکنیشن حضرات کے خلاف ہر وقت سراپہ احتجاج ہیں جبکہ ان میں سے کوئی بھی کسی گاؤں گلی یا محلے میں جا کر اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کے لیے تیار نہیں کیونکہ ان کا مقصد صرف مال کمانا ہے نہ کہ عوام کو سستی معیاری ابتدائی طبی امداد دینا ہے لہذا عطائی کی حقیقت کیا ہے جانتے ہیں۔
آج کے دور میں میڈیکل شعبہ میں عطائی کون ھے۔گاؤں میں بیٹھا ڈسپینسر/فارمیسی ٹیکنیشن،پریکٹیشنر چند میڈیسن رکھ کر اپنے بچوں کی حلال رزق کمانے والا عطائی کہلاتا ھے۔جو مریض کو ایم بی بی ایس ڈاکٹر صاحبان کے کافی تعداد میں لکھ کردیئے گھر جا کر انجیکشن لگاتا ھے۔راستہ میں کسی اجنبی کا ایکسیڈنٹ ھو جائےتو فرسٹ ایڈ دے دیتا ھےاور بغیر پیسوں کے انسانیت زندہ رکھتا ھے۔کسی کے پاس پیسے نہیں تو ادھار میڈیسن دے دیتا ھے۔فری میں اپنا وقت ضائع کرتا ھے گھرگھر جا کر بلڈپریشر چیک کرتا ھے ۔ڈسپنسر/فارمیسی ٹیکنیشن اپنے تجربہ کی بنیاد پر مریض کو فرسٹ ایڈ دیتا نہ کہ غیر تجربہ شدہ ادویات کا تجربہ کرتا ھے ،50،100روپے میں بھی میڈیسن دے دیتا ھے۔وہ اپنے بچوں کی روذی،روٹی کی فکر کئیے بغیر انسانیت کو زندہ رکھتا ھے۔دوسری طرف نام نہاد بڑے بڑے سڑکوں پر بورڈ اویزاں کرنے والے ڈاکٹر پروفیسر ایم بی بی ایس ،ڈاکٹر صاحبان کے پاس مریض اپنی تکلیف کے ساتھ بڑے ھسپتال میں جاتا ھے۔پہلے اکانٹر پر بھاری فیس جمع کرواتا ھے پھر اپنی باری کا انتظار کرتا ھےچاھے کتنی ھی تکلیف میں کیوں نہ ھو۔جب ڈاکٹر کے پاس پہنچتا ھے تو پوچھ گچھ کرنے کے بعد ڈاکٹر لیب ٹیسٹ لکھ دیتا ھے جس میں ڈاکٹر کا نصف حصہ ھوتا ھے۔پھر ڈاکٹر کے پاس حاضر ھوتا ھے ڈاکٹرمیڈیسن لکھ کر دیتا ھے جو صرف اسی ھسپتال سے دستیاب ھوتی ھے جن ادویات کا کمیشن کمپنی سے لیتا ھے۔اور اس میڈیسن کا تجربہ غریب مریض پر کرتاھے۔اس ایم بی بی ایس ڈاکٹر کو اتنا علم نہیں ھوتا یہ میڈیسن دو نمبر ھے یا اصل ھے۔ڈاکٹر صاحب اپنےکمیشن کی خاطر وھی میڈیسن لکھتاھےجس سے ڈاکٹر کا مفاد ھوتاھے۔مریض تکلیف سے چیخ رھا ھوتاھے3سے4گھنٹے بعد5سے10ھزار لٹانے کےبعدمریض گھر لوٹتاھےڈاکٹر صاحبان ساتھ میڈیسن کے کافی انجیکشن تھمادیتے ھیں کے اپنے گاؤں میں بیٹھےڈسپینسر سے روزانہ لگوالینا۔حکومت کے بنائے ادارے صرف ڈسپینسر کو عطائی ثابت کرنے میں آئے روز ان کے گلی محلوں میں بنے کلینک سیل کرنےکےلئیےدن رات ایک کیئے ھوئےھیں۔اور ھزاروں لاکھوں کا چالان کردیتےھیں۔ڈسپینسر بیچارہ نہ تو اپنے اھل محلہ کو جواب دےسکتاھےاوپرسےبھاری بھر جرمانےاداکرکے خود ذھنی مریض بن جاتاھے۔جو اس مسیحا سے حکومت اور اداروں کی سرا سر زیادتی ھے۔حکومت کے بنےاداروں کا اصل مقصد جعلی ادویات بنانے والی کمپنیوں کو کنٹرول کرنا ھے۔ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ھے۔جن کا اصل مقصدعوام تک ادویات پہنچاناھے۔اداروں کا کام اب صرف پیسہ اکٹھا کرنا ھے۔8سے10سال بڑے ھسپتالوں میں وقت ضائع کرنے کے بعد ڈسپینسر جب اپنے گلی،محلےمیں چھوٹا سا کلینک کھولتا ھے تو اپنے اوپر عطائی کالیبل لگا لیتاھے،حالانکہ عطائی کو بنانےوالے خود عطائیت کا گھر ھیں۔خدارا ھوش کے ناخن لو،گلی محلوں میں بیٹھے ڈسپینسر/فارمیسی ٹیکنیشن،پریکٹیشنرایک مسیحا ھیں یہ عطائی نہیں ھیں۔یہ غریب کے ھمدرد ھیں لوٹیرے نہیں ھیں۔یہ عطائی،عطائی والا ڈرامہ بند کرکے کمیشن دینے والی میڈیسن کمپنیوں اور کمیشن دینے والی لیب ،اور کمیشن لے کر ادویات لکھنے والوں کے خلاف کروائی کرو۔نہ کے غریب عوام کو 50,100میں میڈیسن دینے والے کے خلاف کاروائی کرو۔گورنمنٹ آف پاکستان اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ ڈسپنسر فارمیسی ٹیکنیشن یا پیرامیڈک سٹاف کا ڈپلومہ رکھنے والے لوگ جو عرصہ دراز سے لوگوں کو صحت کی سہولت پہنچا رہے ہیں ان کے کلینکس کو رجسٹر کیا جائے اور باہر بورڈ آویزاں کیا جائے کہ یہاں صرف ابتدائی طبی امداد دی جاتی ہے۔
نوٹ:
اس تحریر کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ ڈسپنسر یا فارمیسی ٹیکنیشن کو کسی ہسپتال کا یا ادویات کے شعبے میں کسی مینوفیکچرر کا ڈسٹری بیوٹر کا انچارج لگا دیں بلکہ مقصد صرف یہ ہے کہ اگر پاکستان بننے سے لے کر ابھی تک عوام کو یہ لوگ سستی معیاری ابتدائی طبی امداد دے رہے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ،بصورت دیگر پاکستان بھر میں شہری آبادیوں کے علاوہ دیہی آبادی میں بھی ایم بی بی ایس ڈاکٹر اور فارماسسٹ حضرات نیک نیتی سے اپنے کلینک اور فارمیسی گاؤں گاؤں بنائیں تاکہ لوگوں کو پتہ چل سکے کہ ڈسپنسر یا فارمیسی ٹیکنیشن سے بھی اوپر کام کرنے والے لوگ اور خدا ترس لوگ موجود ہیں اگر آپ گاؤں گاؤں سہولت نہیں پہنچا سکتے تو جن لوگوں کی یہ ڈسپنسر اور فارمیسی ٹیکنیشن حضرات ابتدائی طبی امداد دے کر جان بچا رہے ہیں ان کو داد دینی چاہیے کسی بڑے آپریشن یا بڑی مرض کے ساتھ کھیلنے کی ان کو بھی اجازت نہیں اور نہ ہی ایسا کرتے ہیں باقی ہر فیلڈ میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں اس چیز کا اندازہ ہر شخص کو ہے
والسلام
تحریر احمد

