Dr Shoaib Adil

Dr Shoaib Adil Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr Shoaib Adil, Doctor, Wapda Town Lahore, Lahore.

❄️ بچوں میں سینے کے انفیکشن کی وجوہات 🌡️🦠🩻⚡ وائرل انفیکشنز – نزلہ، زکام، فلو (سب سے عام وجہ)⚡ بیکٹیریل انفیکشنز⚡ کمزور ق...
16/01/2026

❄️ بچوں میں سینے کے انفیکشن کی وجوہات 🌡️🦠🩻
⚡ وائرل انفیکشنز – نزلہ، زکام، فلو (سب سے عام وجہ)
⚡ بیکٹیریل انفیکشنز
⚡ کمزور قوتِ مدافعت – بچوں خصوصاً ننھے بچوں کا مدافعتی نظام ابھی مکمل طور پر مضبوط نہیں ہوتا
⚡ سرد موسم اور اچانک درجۂ حرارت میں تبدیلی
⚡ بیمار افراد سے رابطہ – گھر کے افراد یا دوسرے بچے
⚡ گرد و غبار، دھواں اور آلودگی – خاص طور پر سگریٹ کا دھواں
⚡ گھر میں ہوا کا مناسب گزر نہ ہونا
⚡ ماں کا دودھ نہ پینا یا جلدی دودھ چھڑانا
⚡ غذائی کمی یا خون کی کمی (انیمیا)
⚡ الرجی یا دمہ
⚡ صفائی کا خیال نہ رکھنا
💥 احتیاطی تدابیر (PREVENTION) 💥
سینے کے انفیکشن سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
💫 بچے اور دیکھ بھال کرنے والوں کے ہاتھ بار بار دھلوائیں
💫 کھانسی یا زکام والے افراد سے بچے کو دور رکھیں
💫 دھوئیں سے مکمل پرہیز کریں (بچے کے قریب سگریٹ نوشی نہ کریں)
💫 گھر کو صاف ستھرا اور گرد سے پاک رکھیں
💫 گھر میں تازہ ہوا کا مناسب انتظام کریں
💫 موسم کے مطابق کپڑے پہنائیں (نہ زیادہ گرم، نہ زیادہ ہلکے)
💫 متوازن اور صحت بخش غذا دیں (پھل، سبزیاں، انڈے، دودھ)
💫 اگر ممکن ہو تو ماں کا دودھ جاری رکھیں
💫 تمام حفاظتی ٹیکے وقت پر لگوائیں
💫 بچے کو زیادہ سے زیادہ پانی اور مائعات دیں (پانی، دودھ، سوپ)
💫 سردیوں میں رات کے وقت گرم کپڑوں کا استعمال کریں

Your Lungs Are Not Ashtrays!Smoking Doesn’t Kill You Today — It Books a Date!سگریٹ پینے والوں کے فنی بہانے اور ان کا ساد...
15/01/2026

Your Lungs Are Not Ashtrays!
Smoking Doesn’t Kill You Today — It Books a Date!

سگریٹ پینے والوں کے فنی بہانے اور ان کا سادہ جواب:

1️⃣ “جس نے سگریٹ پی وہ بھی مر گیا، جس نے نہیں پی وہ بھی مر جانا ہے”
👉 درست، مگر فرق مرنے کے طریقے کا ہے۔
سگریٹ والا اکثر سانس، دل، فالج یا کینسر سے تڑپ تڑپ کر جاتا ہے۔
2️⃣ “میں نے تو کئی ڈاکٹر سگریٹ پیتے دیکھے ہیں”
👉 ڈاکٹر کا سگریٹ پینا، سگریٹ کا صحت مند ہونا ثابت نہیں کرتا۔
ڈاکٹر بھی انسان ہیں، فرشتہ نہیں۔
3️⃣ “فلان 30 سال سے سگریٹ پی رہا ہے، اسے کچھ نہیں ہوا”
👉 ابھی نہیں ہوا، مگر
سگریٹ قرض کی بیماری ہے — سود سمیت بعد میں وصول ہوتی ہے۔
4️⃣ “میرے دادا نے ساری عمر سگریٹ پی، 90 سال جئے”
👉 ایک دو مثالیں اصول نہیں بنتیں۔
لاکھوں قبروں میں پڑے لوگ گواہی نہیں دے سکتے۔

15/01/2026

Prevention is better than cure
— بچاؤ علاج سے بہتر ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان کی صحت پالیسی اس اصول کے بالکل الٹ سمت میں چل رہی ہے۔
ہم وہاں سرمایہ کاری کرتے ہیں جہاں بیماری شور مچاتی ہے، نہ کہ وہاں جہاں اسے خاموشی سے روکا جا سکتا ہے۔ بڑے ہسپتال، نئی عمارتیں، مہنگی مشینری اور تیسرے درجے کی سہولیات سیاسی کامیابی کی علامت بن چکی ہیں، جبکہ پرائمری ہیلتھ کیئر — جو سب سے سستا اور سب سے زیادہ جانیں بچانے والا شعبہ ہے — مسلسل نظرانداز ہو رہا ہے۔
دنیا بھر کا تجربہ واضح ہے۔ مضبوط پرائمری ہیلتھ کیئر نظام:
بیماریوں کو ابتدائی مرحلے میں روک لیتا ہے
ہسپتالوں پر دباؤ کم کرتا ہے
قومی صحت کے اخراجات گھٹاتا ہے
اور عوام کی اوسط عمر اور معیارِ زندگی بہتر بناتا ہے
جن ممالک نے فیملی میڈیسن، کمیونٹی ہیلتھ اور بروقت اسکریننگ کو ترجیح دی، وہ کم وسائل میں بہتر نتائج حاصل کر رہے ہیں۔
پاکستان نے اس کے برعکس راستہ اختیار کیا۔
ہمارے بنیادی مراکزِ صحت (BHUs) اور رورل ہیلتھ سینٹرز (RHCs) اکثر صرف کاغذوں میں موجود ہیں۔ ضروری ادویات، بنیادی لیبارٹری سہولیات، تربیت یافتہ عملہ اور واضح ریفرل سسٹم کی کمی معمول بن چکی ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ:
ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، ہیپاٹائٹس، حاملہ خواتین کی پیچیدگیاں اور بچوں کی قابلِ علاج بیماریاں بروقت تشخیص کے بغیر بڑھتی رہتی ہیں، حتیٰ کہ مریض ایمرجنسی کی حالت میں بڑے ہسپتال پہنچتے ہیں — جہاں علاج مہنگا، پیچیدہ اور اکثر تاخیر کا شکار ہو چکا ہوتا ہے۔
یہ محض وسائل کی کمی نہیں۔
یہ سوچ کا بحران ہے۔
پاکستان صحت پر اپنی مجموعی قومی آمدن کا ایک فیصد سے بھی کم خرچ کرتا ہے، اور اس محدود بجٹ کا بڑا حصہ بھی بیماری کے بعد علاج پر لگ جاتا ہے، نہ کہ:
بچاؤ (prevention)
اسکریننگ
نگرانی (surveillance)
اور صحت آگاہی
اسی لیے ہمارا نظام ہمیشہ بحران میں رہتا ہے — ان پیچیدگیوں سے لڑتا ہوا جو روکی جا سکتی تھیں۔
دوسری طرف برطانیہ، کینیڈا اور اسکینڈینیوین ممالک میں ہسپتال نظام کی بنیاد نہیں بلکہ آخری سہارا ہوتے ہیں۔ اصل طاقت فیملی فزیشن، نرسز اور کمیونٹی ہیلتھ ٹیمیں ہوتی ہیں جو مریض کو بیماری سے پہلے سنبھال لیتی ہیں۔
پاکستان کے پاس بھی بنیاد موجود ہے:
لیڈی ہیلتھ ورکرز کا وسیع نیٹ ورک
حفاظتی ٹیکہ جات کا نظام
ہزاروں BHUs اور RHCs
اور تربیت یافتہ ڈاکٹر
کمی صرف تین چیزوں کی ہے:
سیاسی عزم، مستقل سرمایہ کاری، اور نتائج پر مبنی احتساب۔
افتتاحی تختیوں اور تصویروں کی نہیں۔
جب تک بچاؤ سیاست میں اہم نہیں بنے گا:
ہسپتال بھرے رہیں گے
ڈاکٹر تھکے رہیں گے
اور مریض دیر سے تشخیص، غیر ضروری اخراجات اور تکلیف کے چکر میں پھنسے رہیں گے۔
پاکستان کو مزید ہسپتالوں سے زیادہ
ایک مضبوط پرائمری ہیلتھ کیئر نظام کی ضرورت ہے۔
کیونکہ قومیں عمارتوں سے نہیں،
صحتمند انسانوں سے بنتی ہیں۔

آگاہی کے لئے لوگوں کو بھیجیں ۔copied

خاموش وبا: اینٹی بایوٹک ریزسٹنس — جب دوائیں بھی ہار جائیںیہ وہ بحران ہے جو شور نہیں مچاتا، مگر اندر ہی اندر پورے نظامِ ص...
03/01/2026

خاموش وبا: اینٹی بایوٹک ریزسٹنس — جب دوائیں بھی ہار جائیں

یہ وہ بحران ہے جو شور نہیں مچاتا، مگر اندر ہی اندر پورے نظامِ صحت کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

پاکستان میں اینٹی بایوٹک اس طرح استعمال ہو رہی ہیں جیسے درد کش گولیاں ہوں۔ بخار آیا تو خود سے دوا، نزلہ ہوا تو اینٹی بایوٹک، بچے کو دست ہوئے تو بغیر ٹیسٹ کے طاقتور انجیکشن۔ فارمیسی پر کوئی روک نہیں، نسخے کے بغیر دوائیں عام ہیں، اور جعلی یا غیر معیاری اینٹی بایوٹک بھی بازار میں دستیاب ہیں۔ اس سب کا نتیجہ یہ ہے کہ جراثیم مضبوط ہو رہے ہیں، اور دوائیں کمزور۔

آج صورتحال یہ ہے کہ وہ انفیکشن جو کبھی تین دن میں ٹھیک ہو جاتے تھے، اب ہفتوں ہسپتال میں رکھتے ہیں۔ عام سرجری، ڈلیوری، یا چھوٹا سا زخم بھی جان لیوا ہو سکتا ہے، کیونکہ جراثیم اب دواؤں سے نہیں ڈرتے۔ یہ مسئلہ صرف ڈاکٹر یا ہسپتال کا نہیں، یہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔

پرائمری ہیلتھ کیئر یہاں بھی نظر انداز ہے۔ اگر بنیادی سطح پر درست تشخیص، درست دوا، اور مریض کی صحیح رہنمائی ہو تو اینٹی بایوٹک کا بے جا استعمال خود بخود کم ہو جائے۔ مگر جب BHU میں وقت نہیں، سہولت نہیں، اور نظام کمزور ہے، تو لوگ خود علاج پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

ریاستی سطح پر فوڈ اینڈ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹیز کی کمزوری، فارماسیوٹیکل مافیا کی طاقت، اور نگرانی کے فقدان نے اس بحران کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ جانوروں اور پولٹری میں بھی اینٹی بایوٹک کا بے تحاشا استعمال ہو رہا ہے، جو بالآخر ہماری پلیٹ میں آ کر ہماری صحت پر وار کرتا ہے۔

یہ یاد رکھنا ضروری ہے:
اینٹی بایوٹک ریزسٹنس مستقبل کا مسئلہ نہیں، یہ حال کا بحران ہے۔
جب دوائیں بے اثر ہو جائیں گی تو نہ پیسہ بچے گا، نہ ہسپتال، نہ مہنگی مشینیں۔

حل صرف ایک ہے:
طاقتور پرائمری کیئر، ذمہ دار مریض، جوابدہ ریاست، اور باخبر معاشرہ۔

اگر ہم نے آج یہ جنگ نہ لڑی، تو کل یہ جنگ ہمارے بچوں کو لڑنی پڑے گی—بغیر ہتھیار کے۔

از قلم :
ڈاکٹر سید شکیل بادشاہ
سیریز: صحت ، ریاست اور ہم۔

31/12/2025
31/12/2025
19/12/2025
29/11/2025
💢کینو سپر فوڈ کیوں ہے؟کہا جاتا ہے کہ دنیا کا سب سے بہترین کینو پاکستان میں ملتا ہے اور یہ ایسا غلط بھی نہیں۔مالٹے کی اس ...
29/11/2025

💢کینو سپر فوڈ کیوں ہے؟
کہا جاتا ہے کہ دنیا کا سب سے بہترین کینو پاکستان میں ملتا ہے اور یہ ایسا غلط بھی نہیں۔
مالٹے کی اس قسم کا ذائقہ لوگوں کے دلوں کو خوب بھاتا ہے جب ہی تو ہر سال یہ اس موسم میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والا پھل ہے جبکہ برآمد بھی کیا جاتا ہے۔
کینو کا ترش ذائقہ کیلوریز میں کم مگر غذائی اجزاء سے بھرپور ہوتا ہے جبکہ اس میں موجود وٹامنز اسے بہترین پھل بناتے ہیں۔
یہاں ذیل میں اس کے کچھ فوائد بتائے جارہے ہیں۔

*نظام ہاضمہ بہتر کرے*
اس پھل کی چند بہترین خوبیوں میں سے ایک معدے میں اس کا آسانی سے جذب ہونا اور نظام ہاضمہ پر دباﺅ ڈالے بغیر اسے بہتر بنانا ہے، اگر معدہ کمزور ہے یا بدہضمی کا مسئلہ ہے تو ناشتے میں اس پھل کو کھائیں، دن میں دو بار کھانا موثر نتائج دے گا۔

*معدے کی تیزابیت اور سینے میں جلن دور کرے*
اگر آپ اکثر کھانے کے بعد معدے میں تیزابیت یا سینے میں جلن کو محسوس کرتے ہیں، تو اس موسم میں کینو آپ کے لیے بہترین علاج ہے۔ یہ پھل معدنیاتی نمک سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ معدے کی تیزابیت کو کم کرتا ہے جبکہ اسے روز کھانا سینے میں جلن کے مسئلے کو بھی دور رکھتا ہے۔

*بڑھاپا دور رکھے*
کینو میں وٹامن سی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور یہ وٹامن عمر بڑھنے سے جسم میں آنے والی تنزلی کی روک تھام کے لیے انتہائی موثر ہے۔ کینو کھائیں یا اس کا رس پینا عادت بنانا جھریوں کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے، اس میں موجود منرلز میٹابولزم کو ہی بہتر نہیں کرتے بلکہ ہموار اور جگمگاتی جلد کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔

*جسمانی توانائی بڑھائے*
کینو کو اس موسم میں کھانا عادت بنانا جسمانی توانائی کو بڑھانے بھی مدد دیتا ہے، کاربوہائیڈریٹس اور گلوکوز، شکر اور دیگر اجزاءسے بھرپور یہ پھل جسمانی توانائی کے لیے چند بہترین ذرائع میں سے ایک ہے۔

*کولیسٹرول لیول متوازن کرے*
کینو جسم میں نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح اور اثرات کو کم کرکے فائدہ مند کولیسٹرول HDL کی سطح بڑھاتا ہے، یعنی روز اسے کھانا بیڈ کولیسٹرول کم کرتا ہے، جس سے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

*جلد اور بالوں کے لیے مفید*
وٹامن سی کی مناسب مقدار جسم کے دفاعی نظام کو ہی مضبوط نہیں کرتی بلکہ ایک پروٹین کولیگن کی مقدار کو مستحکم رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے جو بالوں اور جلد کے لیے بہت ضروری ہے۔ کینو وٹامن سی سے بھرپور ہوتا ہے جبکہ اس میں وٹامن اے بھی پایا جاتا ہے جو بالوں کی نمی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

*دماغی افعال بہتر بنائے*
کینو میں موجود مختلف اجزاء جیسے پوٹاشیم، وٹامن بی 9 اور اینٹی آکسائیڈنٹس دماغ کے لیے فائدہ مند مانے جاتے ہیں؛ پوٹاشیم دماغ کی جانب دورانِ خون بڑھانے اور اعصابی سرگرمیاں بڑھانے کے حوالے سے توجہ مرکوز کرنے کے لیے ضروری ہے، وٹامن بی 9 عمر بڑھنے سے آنے والی دماغی تنزلی کی روک تھام کرکے الزائمر امراض سے بچاتا ہے، اس کے علاوہ کینو میں موجود وٹامن بی 6 متلی اور ڈپریشن سے بچاتا ہے۔

*حاملہ خواتین کے لیے فائدہ مند*
اس میں موجود بی وٹامنز اور فولک ایسڈ دوران حمل فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں، فولک ایسڈ کی کمی بچوں کے پیدائشی وزن میں کمی کا باعث بنتی ہے۔

*خون کی شریانوں کی صحت کے لیے معاون*
وٹامن بی 6، وٹامن سی، پوٹاشیم اور فائبر دل کی صحت کو بہتر بناتے ہیں، ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ پوٹاشیم سے بھرپور غذا کھاتے ہیں، ان میں خون کی شریانوں کے مسائل جیسے امراض قلب یا فالج وغیرہ سے موت کا خطرہ 49 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

*معدے کو مضبوط بنائے*
کینو، فائبر کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں، فائبر معدے کی صحت کے لیے بہت ضروری جز ہے جو کہ قبض، بدہضمی اور دیگر مسائل کی روک تھام کرتا ہے۔

*بلڈ پریشر کو صحت مند رکھے*
اس پھل میں موجود پوٹاشیم اور نمکیات کی کم سطح خون کی شریانوں کو پھیلاتی ہے اور بلڈ پریشر کو معمول کی سطح پر رکھتی ہے۔

*موسمی امراض سے لڑے*
اس پھل میں موجود وٹامن سی جسمانی دفاعی نظام کو بہتر کرتا ہے جو کہ موسمی بیماریوں یا انفیکشن وغیرہ کے خلاف مزاحمت کرتا ہے جبکہ کینسر کا باعث بننے والے فری ریڈیکلز کو بھی کم کرتا ہے۔ ۔

21/11/2025

Address

Wapda Town Lahore
Lahore
0423

Telephone

+923364313986

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Shoaib Adil posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category