07/03/2026
یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ پاکستان میں بہت سے والدین اپنے بچوں کی ختنہ کے لیے غیر مستند افراد (جعلی حکیم، عطائی ڈاکٹر) کا رخ کرتے ہیں، جو نہ صرف غیر معیاری طریقہ کار اپناتے ہیں بلکہ بچوں کی زندگی کو سنگین خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔
غیر پیشہ وارانہ طریقے سے کئے گئےختنےعضوِ تناسل کی تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔چند دن پہلے ایک کیس سامنے آیا جس میں ایک عطائی ڈاکٹر نے ختنہ کا عمل انجام دیا۔ غیر سائنسی طریقہ، غیر معیاری آلات اور لاپرواہی کے باعث خون کی اہم نالیوں کو نقصان پہنچاجو کہ عضوِ تناسل کے ناکارہ ہونے کا باعث بنا(Penile Necrosis), نتیجتاً بچے کو ناقابلِ تلافی جسمانی اور نفسیاتی نقصان پہنچا۔
والدین کے لیے ضروری پیغام
ختنہ ایک نازک آپریشن ہے جس کے لیے ماہرِ اطفال سرجن (Pediatric Surgeon) سے رجوع کرنا چاہئے ۔ ایک مستند سرجن جدید تکنیک، جراثیم سے پاک ماحول اور درست طبی نگرانی میں یہ عمل انجام دیتا ہے، جس سے پیچیدگیوں سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔
اپنے بچے کی صحت اور مستقبل کی حفاظت کریں—غیر مستند افراد کے ہاتھوں اپنی اولاد کی زندگی خطرے میں نہ ڈالیں۔ اگر ختنہ کروانا ضروری ہو، تو "صرف اور صرف مستند پیڈیاٹرک سرجن" سے رجوع کریں۔
یہ معلومات دوسروں سے شیئر کریں تاکہ کوئی اور والدین ایسی خوفناک غلطی نہ کریں!
اپنے بچوں کا آپریشن ہمیشہ ماہر بچہ سرجن سے ہی کروائیں۔