13/11/2025
کیا حمل ٹھہرنے کے لیے عورت کا فارغ ہونا لازمی ہے؟
حمل اور or**sm کا راز – میتھ یا حقیقت؟"
کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ حمل ٹھہرنے کے لیے عورت کو بھی لازمی طور پر جنسی تعلق میں فارغ (or**sm) ہونا ضروری ہے؟ یہ سوال اکثر خواتین کے ذہن میں آتا ہے اور ہمارے فیس بک پیج اسلامی اور دیسی ٹوٹکے پر بھی بہت بار پوچھا گیا ہے۔ سائنسی اعتبار سے یہ ایک اہم مگر غلط فہمی پر مبنی سوال ہے، جس پر جدید ریسرچ نے واضح جواب دیا ہے۔ عورت کے فارغ ہونے (or**sm) اور حمل کے درمیان کوئی براہِ راست لازمی تعلق ثابت نہیں ہوا۔ یعنی اگر عورت or**sm نہ بھی ہو تو حمل ٹھہر سکتا ہے، کیونکہ اصل عمل نطفے (s***m) کے رحم میں پہنچنے اور بیضہ (egg) سے ملنے پر منحصر ہے (WHO, NIH, PubMed)۔
پس منظر میں جائیں تو حمل کا عمل ایک مکمل سائنسی نظام پر مبنی ہے۔ مرد کے سپرم جب عورت کے رحم میں داخل ہوتے ہیں تو وہ فیلوپین ٹیوب میں جا کر بیضے سے ملتے ہیں۔ اگر بیضہ اس وقت موجود ہو (ovulation کے دوران)، تو نطفہ اور بیضہ کا ملاپ حمل کا آغاز کرتا ہے۔ اس سارے عمل کے لیے عورت کا or**sm ہونا لازمی نہیں ہے (CDC, Mayo Clinic)۔ دنیا بھر میں کروڑوں خواتین نے بغیر or**sm کے بھی بچے جنم دیے ہیں، جو اس حقیقت کی سائنسی تصدیق ہے۔
وجوہات اور عوامل کی بات کریں تو اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عورت کا فارغ ہونا سپرم کو رحم میں "کھینچنے" یا "پہنچانے" میں مددگار ہوتا ہے۔ کچھ پرانی تھیوریز میں کہا گیا تھا کہ or**sm سے رحم کے اندر ہلکی سکڑاؤ (contraction) پیدا ہوتی ہے جو سپرم کو اوپر لے جانے میں سہولت دیتی ہے۔ لیکن جدید سائنسی ریسرچ (Cochrane Reviews, 2020) نے بتایا ہے کہ اگرچہ یہ سکڑاؤ ہوتا ہے، لیکن یہ حمل کے لیے ضروری نہیں ہے۔ اصل کردار مرد کے سپرم کی صحت، عورت کی بیضہ بندی (ovulation)، ہارمونی توازن اور دونوں کی مجموعی صحت کا ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا or**sm کے کچھ فائدے ہیں؟ جی ہاں، or**sm عورت کے جسمانی اور ذہنی سکون کے لیے فائدہ مند ہے۔ اس سے اینڈورفنز (خوشی کے ہارمونز) خارج ہوتے ہیں، جو عورت کو ریلیکس کرتے ہیں، نیند بہتر کرتے ہیں اور ازدواجی تعلقات کو خوشگوار بناتے ہیں (NIH, 2022)۔ لیکن یہ حمل کے لیے کوئی شرط نہیں۔ کیا آپ یا آپ کے کسی قریبی نے کبھی یہ سوچا ہے کہ بار بار تعلق کے باوجود حمل کیوں نہیں ٹھہرتا؟ اس کی اصل وجوہات اکثر ہارم