24/10/2024
وہ دوست جو مچھلی 🐠 کھانے کے شوقین ہیں
لیکن پہچان نہیں وہ یہ چارٹ محفوظ کر لیں۔
مچھلی٬ سونے کی قیمت میں ملے تو بھی کھائیں
جیسے ہی سردیوں کے موسم کا آغاز ہوتا ہے تو ہم لوگ سردی سے بچنے کے لئے اپنی خوراک میں طرح طرح کے میوہ جات ،مزے مزے کے سوپ،خوش ذائقہ پکوان اور مچھلی کا استعمال بڑھا دیتے ہیں ۔لیکن آج میرا موضوع مچھلی سے متعلق ہے۔ہمارے ہاں کئی قسم کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں۔ان میں مشہور اقسام بام،رہو،گلفام،ٹراؤٹ ،مشاہیر، سلور،سنگھاڑا اور تھیلہ قابل ذکر ہیں۔خیر مچھلی کی ہر اقسام میں اﷲ تعالیٰ نے ہمارے لئے بے شمار فوائد چھپا رکھے ہیں جن سے ہمیں بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیئے تاکہ ہم تندرست و توانا رہ سکیں۔
مچھلی میں پوٹاشیم، فولاد، آئیوڈین، پروٹین، وٹامن اے،وٹامن 12 ، وٹامن ڈی ،سلینیئم،فاسفورس اور میگنیشئم پایا جاتا ہے۔اس میں پروٹین 60%، فیٹ 10%، وٹامن 181% 12،وتامن اے 50% ، سلینئیم 67% ، فاسفورس 33% اور میگنشیم 16 % موجود ہوتا ہے۔اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مچھلی ہمارے لئے کتنی اہم غذا ہے۔ہمیں اسے سردیوں میں نہیں بلکہ پورا سال ہی ہفتے میں کم از کم ایک بار ضرور استعمال کرنا چائیئے تبھی ہم اس سے فوائد حاصل کر سکتے ہیں بے شک آپ تھوڑی مقدار میں کھائیں لیکن اسے ہفتے میں ایک بار ضرور کھائیں۔
جب آپ بازار سے مچھلی خریدنے جائیں تو تازہ مچھلی ہی خریدیں کیونکہ باسی مچھلی آپ کی صحت کو خراب کر سکتی ہے۔تازہ مچھلی کی پہچان آپ چند چیزوں پر عمل کر کے دیکھ سکتے ہیں۔پہلے مچھلی کی آنکھیں دیکھیں اگر ان میں چمک ہے تو یہ تازہ مچھلی ہے اس کے علاوہ اس کے جسم کو انگھوٹھے سے دبائیں اگر جسم پر گڑھا پڑ جائے تو یہ تازہ مچھلی نہیں ہے اسی طرح اس کے پروں کو کھینچ کر دیکھیں اگر آسانی سے علیحدہ ہو جائیں تو یہ بھی خراب مچھلی کی نشانی ہے اس کے علاوہ گلپھڑے سے دیکھیں کہ وہ سرخ ہے تو تازہ ہے اور اگر کالا ہے تو باسی مچھلی کی نشانی ہے۔
مچھلی خریدنے کے بعد آپ اس کو نمک ،لیموں اور اجوائن لگا کر تھوڑی دیر کے لئے رکھ دیں جب تمام پانی نکل جائے تب اس کو دھو لیں اب اس پر مصالحے لگا کر تقریباً چوبیس گھنٹوں کے لئے فریزر میں رکھ دیں تاکہ مصالحہ اچھی طرح مچھلی میں جذب ہو جائے اس طرح مچھلی کا ذائقہ دوبالا ہو جائے گا۔اور کھانے میں بھی لطف آئے گا۔مچلی میں انتہائی کم کیلریز ہوتی ہیں اس لئے اس کو ہر کوئی کھا سکتا ہے۔اپن