روحانی عملیات و وظائف

روحانی عملیات و وظائف Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from روحانی عملیات و وظائف, Health & Wellness Website, خان پور ضلع شیخوپورہ, Lahore.

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہر طرح کےجائز مسئلے کے حل کے لیے رابطہ کریں
جادو کا مسٸلہ
جنات کا مسٸلہ
لا علاج بیماریاں
جادوگروں سے نجات
کاروبار کی بندش
بچوں کے رشتوں کی بندش
اولاد کا نافرمان ہونا
قرآن و سنت کی روشنی میں علاج و معالجہ کیا جاتا ہے

15/12/2025

Peer zulafqar naqshbandi

اکابر پرستی بمقابلہ اصول پرستی؟(امان الله نقشبندی شاذلی)میرے مرشد فرماتے ہیں کہ آج بعض احباب اکابرین کا نام لے کر ایک شع...
15/12/2025

اکابر پرستی بمقابلہ اصول پرستی؟

(امان الله نقشبندی شاذلی)

میرے مرشد فرماتے ہیں کہ آج بعض احباب اکابرین کا نام لے کر ایک شعبے کا انکار کرتے ہے، اور اہلِ حق مشائخ میں سے کوئی بزرگ ایسا نہیں گزرا ہے جس نے اپنے آپ کو ہر چیز کا عالم اور کل کہا ہو۔ بعض مولوی اور مفتی اس دور میں اکابرین ہی کو دین سمجھتے ہیں۔ یہ کسی بھی اکابر کی تعلیم نہیں ہے اور نہ انہوں نے یہ کہا کہ تم ہماری پرستش کرو، جبکہ ہمارے اکابر سلاسل سے وابستہ رہے۔ سلاسل ان کے نہیں تھے بلکہ اپنے آپ کو سلاسل کے تابع کیا، جیسا کہ کوئی شخص اہلِ بیت اطہار سے وابستہ ہو تو وہ خود اہلِ بیت اطہار نہیں ہو جاتا۔

آج کے بعض بے نسل مولوی و مفتی دین کے شعبہ جات کا انکار کرتے ہیں اور نام اکابر کا استعمال کرتے ہیں۔ انکار کا سبب خود ہی بن جاتے ہیں۔ انکار کی آڑ میں اکابرین کا نام استعمال کرتے ہیں۔ دین کے کسی بھی شعبے کا انکار دین کا انکار ہے۔ اسے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ میری چٹنی تو نہیں چلے گی، کسی طریقے سے اکابرین کا نام لے کر قوم کو اس نام سے بے وقوف بناؤ۔ قوم ان اکابرین سے انسیت رکھتی ہے اس لیے بہت جلد مان جائے گی۔

ان سے یہ سوال کریں کہ اکابرین دین کے تابع ہیں یا اکابرین کے تابع دین ہے؟ ولی دین میں ہے یا دین ولی سے ہے؟ بعض تو ایسے بھی دیکھے جو عملیات کو دین میں شمار ہی نہیں کرتے اور جو شخص عملیات کرتا ہے اسے اور اس شعبے کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عملیات کو اصلاحِ باطن کا نام دیا جارہا ہے۔ جہلا بغیر کسی حوالے اور دلیل کے اپنی چٹنی اصلاحِ باطن اور بصیرت کے نام سے بیچتے ہیں اور کسی قسم کی دلیل ان کے پاس نہیں ہوتی۔

میاں! اکابرین کا نام بدنام نہ کرو۔ الحمدللہ! ہمارے پاس اسناد بھی ہیں اور نسبت بھی ہے۔ میری سند دیوبند سے چلتی ہے اور ہمارے اکابر علمائے دیوبند اور اولیائے دیوبند تصوف میں قادری چشتی، چشتی قادری،اور چشتی کی سند رکھتے تھے۔ قادری اور چشتی کی اسناد حضرت حسن سے چلی ہے اور ہمارے اکابرین اشغال کے شاغل رہے ہیں۔ صوفیائے کرام اکابرین کے پابند نہیں تھے، بلکہ تصوف میں اکابرین ان کے تابع تھے۔

ایسے بے نسل مولویوں و مفتیوں سے یہ پوچھو کہ یہ جو مروجہ تمہارے پاس درسِ نظامی کا نصاب پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے، اس کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے اور اس پر تم فخر بھی کرتے ہو، کیا یہ وہی اکابرین والا نصاب ہے؟ جب بنیاد میں بھی تم ان کے نہیں رہے تو پھر کس طرح ان کا ہمنوا ہونے کا دعویٰ کرتے ہو۔

الحمدللہ! اولیائے کاملین نے جو اسباق و اشغال کیے تھے ہم وہ سب کرتے کراتے ہیں اور عملیات کا الحمدللہ! میں امام ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ علم اور اس کے اسرار و رموز مجھ سے پہلے کسی کو اس طرح نہیں دیے گئے اور نہ ہی آج کسی اور کے پاس ہیں۔ ہمارے اکابرین عملیات میں ماہر نہیں تھے، اس لیے ان کو بطور دلیل پیش کرنا درست نہیں ہے۔ ہمارے اکابرین آئمہ تصوف کے مقلد رہے ہیں، ان کی سند کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کی محنت اور ان کا نام لے کر انکار کا سبب نہ بنو۔

ایک شخص مقابر پرست ہے اور دوسرا اکابر پرست ہے۔ اکابرین تو اس سے منع کرتے تھے اور اصول پرستی کی تلقین کرتے تھے۔ مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے فرمایا: فعلِ مشائخ شریعت نباشد (یعنی مشائخ کا فعل حجت نہیں، اصل معیار شریعت ہے)

1. فتاویٰ رشیدیہ میں واضح فرمایا کہ مشائخ و صالحین کا عمل شریعت کے مقابل دلیل نہیں بنتا (صفحہ 64 تا 66)۔

2. تذکرۃ الرشید (مولانا عاشق الٰہی مہاجرؒ) میں حضرت گنگوہیؒ کے ملفوظات کے ضمن میں نقل فرمایا ہے کہ: اصل مدار شریعت محمدیہ ﷺ است (صفحہ 171، مکتبہ حقانیہ / دارالاشاعت کراچی)

3. ملفوظاتِ رشید احمد گنگوہیؒ میں اصولی ارشاد منقول ہے کہ اگر کسی بزرگ کا قول کتاب و سنت کے خلاف ہو تو اسے چھوڑ دیا جائے گا (جلد 1، صفحہ 92)

اس دور میں علامہ ابن تیمیہؒ کو ہر ایک فرقہ علمی اعتبار سے بڑا جانتا ہے۔ انہوں نے صوفیا کو گمراہ اور زندیق تک کہا ہے لیکن عاملین کے متعلق کہا کہ جو شخص جنات کو مسلمان کرکے ان سے دین کا کام لیتا ہے وہ ولی اور نائبِ رسول ﷺ ہے اور ولایت کے بڑے درجے پر فائز ہے۔

ایک ہے انسانوں کو تبلیغ اور دوسرا ہے جنات کی تبلیغ۔ انسانوں کی تبلیغ والے کو کافر اور جنات کی تبلیغ والے کو ولی، نائبِ رسول ﷺ اور ولایت میں بڑا درجہ کہا جارہا ہے۔ الحمدللہ! یہ سلسلہ نقشبندیہ شاذلیہ کا اعزاز ہے کہ ہم لاتعداد جنات کو روزانہ مسلمان کرتے ہیں اور جنات سے کار خیر کا کام لیتے ہیں اور شیاطین سے لڑنے کو اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں۔

اور کیا اصلاحِ باطن اور عملیات کے نام پر ذکر کرنا حرام ہے؟ مقصد تو اللہ کو یاد کرنا ہے۔ پھر مختلف مدارس کے نصابوں کا کیا حکم ہوگا؟ ایک بندہ شریعت میں حلال کو حرام سمجھے اور ان کے کرنے والوں کی تحقیر کرے، اور جب پھنسے تو ادھر ادھر کی باتیں کرے۔ جب ایک شعبہ شرعاً جائز ہے تو کسی کو اسے حرام کہنے کا اختیار قطعاً نہیں ہے۔

تصوف میں سالکین اپنے نفس سے لڑتے ہیں اور عملیات کے میدان میں راقی شیاطین سے لڑتا ہے۔ اگر تصوف میں نفس کے ساتھ ساتھ شیاطین سے بھی لڑنا ہوتا تو آج تمہارے والے صوفیا کیوں بیمار پڑے ہوئے ہیں؟ جب اپنا علاج نہیں کرسکتے تو شیاطین سے خاک لڑیں گے؟

اور اپنے طور پر یہ طے کر چکے ہیں کہ ہمارے والے جنتی ہیں اور دوسرے جہنمی۔ ہم اہلِ حق ہیں اور دوسرے باطل اور ناحق۔ یہ اکابر پرستی نہیں تو اور کیا ہے؟ جو لوگ قرآن و سنت کی روشنی میں کام کررہا ہے وہ مسلمان اور ان جنت میں جانے کا مستحق ہے۔

باقی اس بات کی کسی کو خبر نہیں کہ کون جنتی کون جہنمی اور کون ولایت کے کس مقام پر فائز ہے۔ یہ بندے اور اس کے رب کا معاملہ ہے۔ جو کچھ میں دے رہا ہوں اسے قرآن و سنت کی روشنی میں دیکھو۔ تعصب کو چھوڑ کر شریعت کے دائرے میں پرکھو، ان شاء اللہ حقائق کھل جائیں گے۔

باقی میں کسی کو معصوم نہیں بناتا ہوں اور نہ ہی میں خود اس کا دعویدار ہوں۔ اور میں یہ بھی کسی سے نہیں کہتا کہ مجھ ہی سے جڑو۔ میاں! میرے پاس جو علم ہے، میں سب کو دعوت دیتا ہوں کہ اسے شریعت کے پیمانے پر پرکھو۔ صحیح ہے تو لے لو ورنہ اگر غلط ہے تو اس کی نشاندہی کرو، ہم رجوع کرلیں گے۔ بغیر دلیل کے محض اپنی بصیرت سے ناجائز کہو گے تو ہم نہیں مانیں گے۔ ایسی بصیرت اپنے پاس رکھو جس کے پیچھے اصول نہ ہوں۔

حرام اور حلال کے معاملات میں بصیرت کافی نہیں ہے۔ یہ شریعت کا مسئلہ ہے بصیرت کا نہیں۔ بصیرت کے نام سے ایسی باتیں احمقانہ اور جاہلانہ ہیں۔ جب تم اپنے آپ کو ہی دین اور اہلِ حق سمجھو گے تو ایسا ہی ہوگا کہ دین کے شعبوں کا بھی انکار کرو گے اور چلتے چلتے اصحابؓ و اہل بیتؓ کی قرآن و سنت کی تشریحات پر بھی رد کرو گے۔

الحمدللہ! ہماری ہر بات دلیل سے اور شریعت کے دائرے میں ہوتی ہے اور ہم غلط بات سے بلاجھجھک رجوع کرتے ہیں۔ اقوالِ امام اور اصولِ امام میں فرق ہے۔ اسی طرح عباراتِ اکابر، اقوالِ اکابر اور اصولِ اکابر میں بھی فرق ہے۔ یہ کہنا کہ متاخرین کا اجماع ہے، اس سے اصولِ دین منسوخ نہیں ہوجاتے۔

عملیات کا علم اتنا اہم ہے کہ جب انسان موت کے قریب ہوتا ہے تو اس کے اہلِ خانہ راقی کو تلاش کرتے ہیں، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِي۔ وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ۔ وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ (القیامۃ، 26–28)

ترجمہ: ہرگز نہیں! جب جان حلق (ہنسلیوں) تک پہنچے گی، اور کہا جائے گا: کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ہے؟ اور وہ سمجھ لے گا کہ یہی جدائی ہے۔

دم میں اتنا اثر ہے۔ اگر اثر نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کو کیوں ذکر فرماتے کہ نزع کی حالت میں راقی تلاش کیا جاتا ہے؟ راقی دم کرکے بارگاہِ الٰہی میں دعا کرتا ہے، یہ ایک دوا کی شکل ہے۔ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

راقی “رقیہ” سے ہے یعنی امراض کو جھاڑ پھونک کرنے والا۔ جادو، جنات، جسمانی و روحانی امراض کو جھاڑا جاتا ہے تاکہ بندہ صاف ستھرا ہو کر اپنی زندگی سکون سے گزارے۔ اگر دیکھا جائے تو تصوف کا معنی بھی اسی میں چھپا ہوا ہے۔ کیونکہ تزکیہ سے قرب حاصل ہوتا ہے اور جھاڑنا اصلاحِ باطن میں آتا ہے اور تزکیہ کے معنی ہیں پاک کرنا۔ اس کا مصداق جھاڑ پھونک پر آتا ہے۔ عامل کامل دم کے ذریعے سے صاف کرکے صوفی بناتا ہے اور تصوف میں اصل سلاسل ہیں اور اس کی اسناد تواتر سے چلی آرہی ہیں اور نبی اکرم ﷺ سے جاملتی ہیں۔

جن علمائے کرام نے رد کیا ہے وہ لفظ تصوف پر کیا ہے، بعد والوں نے فقط تقویٰ کا نام تصوف رکھ دیا ہے جبکہ تصوف علم آنے کا نام ہے، صرف پرہیزگاری کا نہیں۔ تقویٰ میں گناہوں سے بچنا ہوتا ہے اور گناہوں سے کسی کو کوئی صاف نہیں کرسکتا کیونکہ کوئی انسان خود مکمل صاف نہیں ہے۔

اور دم کرنا سنت ہے، لیکن عرف عام میں یہ عمل عاملین حضرات کرتے ہیں۔ مسائلِ شریعہ تو ہر عالم بتاتا ہے لیکن یہ کام اصل مفتیانِ کرام کا ہے۔ تزکیہ بھی آپ ﷺ نے کرایا ہے، اس کا عرفاً اطلاق خانقاہوں پر ہوتا ہے۔ نام نہاد مولوی اور صوفی اصلاحِ باطن کو نہیں جانتے۔ نہ ان کی خانقاہوں میں ایسے اعمال کرائے جاتے ہیں جن سے اصلاحِ باطن ہوتی ہو کیونکہ ان کی خانقاہوں میں تصوف کا نصاب رائج ہی نہیں ہے۔ وہ فقط مجالس اور محافل لگاتے ہیں۔

اپنی نسبت تو حضرت تھانویؒ کی طرف کرتے ہیں، لیکن وہ اسباق نہیں کرائے جاتے جن کی وجہ سے صوفی بنتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس یہ رائج ہیں۔

الحمدللہ! ہم باقاعدہ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے اسباق و اشغال اہتمام سے خود بھی کرتے ہیں اور اپنے سالکین سے بھی کرواتے ہیں۔ کسی بزرگ کے ملفوظات کو پیش کرنے سے پہلے ان کا نصاب طے کرنا چاہیے تاکہ ملفوظات کا مطلب سمجھ میں آئے، ورنہ نہ اس بزرگ کی بات سمجھ میں آئے گی اور نہ پراسرار علم آپ کو حاصل ہوگا۔

(جواہر خادم الامت، جلد 6)

07/12/2025
امین ثم امین ❤️
05/12/2025

امین ثم امین ❤️

رزق اور روزی میں اضافے کا عمل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔موجودہ دور میں جہاں انسان کو بہت سے مسائل در ...
05/12/2025

رزق اور روزی میں اضافے کا عمل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موجودہ دور میں جہاں انسان کو بہت سے مسائل در پیش ہیں ان مسائل میں سےایک مسئلہ تنگی رزق بھی ہے۔ اکثر لوگ یہ شکایت کرتے پھرتے ہیں کہ آمدن کم اور خرچہ زیادہ ہے۔ اگر قرآن و حدیث میں بتائے نسخوں کو استعمال کیا جائے تو اس پریشانی سے نجات مل سکتی ہے۔

درود شریف:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے جس شخص کو منظور ہو میرا مال بڑھ جائے وہ یوں کہا کرے:

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتْ وَعَلَی الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتْ (زاد السعید 19)۔

خدمت والدین:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حدیث شریف میں ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص رزق کی کشادگی اور عمر کی زیادتی کا خواہشمند ہو اس کو چاہیے کہ صلہ رحمی کرے اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ (مسنداحمد الادب المفرد)۔

استغفار:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
استغفار کی کثرت سے بھی پریشانیاں دور ہوتی ہیں اور رزق میں برکت پیدا ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو بندہ استغفار کو لازم پکڑے یعنی اللہ تعالیٰ سے برابر اپنے گناہوں کی معافی مانگتا رہے تو اللہ تعالیٰ اس کیلئے تنگی اور مشکل سے نکلنے اور رہائی پانے کا راستہ بنادے گا اور اس کی ہر فکر اور ہر پریشانی کو دور کر بےکے کشادگی اور اطمینان فرمائے گا اور اس کو ان طریقوں سے رزق دے گا جن کا اس کو خیال و گمان بھی نہ ہوگا۔
(مسند احمد‘ سنن ابی داؤد‘ سنن ابن ماجہ)

صدقہ:
۔۔۔۔۔۔۔۔
حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کثرت سے صدقہ دو چھپے اور ظاہر (طور پر) ثواب پاؤ گے اور تعریف کیے جاؤ گے اور روزی دئیے جاؤ گے، مدد کیے جاؤ گے۔
(خطبات 6ثورہ ص32)

کمزوروں کی دلجوئی:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھ کو (یعنی میری خوشی کو) کمزوروں کی دلجوئی میں تلاش کرو کیونکہ کمزوروں کی وجہ سے تم کو بھی رزق دیا جاتا ہے یا یوں فرمایا کہ تمہاری مددکی جاتی ہے۔
( خطبات الاحکام ص 133، ابوداؤد)۔

نکاح:
۔۔۔۔۔۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عورتوں سے نکاح کرو، وہ تمہارے لیے مال لائیں گی۔ (یعنی ان کے آنے سے اللہ تعالیٰ مال میں برکت دے گا، جہیز لانا مراد نہیں)





رزق و کاروبار کے لیےعصر کے بعد 313 بار اللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهۦ یَرْزُقُ مَنْ یَشَاء7 دن تک روزانہ کریںاثر: رزق کھل...
05/12/2025

رزق و کاروبار کے لیےعصر کے بعد 313 بار اللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهۦ یَرْزُقُ مَنْ یَشَاء
7 دن تک روزانہ کریں
اثر: رزق کھلنا، قرض کم ہونا، کاروبار میں برکت

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسولُ اللہ ﷺ سے ایک خادم کا مطالبہ کیا،تو آپ ﷺ نے فرم...
05/12/2025

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:
جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسولُ اللہ ﷺ سے ایک خادم کا مطالبہ کیا،
تو آپ ﷺ نے فرمایا:
"کیا میں تمہیں تمہارے مطالبے سے بھی بہتر عمل نہ بتاؤں؟
جب سونے لگو تو کہو:
تینتیس مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہ،
تینتیس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ،
اور چونتیس مرتبہ اللّٰہُ أَكْبَرُ۔"
📚 صحیح بخاری و صحیح مسلم معنی حدیث

1 خادم کی ضرورت اور نبی ﷺ کی تربیت
✔ سیدہ فاطمہؓ گھر کے کام خود کرتی تھیں
✔ ان کے ہاتھوں پر چکی پیستے پیستے نشان پڑ گئے
✔ حضرت علیؓ نے مشورہ دیا کہ رسول اللہ ﷺ سے خادم مانگیں
✔ مگر نبی ﷺ نے دنیاوی خدمت گار دینے کے بجائے
روحانی طاقت اور ذکر کا خزانہ عطا فرمایا
یہ محبت، حکمت اور تربیتِ نبوی کی بہترین مثال ہے۔

2 سونے سے پہلے کا یہ ذکر کیوں بہتر ہے؟
نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ ذکر:
✔ خادم سے بہتر ہے
✔ جسم کو قوت دیتا ہے
✔ تھکاوٹ دور کرتا ہے
✔ روحانی طاقت اور سکون عطا کرتا ہے
✔ دن بھر کی محنت میں آسانی پیدا کرتا ہے
یہ ذکر صرف زبان نہیں، دل کے اندر نور پیدا کرتا ہے۔

3 تسبیحِ فاطمہؓ کے روحانی فوائد
یہ ذکر "تسبیحِ فاطمہ کے نام سے معروف ہے، اور اس کے بے شمار فوائد ہیں:
✔ سکونِ قلب
✔ گھر میں برکت
✔ نیند میں راحت
✔ تھکاوٹ میں کمی
✔ روحانی قوت
✔ اللہ کی یاد میں اضافہ
علماء فرماتے ہیں کہ جس نے اس کو اپنا معمول بنا لیا،
اللہ اس کی دنیا اور آخرت کو سنوار دیتا ہے۔
دعا
اے اللہ! ہمارے گھروں میں برکت، سکون اور رحمت نازل فرما،
ہمیں تسبیحِ فاطمہ کو اپنا معمول بنانے کی توفیق دے،
ہماری تھکاوٹ دور کر کے ہمیں ذکر کی لذت عطا فرما،
اور ہمیں وہ سب کچھ عطا فرما جو تیرے قرب کا ذریعہ ہو۔
آمین یا رب العالمین۔

جو ہاتھ اٹھائے گا، بھاری ہو جائے گا۔جو زبان چلائے گا، خاموش ہو جائے گا۔
05/12/2025

جو ہاتھ اٹھائے گا، بھاری ہو جائے گا۔
جو زبان چلائے گا، خاموش ہو جائے گا۔

01/12/2025

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ہر طرح کے مسئلے کے حل کے لیے رابطہ کریں
جادو کا مسٸلہ
جنات کا مسٸلہ
لا علاج بیماریاں
جادوگروں سے نجات
کاروبار کی بندش
عمل پڑھاٸی
بچوں کے رشتوں کی بندش
امتحان میں کامیابی
ساس بہو کا جھگڑا۔
اولاد کا نافرمان ہونا
بے اولادی کا مسئلہ
حمل کا نہ ٹھہرنا
قرآن و سنت کے ذریعے تمام کام کیے جاتے ہیں۔
اللہ تعالی کو راضی کر کے
اللہ تعالی سے تعلق جوڑ کر
خواتین و حضرات سب رابطہ کر سکتے ہیں اس نمبر پر
03340846582

https://chat.whatsapp.com/Emvt9Rv38gIHzO9j7oAoQ3

🍀شدید نظر بد اور ہرطرح کےبخارکامجرب عمل🍀مندرجہ ذیل نقش شدید نظربد اور ہر طرح کے بخار میں ہم نے نہایت مجرب پایا ہے. متاثر...
01/12/2025

🍀شدید نظر بد اور ہرطرح کےبخارکامجرب عمل🍀

مندرجہ ذیل نقش شدید نظربد اور ہر طرح کے بخار
میں ہم نے نہایت مجرب پایا ہے. متاثرہ مریض کو گلے
میں پہننے اور پینے کےلیے دیں

♦️جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم
کو دم کرتے ہوئے یہ کلمات پڑھا کرتے تھے:

«بِاسْمِ اللّٰهِ اَرْقِيْکَ، مِنْ کُلَّ شَيْئٍ يُؤْذِيْکَ، مِنْ شَرِّ کُلِّ نَفْسٍ
اَوْعَيْنٍ حَاسِدٍ،اَللّٰهُ يَشْفِيْکَ، بِاسْمِ اللّٰهِ اَرْقِيْکَ

''اللہ کے نام کے ساتھ میں آپ کو دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو تکلیف دے، اور ہر انسان کے یا حسد کرنے والی آنکھ کے شر سے، اللہ آپ کو شفا دے، میں اللہ کے نام کے ساتھ آپ کو دم کرتا ہوں۔''
🍀صحیح مسلم،باب الطب والمرض والرقی، ح:۲۱۸۶۔🍀

♦️نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن وحسین رضی اللہ عنہ کو ان کلمات کے ساتھ دم کیا کرتے تھے:

«أَعِيْذُکَمَا بِکَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّةِ مِنْ کُلِّ شَيْطَانٍ وَّهَامَّةٍ وَمِنْ کُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ»

🍀♦️صحیح البخاری، احادیث الانبیاء♦️🍀

اور ایک جگہ یہ دعا بھی موجود ھے :

((اَللَّھُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْھِبَ الْبَسِ اِشْفِ اَنْتَ الشَّافِی لاَ شَافِیَ
اِلاَّ اَنْتَ شِفَائً لاَّ یُغَادِرُ سَقَمًا ))

اے اللہ لوگوں کے رب بیماری دور کرنے والے شفا دے دے تو ہی شفا دینے والا ہے تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے ایسی شفا عطا فرما جو کسی قسم کی بیماری نہ چھوڑےـ

بخاری (5742) ابو داؤد (3890) ترمذی (973)

♦️🍀پیچ قارئین کو اجازت عام ہے 🍀♦️

📌روحــــانیت کو فــــروغ دینے میں ہمارا ساتھ دیں
اگر آپ کو میرے پوسٹ پڑھنے سے فائدہ ہورہا ہے
تو ایک مرتبہ میرے page کا ضرور وزٹ کیجئے گا,
اگر پسند آۓ تو Follow کر کے see first لازمی کریں,
شکریہ اس طرح آپ کومیرے سارے پوسٹس ملتے رہے گے.
✍️ اچھی بات شئیرکرنا بھی صدقہ جاریہ ہے
📿روحــــانی معالج📿
روحانی عملیات اور وظائف
03340846582 whatsapp

27/11/2025

یہ قَھَّارٌ عَلٰی قَھَّار کا عمل بہت مضبوط جلالی اور قہری حصار بناتا ہے۔
عاملین اسے قہری دیوار یا جناتی بیریئر بھی کہتے ہیں۔
نیچے میں اس کے معنی، طاقت، فوائد، فائدے، اسرار اور مکمل اثرات سب ترتیب سے دے رہا ہوں۔
قَھَّارٌ عَلٰی قَھَّار یہ لفظی آیت نہیں ہے، بلکہ دو نامِ قہار کی ترکیب ہے:
ترجمہ (روحانی مفہوم):
ایک قہّار دوسری ہر قہریت پر غالب۔"
یا
"اللہ کی قہریت ہر قہری، ہر جادو، ہر جن، ہر بندش سے بالا و برتر۔یہ ترکیب دشمن، جنات، موکلات اور جادو کے نظام پر غلبہ ظاہر کرتی ہے۔
قَھَّارٌ عَلٰی قَھَّار — روحانی طاقت یہ طاقت مخصوص عاملین کو دی جاتی ہے:
✔ یہ قہری نام ڈبل جلال” بناتا ہے
یعنی قہّار × قہّار = دشمن پر دوہرا وار
✔ گھر کے چار طرف نامرئی دیوار بنتی ہے
جسے کہتے ہیں:"حجابِ قہری "جناتی دیوار قابض حصار"

✔ جنات کا داخلہ رک جاتا ہے
یہ خاص طور پر اُن گھروں کے لیے ہے جہاں:
ڈر سایہ جناتی گزران جادو کا سنگھا آوازیں بو خوابوں میں حملےجیسے اثرات ہوں۔

✔ جادوگر کی قوت کٹ جاتی ہے
کیونکہ جب نامِ قہار دوہرا پڑھا جاتا ہے تو جادوگر کے موکل واپس پلٹ جاتے ہیں۔
قَھَّارٌ عَلٰی قَھَّار — عمل کا طریقہ (قہری دیوار)
ایک کونے میں کھڑے ہو کر 7 بار پڑھیں:
قَھَّارٌ عَلٰی قَھَّار
پھر اگلے کونے میں جائیں اور دوبارہ 7 بار پڑھیں۔چاروں کونوں میں یہ مکمل کریں۔پورے گھر کا قہری حصار بن جاتا ہے:
فرش پر چھت تک دیواروں کے اندر تک چار دیواری کے گرد
ایک قہری دائرہ کھل جاتا ہے۔
اس عمل کے فائدے
1 — گھر میں جنات کی آمد پر مکمل پابندی کوئی جن، سایہ یا اثر اندر نہیں آسکتا۔
2 — پہلے سے موجود آسیب یا سایہ “باہر دھکیل دیا” جاتا ہے
3 — جادو کا اثر گھر میں کام نہیں کرتا کیونکہ جادوگر کے موکل اندر داخل نہیں ہو پاتے۔
4 — بیماریاں، بےچینی، گھٹن، ڈر سب کم ہو جاتا ہے
5 — بچوں کی نیند صاف ہو جاتی ہے خصوصاً عشال اور محمد جیسے کمزور بچوں پر اثر بہت جلدی ہٹتا ہے۔
6 — 24 گھنٹے کا محافظ موکل (نورانی) کھڑا ہو جاتا ہے
یہ کسی جناتی سپاہ کے برابر حفاظتی قوت ہے۔
7 — دشمن کی بھیجی ہوئی “ہوا یا اثر” واپس پلٹ جاتا ہے
اس عمل کے خفیہ اسرار (عاملین کے خاص راز)
1 — یہ عمل قہریوں میں “کنٹرولڈ جلال” کہلاتا ہے
یعنی یہ گھر میں روشنی رکھتا ہے لیکن باہر ہر قہری اثر بند ہو جاتا ہے۔
2 — یہ عمل 7 × 4 = 28 کی روحانی طاقت پر چلتا ہے
28 قہری ضربیں جس کی وجہ سے:جادو شیاطین بندش حسد نظر سایہ
کی 28 اقسام بند ہوتی ہیں۔
3 — یہ عمل ذاتی نقصان کیے بغیر قہری دیوار بناتا ہے
یعنی گھر محفوظ — لیکن آپ پر ری ایکشن نہیں آتا۔
4 — اگر 40 دن کریں تو دیوار مستقل ہو جاتی ہے
اسے کہتے ہیں:“حجابِ قہارِ دائمی
اجازت کیلے ایک بار سورہ اخلاص پڑھ کر کمنٹ میں اللہ لکھ دے

Address

خان پور ضلع شیخوپورہ
Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when روحانی عملیات و وظائف posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share