15/01/2022
عزیزان،
ایک طرف آمیکران کے تیزی سے بڑھتے ہوئے خدشات ہیں
دوسری طرف ڈینگی
اور پھر مری جیسی بد انتظامی کی ملک گیر صورتحال
لیکن اس کے باوجود چند ادارے خصوصاً تعلیمی ادارے
اپنی سماجی ذمہ داریوں سے مکمل غفلت کے مرتکب ہو رہے ہیں
سماجی فاصلے برقرار رکھنا وقت کی بہت اہم ضرورت ہے
لیکن سردیوں کی اجتماعی ضیافتی تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے
جیسے میوزیکل نائیٹس اور دیگر تقریبات
کرونا اور دیگر ایک دوسرے سے لگنے والی بیماریاں انہیں حماقتوں کی وجہ سے قابو سے باہر ہو جاتی ہیں
انتظامیہ بھی پانی سر سے گذرنے کا انتظار کرتی ہے سانحہ مری کی طرح اور پھر رنگ بازی کی اوپر سے لے کر نیچے اور دائیں بائیں پُھرتیاں باقاعدہ تصویروں اور ویڈیوز کے ذریعے دکھا کر اپنی سماجی مستعدی کے نمونے دکھائے جاتے ہیں
ایسے میں عام بالغ النظر شہری ہی کوئی مثبت کردار ادا کر سکتا ہے
اگر آپ ایسے سماجی ذمہ دار ہیں تو براہِ کرم اس پہلو پہ توجہ دیجیے
کیونکہ گمان ہے کہ آمیکرون زیادہ تیزی سے ویکسین یافتہ لوگوں اور ویکسین سے انکاری لوگوں کو متاثر کرے گا
ہسپتال پھر سے بھریں گے
دوایاں پھر سے غائب ہوں گی
آکسیجن پھر ناپید ہو جائے گی
کاروبارِ حیات بند کرنا پڑے گا
ابھی سے حکومتوں ،انتظامیہ اور عوام کو اس بات کا ادراک ہو گیا تو شاید ہم ماضی میں گزری مصیبتوں سے بچ سکیں
اپنی اپنی جگہ
اپنے اپنے ذریعے
اپنے اپنے طریقے سے
کرونا اور ڈینگی سمیت دیگر بیماریوں کی آگاہی دیجیے
نا عاقبت اندیشوں سے بات کیجیے
سماج کو محفوظ کیجیے
یہ سماج پہلے ہی غیر یقینی کی آلودہ فضا میں معلق ہے
اسے مزید اذیت سے بچانے میں اپنا کردار ادا کر ڈالیے
ہم ڈاکٹرز آپ کا ساتھ دیں گے۔