15/10/2025
بہت مرتبہ یہ بات سننے میں آتی ہے کہ میڈیکل ٹیسٹ اور ریپورٹس تو بالکل کلیئر ہیں لیکن مریض خود کو ٹھیک محسوس نہی کرتا اور مسلسل تکلیف کی شکایت کرتا نظر آتا ہے ۔ایسا کسی زہنی، جذباتی تکلیف میں بھی ہو سکتا ہے اور کسی جسمانی تکلیف میں بھی۔ یا پھر کوئی مخصوص ٹیسٹ خراب ہے لیکن بہت سے ماہرین کو دیکھا دیا اور دوا بھی استعمال کی لیکن کوئی فایدہ نہی ہو رہا اور معاملہ بگڑتا جا رہا ہے۔
ایسی صورت حال میں ہومیوپیتھی کا انتخاب ایک سائنسی ضرورت بن جاتا ہے۔
یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ہر میڈیکل سسٹم میں تشخیص ک ایک مخصوص طریقہ ہوتا ہے اور اس سسٹم میں موجود ماہرین انہی پیرامیٹرز میں رہنے اور کام کرنے پہ مجبور ہوتے ہیں جو ان کے سسٹم نے انہیں سکھایا ہوتا ہے۔ جب ایک سسٹم تشخیص کرنے میں ناکام ہے جب کہ آپ نے بہت سے ماہرین سے رجوع بھی کیا اور ٹیسٹ بھی کروا لیے تو پھر جب تک آپ علاج کے پیرامیٹرز نہی تبدیل ہوں گے تب تک مرض کو سمجھنا ممکن نہی ہوگا۔
یاد رکھیے ہومیوپیتھی میں تشخیص کے ایک مختلف لیکن جامع طریقہ موجود ہے اور ہر ہومیوپیتھ فزیشن اس کو ہی استعمال کرتاہے۔ اکثر کرونک کیسز میں مریض اور اس کے کیئر ٹیکر پہلے سے بناۓ گئے ذہن کے ساتھ تشریف لاتے ہیں کہ ان کے فلانے فلانے ماہر نے یہ ڈائیگنوز کیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ سامنے بیٹھا ہومیوپیتھ فزیشن بس اس ڈائیگنوسس کے مطابق دوا دے۔
آپ اپنے ایسے مریضوں کو ہومیوپیتھک سسٹم کی طرف لائیے کیونکہ یہاں مریض کے الفاظ اور اطمینان کی اہمیت کسی بھی ٹیسٹ سے بڑھ کے ہے۔ ہومیوپیتھی میں مریض کے محسوسات کو وہم کہہ کے نظر انداز نہی کیا جاتا۔
Dr Amina Tayyaba
0325-6677743