06/12/2025
فارمیسی کا سفر: تمہیں کھو کر خود کو پایا
احمد یونیورسٹی کے فارمیسی ڈپارٹمنٹ میں نیا داخل ہوا تو اس کے خواب بہت بڑے تھے۔ وہ دن رات دوائیں اور کیمسٹری کی کتابیں پڑھتا، اور ہر فارمولے کو سمجھ کر خود کو ایک دن بہترین فارماسسٹ بنانے کا عہد کرتا۔ شروع شروع میں سب کچھ نیا اور پرجوش تھا، لیکن جلد ہی اسے پتہ چلا کہ اس سفر میں امتحانات، عملی تجربات، اور کتابوں کا انبار اس کے عزم کی آزمائشیں تھے۔
اس کے دن لیبارٹری کے عملی تجربات میں گھنے فارمولے بناتے گزرے، اور اگلے دن زبانی امتحان میں سوالوں کا سامنا کرنا پڑا۔ راتوں بھر پڑھائی، نیند کی کمی اور مسلسل پڑھنے کا دباؤ اس کی عام زندگی پس پشت ڈال رہا تھا۔ اس دوران احمد نے اپنی محبوبہ نادیہ کو بہت کم وقت دیا، جس کی وجہ سے رشتے میں دوری آ گئی۔ کتابوں میں کھوئے احمد کی وجہ سے نادیہ دور ہو گئی اور اس کے جانے سے احمد کا دل ٹوٹ گیا، لیکن وہ جانتا تھا کہ فارمیسی کا راستہ مشکل ضرور ہے مگر اسے چھوڑنا نہیں ہے۔
ایک امتحان میں کم نمبروں سے فیل ہونے پر احمد کا حوصلہ ٹوٹ گیا۔ وہ سوچنے لگا کہ کہیں اس راستے کو چھوڑ کر سادہ زندگی ہی بہتر نہ ہو۔ مگر پھر انٹرنشپ کے دوران اس کا رخ اسپتال کی طرف ہوا جہاں اُس نے ایک بیمار بچے کے لیے دوا تیار کی۔ جیسے ہی بچہ صحت یاب ہوتا دکھائی دیا، احمد نے محسوس کیا کہ اس کی محنت کا سفر ہی اصل معنوں میں اہم ہے۔ اسی لمحے اس کے اندر ایک نئی روشنی جاگ اٹھی کہ اس نے اپنی شناخت اور مقصد دونوں پا لیے ہیں۔
پھر احمد نے فیصلہ کیا کہ وہ ہمت نہیں ہارے گا۔ دوبارہ سے اس نے دل لگا کر مطالعہ شروع کیا، عملی تجربات میں مہارت حاصل کی اور امتحانات میں اچھے نمبر لائے۔ ہر ناکامی نے اس کے عزم کو مضبوط کیا اور ہر کامیابی نے خود اعتمادی دی۔ جو کچھ اس نے پہلے خود میں گم محسوس کیا تھا، وہ اس نے اس راستے میں تلاش کر لیا۔ اب اسے خود پر ناز تھا کہ اس نے اس سفر میں اپنا اصل مقصد دریافت کر لیا ہے۔
آخر کار پانچویں سال کا امتحان پاس کر کے احمد نے یونیورسٹی سے فارمیسی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ ٹی شرٹ پہنے کھڑا تھا جس پر انگریزی میں لکھا تھا: 'During Pharmacy I Lost You But I Found Myself'۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ جملہ اس کے پورے سفر کا عکس ہے۔ جو محبت اس نے راستے میں کھو دی تھی، اس کے بدلے اس نے اپنی پہچان پائی۔ اب احمد اپنے مستقبل کے لیے پرعزم تھا اور جانتا تھا کہ فارمیسی کے ان دنوں نے اسے مضبوط اور خود اعتمادی والا انسان بنا دیا ہے۔ اس کی کہانی ہر فارمیسی طالب علم کے لیے امید کی کرن بن گئی تھی۔