Yda Mayo Hospital Lahore

Yda  Mayo Hospital Lahore our purpose is to point out merit violations and drs issues in KEMU and Mayo Hospital Lahore.

26/08/2024

چند ناگزیر وجوہات کی بناء پر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن میوہسپتال اس فیس بک پیج کو مزید استعمال نہیں کرے گی اور تمام تر میڈیا میسج و اپڈیٹس کے لیے نیچے دیے گئے پیج کو استعمال کرے گی۔ لنک نیچے شئیر کیا جارہا ہے
۔https://www.facebook.com/ydamayoofficial?mibextid=ZbWKwL

Official account of YDA Mayo / KEMU.

25/08/2024

Young Doctors convention At Karachi!!

24/08/2024

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن میو ہسپتال کی طرف سے ڈاکٹر احمد گجر ، ڈاکٹر شرجیل ، ڈاکٹر رانا اویس نے وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ پروفیسر محمود ایاز اور پروفیسر ابرار اشرف کے ہمراہ حادثاتی موت کا شکار ہونے والے ڈاکٹر شجاعت عباس کے گھر جاکر ان کے والدین اور خاندان سے اس ناقابل تلافی نقصان پر ان سے تعزیت کی اور فاتحہ خوانی کی اور انہیں غم کی اس گھڑی میں اکیلے نہ ہونے کا یقین دلایا ۔
مزید برآں بروز بدھ ، 28 اگست کو مقبول بلاک آڈیٹوریم میں 11 بجے ڈاکٹر شجاعت عباس کے ایصال و ثواب کےلیے تمام ڈاکٹر حضرات اور باقی حضرات سے شرکت کی اپیل کی جاتی ہے۔

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی اک شخص کہ سارے جہاں کو ویران کر گیاآج کا دن میو ہسپتال کی تمام ڈاکٹرز کمیونٹی کےلیے...
23/08/2024

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص کہ سارے جہاں کو ویران کر گیا
آج کا دن میو ہسپتال کی تمام ڈاکٹرز کمیونٹی کےلیے سوگواری سے بھرپور ثابت ہوا کہ جب صبح ڈیوٹی پر آتے ہوئے شعبہ کارڈیالوجی کے ٹرینی پی جی آر ڈاکٹر شجاعت عباس نے عجلت میں روڈ کراس کرتی ایک بوڑھی خاتون کو بچانے کی خاطر حادثے کا شکار ہوئے جس کے بعد انہیں میو ہسپتال ایمرجنسی لایا گیا اور 3 گھنٹے کی طویل کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہوسکے اور اللہ کو پیارے ہوگئے
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن دکھ کے ان لمحات اپنے شہید ڈاکٹر کے گھرانے کے غم میں برابر کی شریک ہے اور وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سے استدعا کرتی ہے کہ ارباب اختیار سے شہید ڈاکٹر کے گھرانے کےلیے شہید پیکج منظور کرائے
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ
1. مریضوں کو ایمرجنسی میو ہسپتال میں ایمرجنسی سے بوقت ضرورت ٹیسٹ بالخصوص سی ٹی اسکین کےلیے لے جانے کا کوئی انتظام نہیں ہے اور اسی وجہ سے پولی ٹراما کے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے انتہائی برے انداز میں لواحقین کو خود لے جانا پڑتا ہے
2. سی ٹی اسکین کی مشین دو ماہ سے فعال نہیں ہے جس کی وجہ سے فالج اور ٹراما کے مریضوں کو جو میو ہسپتال آتے ہیں گنگارام ہسپتال جا کر گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے اور واپس آنے تک مریض کی حالت شدید بگڑ چکی ہوتی ہے اور آج بھی اگر سی ٹی اسکین کی متوقع ضرورت کی صورت میں ڈاکٹر شجاعت کو موت و حیات کی کشمکش میں گنگا رام لے جانا پڑتا۔
3. دل کے وارڈ کی لفٹ جو کہ دل کے مریضوں کےلیے انتہائی اہم ہے کافی عرصے سے آئے روز خراب ہوتی ہے جس سے مریض شدید مشکلات کا شکار ہیں اور آج بھی ڈاکٹر شجاعت عباس کو آپریشن تھیٹر شفٹ کرتے وقت لفٹ بند ملی اور موقع پر یہ سب ایم ایس اور اے ایم ایس ایڈمن حسرت و یاس کی تصویر بن کر خاموش کھڑے رہے اور بعد ازاں کارڈیالوجی وارڈ کے ایک ورکر نے لفٹ چلوائی
انتظامیہ سے گذارش ہے کہ مریضوں کے وسیع ترین مفاد میں اپنے مصروف وقت بالخصوص فوٹو سیشنز سے کچھ وقت نکال کر مندرجہ بالا مسائل پر بھی توجہ دے لیں ۔
نوٹ : بروز بدھ کارڈیالوجی وارڈ میو ہسپتال لاہور میں 11 بجے دن ،کانفرنس ہال میں شہید کے ایصال و ثواب کےلیے تمام ڈاکٹرز و دیگر حضرات سے شرکت کی درخواست کی جاتی ہے
#ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن میوہسپتال لاہور

داستان بربریت !! قسط اول !!وہ بچپن سے ہی ایک غیر معمولی ذہانت و فتانت کا منبع تھا ، اس کا گھر جنوبی پنجاب کے کوہ سلیمان ...
21/08/2024

داستان بربریت !! قسط اول !!
وہ بچپن سے ہی ایک غیر معمولی ذہانت و فتانت کا منبع تھا ، اس کا گھر جنوبی پنجاب کے کوہ سلیمان کے پہاڑوں میں تھا جہاں نہ دور دور تک پانی ملتا تھا نہ ہی کوئی اور سہولت ۔ گھر کا خرچ چلانے کےلیےاسے محنت مزدوری کی بجائے والدین نے پڑھانے کی ٹھانی اور پیٹ پر پتھر باندھ کر اسے گھر سے کوسوں دور پڑھنے پیدل بھیجا کرتے۔ بچے نے 12 سال پورے پنجاب میں امتیازی مقام حاصل کرتے ہوئے بالآخر پنجاب کے لاکھوں طلباء کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اور اپنی اہلیت کا لوہا منواتے ہوئے ملک کے سب سے بہترین طبی ادارہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں داخلہ لے لیا
اس معصوم کو کہاں اندازہ تھا کہ بائیو کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کا ایک گدھ اس کے خوابوں کو بھنبھوڑنے کو تیار بیٹھا تھا ، اسے کہاں معلوم تھا کہ ایک خون آشام بلا اس کے روشن مستقبل کا خون چوسنے کے لیے منہ کھولے بیٹھی تھی ، اسے کہاں معلوم تھا کہ وہ ایک نفسیاتی عفریت کی خوراک بننے کےلیے آپہنچا تھا ، اسے کہاں معلوم تھا کہ اسے ایک سفلی انسان کی احساس کمتری سے ماری ہوئی بدروح کا نشانہ بننا تھا ۔
وہ چار بار صرف ایک ایک ظالم و بے حس انسان کی جھوٹی انا و نخوت کی بھینٹ چڑھنے کے بعد گورنر پنجاب سے پانچواں اور آخری موقع ملنے کے بعد بھی تمام مضامین حتی کہ بائیو کیمسٹری کے تحریری امتحان میں نمایاں نمبر حاصل کرنے کے باوجود ایک ایسے مردہ دل اور مردہ ضمیر انسان کی ضد کا نشانہ بن کر ہمیشہ کےلیے ڈاکٹر نہ بن سکنے کا دھبہ لے کر اس ادارے سے رخصت ہوا جس کا مداوا ممکن نہیں
کیا اس بے حس انسان کے ہاتھ نہیں کانپے ہونگے ؟ کیا اس کے اندر انسانیت اتنی مرگئی ہوگی کہ اسے ایک بار بھی احساس نہیں ہو ا؟ یہ صرف سربریت کی ایک مثال پیش کی جارہی ہے آج۔ ایک طویل فہرست ہے متعدد گھروں کے چراغ گل ہونے کی ، متعدد خوابوں کے ویران ہونے کی ۔۔ مگر فکر صرف یہ نہیں کہ ایسا کیسے ہوا ، فکر یہ بھی ہے کہ آخر کب تک ایسا ہوتا رہے گا ؟
آخر ارباب اختیار کب تک اس نفسیاتی قتل عام پر مجرم بن کر خاموش رہیں گے ۔
پروفیسر نقسب چودھری کے ظلم کی بے انتہا داستانوں کی روزانہ ایک ایک قسط تب تک گوش گزار کی جاتی رہے گی جب تک کہ چیف منسٹر پنجاب ، گورنر پنجاب اور وزیر صحت اس کا نوٹس نہیں لیتے اور ملک کے ذہین ترین دماغوں کے ساتھ ایک طویل عرصے سے چلے آتے کھلواڑ کا مکمل راستہ نہیں بند کردیتے۔ یونیورسٹی ہذا کے تمام طلباء و ڈاکٹرز عنقریب سطری تحریک کو عملی تحریک کا جامہ پہنانے کا عزم لیے جلد ہی ہر حد تک جانے کا اعلان کرتے ہیں۔
کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے طلباء کے بچاؤ کی اس تحریک میں KEMCAANA ، KEMCA UK اور پاکستان بھر میں موجود کنگ ایڈورڈ کے سابقہ فارغ التحصیل طلباء سے بھی گزارش ہے کہ وہ اس ادارہ کو ایک ظالم کے چنگل سے نکالنے کےلیے اپنا کردار ادا کریں
نوٹ: گورنر سے پانچواں موقع ملنے سے پہلے بچے نے NUMS کے امتحان میں پچھلے سال ٹاپ کیا جیسا کہ دی گئی تصویر میں ظاہر ہے۔
منجانب:
طلباء و ڈاکٹرز کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی

پریس ریلیز۔اج بروز ہفتہ 17 اگست وائی ڈی اے کے وفد کی کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی کے ایم بی بی ایس کے طالب علموں سے ملاقات ہوئی ...
17/08/2024

پریس ریلیز۔
اج بروز ہفتہ 17 اگست وائی ڈی اے کے وفد کی کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی کے ایم بی بی ایس کے طالب علموں سے ملاقات ہوئی ۔
وفد کی سربراہی ڈاکٹر احمد گجر نے کی جس میں ڈاکٹر رانا اصغر ،ڈاکٹر ذیشان چوہدری، ڈاکٹر اسد، ڈاکٹر فہد، ڈاکٹر عامر شامل تھے۔
اور بائیو کیمسٹری کے برے ترین رزلٹ پر تفصیلی بات ہوئی۔
ایم بی بی ایس کے پانچ سالوں کے طلبہ نے بھرپور شرکت کی اور عرصہ 12 سال سے بائیو کیمسٹری کے پروفیسر کی نااہلی اور ظالمانہ سلوک کے بارے میں بتایا جو کہ ہر سال 50 فیصد سے زیادہ طالب علموں کو Viva میں فیل کر دیتا ہے ان کاایک سال ضائع کرتا ہے اور ان کی ڈگریاں برباد کرتا ہے۔
بڑے افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ پاکستان کی وہ یونیورسٹی جس کا ٹاپ میرٹ ہے جس کے بچے ہر سبجیکٹ میں شاندار نمبروں سے پاس ہوتے ہیں بلکہ دنیا بھر کے مقابلے کے امتحانوں میں بہترین نمبروں سے کامیابی حاصل کرتے ہیں کیا وہ اس قابل نہیں کے بائیو کیمسٹری کا VIVA پاس کر سکیں.
تمام طالب علموں نے پروفیسر صاحب کی مینٹل کپیسٹی پر سوالیہ نشان اٹھائے۔
تمام طالب علموں نے پروفیسر صاحب کی علاقائی تعصب کی نشاندہی کی جو کہ جان بوجھ کے کچھ علاقے اور کچھ ذاتوں سے اتنی نفرت کرتا ہے کہ ان کو پاس کرنا بھی مناسب نہیں سمجھتا۔
وہ اتنے دانشور ہیں کہ کسی غریب کے بچے کو کامیاب ہوتا دیکھنا برداشت نہیں کر سکتے۔
وہ اتنے ظالم ہیں کہ کسی پر نا انصافی کرتے ہوئے ان کے ہاتھ نہیں کانپتے اور ان کے دل میں درد نہیں ہوتا۔
وائی ڈی اے میو ہسپتال/کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی تمام ہونے والے ظلم کے خلاف اعلان جنگ کرتی ہے اور تمام طالب علموں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے جب تک ان کے جائز مطالبات کو سنا نہیں جاتا،اس پر انکوائری نہیں کرائی جاتی اور اس ظلم میں ہر کردار کو سزا نہیں دی جاتی۔
میو ہسپتال کا ہر ڈاکٹر اور یونیورسٹی کا ہر طالب علم ایک جان ہیں اس ظلم کو اب ختم کرنا ہوگا اور ہر ظالم کو سزا دینی ہوگی بصورت دیگر یونیورسٹی کا ہر طالب علم تمام تعلیمی سرگرمیوں کا بائیکاٹ اور احتجاج کا حق رکھتا ہے۔
تمام طالب علموں اور ڈاکٹروں کے مطالبات یہ ہیں۔
بائیو کیمسٹری کے گزشتہ 10 سالوں کا رزلٹ کا مکمل Audit کرایا جائے
بائیو کیمسٹری کے پروفیسر کی مینٹل اسیسمنٹ کرائی جائے۔
گزشتہ سالوں میں بائیو کیمسٹری کے برے ترین رزلٹ پر ایک انکوائری کمیٹی بٹھائی جائے جس میں سزا وار کو نوکری سے نکالا جائے اور اس پر قانونی کاروائی کی جائے۔
ہماری وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سے گزارش ہے کہ اس پر انکوائری اٹھائی جائے اور اگلے دو دنوں میں مکمل اڈٹ رپورٹ دی جائے بصورت دیگر بطور پاکستانی شہری تمام طالب علم اور ڈاکٹر احتجاج کا حق رکھتے ہیں۔

منجانب : کا بینہ وائے ڈی اے میو

کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی جسکا شمار پاکستان کی مایا ناز یونیورسٹیوں میں ہے جہاں کے سٹوڈنٹس پورے  پاکستان کے ٹاپرز ہوتے ہیں۔۔ ...
07/08/2024

کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی جسکا شمار پاکستان کی مایا ناز یونیورسٹیوں میں ہے جہاں کے سٹوڈنٹس پورے پاکستان کے ٹاپرز ہوتے ہیں۔۔ جہاں سے زیادہ تر ڈاکٹرز امریکہ اور یورپین ممالک جاتے ہیں اور وہاں سے میکلوڈ روڈ ہاسٹل کے لیے بی شمار فنڈگ کرتے ہیں ۔
ان سٹوڈنٹس کو یونیورسٹی نے جس جگہ پر رہائش دی ہوئ ہے اسکے حالات آج تصویروں میں ملاحظہ کریں ۔۔۔
انتظامیہ خصوصا وہاں کا میکلوڈ ہاسٹل کے وارڈن کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے جس نے اپنے لیے تو اپنی رہائش گاہ کو تو تزئین وآرائش کے بعد محل بنایا ہوا ہے لیکن جس کام کے لیے اسے یہ مراعات دی گئ ہے وہ کام اس سے نہیں ہوتا ۔۔۔
ان ہاسٹلز میں موجود وارڈن میکلوڈ جسکو اپنے کولیگز اینڈ جونیئرز سے بات کرنے کی تمیز تک نہ ہے انہی کے مطابق انکو اس عہدے پر دس سال ہو گئے ہیں لیکن وہ کوئ بھی عملی کام کرنے سے قاصر ہیں ۔۔۔
یہ تصویریں ہیں میکلوڈ سٹوڈنٹس ہاسٹل کی جہاں پر اس وارڈن نے اپنی بادشاہت قائم کر رکھی ہے ۔۔۔
وارڈن میکلوڈ ہاسٹل جو کہ پروفیسر تو بن گیا ہے لیکن شاید اسکو ایڈمنسٹریشن کی الف ب تک نہیں پتہ۔۔ جسکو صرف یہ پتہ ہے کہ اس ساری صورت حال کا ملبہ اپنے سے جونیر عملے پر ڈالنا ہے ۔۔۔
اس موصوف (وارڈن ) سے جب آخری میٹنگ میں ایک ڈاکٹر نے پوچھا کہ اگر دس سال ہو گے ہیں اس ہاسٹل میں تو آپ نے آج تک اس میں صفائ ستھرائی اور کھانے کا سسٹم بہتر کیوں نہیں کیا جس پر جناب چیخ کر کہتے ہیں کہ تم ہو کون مجھ سے پوچھنے والے ۔۔

موصوف خود ہی کہتے ہیں کہ یہ عملہ بشمول صفائی کا عملہ ہماری بات نہیں مانتا ۔۔۔ موصوف خود کہیتے ہیں کے ٹھیکدار نے صفائ کا عملہ پور انہیں دیا ہوا،کبھی کسی نشائی کو پکڑ کر صفائ کراتے ہیں تو کبھی کسی سے ۔۔۔

وی سی صاحب سے التجا ہے کہ اس نا اہل وارڈن کو نکال باہر پھینکیں جو خود کو خدا سمجھ کر بیٹھے ہیں جس سے نہ تو ہاسٹل سنبھالے جا رہے ہیں اور نہ ہی وارڈ سنبھالا جا رہا ہے۔ اس وارڈن کو انہیں حرکتوں کی وجہ سے ایک بار پہلے بھی سابقہ چیف وارڈن کے دور میں ہاسٹل سے نکال دیا گیا تھا مگر بعد میں منت ترلوں سے واپس آیا لیکن تیور وہی ہیں

منجانب: سٹوڈنٹس اینڈ ڈاکٹرز میکلوڈ روڈ

وائ ڈی اے میو اپنے ایکس سینئر وائس پریزیڈنٹ  ڈاکٹر فراز کو مبارکباد پیش کرتی ہے کہ جنہوں نے پہلی ہی اٹمپٹ میں opthalmolo...
06/08/2024

وائ ڈی اے میو اپنے ایکس سینئر وائس پریزیڈنٹ ڈاکٹر فراز کو مبارکباد پیش کرتی ہے کہ جنہوں نے پہلی ہی اٹمپٹ میں opthalmology کی ریزیڈنسی کے لیے ہونے والا فائنل امتحان پاس اچھے مارکس سے پاس کیا۔۔
Congratulations

05/08/2024

ڈاکٹرز کی طرف سے بڑھتے ہوئے پریشر کے تحت آج ہاسٹل انتظامیہ جس میں وارڈن میکلوڈ اور اسسٹنٹ وارڈنز ہال روڈ اور میکلوڈ نے شرکت کی ۔۔
ہم میس کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر چھے میٹنگز کر چکے ہیں ۔۔ ہاسٹل انتظامیہ
میس ورکرز ناقص میٹریل استعمال کرتے ہیں ۔۔انتظامیہ
میس ورکرز ہمارا کہا نہیں مانتے بلکہ اپنی من مانیاں کرتے ہیں ۔۔ انتظامیہ
میس ورکرز کو اگر کچھ کہا جائے تو اوپر سے کالز آتی ہیں۔ انتظامیہ

چھ ماہ پہلے والی میٹنگ میں طے پانے والے فیصلے لاگو نہیں ہوے ۔۔ انتظامیہ
میس ورکرز ہر چیز دو نمبر استعمال کرتے ہیں اور بل ایک نمبر چیز کا بنواتے ہیں ۔۔ انتظامیہ
ہاسٹل کے میس منیجرز اور اسسٹنٹ وارڈن کی نگرانی کے میں یہ سب ہوتا ہے ۔۔ میس ورکرز
میس حاضری کا ریٹ بڑھایا جاے ۔۔ میس ورکرز
میس میں پکنے والے چاول ٹوٹا ہوتے ہیں اور میس منیجرز جب چیک کرتا اسے سپر کرنل کے چاول بتائے جاتے ہیں ۔۔ میس ورکرز

مارکیٹ میں میس مینجر اور اسسٹنٹ وارڈنز کے کہنے پر کھانا سیل کیا جاتا ہے۔۔ میس ورکرز

میٹنگ میں بیٹھے ڈاکٹرز میں سے ایک ڈاکٹر نے سوال پوچھا کہ سر جب آپکو سب پتہ ہے کہ 10 سال سے یہ چل رہا ہے تو آپ نے ابھی تک انکو ہٹایا کیوں نہیں ۔۔
ڈاکٹر کے اس سوال کرنے پر وارڈن آگ بگولہ ،
تم ہوتے کون ہو مجھ سے پوچھنے والے میں پروفیسر ہوں اور تم مجھ سے پوچھ کیسے سکتے ہو۔۔۔
اسی گہما گہمی میں وارڈن صاحب میٹنگ کو آدھ ادھورا چھوڑ کر اور چیختے چلاتے ہوے آفس سے نکل گئے ۔۔۔
ان بابوں سے اب ہمارا ہر ڈاکٹر پوچھے گا اور تمہیں جواب دینا ہو گا ۔
جب تمہیں سب پتہ کہ وہ بندہ یہاں کرپشن کر رہا اور فلاں بندہ وہاں تو اب تک کسی ایکشن کیوں نہیں کیا گیاا۔۔۔
ھم وائس چانسلر صاحب سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ کا ایک مہینے کا الٹی میٹم دینے کے باوجود چیزیں جو کی توں ہیں۔ اور صرف 15 دن کا ٹایم رہ گیا ہے۔

منجانب : وائے ڈی اے میو۔

TEAM YDA MAYO pays homage & congratulates its front line force and esteemed members to nail the NRE exam with splendid r...
01/08/2024

TEAM YDA MAYO pays homage & congratulates its front line force and esteemed members to nail the NRE exam with splendid results. Best of luck Comrades for future endeavors and tasks. We are Proud of you.
May Good Luck Always Be Your Friend In Whatever You Do.
DR. Bilwala Kamboh
DR Rafaqat Gujjar
DR. M Saleem
DR Adeel Gujjar
DR.Asheer
Dr.Ahwar

27/07/2024

پاکستان بننے سے بھی قبل کی سب سے بڑی علاج گاہ میو ہسپتال لاہور کی ایمرجنسی، آپریشن تھیڑ کی حالت؛

میو ہسپتال کی فائبر چھت ایک ساون کی بارش کی مار ہوئی۔ یہ وہ کرپشن ذدہ چھتیں ہیں جہاں نگرانوں نے کرپشن کی ایمانداری سے نگرانی کی اور اب یہ کام موجودہ حکومت کے ذمے ہے۔

سیکریٹریٹ کی جعلی تشہیر کا آئے روز پول کھل رہا ہے۔ تزائین و آرائش پر پیسہ لگانا ہمیشہ سے ہی مزید پیسہ بنانے کی مشق رہا ہے۔ عوام کے ٹیکس پئیرز کے اربوں روپے ضائع کرنے پر سیکریٹری کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کو ہٹا دینا چاہیے۔

جس طرح سیکریٹیریٹ اور سی ایم ڈبلیو کے گٹھ جوڑ نے قوم کو اربوں کا نقصان پنچایا اور وزیر اعلی پنجاب کی انکھوں میں دھول جھونکی وقت آنے پہ یہ ان کی سیاسی موت ثابت ہو گا۔ وائی ڈی اے پنجاب کی ہر ڈاکٹر کش پالیسی بنانے والی حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔

ہسپتالوں کی حالت ایسی کر دی گئی ہے کہ یہاں ہلکی پھلی بیماری میں آنے والا شخص مزید بیمار ہوکر یہاں سے رخصت ہو۔

محکمہ صحت پنجاب اور تزائین و آرائش کے گھٹیا مشورے دے کر اربوں روپے ہڑپنے والے زائد المعیاد بابوں کو جب تک ان محکمات سے دھکے دیکر نکالا نہیں جاتا تب تک ہسپتالوں میں بہتری ناممکن ہے۔ یہ صرف میو ہسپتال لاہور ہی نہیں بلکہ پنجاب کے تقریباً ہر ہسپتال کی کہانی ہے اس لئے وائی ڈی اے پنجاب تزائین و آرائش میں استعمال ہونے والے ناقص میٹیریل اور بغیر پلاننگ پہ جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرتی ہے تاکہ تمام زمہ داران کو کٹہرے میں لایا جاسکے۔

-وائی ڈی اے میو ہسپتال

وائ ڈی اے میو کی ڈاکٹر احمد گجر کی سربراہی میں وی سی اور رجسٹرار  کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی اور ہاسٹل ایڈ مینسٹریشن سے تفصیلی...
23/07/2024

وائ ڈی اے میو کی ڈاکٹر احمد گجر کی سربراہی میں وی سی اور رجسٹرار کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی اور ہاسٹل ایڈ مینسٹریشن سے تفصیلی ملاقات۔۔۔
1: وی سی صاحب نے پوری ایڈمنسٹریشن کو ایک مہینے کا وقت دیا ہے کہ ہاسٹل کے سارے معملات ٹھیک ہو جانے چاہیں وگرنہ جو کام نہیں کرے گا وہ اپنی سیٹ پر نہیں رہے گا۔۔۔

2: گزشتہ دنوں ہاسٹل بلڈنگ کے گرنے سے ڈاکٹرز کے ہونے والے نقصان کا ازالہ یونیورسٹی کی طرف سے کیا جاے گا۔۔۔

3: ہاسٹل میں صاف ستھرے پانی کی ترسیل کے لیے کل سے نئے ٹیوب ویل کی بورنگ شروع کی جاے گی۔۔۔

4: کنگ ایڈورڈ کے سٹوڈنٹس اور ڈاکٹرز کے علاؤہ کسی کو ہاسٹل میں رہنے کی اجازت نہ ہو گی اور اگر کسی نے اپنی الاٹمنٹ بیچی تو اسکی الاٹمنٹ کینسل کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر بھاری جرمانہ عائد کیا جاے گا اور ہاسٹل میں رہائش پزیر ڈاکٹرز کو ایک مہینے کا وقت دیا جاتا ہے کہ جنہوں نے اپنی الاٹمنٹس پر کسی اور کو پناہ دی ہوئ ہے وہ خالی کرا لیں ورنہ وائ ڈی اے میو اس مسئلے سے خود کو دستبردار رکھے گی ۔۔۔

5: ہاسٹل ریزیڈینٹس سے گزارش ہے کہ کل تک اپنے رومز کی الماریوں دروازے کھڑکیوں اور الیکٹرک مسائل کے فوری حل کے لیے درخواست لکھ کر ہال روڈ کینٹین پر جمع کرا دیں۔۔۔۔۔۔

6: سیکورٹی اور صفائ کے سپروائزر کو وارڈن صاحب خود مانیٹر کرے گا ۔۔

7: چیف وارڈن ہر دو مہینے بعد پورے ہاسٹل کا راؤنڈ کرے گااور ہاسٹل وارڈن ہر مہینے اور اسسٹنٹ وارڈن ہر ہفتے پورے ہاسٹل کا راؤنڈ کریں گے۔۔۔

8: گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے ٹیم وائ ڈی اے اور چیف وارڈن مل کر جگہ کا تعین کریں گے جہاں پارکنگ لائنز لگائی جائیں گی۔۔۔۔

9: دونوں میس منیجرز کو فوری تبدیل کیا جائے گا اور انکی جگہ نئے میس منیجرز لگائے جائیں گے۔۔۔

10 : ہاسٹل میں پیسٹی سائیڈ سپرے ہر مہینے کیا جاے گا ۔۔۔۔

امید ہے کہ اب ہاسٹل ایڈ مینسٹریشن ہوش کے ناخن لے گی اور دوبارہ حالات اس نہج تک نہیں پہنچنے دے گی ۔۔
صدر : ڈاکٹر راشد ورک اینڈ کیبنٹ
وائ ڈی اے میو ہسپتال

Address

King Edward Medical University
Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Yda Mayo Hospital Lahore posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram