26/03/2026
حال ہی میں ایک نوزائیدہ بچے کو OPD لایا گیا۔ والدین بہت زیادہ پریشان تھے اور ان کا خیال تھا کہ بچے کو مرگی کے جھٹکے پڑ رہے ہیں، کیونکہ نیند کے دوران بچے کے بازوؤں اور ٹانگوں میں بار بار جھٹکے آ رہے تھے۔ جب بچے کا معائنہ کیا گیا تو یہ بات واضح ہوئی کہ یہ حرکات صرف نیند کے دوران ہو رہی تھیں، جیسے ہی بچے کو جگایا گیا تو یہ جھٹکے فوراً ختم ہو گئے، اور بچہ جاگتی حالت میں بالکل نارمل، ہوش میں اور فعال تھا۔ بچے کی عمومی نشوونما، دودھ پینا اور رویہ سب ٹھیک تھا۔ اس پر والدین کو تفصیل سے سمجھایا گیا اور ان کی تشویش دور کی گئی۔
یہ کیفیت جس میں نوزائیدہ بچوں کو صرف نیند کے دوران جھٹکے آتے ہیں، بینائن نیونیٹل سلیپ مائیوکلونس کہلاتی ہے۔ یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ ایک عارضی اور بے ضرر کیفیت ہے جو اکثر زندگی کے ابتدائی ہفتوں یا مہینوں میں نظر آتی ہے اور وقت کے ساتھ خود ہی ختم ہو جاتی ہے۔ یہ دیکھنے میں خوفناک لگ سکتی ہے لیکن اس سے بچے کے دماغ یا مستقبل کی نشوونما کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔
یہ بات بہت اہم ہے کہ والدین خود سے یہ فیصلہ نہ کریں کہ بچے کو جھٹکے نارمل ہیں یا بیماری کی علامت ہیں۔ یہ تحریر صرف آگاہی کے لیے ہے، تشخیص کے لیے نہیں۔ نوزائیدہ بچوں میں کچھ غیر معمولی حرکات واقعی نارمل ہوتی ہیں، لیکن کچھ صورتوں میں یہی حرکات مرگی یا کسی اور اعصابی مسئلے کی علامت بھی ہو سکتی ہیں۔
جب بھی کسی بچے میں غیر معمولی حرکت، جھٹکے یا جسم کی سختی محسوس ہو تو بہتر ہے کہ اس کی ویڈیو بنا لی جائے اور کم از کم ایک مرتبہ ضرور چائلڈ نیورولوجسٹ کو دکھایا جائے، تاکہ یہ تصدیق ہو سکے کہ یہ جھٹکے مرگی کے دورے نہیں ہیں۔ خود سے تشخیص کرنا یا صرف تسلی پر چھوڑ دینا بچے کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
بروقت ماہرِ اطفال یا چائلڈ نیورولوجسٹ سے رجوع والدین کو غیر ضروری خوف، غلط علاج اور بچے کو غیر ضروری دواؤں سے بچا سکتا ہے۔
(ڈاکٹر عثمان رؤف لیاقت پور)