YDA Punjab Official

YDA Punjab Official Official Updates and decisions of yda punjab. custodian of Doctor's Rights

https://www.facebook.com/share/p/17k9L56sSn/?mibextid=wwXIfr
27/11/2025

https://www.facebook.com/share/p/17k9L56sSn/?mibextid=wwXIfr

جب جب کسی ظالم کا انجام قریب ھوتا ہے تو وہ پھر اپنی پوری طاقت لگاتا ہے
ایسے ہی جب فرعون کا وقت قریب آیا تھا تو اس نے اپنی پوری طاقت لگا دی تھی لیکن پھر اس کے گھر سے ہی اس ظلم کا اور خود کو خدا کہنے والے کا خاتمہ ہوا ۔

ایسا ہی ایک ظالم اور کرپشن کا بے تاج بادشاہ میو ھسپتال میں بیٹھا ہے اور جب اس کا خاتمہ قریب آ رہا ہے وہ ویسے ویسے پاگل ھوتا جا رہا ہے ۔

کبھی وہ اپنی آفس بلا کر دھمکاتا ہے اور کبھی وہ ایم ایس کی غیر موجودگی میں اس کے آفس سے ایسے نوٹیفکیشن نکلواتا ہے ۔ اور یہ بھی خیال نہی کرتا کہ وہ کس وجہ سے اپنے آفس میں نہی ہے ۔

اور اسکی غیر موجودگی میں اسکے آفس سے ایسی چیزیں نکلوانا اس کرپشن کنگ کے گھٹیا پن کی آخری حد ہے ۔

اور اسکی بزدلی کی سب سے بڑی مثال ہے ۔
ڈاکٹر کیمونٹی اس کرپشن کنگ کے لیول کا اندازہ اس بات سے لگا سکتا ہے ۔

لیکن ھم بتاتے چلیں کہ واۓ ڈی اے میو ایسے نوٹیفکیشن سے ڈرنے والی نہی اور کرپشن کےثبوت سامنے لاتی رہے گی ۔

وائے ڈی اےُمیو سی ایم صاحبہ کے مشن کو تباہ کرنے کی ہر کوشش کو ایکسپوز کرےگی ۔ اور سی ایم آفس ، گورنر ہاوس اور پی ایم پورٹل پہ بھی اس کی کرپشن کےثبوت پہنچائےگی ۔

وائی ڈی اے پنجاب کے صدر ڈاکٹر شعیب نیازی، چیئرمین ڈاکٹر مدثر نواز اشرفی اور جنرل سیکرٹری ڈاکٹر حسیب تھند نے سنٹرل انڈکشن...
27/11/2025

وائی ڈی اے پنجاب کے صدر ڈاکٹر شعیب نیازی، چیئرمین ڈاکٹر مدثر نواز اشرفی اور جنرل سیکرٹری ڈاکٹر حسیب تھند نے سنٹرل انڈکشن پالیسی (CIP) میں ہونے والی حالیہ ترامیم کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تبدیلیاں سرکاری گریجوئیٹس کے لیے ایک مثبت پیشرفت ہیں اور میرٹ سسٹم کو زیادہ واضح، شفاف اور تعلیمی بنیادوں پر استوار کرتی ہیں۔ نئی پالیسی نے کئی اہم نکات کو بہتر کیا ہے، جن میں MDCAT کے 2 پوائنٹس، MBBS وزن میں 15 پوائنٹس کی کمی، UHS پوزیشن ہولڈرز کے لیے 3 پوائنٹس، ہاؤس جاب کے لیے 5 اور 2.5 پوائنٹس، اور FCPS کوششوں کے لیے 5، 4 اور 3 پوائنٹس شامل ہیں۔ ان ترامیم سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت نے نوجوان ڈاکٹروں کے اہم تحفظات کو سنجیدگی کے ساتھ سنا اور میرٹ فارمولا زیادہ متوازن بنانے کی کوشش کی۔

وائی ڈی اے پنجاب نے اس پیشرفت پر تمام سرکاری گریجوئیٹس کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تبدیلیاں اُن ہزاروں طلبہ کے حوصلے کی بھی جیت ہیں جنہوں نے ملک کے سب سے مشکل امتحانی نظام کے ذریعے سرکاری میڈیکل کالجوں میں داخلہ لیا اور بعد ازاں سرکاری اسپتالوں میں مشکل ترین حالات کے باوجود خدمات انجام دیں۔ اب ان نوجوان ڈاکٹروں کو پوسٹ گریجوئیٹ ٹریننگ کے لیے زیادہ منصفانہ مواقع میسر آئیں گے۔

پریس ریلیز میں وائی ڈی اے پنجاب نے اس اہم نکتے پر بھی زور دیا کہ پالیسی میں بار بار تبدیلیاں ڈاکٹرز کے مستقبل پر منفی اثر ڈالتی ہیں، اس لیے سنٹرل انڈکشن پالیسی کو کم از کم تین سے چار سال تک مستقل رکھا جائے تاکہ نوجوان ڈاکٹرز اپنی تیاری اور ترجیحات کے حوالے سے پُراعتماد منصوبہ بندی کر سکیں۔ پالیسی کا استحکام پورے نظام کی مضبوطی کے لیے بنیادی شرط ہے۔

وائی ڈی اے پنجاب کی قیادت نے اس موقع پر نہایت خصوصی طور پر صدر وائی ڈی اے میو اسپتال لاہور ڈاکٹر احمد کمال گجر کی خدمات کو سراہا جنہوں نے مشکل حالات میں بھی بہادری، ثابت قدمی اور مسلسل سرگرمی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے نوجوان ڈاکٹروں کو آواز دینے کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم مہیا کیا اور ہر مرحلے پر پیشہ وارانہ وابستگی کے ساتھ ساتھ متحد رہنے کی مثال قائم کی۔

ساتھ ہی وائی ڈی اے پنجاب نے صوبے بھر کے سینئر وائسز اور تنظیمی نمائندگان کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس عمل میں بھرپور ساتھ دیا، جن میں ڈاکٹر عارف عزیز (صدر وائی ڈی اے بینظیر بھٹو اسپتال راولپنڈی)، ڈاکٹر حسن کاٹھیا (صدر وائی ڈی اے شیخ زید ہسپتال لاہور)،ڈاکٹر ندیم قیصرانی، ڈاکٹر سلمان (صدر وائی ڈی اے ملتان)، ڈاکٹر سلیم نیازی، ڈاکٹر احمد یار، ڈاکٹر ارسلان رضا (صدر وائی ڈی اے PIC)، ڈاکٹر جنید (صدر وائی ڈی اے بہاولپور)، ڈاکٹر آغا شہزاد، ڈاکٹر ابرار احمد (صدر وائی ڈی اے ڈی جی خان), ڈاکٹر عدنان اقبال، ڈاکٹر وسیم، ڈاکٹر حمزہ نزیر ( صدر وائی ڈی اے جناح ہسپتال)، ڈاکٹر زیشان لشاری( صدر وائی ڈی اے سروسز ہسپتال لاہور)، ڈاکٹر ارسلان مرزا ڈاکٹر عثمان گجر (صدر وائی ڈی اے سر گنگارام ہسپتال) ڈاکٹر طاہر بدرون، ڈاکٹر شہریار، ڈاکٹر فخر سیال، ڈاکٹر امتیاز (صدر وائی ڈی اے شیخ زید رحیم یار خان) سمیت بے شمار وہ ساتھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی اپنی سطح پر کردار ادا کیا اور ڈاکٹر برادری کو متحد رکھنے میں اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔

آخر میں وائی ڈی اے پنجاب نے اعلان کیا کہ جلد ہی پریفری میں کام کرنے والے ڈاکٹرز کے لیے تجربہ مارکس دوبارہ شامل کروانے اور ان کی خدمات کا باقاعدہ اعتراف کروانے کے لیے بھرپور کاوشیں کی جائیں گی۔ اس مقصد کے لیے وائی ڈی اے پنجاب بہت جلد اربابِ اختیار سے ملاقاتیں کرے گی اور پالیسی سطح پر ٹھوس تجاویز پیش کرے گی۔ وائی ڈی اے نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان ڈاکٹروں کے حقوق، عزت اور مستقبل کے لیے ہر سطح پر مؤثر نمائندگی جاری رہے گی