سروائیکل سرکلج کے بعد Vesicova**nal Fistula بننے کا مسئلہVesicova**nal   (VVF) # ایک نادر مگر سنگین پیچیدگی ہے جو بعض او...
31/12/2025

سروائیکل سرکلج کے بعد Vesicova**nal Fistula بننے کا مسئلہ

Vesicova**nal (VVF) # ایک نادر مگر سنگین پیچیدگی ہے جو بعض اوقات سروائیکل سرکلج کے بعد ظاہر ہو سکتی ہے۔ سروائیکل سرکلج ایک طبی عمل ہے جس میں #حاملہ #عورت کے گردن رحم (cervix) کو ٹانکوں یا سل کے ذریعے مضبوط کیا جاتا ہے تاکہ رحم کا نچلا حصہ قبل از وقت کھلنے سے محفوظ رہے اور #حمل برقرار رہے۔

اگر یہ سرجری احتیاط کے ساتھ نہ کی جائے، یا دوران سرجری مثانہ (bladder) یا گرداگرد بافتوں (surrounding tissues) کو نقصان پہنچ جائے، یا ٹانکے کی جگہ پر سوزش (infection) یا بافتوں کا مردہ ہو جانا (tissue necrosis) پیدا ہو جائے، تو cervix اور مثانہ کے درمیان غیر معمولی راستہ (fistula) بن سکتا ہے۔ اس صورت میں پیشاب براہِ راست اندام نہانی (va**na) میں خارج ہونے لگتا ہے، جو شدید تکلیف، بدبو، اور روزمرہ زندگی میں مشکلات پیدا کرتا ہے۔

31/12/2025

قصور کی تاریخ کا بدترین سیلاب — 1875
1875 میں آنے والا شدید سیلاب قصور کی تاریخ کا بدترین سانحہ قرار دیا جاتا ہے، جس نے شہر اور گردونواح کو شدید نقصان پہنچایا، آبادی متاثر ہوئی اور معمولاتِ زندگی طویل عرصے تک مفلوج رہے۔ یہ سیلاب آج بھی قصور کی تاریخ کا ایک اہم

31/12/2025

پنجاب حکومت نے اراضی کے ریکارڈ میں شفافیت پیدا کرنے اور زمینوں سے متعلق فراڈ کے خاتمے کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے وراثت کے علاوہ زمین کی تمام اقسام کی زبانی منتقلی پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ سیکرٹری بورڈ آف ریونیو پنجاب کی جانب سے 30 دسمبر 2025 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اب زمین کی خرید و فروخت، رہن، تبادلہ اور ہبہ صرف اور صرف رجسٹرڈ دستاویز کی بنیاد پر ہی قابلِ قبول ہوں گے، جیسا کہ رجسٹریشن ایکٹ 1908 اور ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ 1882 میں واضح طور پر درج ہے۔ کسی بھی زبانی بیان، دعوے یا لین دین کی بنیاد پر انتقال درج کرنا غیر قانونی تصور ہوگا۔ تاہم عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے وراثت کے معاملات کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے اور وراثتی انتقالات حسبِ سابق مروجہ قوانین کے تحت جاری رہیں گے۔ اس نوٹیفکیشن کے تحت تمام پٹواریوں، تحصیلداروں اور ریونیو افسران کو سختی سے احکامات پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ اہلکار کے خلاف سخت محکمانہ اور تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس فیصلے سے نہ صرف پٹواری کلچر اور من مانیوں کا خاتمہ ہوگا بلکہ زمینوں پر قبضوں، جعلی انتقالات اور طویل عدالتی تنازعات میں بھی نمایاں کمی آئے گی، اور شہریوں کو زمین کی ملکیت کے حوالے سے مضبوط قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔ یہ قانون پنجاب بھر میں 30 دسمبر 2025 سے فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے

E
31/12/2025

E

W
18/12/2025

W

Q
18/12/2025

Q

18/12/2025

گھٹنوں میں درد ہو یا سوج جاتے ہوں ٹانگیں سوج جاتی ہوں یا درد رہتا ہو یہ 2 دانے پیس ک...See more

18/12/2025

E

Address

Hussain Khan Walla
Kasur
55051

Opening Hours

09:00 - 17:00

Telephone

+923064055821

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tariq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram