04/01/2026
طبیعیات (Physics) کا ایک بے رحم اصول ہے جسے "اسکیپ ویلاسٹی" (Escape Velocity) کہا جاتا ہے۔ جب ایک راکٹ کو زمین سے خلا میں بھیجنا ہو تو اسے 11.2 کلومیٹر فی سیکنڈ کی دھماکہ خیز رفتار درکار ہوتی ہے۔ اگر رفتار اس سے ذرا سی بھی کم ہو، تو زمین کی کششِ ثقل (Gravity) اسے واپس کھینچ لے گی اور وہ راکٹ زمین پر آ گرے گا۔ غربت کا معاملہ بھی بالکل اسی گریویٹی جیسا ہے۔ یہ محض پیسے کی کمی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک نادیدہ مقناطیسی قوت ہے جو آپ کے ماحول، آپ کی عادات اور آپ کے سماجی دائرے کی شکل میں آپ کو مسلسل نیچے کی طرف کھینچتی ہے۔ جو شخص غربت کے مدار میں پیدا ہوتا ہے، اس کے لیے امیر ہونا محض "محنت" کرنے کا نام نہیں، بلکہ "جنگ" لڑنے کا نام ہے، کیونکہ وہ فطرت کے ایک بہت بڑے نظام کے خلاف تیرنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔
تحقیق بتاتی ہے کہ خلا میں جانے والے راکٹ کو زمین کی فضا سے نکلنے کے لیے اپنے کُل ایندھن کا تقریباً 80 سے 90 فیصد حصہ صرف ابتدائی چند منٹوں میں جلانا پڑتا ہے۔ ذرا سوچیں! سفر کے پہلے حصے میں 90 فیصد توانائی صرف اس لیے خرچ ہوتی ہے کہ زمین کی پکڑ سے آزادی مل سکے، جبکہ باقی کا پورا سفر صرف 10 فیصد ایندھن پر طے ہو جاتا ہے کیونکہ وہاں رگڑ اور مزاحمت ختم ہو جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح، مالی آزادی حاصل کرنے کے لیے بھی ابتدائی سالوں میں آپ کو اپنی زندگی کی 90 فیصد محنت، قربانی اور ٹیلنٹ جھونکنا پڑتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں عام نوکری یا چھوٹی موٹی کوشش کام نہیں کرتی، یہاں آپ کو ایک "راکٹ" بننا پڑتا ہے، جس کے پیچھے "جنون کا ایندھن" لگا ہو۔
اکثر لوگ اس لیے ناکام نہیں ہوتے کہ وہ کوشش نہیں کرتے، وہ اس لیے ناکام ہوتے ہیں کیونکہ وہ کششِ ثقل کو توڑنے کے لیے درکار "زور" (Force) کا غلط اندازہ لگاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ آہستہ آہستہ چل کر وہ غربت سے نکل جائیں گے، حالانکہ گریویٹی سے نکلنے کے لیے چلنا نہیں، "اڑنا" پڑتا ہے۔ آپ کو بیک وقت کئی مہارتیں سیکھنی پڑتی ہیں، اپنی نیندیں قربان کرنی پڑتی ہیں، فضول خرچی اور منفی دوستوں کو کاٹنا پڑتا ہے۔ یہ مرحلہ انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے کیونکہ آپ کا پورا ماحول آپ کو واپس نیچے کھینچ رہا ہوتا ہے،بل، قرضے، مہنگائی اور خاندانی ذمہ داریاں یہ سب وہ زنجیریں ہیں جو آپ کو زمین سے جوڑے رکھنا چاہتی ہیں۔
لیکن اس کہانی کا دوسرا رُخ بے حد خوبصورت ہے۔ جیسے ہی ایک راکٹ زمین کے مدار سے باہر نکلتا ہے، اسے چلنے کے لیے مزید ایندھن کی ضرورت نہیں رہتی۔وہ خلا میں سکون سے تیرتا ہے۔ اسے "مومینٹم" کہتے ہیں۔ امیر ہونے کا بھی یہی راز ہے، پہلا ایک کروڑ کمانا پہاڑ کھودنے جیسا مشکل ہے، لیکن دوسرا ایک کروڑ کمانا ہوا میں سانس لینے جیسا آسان۔ جب آپ کے اثاثے بن جاتے ہیں، تو پیسہ خودبخود پیسے کو کھینچتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں آپ "فنانشل گریویٹی" سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ لہذا، اگر آپ آج شدید دباؤ اور مشقت میں ہیں، تو خوش ہو جائیں، کیونکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ ابھی "لانچنگ پیڈ" پر ہیں اور گریویٹی سے لڑ رہے ہیں۔ بس ایندھن کم نہ ہونے دیں، کیونکہ ایک بار جب آپ مدار توڑ گئے، تو پھر پوری کائنات آپ کی ہے۔