وائی ڈی اے پنجاب کے صدر ڈاکٹر شعیب نیازی، چیئرمین ڈاکٹر مدثر نواز اشرفی اور جنرل سیکرٹری ڈاکٹر حسیب تھند نے سنٹرل انڈکشن...
26/11/2025

وائی ڈی اے پنجاب کے صدر ڈاکٹر شعیب نیازی، چیئرمین ڈاکٹر مدثر نواز اشرفی اور جنرل سیکرٹری ڈاکٹر حسیب تھند نے سنٹرل انڈکشن پالیسی (CIP) میں کی گئی حالیہ ترامیم کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تبدیلیاں نہ صرف سرکاری گریجوئیٹس کی دیرینہ درخواستوں کو تسلیم کرتی ہیں بلکہ میرٹ سسٹم کو زیادہ واضح، شفاف اور قابلِ اعتماد بنانے کی طرف ایک اہم قدم بھی ہیں۔ وائی ڈی اے قیادت نے کہا کہ اس فیصلے سے نوجوان ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعداد کو حوصلہ ملا ہے جو پچھلے چند ہفتوں سے شدید بے چینی کا شکار تھے۔

نئی پالیسی میں MDCAT کے 2 پوائنٹس کا اضافہ، MBBS وزن میں 15 پوائنٹس کی کمی، UHS پوزیشن ہولڈرز کے لیے 3 پوائنٹس، ہاؤس جاب کے لیے 5 اور 2.5 پوائنٹس، اور FCPS کوششوں کے لیے 5، 4 اور 3 پوائنٹس جیسے اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پالیسی میں پہلے موجود بے توازنیاں دور کی گئی ہیں اور ایک ایسا اسٹرکچر بنایا گیا ہے جس میں محنت، کارکردگی اور ادارہ جاتی وابستگی کو بہتر طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ وائی ڈی اے پنجاب نے کہا کہ یہ تبدیلیاں اس بات کی علامت ہیں کہ حکومت نے زمینی حقائق اور نوجوان ڈاکٹروں کے جائز تحفظات کو سنجیدگی سے لیا ہے۔

وائی ڈی اے پنجاب نے تمام سرکاری گریجوئیٹس کو اس مثبت پیشرفت پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلیاں اُن ہزاروں طلبہ کے حوصلے کی بھی جیت ہیں جنہوں نے سرکاری میڈیکل کالجوں میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے سخت ترین امتحانی مقابلے عبور کیے اور بعد ازاں سرکاری اسپتالوں میں محدود وسائل کے باوجود دن رات خدمات انجام دیں۔ اس پالیسی کے بعد ان ڈاکٹروں کے لیے ٹریننگ میں مناسب اور منصفانہ مواقع مزید بہتر ہوں گے۔

ساتھ ہی وائی ڈی اے پنجاب نے ایک اہم اصولی نکتہ بھی اٹھایا کہ پالیسی میں بار بار تبدیلیاں نوجوان ڈاکٹروں کے لیے شدید غیر یقینی پیدا کرتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ سنٹرل انڈکشن پالیسی کو کم از کم تین سے چار سال کے لیے مستقل رکھا جائے تاکہ طلبہ اور ڈاکٹرز اپنے مستقبل، تیاری اور پوسٹ گریجوئیٹ ترجیحات کی منصوبہ بندی اعتماد کے ساتھ کر سکیں۔ پالیسی کا استحکام پورے نظام کو مضبوط کرنے کے لیے بنیادی شرط ہے۔

وائی ڈی اے پنجاب کی قیادت نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ آئندہ بھی پالیسی سازی میں ڈاکٹروں کے حقیقی مسائل، ان کے کام کی نوعیت، سرکاری اسپتالوں کے حالات، اور میرٹ کی شفافیت کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وائی ڈی اے پنجاب ڈاکٹر برادری کے حقوق، عزت اور کیریئر کے تحفظ کے لیے ہمیشہ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری نبھاتی رہے گی، اور ہر مثبت قدم کا خیر مقدم کرے گی جو نوجوان ڈاکٹروں کے مستقبل کو مضبوط بنائے

مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ
وائی ڈی اے پنجاب

میو ہسپتال لاہور میں وائی ڈی اے پنجاب کی مرکزی و جنرل کونسل کی جانب سے پریس کانفرنس کی گئی جس میں ڈاکٹر شعیب نیازی نے کہ...
21/11/2025

میو ہسپتال لاہور میں وائی ڈی اے پنجاب کی مرکزی و جنرل کونسل کی جانب سے پریس کانفرنس کی گئی جس میں ڈاکٹر شعیب نیازی نے کہا کہ جنوری 2026 کی سنٹرل انڈکشن پالیسی کو ہم مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ ہر چھ ماہ بعد پالیسی بدل دینا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نظام چند مخصوص لوگوں کے فائدے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ پہلے میرٹ بیسڈ پالیسی جاری کی جاتی ہے لیکن انڈکشن قریب آتے ہی اچانک نئی پالیسی نافذ کر دی جاتی ہے، جس سے لوکل، سرکاری، پرائیویٹ اور فارن تمام گریجوئیٹس متاثر ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ گریجوئیٹ ٹریننگ کی سیٹیں بڑھائی جائیں تاکہ نہ صرف میرٹ کے مسائل کم ہوں بلکہ بے روزگار ینگ ڈاکٹرز کو ٹریننگ کے مواقع مل سکیں، جبکہ دوسری طرف اتائیت کا راستہ بھی بند ہو۔

چیئرمین وائی ڈی اے پنجاب ڈاکٹر مدثر اشرفی نے کہا کہ جب تک پالیسی سازی میں شفافیت نہیں آئے گی اور فیصلے مستقل بنیادوں پر نہیں ہوں گے، نوجوان ڈاکٹرز ہمیشہ غیر یقینی کا شکار رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور ہیلتھ ڈپارٹمنٹ پی ایم ڈی سی کی یارڈ اسٹک کے مطابق زیادہ سے زیادہ ٹریننگ سینٹرز کو ایکریڈیٹ کرے اور سی پی ایس پی اپنے سپروائزرز کی تعداد میں اضافہ کرے تاکہ ٹریننگ کے مواقع وسیع ہوں اور حقیقی میرٹ قائم ہو سکے۔

پریس کانفرنس میں میو ہسپتال کے اندر ہونے والی کرپشن اور انتظامی بے ضابطگیوں پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ وائے ڈی اے پنجاب میڈیم سی ایم اور ھیلتھ سیکرٹری سے درخواست کرتی ہے کہ سی ای او میو ھسپتال کو عہدے سے فوری ھٹایا جائے اور ان کے خلاف کیسز کی شفاف انکوائری کروائی جائے ر ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ جب اندرونی سطح پر شفافییت نہی یںہوگی تو باہر کی کوئی بھی پالیسی فائدہ نہیں دے سکتی۔

مرکزی نمائندگان ڈاکٹر راشد وِرک، ڈاکٹر سلیم نیازی, ڈاکٹر ارسلان رضا، ڈاکٹر حسن کاٹھیا، ڈاکٹر حمزہ نذیر, ڈاکٹر احمد کمال گجر, ڈاکٹر عثمان گجر, ڈاکٹر ذیشان لشاری ، ڈاکٹر شہریار، ڈاکٹر طاہر بدرون، ڈاکٹر شاہ زمان اور متعدد دیگر صدور نے مطالبہ کیا کہ سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی مستقل فراہمی یقینی بنائی جائے، مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے والے جونیئر ڈاکٹرز کو تنخواہیں باقاعدگی سے ادا کی جائیں، اور موجودہ حالات میں پوسٹ گریجوئیٹ ٹرینی ڈاکٹروں کے لیے ریلیف پیکیج اور وظیفے میں اضافہ ناگزیر ہے۔

ڈاکٹرز نے متفقہ طور پر کہا کہ بار بار بدلتی پالیسیاں، کرپشن اور ٹریننگ سیٹوں کی کمی نے پورے ہیلتھ سسٹم کو کمزور کیا ہے۔ اس وقت واحد حل ایک شفاف، مستقل اور سب کے لیے برابر موقع دینے والا نظام ہے

مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ
وائی ڈی اے پنجاب

19/11/2025



برائے میڈیا پرسنز

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کل *جمعرات، دوپہر 12* بجے *میو اسپتال لاہور* میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کر رہی ہے۔

اس پریس کانفرنس میں
سنٹرل انڈکشن پالیسی کی نئی جاری شدہ پالیسی
اور دیگر اہم معاملات پر
وائے ڈی اے اپنا مؤقف برموقع پیش کرے گی۔

میڈیا نمائندگان سے گزارش ہے کہ وقت پر شرکت یقینی بنائیں۔

رابطہ برائے مزید معلومات:
ڈاکٹر احمد کمال گجر
صدر، وائے ڈی اے میو اسپتال لاہور
فون: 0305 4886889

پریس ریلیز — YDA پنجابینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر ڈاکٹر شعیب نیازی، چیئرمین ڈاکٹر مدثر اشرفی، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر...
17/11/2025

پریس ریلیز — YDA پنجاب

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر ڈاکٹر شعیب نیازی، چیئرمین ڈاکٹر مدثر اشرفی، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر حسیب تھند اور مرکزی و جنرل کونسل نے حکومتِ پنجاب اور اسپیشلائزڈ ہیلتھ کی جانب سے جاری کردہ Central Induction Policy January 2026 کو شدید تشویش، گہری مایوسی اور مکمل عدم اعتماد کے ساتھ یکسر مسترد کر دیا ہے۔
وائی ڈی اے پنجاب کے مطابق یہ پالیسی اپنی موجودہ صورت میں غیر منطقی، غیر منصفانہ اور ڈاکٹر برادری کے حقوق، کیریئر اسٹرکچر اور پوسٹ گریجوئیٹ ٹریننگ کے پورے نظام پر براہِ راست حملہ ہے۔ اچانک نفاذ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ پالیسی سازی کے بنیادی تقاضوں — مشاورت، شفافیت اور زمینی حقائق — کو یکسر نظرانداز کیا گیا۔

وائی ڈی اے پنجاب نے اس بات پر بھی شدید اعتراض اٹھایا کہ راتوں رات پالیسی تبدیل کرنا اور صرف ایک ماہ بعد اسے نافذ کر دینا کسی بھی قانونی، انتظامی یا اصولی ضابطے میں نہیں آتا۔ دنیا بھر میں اصول یہ ہے کہ کسی بھی پالیسی پر عملدرآمد سے پہلے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے، ایک واضح ٹائم لائن دی جائے، اور ایک یکساں (uniform) پالیسی وضع کی جائے۔ اگر موجودہ پالیسی میں کوئی تبدیلی درکار تھی، تو اسے متعلقہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ڈسکس کیا جاتا، اور پھر انہیں پیشگی اور بروقت اطلاع دی جاتی کہ — “آج سے دو سال بعد یا تین سال بعد یہ نئی پالیسی نافذ ہو گی۔” اس طرح کا پری انفارمڈ، ساختہ طریقہ ہی کسی بھی نظام کو مضبوط اور شفاف بناتا ہے۔

صدر ڈاکٹر شعیب خان نیازی نے واضح کیا کہ تجربہ مارکس کا مکمل خاتمہ, وہ بھی بغیر کسی ٹرانزیشن پیریڈ کے, پورے سروس اسٹرکچر اور ادارہ جاتی ہائرارکی کو غیر مستحکم کرنے والا فیصلہ ہے۔ وہ ڈاکٹرز جنہوں نے موجودہ پالیسی پر اعتماد کرتے ہوئے BHUs، RHCs، THQs، DHQs، PESSI، Jail Hospitals اور دیگر اداروں میں انتہائی مشکل حالات میں خدمات انجام دیں، آج خود کو شدید دھوکا دیا گیا محسوس کر رہے ہیں۔ اس اچانک تبدیلی نے ان کی برسوں کی محنت، سروس اور قربانیوں کو عملاً بے قیمت بنا دیا ہے، جو نہ انتظامی اصولوں کے مطابق ہے اور نہ اخلاقی معیار کے۔

وائی ڈی اے پنجاب کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کسی بھی نئی پالیسی کے نفاذ کے لیے مرحلہ وار عملدرآمد، واضح ٹائم لائن اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے براہِ راست مشاورت بنیادی تقاضے ہیں۔ لیکن موجودہ فیصلہ “عدم مشاورت، بدانتظامی اور غیر ذمہ دارانہ حکمتِ عملی” کی واضح مثال ہے۔ ایسے اقدامات اداروں میں بے اعتمادی پیدا کرتے ہیں اور پورے ہیلتھ کیئر نظام کو عدم استحکام کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔

تنظیمی عہدیداران نے کہا کہ یہ پالیسی نہ سرکاری گریجوئیٹس کے لیے قابلِ قبول ہے، نہ پرائیویٹ گریجوئیٹس اس کو مانتے ہیں، اور نہ ہی وہ ڈاکٹرز جو مستقبل میں پوسٹ گریجوئیٹ ٹریننگ کے خواہشمند ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ پالیسی پوری میڈیکل کمیونٹی کے لیے غیر واضح، غیر منصفانہ اور نقصان دہ ہے، جس کے نتیجے میں صوبے بھر میں بے چینی، اضطراب اور نظام پر عدم اعتماد بڑھ رہا ہے۔

آخر میں، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب نے اس پالیسی کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ:
• حکومت فوری طور پر اس غیر منصفانہ فیصلے پر نظرثانی کرے
• تجربہ مارکس فوری بحال کیے جائیں
• اور کسی بھی نئی پالیسی کے لیے واضح ٹائم لائن، مشاورت اور ٹرانزیشن اسٹرکچر فراہم کیا جائے

اگر حکومت نے ڈاکٹر برادری کے اس جائز مطالبے کو نظرانداز کیا تو YDA پنجاب صوبے بھر کے ڈاکٹروں سے مشاورت کے بعد اپنا آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرے گی، جس کی مکمل ذمہ داری محکمہ صحت پنجاب پر عائد ہو گی۔



متحد رہیں
مضبوط رہیں
وائ ڈی اے پنجاب

13/11/2025

صدر وائی ڈی اے پنجاب ڈاکٹر شعیب خان نیازی کی سالگرہ کی تقریب

صدر وائی ڈی اے پنجاب ڈاکٹر شعیب خان نیازی کی سالگرہ کی تقریب گنگا رام اسپتال میں منعقد ہوئی۔
تقریب میں ڈاکٹر عاطف مجید (صدر وائی ڈی اے پاکستان)، ڈاکٹر حسیب تھند (جنرل سیکریٹری وائی ڈی اے پنجاب)، ڈاکٹر ارسلان رضا (صدر وائی ڈی اے پی آئی سی)، ڈاکٹر عثمان گجر (صدر وائی ڈی اے گنگا رام اسپتال)ڈاکٹر احمد یار (صدر وائی ڈی اے چلڈرن اسپتال لاہور)،، ڈاکٹر شہریار اور ڈاکٹر فہد میرانی (جنرل اسپتال/پنز لاہور ) ،ڈاکٹر ظفر اور ڈاکٹر عثمان لوڑکا نے خصوصی شرکت کی۔

تقریب خوشگوار ماحول میں منعقد ہوئی، کیک کاٹا گیا اور تمام شرکاء نے ڈاکٹر شعیب خان نیازی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

متحد رہیں، مضبوط رہیں
وائی ڈی اے پنجاب

https://www.facebook.com/share/p/1HK15rqeRH/?mibextid=wwXIfr
06/11/2025

https://www.facebook.com/share/p/1HK15rqeRH/?mibextid=wwXIfr

پریس ریلیز :

وائے ڈی اے میو وزیراعلئ اور منسٹر ھیلتھ سے گزارش کرتی ہے کہ پروموٹ ھونے والے پروفیسر کی آن لائن حاضری کا ٹائم چیک کیا جائے ۔ کہ وہ ہاسپٹل کب آتے ہیں اور کب واپس نکل جاتے ہیں۔

یہ پروفیسر صاحب ایسے انسان ہیں کہ وہ 1 بج جائے تو سب چھوڑ کر نکل جاتے ہیں ۔

کیونکہ ان کی پرائویٹ پریکٹس کا ٹائم ضائع ہو رہا ھوتا ہے ۔
پھر بیشک مریض کا کچھ بھی ہو جائے۔


حالانکہ سی ایم صاحبہ نے او پی ڈی کا ٹائم 3 بجے تک کیا ہوا ہے ۔

ھیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو اس پرانکوائری کرنی چاہیے ۔

منجانب :

وائے ڈی اے میو

پریس ریلیز      :آیئں آج آپ کو میو ھسپتال کے ایک ایسے وارڈ کی کہانی سناتے ہیں ۔ جو کہ 2017 تک پھلتا پھولتا رہا ۔ اور  پو...
02/11/2025

پریس ریلیز :

آیئں آج آپ کو میو ھسپتال کے ایک ایسے وارڈ کی کہانی سناتے ہیں ۔ جو کہ 2017 تک پھلتا پھولتا رہا ۔ اور پورے پنجاب میں اسکا ڈنکا بجتا رہا ۔ اور پھر اچانک دل و جان سے کام کرنے والے پروفیسرز ریٹائر ہوئے اور وہ وارڈ بھی دہرام سے زمیں بوس ھو گیا ۔

وہ کڈنی ٹرانسپلانٹ کا سب سے بڑا اور مشہور گورنمنٹ ھسپتال جو کہ لاکھوں ، کڑوروں مریضوں کی امید اور پنجاب گورنمنٹ کے ماتھے کا جھومر تھا ۔
پروفیسر کے ریٹائر ھونے کے بعد ٹرانسپلانٹ بند ھو گیا ۔

جب وائس چانسلر صاحب اور وارڈ کے کچھ لوگوں نے دوبارہ مریضوں کی امید اور مریم نواز صاحبہ کے ھیلتھ فار آل کے وزن کو پورا کرنے کے کوشش کی تو نومولود پروفیسرز جن کو ٹرانسپلانٹ آنا تو دور کی بات ، انہوں نے شاید کبھی دیکھا ہی نہ ہو۔ انہوں نے اپنا پورا زور لگا کر اس کام کو بند کر دیا ۔ اور جن کو ٹرانسپلانٹ آتا تھا ۔ ان کو ٹرانسفر کروا دیا گیا ۔
اور باقی جونئیرز کو ڈرا دھمکا کر چپ کروا دیا گیا ۔

ھماری سیکڑٹری ھیلتھ ، منسٹر ھیلتھ اور سی ایم صاحبہ سے اپیل ہے کہ ایسے پروفیسرز کو پروموٹ کرنے سے پہلے ان کے کام کو چیک کیا جائے اور ایسے لوگوں کو نکالا جائے جنہوں نے پنجاب گورنمنٹ کے ماتھے کے جھومر اور غریب مریضوں کہ حقوق کو چھینا اور ٹرانسپلانٹ نہ ہونے دیا ۔

میو ھسپتال جو کہ ایشیا کا سب سے بڑا ھسپتال ہے یہاں پر گردہ ، مثانہ وارڈز میں ایسے پروفیسرز کو لگایا جائے ۔ جن کو کام آتا ہو اور وہ مریضوں اور سی ایم صاحبہ کے وزن کو پورا کریں ۔ اور غریب مریضوں کو ٹرانسپلانٹ کی سہولت میسر آ سکے ۔

منجانب : وائے ڈی اے میو

Address

Lahore
Lahore
54700

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when YDA Punjab Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram