14/11/2025
اوور تھنکنگ اور ڈپریشن — جب دل کا خلوص سزا بن جائے"
اوور تھنکنگ ہر کوئی نہیں کر سکتا۔
یہ صرف وہ دل کرتے ہیں جو خالص ہوتے ہیں،جن کے اندر احساس، محبت، اور وفا کی سچائی بستی ہے۔
جو خود کے لیے نہیں، دوسروں کے لیے سوچتے ہیں،
جنہیں یہ فکر کھائے جاتی ہے کہ
"اگر وہ شخص چلا گیا، تو میں کیسے رہوں گا؟"
آج کے زمانے میں خلوص کم، مطلب زیادہ ہو گیا ہے۔
لوگ صرف تب تک ساتھ دیتے ہیں جب تک انہیں فائدہ ہو،
اور جب وہی سچا دل، جس نے ہر بار سب کے لیے سوچا،
جب وہی ٹوٹتا ہے — تو بس، دنیا بدل جاتی ہے۔
پھر وہ شخص سب کے سامنے مسکرا کر جیتا ہے،
لیکن اندر سے وہ مر چکا ہوتا ہے۔ پھر دل اور دماغ کے درمیان ایک جنگ شروع ہوتی ہے۔دماغ سمجھاتا ہے "سب ٹھیک ہو جائے گا"مگر دل کہتا ہے "اب کچھ بھی ٹھیک نہیں رہا"۔اور یہی لمحہ ڈپریشن کی شروعات ہوتی ہے۔
انسان باہر سے خاموش، مگر اندر سے چیخ رہا ہوتا ہے۔نہ نیند آتی ہے، نہ سکون ملتا ہے۔دل جیسے کسی خالی خلا میں ڈوب گیا ہو_
وہ رب سے شکوہ کرتا ہے —
"یا اللہ، میں نے تو صرف دل سے چاہا تھا،
میں نے کسی کا برا نہیں سوچا،
پھر میرے ساتھ یہ سب کیوں ہوا؟"
پھر وہ خاموشی میں روتا ہے،
کبھی رب سے ناراض ہوتا ہے، کبھی خود سے۔
کبھی زندگی سے مایوس ہو جاتا ہے،
اور وہ مایوسی آہستہ آہستہ اُس کے سکون کو تباہ کر دیتی ہے۔
لیکن… وقت گزرنے کے ساتھ،
جب آنسو تھم جاتے ہیں، جب دل کا شور مدھم ہو جاتا ہے،
تب وہ شخص سیکھ لیتا ہے۔
وہ سمجھ جاتا ہے کہ رب سے شکوہ کرنا کمزوری ہے،
مایوس ہونا کفر کے قریب ہے،
اور صبر ہی اصل ایمان ہے۔
پھر وہی شخص جو کل تک ٹوٹا ہوا تھا،
آہستہ آہستہ جینا سیکھ لیتا ہے۔
وہ اب پہلے جیسا نہیں رہتا،
نہ پہلے جیسا جوش، نہ وہ بے فکری —
مگر اب اُس کے اندر ایک خاموش طاقت ہوتی ہے۔
وہ جان لیتا ہے کہ زندگی کسی کے جانے سے نہیں رکتی،
درد ختم نہیں ہوتا، مگر برداشت کرنا سکھا دیتا ہے۔
اوور تھنکنگ اور ڈپریشن نے اُسے توڑا ضرور،
مگر اسی ٹوٹنے نے اُسے مضبوط بنا دیا۔
اب وہ شکایت نہیں کرتا، بس چپ رہتا ہے —
کیونکہ وہ جان چکا ہے کہ
جو دل سے چاہے، اُس کا رب کبھی خالی نہیں چھوڑتا۔
بس وقت لیتا ہے… مگر شفا ضرور دیتا ہے۔ 🕊
Copied