15/02/2026
بعض والدین پریشانی کے ساتھ بتاتے ہیں کہ ان کا بچہ بولنے کے بجائے اشاروں سے بات کرتا ہے، اپنی ضرورتیں ہاتھ یا اشاروں سے بتاتا ہے، مگر بات کو سمجھ لیتا ہے اور زبان سے بہت کم الفاظ استعمال کرتا ہے۔ پیشہ ورانہ نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ صورتِ حال عموماً اظہارِ زبان (expressive language) میں تاخیر کی طرف اشارہ کرتی ہے، یعنی بچہ سمجھ تو رہا ہوتا ہے لیکن اپنے خیالات اور ضروریات کو الفاظ میں بیان کرنے میں مشکل محسوس کرتا ہے۔
چھوٹے بچوں میں اشاروں کا استعمال ایک فطری مرحلہ بھی ہو سکتا ہے، لیکن اگر عمر بڑھنے کے باوجود بچہ بولنے کے بجائے زیادہ تر اشاروں پر انحصار کرے تو یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ اسے زبان سیکھنے میں اضافی مدد کی ضرورت ہے۔ بعض اوقات سماعت کے مسائل، کم سماجی تعامل، اسکرین ٹائم کی زیادتی یا بولنے کے مواقع کی کمی بھی بولنے میں تاخیر کا سبب بن سکتے ہیں.
کچھ صورتوں میں کم بولنا اور اشاروں پر انحصار کرنا Speech Delay یا Autism Spectrum Disorder سے متعلق رویّوں میں شامل ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب بچہ آنکھوں میں دیکھ کر بات نہ کرے، اپنے نام پر ردعمل کم دے یا سماجی میل جول میں دلچسپی کم دکھائے۔ تاہم حتمی تشخیص ہمیشہ مستند ماہر ہی کرتا ہے۔
والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچے سے زیادہ بات کریں، سادہ اور واضح الفاظ استعمال کریں، اشارے کی جگہ لفظ دہرا کر سکھائیں، کہانی سنائیں، اسکرین ٹائم کم کریں اور بچے کو بولنے کے مواقع فراہم کریں۔ اگر دو سال کی عمر کے بعد بھی بچہ بہت کم بولتا ہو یا ہدایات سمجھنے کے باوجود الفاظ استعمال نہ کرے تو اسپیچ تھراپسٹ یا چائلڈ سائیکالوجسٹ یا چائلڈ ڈیولپمنٹ اسپیشلسٹ یا پھر کلینیکل سائیکالوجسٹ سے مشورہ کرنا بچے کی زبان اور سماجی نشوونما کے لیے نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔
کلینیکل سائیکالوجسٹ
سپیشل ایجوکیشنسٹ
03228099373