Clinical psychologist

Clinical psychologist All types of disorders management through counselling as well as psychotherapy
Also delivery online lectures with notes

بعض والدین پریشانی کے ساتھ بتاتے ہیں کہ ان کا بچہ بولنے کے بجائے اشاروں سے بات کرتا ہے، اپنی ضرورتیں ہاتھ یا اشاروں سے ب...
15/02/2026

بعض والدین پریشانی کے ساتھ بتاتے ہیں کہ ان کا بچہ بولنے کے بجائے اشاروں سے بات کرتا ہے، اپنی ضرورتیں ہاتھ یا اشاروں سے بتاتا ہے، مگر بات کو سمجھ لیتا ہے اور زبان سے بہت کم الفاظ استعمال کرتا ہے۔ پیشہ ورانہ نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ صورتِ حال عموماً اظہارِ زبان (expressive language) میں تاخیر کی طرف اشارہ کرتی ہے، یعنی بچہ سمجھ تو رہا ہوتا ہے لیکن اپنے خیالات اور ضروریات کو الفاظ میں بیان کرنے میں مشکل محسوس کرتا ہے۔
چھوٹے بچوں میں اشاروں کا استعمال ایک فطری مرحلہ بھی ہو سکتا ہے، لیکن اگر عمر بڑھنے کے باوجود بچہ بولنے کے بجائے زیادہ تر اشاروں پر انحصار کرے تو یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ اسے زبان سیکھنے میں اضافی مدد کی ضرورت ہے۔ بعض اوقات سماعت کے مسائل، کم سماجی تعامل، اسکرین ٹائم کی زیادتی یا بولنے کے مواقع کی کمی بھی بولنے میں تاخیر کا سبب بن سکتے ہیں.

کچھ صورتوں میں کم بولنا اور اشاروں پر انحصار کرنا Speech Delay یا Autism Spectrum Disorder سے متعلق رویّوں میں شامل ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب بچہ آنکھوں میں دیکھ کر بات نہ کرے، اپنے نام پر ردعمل کم دے یا سماجی میل جول میں دلچسپی کم دکھائے۔ تاہم حتمی تشخیص ہمیشہ مستند ماہر ہی کرتا ہے۔
والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچے سے زیادہ بات کریں، سادہ اور واضح الفاظ استعمال کریں، اشارے کی جگہ لفظ دہرا کر سکھائیں، کہانی سنائیں، اسکرین ٹائم کم کریں اور بچے کو بولنے کے مواقع فراہم کریں۔ اگر دو سال کی عمر کے بعد بھی بچہ بہت کم بولتا ہو یا ہدایات سمجھنے کے باوجود الفاظ استعمال نہ کرے تو اسپیچ تھراپسٹ یا چائلڈ سائیکالوجسٹ یا چائلڈ ڈیولپمنٹ اسپیشلسٹ یا پھر کلینیکل سائیکالوجسٹ سے مشورہ کرنا بچے کی زبان اور سماجی نشوونما کے لیے نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔

کلینیکل سائیکالوجسٹ
سپیشل ایجوکیشنسٹ
03228099373

کیا آپ بھی ان لوگوں میں سے ہیں جو ننگے پاؤں چلنے والوں کو دیکھ کر دکان بند کر دیتے ہیں؟ یہ پوسٹ آپ کی سوچ کا تالا کھول س...
14/02/2026

کیا آپ بھی ان لوگوں میں سے ہیں جو ننگے پاؤں چلنے والوں کو دیکھ کر دکان بند کر دیتے ہیں؟ یہ پوسٹ آپ کی سوچ کا تالا کھول سکتی ہے۔
فرض کریں آپ کو ایک ایسے جزیرے پر بھیجا جائے جہاں کسی ایک انسان نے بھی جوتے نہ پہنے ہوں، تو آپ کی رپورٹ کیا ہوگی؟
دو سیلز مین وہاں پہنچے۔
پہلا شخص سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور دفتر فون کیا: "میرا وقت ضائع نہ کریں، یہاں کوئی جوتا نہیں خریدے گا کیونکہ یہاں کسی کو جوتے پہننے کی عادت ہی نہیں ہے۔"
دوسرا شخص جوش سے پاگل ہو گیا اور کہنے لگا: "فوری طور پر اسٹاک بھیجیں! یہاں تو پوری آبادی ہی خالی پاؤں ہے، یعنی ہر شخص میرا گاہک بن سکتا ہے کیونکہ ان کے پاس ابھی تک کوئی جوتا ہے ہی نہیں۔"
حقیقت یہ ہے کہ دونوں سچے تھے۔ لیکن ایک کی حقیقت اسے "رکاوٹ" دکھا رہی تھی اور دوسرے کی حقیقت اسے "موقع" (Opportunity) دکھا رہی تھی۔
ہم اکثر حالات کا رونا روتے ہیں کہ "پاکستان میں کام نہیں ہوتا"، "لوگوں کے پاس پیسے نہیں ہیں"، یا "کوئی سمجھتا ہی نہیں"۔ یاد رکھیں، یہ حالات کی رپورٹ نہیں ہے، یہ آپ کے اندرونی خوف کی عکاسی ہے۔
کامیاب انسان وہ نہیں جو بنے بنائے راستے پر چلے، بلکہ وہ ہے جو وہاں راستہ تلاش کرے جہاں دوسروں کو صرف دیوار نظر آتی ہے۔ جزیرہ وہی رہتا ہے، لوگ وہی رہتے ہیں، بس آپ کی آنکھ بدلتی ہے تو آپ کا بینک بیلنس اور ذہنی سکون بدل جاتا ہے۔
آپ کی کامیابی کا 90% انحصار آپ کے Perception (ادراک) پر ہے۔ اگر آپ مسئلے کو 'مسئلہ' سمجھیں گے تو وہ آپ کو کھا جائے گا، اور اگر اسے 'چیلنج' سمجھیں گے تو وہی آپ کو عروج پر لے جائے گا۔
اب آپ ایمانداری سے بتائیں: آپ اپنی زندگی کے 'جزیرے' میں پہلے شخص کی طرح سوچ رہے ہیں یا دوسرے کی طرح؟
اگر آپ اپنی سوچ کے ان بند تالوں کو کھولنا چاہتے ہیں اور زندگی کو ایک نئے، مثبت زاویے سے دیکھنا سیکھنا چاہتے ہیں، تو آپ ون ٹو ون کوچنگ کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں۔

Rabia Munir
Hypnotherapist
Trainer
Ms clinical Psychologist
NLP Master Practitioner

Every child is different — not difficult.When we try to make a child fit our expectations,they may look stubborn or unco...
13/02/2026

Every child is different — not difficult.

When we try to make a child fit our expectations,
they may look stubborn or uncooperative.

But when we understand their learning style
and emotional needs,
the same child starts to shine.

The problem is not the child.
The approach needs to change.

Understanding creates growth.

13/02/2026
In behavior,  ABC of behavior is a simple way to understand why a behavior happens..A – Antecedent (What happens BEFORE)...
13/02/2026

In behavior, ABC of behavior is a simple way to understand why a behavior happens..

A – Antecedent (What happens BEFORE)

This is what happens right before the behavior.
● A demand is given
● A toy is taken away
● A loud noise happens
● Screen time ends

👉 Think: “What set the behavior off?”

B – Behavior (What the child DOES)

This is the observable action—what you can see or hear.
● Crying
● Hitting
● Running away
● Saying “no”
● Throwing objects

👉 Describe it clearly, not emotionally.

C – Consequence (What happens AFTER)

This is what happens right after the behavior.
● Parent gives the tablet back
● Child is removed from the task
● Adult gives attention
● Child gets what they want

👉 This often explains why the behavior keeps happening.

Simple Parent-Friendly Example

A: Mom turns off the TV
B: Child cries and drops to the floor
C: Mom turns the TV back on

📌 What did the child learn?
👉 Crying = TV comes back

Why ABC is helpful for parents
✔ Helps understand why behavior happens
✔ Helps change what happens before or after the behavior
✔ Helps reduce challenging behavior without punishment

11/02/2026

Waits without touching stimuli

11/02/2026

Basant

Address

Awsia Housing Society
Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Clinical psychologist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram