19/09/2025
ڈاکٹر جواد سرفراز — تعلیمی و پیشہ ورانہ سفر
ڈاکٹر جواد سرفراز نے اپنی ابتدائی تعلیم علامہ اقبال اسکول، پنجیرا سے حاصل کی۔ بعدازاں آپ کوٹلی منتقل ہوگئے جہاں آپ نے "الغازالی کالج" میں داخلہ لیا اور انٹرمیڈیٹ میں نمایاں نمبر حاصل کیے۔
بچپن ہی سے آپ کا خواب ڈاکٹر بننے کا تھا، اسی خواب کو حقیقت بنانے کے لیے آپ نے انتھک محنت کی اور اپنا زیادہ تر وقت تعلیم پر صرف کیا۔ ایف۔ایس۔سی کے بعد جب آپ نے میڈیکل انٹری ٹیسٹ دیا تو اس وقت کشمیر میں کوئی میڈیکل کالج نہیں تھا اور ضلع کوٹلی کے لیے محض 12 نشستیں مختص تھیں۔ آپ نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے پورے ضلع میں پانچویں پوزیشن حاصل کی اور نشتر میڈیکل کالج، ملتان میں داخلہ پایا۔
نشتر میڈیکل کالج پاکستان کے بہترین اداروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں عالمی معیار کی تعلیم دی جاتی ہے۔ آپ نے پانچ سالہ ایم بی بی ایس کے دوران بہترین کارکردگی دکھائی اور تمام مضامین پہلی ہی کوشش میں کامیاب کیے۔ بعدازاں ہاؤس جاب بھی نشتر اسپتال ہی سے مکمل کی۔
ایم بی بی ایس کے بعد جب آپ واپس کشمیر آئے تو سرکاری نظام کے مسائل اور سفارشات کی بنیاد پر ملازمتوں کی تقسیم نے مایوسی پیدا کی۔ چھ ماہ تک سرکاری ملازمت نہ ملنے پر آپ نے فیصلہ کیا کہ صرف اور صرف میرٹ پر آگے بڑھنا ہے۔ چنانچہ آپ نے ایف۔سی۔پی۔ایس (میڈیسن اینڈ الائیڈ) کا پارٹ 1 اور برطانیہ کا ایم آر سی پی (MRCP Part 1) دونوں امتحانات پہلی ہی کوشش میں پاس کیے اور میرٹ پر سیٹ حاصل کی۔
آپ نے دو سال تک راول جنرل اسپتال میں میڈیسن میں اسپیشلائزیشن کی تربیت حاصل کی۔ اس کے بعد پاکستان کے اعلیٰ ترین ادارے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز)، اسلام آباد میں ایف سی پی ایس گیسٹروانٹرولوجی کی تربیت کے لیے میرٹ پر سیٹ ملی۔ یہاں آپ نے اینڈوسکوپی سمیت جدید گیسٹروانٹرولوجی کی مہارتیں حاصل کیں۔ پانچ سالہ کٹھن تربیت اور امتحانات کے بعد آپ نے ایف۔سی۔پی۔ایس کا مشکل ترین امتحان کامیابی سے پاس کیا اور پنجیرا کے پہلے ایف سی پی ایس ڈاکٹر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔
اس کے بعد آپ نے پی۔ایس۔سی امتحان میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کی اور ضلع کوٹلی میں دوسرا نمبر پایا۔
بیرونِ ملک بالخصوص برطانیہ اور سعودی عرب میں بہترین مواقع اور میڈیکل کیریئر میں مزید ترقی کے امکانات موجود ہونے کے باوجود آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ اپنی خدمات اپنے ہی علاقے کے عوام کے لیے وقف کریں۔ آپ آج بھی اسی عزم پر قائم ہیں۔
اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کو انسانیت کی خدمت اور اپنے پیشے سے وابستگی میں ہمیشہ ثابت قدم رکھے۔ آمین۔