Safeway Rehabilitation centre

Safeway Rehabilitation centre Its Drug addiction and psychological disorders treatment clinic and rehabilitation centre

🔬 بیسک میکانزم (Basic Mechanism)مسلسل اسٹریس (Chronic Stress) کی صورت میں دماغ میں کورٹیسول (Cortisol) کی مقدار بڑھ جاتی...
16/02/2026

🔬 بیسک میکانزم (Basic Mechanism)

مسلسل اسٹریس (Chronic Stress) کی صورت میں دماغ میں کورٹیسول (Cortisol) کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ طویل عرصے تک بلند کورٹیسول ہپوکیمپس (Hippocampus) کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے جو یادداشت کے لیے اہم ہے۔

پری فرنٹل کارٹیکس (Prefrontal Cortex)، جو توجہ اور فیصلوں کو منظم کرتا ہے، مسلسل ڈیجیٹل ڈسٹریکشن (Digital Distraction) اور ملٹی ٹاسکنگ (Multitasking) کی وجہ سے تھکاوٹ کا شکار ہو سکتا ہے۔

ڈیفالٹ موڈ نیٹ ورک (Default Mode Network) زیادہ فعال ہونے پر ذہن کو بار بار ماضی اور مستقبل کی فکر میں لے جاتا ہے، جس سے فوکس کمزور پڑ جاتا ہے۔

نیند کی کمی (Sleep Deprivation) دماغ کے نیورل کنکشنز (Neural Connections) کو مستحکم ہونے نہیں دیتی، نتیجتاً یادداشت متاثر ہوتی ہے۔

🧠 بنیادی اسباب (Basic Causes)

مسلسل ذہنی دباؤ

سوشل میڈیا اور اسکرین اوورلوڈ (Screen Overload)

نیند کی خرابی

انزائٹی (Anxiety) اور ڈپریشن (Depression)

غیر متوازن طرزِ زندگی

سماجی تنہائی (Social Isolation)

غیر یقینی معاشی حالات

📉 زندگی کے متاثرہ شعبے (Affected Life Areas)

تعلیمی کارکردگی (Academic Performance)

پیشہ ورانہ کارکردگی (Work Productivity)

تعلقات (Relationships)

خود اعتمادی

روزمرہ فیصلے

اکثر نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ شاید ان کی یادداشت کمزور ہو رہی ہے یا دماغی بیماری شروع ہو رہی ہے، مگر اکثر صورتوں میں مسئلہ دماغی تھکن (Mental Fatigue) اور جذباتی دباؤ (Emotional Strain) کا ہوتا ہے۔

🛋️ تھراپی اور پروفیشنل کردار (Therapy and Professional Role)

ماہرِ نفسیات (Psychologist) سب سے پہلے مکمل اسیسمنٹ (Assessment) کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ مسئلہ خالصتاً سٹریس بیسڈ ہے، موڈ ڈس آرڈر (Mood Disorder) سے متعلق ہے یا لائف اسٹائل فیکٹرز کی وجہ سے۔

کگنیٹو بیہیویئرل تھراپی (Cognitive Behavioral Therapy) کے ذریعے منفی سوچ کے پیٹرنز کو منظم کیا جاتا ہے۔
اسٹریس مینجمنٹ (Stress Management) اور سلیپ ہائیجین (Sleep Hygiene) ٹریننگ دی جاتی ہے۔
فوکس بڑھانے کے لیے مائنڈ فلنس بیسڈ انٹروینشن (Mindfulness Based Intervention) استعمال کی جاتی ہے۔

🌿 بہتری کے لیے دو سادہ عملی تجاویز

1️⃣ ڈیجیٹل فاسٹنگ (Digital Fasting)
روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ بغیر اسکرین کے گزاریں۔ یہ پری فرنٹل کارٹیکس کو ری سیٹ کرنے میں مدد دیتا ہے۔

2️⃣ سلیپ روٹین ریگولیشن (Sleep Routine Regulation)
روزانہ ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا۔ سونے سے ایک گھنٹہ پہلے اسکرین بند کر دینا یادداشت کی مضبوطی میں مددگار ہے۔

⚠️ اگر یادداشت، توجہ یا فیصلوں کی مشکل شدید (Severe) ہو، روزمرہ کام متاثر ہو رہے ہوں، یا ساتھ انزائٹی اور ڈپریشن کی علامات موجود ہوں تو بروقت ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ بعض اوقات نیورو سائیکالوجیکل اسیسمنٹ (Neuropsychological Assessment) بھی ضروری ہو سکتا ہے تاکہ دیگر طبی وجوہات کو خارج کیا جا سکے۔

یاد رکھیں، نوجوانی میں ذہنی تھکن بڑھنا کمزوری نہیں بلکہ ایک سسٹمک اشارہ ہے کہ دماغ پر بوجھ زیادہ ہے۔ بروقت آگاہی اور پیشہ ورانہ مدد مستقبل کی دماغی صحت (Long Term Brain Health) کو محفوظ بنا سکتی ہے۔

ڈپریشن، مایوسی، ٹینشن، منفی اور ہر وقت کی سوچ، ذہنی الجھنوں پریشانیوں اور  منشیات و نفسیات  جیسے مسائل کے حل کے لئے ماہر...
16/02/2026

ڈپریشن، مایوسی، ٹینشن، منفی اور ہر وقت کی سوچ، ذہنی الجھنوں پریشانیوں اور منشیات و نفسیات جیسے مسائل کے حل کے لئے ماہرین نفسیات سے گھر بیٹھے آن لائن کال پر مشورہ کریں۔
0323-4619205

سٹریس کے بارے میں ایک عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ یہ ایک منفی کیفیت ہے جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ عام طور...
16/02/2026

سٹریس کے بارے میں ایک عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ یہ ایک منفی کیفیت ہے جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ عام طور پر جب بھی اس لفظ کا تذکرہ ہوتا ہے تو ذہن میں بیماری، پریشانی اور تھکن کے تصورات ابھرتے ہیں۔ لیکن اگر ہم انسانی زندگی کی تاریخ اور بڑے معرکہ ہائے زندگی کا گہرائی سے مطالعہ کریں تو ایک حیرت انگیز حقیقت سامنے آتی ہے کہ دنیا میں جتنے بھی بڑے اور غیر معمولی کام سرانجام دیے گئے ہیں ان کے پیچھے یہی سٹریس ایک خاموش محرک کے طور پر موجود تھی۔ درحقیقت سٹریس وہ اندرونی دباؤ ہے جو انسانی صلاحیتوں کو بیدار کرتا ہے اور اسے خواب غفلت سے نکال کر عمل کی دنیا میں لا کھڑا کرتا ہے۔
اگر انسانی وجود سے سٹریس کے اس عنصر کو بالکل نکال دیا جائے تو انسان سستی اور کاہلی کی دلدل میں دھنس کر رہ جائے گا۔ سٹریس وہ قوت ہے جو ہمیں ایک مقصد کی طرف مائل کرتی ہے۔ جب ہمارے سامنے کوئی بڑا ہدف ہوتا ہے تو اسے حاصل کرنے کی بے چینی ہمیں آرام دہ بستر سے اٹھنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہی وہ طاقت ہے جو شدید سردی کی لہروں اور چلچلاتی دھوپ کی تمازت میں بھی ہمیں میدان عمل میں سرگرم رکھتی ہے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو سٹریس کوئی دشمن نہیں بلکہ ایک عظیم نعمت ہے جو ہماری ہمتوں کو مہمیز کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی فورس ہے جو خام مال کو کندن بنانے کے لیے ضروری تپش فراہم کرتی ہے۔
کامیابی کے سفر میں ہم اکثر اس ایندھن کی اہمیت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جو طالب علم امتحان کے دباؤ میں راتیں جاگ کر گزارتا ہے یا جو کاروباری شخص کسی بڑے منصوبے کو پائے تکمیل تک پہنچانے کے لیے دن رات ایک کر دیتا ہے وہ دراصل اسی سٹریس کو مثبت طریقے سے استعمال کر رہا ہوتا ہے۔ یہ دباؤ ہمیں اپنی حدود سے باہر نکلنے اور ناممکن کو ممکن بنانے کا حوصلہ دیتا ہے۔ تاہم یہاں ایک باریک لکیر موجود ہے جسے سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ سٹریس اس وقت تک ایک نعمت ہے جب تک یہ کام کرنے کی تحریک پیدا کر رہی ہو۔ لیکن اگر یہ دباؤ بلاوجہ بڑھ جائے اور اس کا تعلق مقصد کے حصول کے بجائے محض ذہنی خلفشار سے ہو جائے تو یہ زہر بن جاتا ہے۔
اکثر اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ کام کی نوعیت اتنی سنگین نہیں ہوتی جتنا بڑا ہم اس کا بوجھ اپنے اعصاب پر سوار کر لیتے ہیں۔ جب ہم کسی ضرورت سے زیادہ سٹریس لینا شروع کرتے ہیں تو ہماری کارکردگی متاثر ہونے لگتی ہے۔ مطلوبہ کام کے لیے جتنی ذہنی بیداری اور دباؤ کی ضرورت ہوتی ہے ہم اسے اپنے تخیل کی مدد سے کئی گنا بڑھا لیتے ہیں۔ یہ غیر ضروری اضافہ ہی وہ مقام ہے جہاں سے پریشانی اور ذہنی اضطراب جنم لیتا ہے۔ ایک کامیاب اور پرسکون انسان وہ ہے جو اپنی ضرورت کی سٹریس اور بلاوجہ کے بوجھ کے درمیان تمیز کرنا جانتا ہو۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ کب اسے اپنے انجن کو تیز کرنا ہے اور کب اسے تھوڑا سا وقفہ دے کر اعصاب کو سکون فراہم کرنا ہے۔
زندگی کی گہما گہمی میں بہت سے ایسے مواقع آتے ہیں جب ہماری بھرپور کوشش کے باوجود کام وقت پر مکمل نہیں ہو پاتے یا کچھ ترجیحات ادھوری رہ جاتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں خود کو ملامت کرنے یا سٹریس کے پہاڑ تلے دبنے کے بجائے مسکرانا سیکھنا چاہیے۔ مسکراہٹ وہ جادوئی کلید ہے جو ذہنی دباؤ کے اس غبارے سے ہوا نکال دیتی ہے جو ہمیں پھٹنے کے قریب لے جاتا ہے۔ مصروفیت چاہے کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو اور ذمہ داریوں کا بوجھ کتنا ہی گراں کیوں نہ ہو انسان کو کبھی بھی مسکرانا نہیں بھولنا چاہیے۔ یہ مسکراہٹ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ آپ حالات کے غلام نہیں بلکہ اپنے جذبات کے مالک ہیں۔
انسان کو مسلسل اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہیے کہ وہ کن کاموں کے لیے اپنی توانائی صرف کر رہا ہے۔ ان کاموں کی فہرست بنائیں جہاں سٹریس کی موجودگی آپ کو بلندیوں کی طرف لے جا رہی ہے اور ان خیالات کو جھٹک دیں جو بلاوجہ آپ کے دل و دماغ پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ جو کام تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں انہیں ذہنی اذیت کا ذریعہ بنانے کے بجائے صبر اور تحمل سے دوبارہ ترتیب دیں۔ زندگی توازن کا نام ہے جہاں مقصد کے لیے تڑپ بھی ضروری ہے اور روح کا سکون بھی لازم ہے۔ جب ہم اس توازن کو پا لیتے ہیں تو سٹریس ہمارا راستہ روکنے والی دیوار بننے کے بجائے ہماری پرواز کے لیے موافق ہوا بن جاتی ہے۔
آخر میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہر مشکل اور ہر دباؤ اپنے اندر ایک سبق اور ایک موقع چھپائے ہوتا ہے۔ اگر آپ کی زندگی میں کسی بڑے ہدف کی وجہ سے تناؤ ہے تو اسے خوش دلی سے قبول کریں کیونکہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کچھ بڑا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن اس سفر میں اپنی خوشی اور مسکراہٹ کو قربان نہ ہونے دیں۔ کام اور زندگی کی دوڑ میں بہت سی چیزیں پیچھے چھوٹ سکتی ہیں لیکن انسان کو اپنے چہرے کی رونق اور دل کا اطمینان ہمیشہ برقرار رکھنا چاہیے۔ یہی وہ ذہنی بلوغت ہے جو ایک عام انسان کو ایک غیر معمولی شخصیت میں بدل دیتی ہے۔ جب انسان اپنے مقاصد کے لیے تعمیری تناؤ کو ہتھیار بنا لیتا ہے تو کامیابی خود اس کے قدم چومتی ہے

Negative emotions aren’t your enemies 💭Learn how to understand and manage them for real emotional growth.
16/02/2026

Negative emotions aren’t your enemies 💭
Learn how to understand and manage them for real emotional growth.

ایموشنل ریگولیشن (Emotional Regulation) کیا ہے؟یہ صحت مند (Healthy) اور غیر صحت مند (Unhealthy) کیسے ہوتی ہے، کیسے خراب ...
16/02/2026

ایموشنل ریگولیشن (Emotional Regulation) کیا ہے؟
یہ صحت مند (Healthy) اور غیر صحت مند (Unhealthy) کیسے ہوتی ہے، کیسے خراب ہوتی ہے، زندگی کو کیسے متاثر کرتی ہے اور کن ڈس آرڈرز (Disorders) میں بدل سکتی ہے؟

ایموشنل ریگولیشن سے مراد یہ صلاحیت ہے کہ انسان اپنے جذبات کو پہچانے، سمجھے، برداشت کرے اور مناسب طریقے سے ظاہر کرے۔
یہ جذبات کو دبانے (Suppression) کا نام نہیں بلکہ انہیں متوازن انداز میں منظم کرنے (Manage) کا عمل ہے۔

اگر جذبات گاڑی کا انجن ہیں تو ایموشنل ریگولیشن اس کا اسٹیئرنگ ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

صحت مند ایموشنل ریگولیشن (Healthy Regulation)

جذبات کو پہچاننا (Emotional Awareness)

شدت کو برداشت کرنا (Distress Tolerance)

مناسب اظہار (Appropriate Expression)

سوچ کو متوازن کرنا (Cognitive Reappraisal)

ردعمل دینے سے پہلے وقفہ لینا (Response Pause)

ایسے افراد غصہ بھی کرتے ہیں مگر کنٹرول کے ساتھ، دکھ بھی محسوس کرتے ہیں مگر ٹوٹتے نہیں، خوف بھی آتا ہے مگر وہ فیصلہ سازی کو مکمل طور پر مفلوج نہیں کرتا۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

غیر صحت مند ایموشنل ریگولیشن (Unhealthy Regulation)

جذبات کو دبانا (Emotional Suppression)

اوور ری ایکشن (Overreaction)

اوور تھنکنگ (Overthinking)

ایوائیڈنس (Avoidance)

جذبات کو نشے، کھانے یا غصے کے ذریعے خارج کرنا

ایسی صورت میں جذبات اندر جمع ہوتے رہتے ہیں یا بے قابو انداز میں باہر آتے ہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

گہرا نیورو سائیکالوجیکل میکانزم (Deep Neuropsychological Mechanism)

جذبات کی ابتدا لِمبک سسٹم (Limbic System) سے ہوتی ہے۔
ایمیگڈالا (Amygdala) خطرے کو پہچانتا ہے۔
ہپوکیمپس (Hippocampus) ماضی کے تجربات سے موازنہ کرتا ہے۔
پری فرنٹل کارٹیکس (Prefrontal Cortex) جذبات کو معنی دیتا اور کنٹرول کرتا ہے۔
اینٹیریئر سنگولیٹ کارٹیکس (Anterior Cingulate Cortex) اندرونی کشمکش کو مانیٹر کرتا ہے۔

جب بچپن میں عدم تحفظ، ٹراما (Trauma)، تنقید یا جذباتی نظراندازی ہو تو پری فرنٹل کنٹرول کمزور اور ایمیگڈالا زیادہ حساس ہو جاتا ہے۔
نتیجہ: جذبات جلدی بھڑکتے ہیں اور دیر سے ٹھنڈے ہوتے ہیں۔

مسلسل اسٹریس (Chronic Stress) کورٹیسول (Cortisol) بڑھاتا ہے، جو نیورل کنیکشنز (Neural Connections) کو متاثر کرتا ہے۔
یوں جذباتی توازن بگڑنے لگتا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

ایموشنل ریگولیشن کیسے خراب ہوتی ہے؟

بچپن کی اٹیچمنٹ پرابلمز (Attachment Issues)

جذبات کو کمزوری سمجھنے کا کلچر

مسلسل تنقید

ٹراما

نیند کی کمی

کرانک اسٹریس

جب انسان کو کبھی سکھایا ہی نہ جائے کہ جذبات کو صحت مند انداز میں کیسے سنبھالنا ہے تو وہ یا تو دبانا سیکھتا ہے یا پھٹنا۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

زندگی کے متاثرہ شعبے (Affected Life Areas)

1. تعلقات (Relationships) — بار بار جھگڑے، غلط فہمیاں

2. پیشہ ورانہ کارکردگی (Work Performance) — فوکس کی کمی

3. والدین کا کردار (Parenting) — بچوں پر غصہ منتقل ہونا

4. خود اعتمادی (Self Esteem)

5. جسمانی صحت (Physical Health) — بلڈ پریشر، سر درد، نیند کی خرابی

ایموشنل ڈس ریگولیشن (Emotional Dysregulation) سب سے زیادہ تعلقات اور فیصلہ سازی کو متاثر کرتی ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

کن ڈس آرڈرز میں بدل سکتی ہے؟

جنرلائزڈ انزائٹی ڈس آرڈر (Generalized Anxiety Disorder)

ڈپریشن (Depression)

بارڈر لائن پرسنالٹی ڈس آرڈر (Borderline Personality Disorder)

بائی پولر ڈس آرڈر (Bipolar Disorder)

پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (Post Traumatic Stress Disorder)

سبسٹینس یوز ڈس آرڈر (Substance Use Disorder)

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

کیسے بہتر ہو سکتی ہے؟

1️⃣ ایموشنل اویئرنس پریکٹس (Emotional Awareness Practice)
روزانہ خود سے پوچھیں: میں اس وقت کیا محسوس کر رہا ہوں؟ کہاں محسوس کر رہا ہوں؟

2️⃣ کگنیٹو ری اپریزل (Cognitive Reappraisal)
واقعے کو نئے زاویے سے دیکھنے کی مشق کریں۔

3️⃣ ڈسٹرس ٹالرنس ٹیکنیکس (Distress Tolerance Techniques)
گہری سانس، گراؤنڈنگ، اور باڈی ریلیکسیشن۔

4️⃣ سلیپ اور لائف اسٹائل بیلنس (Sleep and Lifestyle Balance)

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

ماہرِ نفسیات کا کردار (Role of Psychologist)

اکثر افراد کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کا اصل مسئلہ جذباتی عدم توازن ہے۔
ماہرِ نفسیات مکمل اسیسمنٹ (Assessment) کرتے ہیں۔
کگنیٹو بیہیویئرل تھراپی (Cognitive Behavioral Therapy)،
ڈائلیکٹیکل بیہیویئر تھراپی (Dialectical Behavior Therapy)،
اور مائنڈ فلنس بیسڈ تھراپی (Mindfulness Based Therapy) کے ذریعے جذبات کو منظم کرنے کی مہارت سکھائی جاتی ہے۔

تھراپی میں نہ صرف موجودہ ردعمل بدلا جاتا ہے بلکہ دماغ کے نیورل پیٹرنز (Neural Patterns) کو بھی دوبارہ ترتیب دیا جاتا ہے، جسے نیورو پلاسٹیسٹی (Neuroplasticity) کہتے ہیں۔

⚠️ اگر جذبات کنٹرول سے باہر ہوں، تعلقات متاثر ہوں یا شدید موڈ سوئنگز (Mood Swings) ہوں تو بروقت پروفیشنل ہیلپ (Professional Help) لینا ضروری ہے۔

ایموشنل ریگولیشن طاقت کا نام ہے،
کیونکہ اصل مضبوطی جذبات کو دبانے میں نہیں بلکہ انہیں سمجھ کر سنبھالنے میں ہے۔

ڈپریشن، مایوسی، ٹینشن، منفی اور ہر وقت کی سوچ، ذہنی الجھنوں پریشانیوں اور  منشیات و نفسیات  جیسے مسائل کے حل کے لئے ماہر...
14/02/2026

ڈپریشن، مایوسی، ٹینشن، منفی اور ہر وقت کی سوچ، ذہنی الجھنوں پریشانیوں اور منشیات و نفسیات جیسے مسائل کے حل کے لئے ماہرین نفسیات سے گھر بیٹھے آن لائن کال پر مشورہ کریں۔
03130663660

یادداشت اور توجہ کے مسائل اب صرف بڑھاپے کا مسئلہ نہیں — نوجوان ذہنی دباؤ کی نئی حقیقتایک بڑی آبادیاتی تحقیق (Population ...
14/02/2026

یادداشت اور توجہ کے مسائل اب صرف بڑھاپے کا مسئلہ نہیں — نوجوان ذہنی دباؤ کی نئی حقیقت

ایک بڑی آبادیاتی تحقیق (Population Study) جو امریکہ میں کی گئی، اس سے معلوم ہوا کہ پچھلے عشرے میں میموری (Memory)، فوکس (Focus) اور ڈیسیژن میکنگ (Decision Making) سے متعلق خود رپورٹ کیے گئے مسائل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر چالیس سال سے کم عمر افراد میں۔

شرکاء سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہونے والی توجہ، یادداشت یا فیصلے کرنے میں سنجیدہ مشکل پیش آتی ہے۔ نتائج کے مطابق نوجوان بالغ افراد (18–39 سال) میں ایسی مشکلات کی شرح تقریباً دوگنی ہو گئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بڑی عمر کے گروپس میں یہ شرح مستحکم رہی یا کچھ کم ہوئی۔ چونکہ ڈیمنشیا (Dementia) کا خطرہ عمر کے ساتھ بڑھتا ہے، اس لیے یہ رجحان صرف بڑھتی عمر کی وجہ سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس کا مطلب ہے کہ نوجوان نسل کو متاثر کرنے والے مخصوص نفسیاتی اور ماحولیاتی عوامل (Environmental Factors) موجود ہیں۔

یہ تحقیق دماغی بیماری (Brain Disease) کی تشخیص نہیں کرتی بلکہ سیلف رپورٹ (Self Report) پر مبنی ہے۔ یعنی یہ لوگوں کے اپنے تجربے کو ظاہر کرتی ہے، نہ کہ کلینیکل ٹیسٹنگ (Clinical Testing) کو۔

مگر سوال یہ ہے کہ نوجوان کیوں ذہنی طور پر زیادہ تھکا ہوا محسوس کر رہے ہیں؟

🔬 بیسک میکانزم (Basic Mechanism)

مسلسل اسٹریس (Chronic Stress) کی صورت میں دماغ میں کورٹیسول (Cortisol) کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ طویل عرصے تک بلند کورٹیسول ہپوکیمپس (Hippocampus) کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے جو یادداشت کے لیے اہم ہے۔

پری فرنٹل کارٹیکس (Prefrontal Cortex)، جو توجہ اور فیصلوں کو منظم کرتا ہے، مسلسل ڈیجیٹل ڈسٹریکشن (Digital Distraction) اور ملٹی ٹاسکنگ (Multitasking) کی وجہ سے تھکاوٹ کا شکار ہو سکتا ہے۔

ڈیفالٹ موڈ نیٹ ورک (Default Mode Network) زیادہ فعال ہونے پر ذہن کو بار بار ماضی اور مستقبل کی فکر میں لے جاتا ہے، جس سے فوکس کمزور پڑ جاتا ہے۔

نیند کی کمی (Sleep Deprivation) دماغ کے نیورل کنکشنز (Neural Connections) کو مستحکم ہونے نہیں دیتی، نتیجتاً یادداشت متاثر ہوتی ہے۔

🧠 بنیادی اسباب (Basic Causes)

مسلسل ذہنی دباؤ

سوشل میڈیا اور اسکرین اوورلوڈ (Screen Overload)

نیند کی خرابی

انزائٹی (Anxiety) اور ڈپریشن (Depression)

غیر متوازن طرزِ زندگی

سماجی تنہائی (Social Isolation)

غیر یقینی معاشی حالات

📉 زندگی کے متاثرہ شعبے (Affected Life Areas)

تعلیمی کارکردگی (Academic Performance)

پیشہ ورانہ کارکردگی (Work Productivity)

تعلقات (Relationships)

خود اعتمادی

روزمرہ فیصلے

اکثر نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ شاید ان کی یادداشت کمزور ہو رہی ہے یا دماغی بیماری شروع ہو رہی ہے، مگر اکثر صورتوں میں مسئلہ دماغی تھکن (Mental Fatigue) اور جذباتی دباؤ (Emotional Strain) کا ہوتا ہے۔

🛋️ تھراپی اور پروفیشنل کردار (Therapy and Professional Role)

ماہرِ نفسیات (Psychologist) سب سے پہلے مکمل اسیسمنٹ (Assessment) کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ مسئلہ خالصتاً سٹریس بیسڈ ہے، موڈ ڈس آرڈر (Mood Disorder) سے متعلق ہے یا لائف اسٹائل فیکٹرز کی وجہ سے۔

کگنیٹو بیہیویئرل تھراپی (Cognitive Behavioral Therapy) کے ذریعے منفی سوچ کے پیٹرنز کو منظم کیا جاتا ہے۔
اسٹریس مینجمنٹ (Stress Management) اور سلیپ ہائیجین (Sleep Hygiene) ٹریننگ دی جاتی ہے۔
فوکس بڑھانے کے لیے مائنڈ فلنس بیسڈ انٹروینشن (Mindfulness Based Intervention) استعمال کی جاتی ہے۔

🌿 بہتری کے لیے دو سادہ عملی تجاویز

1️⃣ ڈیجیٹل فاسٹنگ (Digital Fasting)
روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ بغیر اسکرین کے گزاریں۔ یہ پری فرنٹل کارٹیکس کو ری سیٹ کرنے میں مدد دیتا ہے۔

2️⃣ سلیپ روٹین ریگولیشن (Sleep Routine Regulation)
روزانہ ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا۔ سونے سے ایک گھنٹہ پہلے اسکرین بند کر دینا یادداشت کی مضبوطی میں مددگار ہے۔

⚠️ اگر یادداشت، توجہ یا فیصلوں کی مشکل شدید (Severe) ہو، روزمرہ کام متاثر ہو رہے ہوں، یا ساتھ انزائٹی اور ڈپریشن کی علامات موجود ہوں تو بروقت ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ بعض اوقات نیورو سائیکالوجیکل اسیسمنٹ (Neuropsychological Assessment) بھی ضروری ہو سکتا ہے تاکہ دیگر طبی وجوہات کو خارج کیا جا سکے۔

یاد رکھیں، نوجوانی میں ذہنی تھکن بڑھنا کمزوری نہیں بلکہ ایک سسٹمک اشارہ ہے کہ دماغ پر بوجھ زیادہ ہے۔ بروقت آگاہی اور پیشہ ورانہ مدد مستقبل کی دماغی صحت (Long Term Brain Health) کو محفوظ بنا سکتی ہے۔

Address

House No 225 Block E, Nawab Town Rawind Road Lahore
Lahore
56000

Telephone

+923234619205

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Safeway Rehabilitation centre posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram