Hakeem M.Khurshid Alam

  • Home
  • Hakeem M.Khurshid Alam

Hakeem M.Khurshid Alam Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Hakeem M.Khurshid Alam, Medical and health, Lodhran, .

نیشنل کونسل فارطب کے زیر انتظام منعقدہ سالانہ امتحانات 2025 اور ضمنی 2024 کے نتائج کا اعلان کردیاگیا۔۔۔۔۔مورخہ 2 فروری ب...
06/02/2026

نیشنل کونسل فارطب کے زیر انتظام منعقدہ سالانہ امتحانات 2025 اور ضمنی 2024 کے نتائج کا اعلان کردیاگیا۔۔۔۔۔
مورخہ 2 فروری بروز پیر نیشنل کونسل فارطب کی امتحانی کمیٹی کے اجلاس میں نیشنل کونسل فارطب کے زیر انتظام منعقدہ سالانہ امتحانات 2025 اور ضمنی امتحانات2024کااعلان کردیاگیاہے۔
مزید برآں سالانہ امتحانات 2026 جون 2026 کے پہلے عشرہ میں منعقد کروانے کا فیصلہ کیاگیاہے۔
جسکی حتمی تاریخ اور شیڈول کا اعلان بعد میں کیاجائیگا۔
حکیم ذوالفقار علی ملک (ترجمان نیشنل کونسل فارطب)

12/01/2026

سردیوں میں انسولین کی حساسیت کم ہو جاتی ہے۔ سرد موسم میں جسم خود کو گرم رکھنے کے لیے زیادہ توانائی استعمال کرتا ہے، جس کے نتیجے میں انسولین اپنا کام مؤثر طریقے سے نہیں کر پاتی۔ اس وجہ سے خون میں شوگر لیول بڑھنے لگتا ہے، حتیٰ کہ وہ افراد بھی جن کی شوگر گرمیوں میں نسبتاً بہتر کنٹرول میں ہوتی ہے، سردیوں میں شوگر کے اتار چڑھاؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

سردیوں میں جسمانی سرگرمی کم ہو جاتی ہے۔ ٹھنڈ کی وجہ سے لوگ چہل قدمی، ورزش یا باہر نکلنے سے کتراتے ہیں۔ جب جسم کم حرکت کرتا ہے تو گلوکوز استعمال نہیں ہو پاتا اور شوگر خون میں جمع ہونے لگتی ہے۔ یہ صورتحال وزن بڑھنے کا سبب بھی بنتی ہے، جو شوگر کنٹرول کے لیے مزید نقصان دہ ہے۔

خوراک میں بھی واضح تبدیلی آتی ہے۔ سردیوں میں زیادہ بھوک لگتی ہے اور عام طور پر گرم، مرغن اور کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذاؤں کا استعمال بڑھ جاتا ہے، جیسے روٹی، چاول، حلوہ، سوپ کے نام پر گاڑھی اور آلو والی ڈشز۔ یہ سب چیزیں شوگر کو تیزی سے بڑھا دیتی ہیں، خاص طور پر اگر مقدار اور وقت کا خیال نہ رکھا جائے۔

پیاس کم لگنے کی وجہ سے پانی کا استعمال کم ہو جاتا ہے۔ جب جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے تو خون گاڑھا ہو جاتا ہے اور شوگر لیول مزید بڑھ سکتا ہے۔ بہت سے مریض سردیوں میں پانی پینا تقریباً بھول جاتے ہیں، جس کا اثر شوگر اور گردوں دونوں پر پڑتا ہے۔

سردیوں میں انفیکشن کا خط_رہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ نزلہ، زکام، فلو اور سینے کے انفیکشن شوگر کے مریضوں میں زیادہ دیر تک رہتے ہیں۔ انفیکشن کے دوران جسم میں اسٹریس ہارمونز بڑھ جاتے ہیں، جو شوگر کو اوپر لے جاتے ہیں، چاہے مریض اپنی خوراک اور دوائیں باقاعدگی سے لے رہا ہو۔

جلد کی خشکی اور پاؤں کے مسائل بھی عام ہو جاتے ہیں۔ شوگر کے مریضوں میں پہلے ہی اعصابی کمزوری اور خون کی روانی متاثر ہو سکتی ہے، سردیوں میں جلد کا زیادہ خشک ہونا پھٹنے، زخم بننے اور انفیکشن کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے، خاص طور پر ایڑیوں اور پاؤں میں۔

کچھ مریضوں میں سردیوں کے دوران صبح کے وقت شوگر زیادہ آنے لگتی ہے۔ اسے ڈان فینامینن کہا جاتا ہے، جس میں رات کے دوران ہارمونز کے اخراج کی وجہ سے صبح فاسٹنگ شوگر بڑھ جاتی ہے۔ سرد موسم اس مسئلے کو مزید نمایاں کر سکتا ہے۔

ان تمام وجوہات کی بنا پر سردیوں میں شوگر کے مریضوں کے لیے معمولی لاپرواہی بھی بڑے مسئلے کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ اس موسم میں خوراک، پانی، حرکت، جلد اور شوگر مانیٹرنگ پر خاص توجہ دینا نہایت ضروری ہوتا ہے تاکہ شوگر کنٹرول میں رہے اور پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔

اپنی رینڈم فاسٹنگ HBA1C کو نارمل رینج کنثرول کرنے کے لیے مناسب غذا استعمال کریں

25/11/2025

حجامہ کے میڈیکل فوائد

1. خون کی صفائی اور زہریلے مادوں کا اخراج

حجامہ میں وینس اور کیپیلریز کے قریب سے پرانا، جمی ہوا یا آکسیجن کم والا خون نکالا جاتا ہے۔

اس سے جسم میں toxins (زہریلے مادے) اور free radicals کم ہوتے ہیں، جو مختلف بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں۔

خون کی viscosity (گاڑھا پن) کم ہو کر circulation بہتر ہو جاتی ہے۔

2. درد میں کمی (Natural Pain Killer Effect)

جدید تحقیق کے مطابق حجامہ کے دوران endorphins (قدرتی درد کم کرنے والے ہارمونز) زیادہ بنتے ہیں۔

اس سے

کمر درد

جوڑوں کا درد

گردن کا درد

migraine (آدھے سر کا درد)
میں خاص آرام ملتا ہے
3. بلڈ پریشر اور دل کی صحت میں بہتری

حجامہ سے blood pressure نارمل کرنے میں مدد ملتی ہے کیونکہ یہ خون کی روانی بہتر اور خون کی گاڑھا پن کم کرتا ہے۔

دل پر اضافی دباؤ کم ہوتا ہے۔

cholesterol لیول کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔

4. مدافعتی نظام (Immunity) مضبوط بنانا

خون میں white blood cells کی سرگرمی بڑھتی ہے۔

immune system کے response کو تیز کر کے بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت بڑھاتا ہے۔

seasonal flu اور infections کے خلاف رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔
5. ہارمونی توازن

ہارمونز کی خرابی سے پیدا ہونے والے مسائل (PCOS، ماہواری کا عدم توازن، مردانہ کمزوری) میں مددگار۔

pituitary gland اور endocrine system پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔

6. جلدی امراض میں فائدہ

psoriasis، eczema اور acne جیسے مسائل میں خون کی صفائی سے بہتری آتی ہے۔

جسم میں circulating inflammatory chemicals کم ہو جاتے ہیں۔

7. ذہنی سکون اور ڈپریشن میں کمی

nervous system پر حجامہ کے پرسکون اثرات سے anxiety، stress اور depression میں کمی ہوتی ہے۔

دماغ کو fresh blood supply ملتی ہے جس سے focus اور memory بہتر ہوتی ہے۔

8. ورزش کرنے والوں اور کھلاڑیوں کے لیے

muscles میں oxygen supply بہتر کر کے stamina بڑھاتا ہے۔

سخت ورزش کے بعد muscles recovery تیز کرتا ہے۔

9. Sugar Level پر اثر

کچھ مطالعات کے مطابق insulin sensitivity بہتر ہوتی ہے۔

blood sugar control میں معاون (خاص طور پر pre-diabetic مریضوں کے لیے)۔

📌 احتیاط:

حجامہ trained شخص سے کرائیں۔

نیشنل کونسل فار طب امتحانات کے دوران کی انسپکشن
22/10/2025

نیشنل کونسل فار طب امتحانات کے دوران کی انسپکشن

12/07/2025

ﺍﯾﮏ ﺳﺠﺪﮦ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮐﺎﯾﺎ ﭘﻠﭧ ﺩﯼ

ﻭﺯﯾﺮ ﺁﺑﺎﺩ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺠﺪ ﻭﺯﯾﺮ ﺧﺎﻥ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮐﺴﯽ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﻮ ﺑﺴﺎﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﻮﺍﺏ ﻭﺯﯾﺮ ﺧﺎﻥ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﺳﮯ ﺷﺎﯾﺪ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﻟﻮﮒ ﺁﮔﺎﮦ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔
ﻧﻮﺍﺏ ﻭﺯﯾﺮ ﺧﺎﻥ ﮐﺎ ﺍﺻﻞ ﻧﺎﻡ ﻋﻠﯿﻢ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﻧﺼﺎﺭﯼ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﭘﻨﺠﺎﺏ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺳﮯ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﻭﺯﯾﺮ ﺁﺑﺎﺩ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﯽ ﻭﺍﻗﻊ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺩﺭﺟﮧ ﮐﮯ ﺣﮑﯿﻢ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺱ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺣﮑﯿﻢ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ ﺟﻦ ﮐﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺏ ﭼﻠﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻭﮦ ﺧﻮﺏ ﺧﻮﺷﺤﺎﻝ ﺗﮭﮯ۔
ﺣﮑﯿﻢ ﻋﻠﯿﻢ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻣﺘﻘﯽ، ﻗﻨﺎﻋﺖ ﭘﺴﻨﺪ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻮﮐﻞ ﻭﺍﻟﮯ ﺻﺎﺑﺮ ﻭ ﺷﺎﮐﺮ ﺁﺩﻣﯽ ﺗﮭﮯ۔ ﺟﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺴﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﺗﻨﮓ ﺩﺳﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﺎﻗﺪﺭﯼ ﭘﺮ ﺟﻠﺘﮯ ﮐﮍﮬﺘﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ۔ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺳﮯ ﻣﻮﻻ ﮐﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﺮ ﺩﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺷﮑﺮ ﮔﺰﺍﺭ ﺑﻨﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﺱ ﺻﻮﺭﺗﺤﺎﻝ ﭘﺮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺷﺎﮐﯽ ﺭﮨﺘﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻟﮍﺗﯽ ﺟﮭﮕﮍﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺘﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺍﺱ ﺣﮑﻤﺖ ﮐﺎ ﺟﻮ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﭼﻮﻟﮩﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺟﻼ ﺳﮑﮯ۔ ﻧﯿﮏ ﺩﻝ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﺟﻮﺍﺑﺎً ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﺍﻟﺠﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺻﺒﺮ ﻭ ﺷﮑﺮ ﮐﯽ ﺗﻠﻘﯿﻦ ﮐﺮﺗﮯ۔ ﺍﭼﮭﮯ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻣﯿﺪ ﺩﻻﺗﮯ ﺟﻮ ﺁﮐﺮ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺩﮮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﺌﯽ ﺩﻧﻮﮞ ﺗﮏ ﭼﻮﻟﮭﺎ ﻧﮧ ﺟﻼ، ﺍﻥ ﮐﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﭘﺮ ﻓﺎﻗﮯ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﻃﻌﻨﮯ ﺩﺭﺍﺯ ﮨﻮﺗﮯ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﺷﺪﯾﺪ ﺁﺯﺭﺩﮔﯽ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﮯ۔ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻧﻤﺎﺯِ ﻋﺸﺎ ﺍﺩﺍ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﻭﮨﯿﮟ ﺭﮎ ﮔﺌﮯ۔ ﻧﻤﺎﺯِ ﺗﮩﺠﺪ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﻭﺿﻮ ﮐﯿﺎ۔ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺳﺠﺪﮦ ﺭﯾﺰ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﮔﮍ ﮔﮍﺍﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ '' ﺑﺎﺭِ ﺍﻟٰﮩﯽ ! ﻣﯿﺮﯼ ﺍﯾﺴﯽ ﻧﺎﻗﺪﺭﯼ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﺭﮨﯽ ﮨﮯ؟ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﻗﺪﺭ ﻧﺎﺷﻨﺎﺳﯽ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﮞ ... ؟ '' ﻧﻤﺎﺯ ﻓﺠﺮ ﺗﮏ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺭﻭﺗﮯ ﮔﮍﮔﮍﺍﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﻭ ﮐﺮﻡ ﮐﯽ ﺑﮭﯿﮏ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﺭﮨﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﺠﺪﮦ ﺳﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺳﺠﺪﮮ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯿﮓ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﺡ ﮐﺎ ﺭﻭﺣﺎﻧﯽ ﺳﮑﻮﻥ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻧﻤﺎﺯﯼ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﻤﺎﺯِ ﻓﺠﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﺁﮔﺌﮯ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺳﻮﻟﻮﮞ ﭘﮭﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻄﺐ ﮐﮭﻮﻟﻮﮞ ﮔﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺩﺳﺘﮏ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﺎﮐﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻻ ﺗﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﮐﻮ ﮐﮭﮍﮮ ﭘﺎﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﺎ ﺳﺎﻻﺭ ﺷﺪﯾﺪ ﭘﯿﭧ ﺩﺭﺩ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﮯ ﻭﮦ ﭼﻞ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﮟ۔ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﺳﺎﻻﺭﺩﺭ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺩﺭﺩ ﻗﻮﻟﻨﺞ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺩﻭﺍﺋﯿﺎﮞ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﻟﺸﮑﺮ ﮔﺎﮦ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ۔ ﺳﺎﻻﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﯿﻤﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﭘﮍﺍ ﺑﺮﯼ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﺩﺭﺩ ﺳﮯ ﺗﮍﭖ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻭﺍ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻭﺍﺋﯽ۔ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺳﻨﺒﮭﻠﻨﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﮔﺌﯽ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﺭﺩ ﺟﺎﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺎ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﮐﻮ ﺳﺮﺍﮨﻨﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺷﺮﻓﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺗﮭﯿﻠﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﯼ۔
ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺍﺱ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﻣﻤﻨﻮﻥ ﻭ ﻣﺸﮑﻮﺭ ﻣﺴﺮﻭﺭ ﻭ ﺷﺎﺩﺍﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﮔﺌﮯ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﮨﻞ ﺧﺎﻧﮧ ﮐﻮ ﺗﻤﺎﻡ ﻗﺼﮧ ﺳﻨﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺷﺮﻓﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﮭﯿﻠﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﮔﺎﺅﮞ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﮐﺴﯽ ﺑﮍﮮ ﺷﮩﺮ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔ ﻭﮨﺎﮞ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻄﺐ ﮐﮭﻮﻝ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﺧﻮﺏ ﭼﻞ ﻧﮑﻞ ﻟﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺗﺠﻮﯾﺰ ﮐﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﯿﺎ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﯾﮧ ﻃﮯ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﭼﻨﺪﺩﻧﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺭﺧﺖ ﺳﻔﺮ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﮐﺴﯽ ﺑﮍﮮ ﺷﮩﺮ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺳﯽ ﺷﺎﻡ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻻﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﻓﻮﺭﺍً ﺍﭘﻨﺎ ﺭﺧﺖ ﺳﻔﺮ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﺩﺍﺭﺍﻟﺤﮑﻮﻣﺖ ﺁﮔﺮﮦ ﭼﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﮨﻞ ﺧﺎﻧﮧ ﻓﻮﺭﺍً ﮨﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻟﺸﮑﺮ ﺳﮯ ﺟﺎ ﻣﻠﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﺁﮔﺮﮦ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﮔﺌﮯ۔ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺑﮭﺮ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﺎﻻﺭ ﮐﯽ ﺩﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﺷﺮﻓﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﮔﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻄﺐ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﻣﻨﺼﻮﺑﮯ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﺭﮨﮯ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺁﮔﺮﮦ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺟﺲ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎﺋﺶ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﮐﺎﻥِ ﺣﮑﻤﺖ ﮐﮭﻮﻝ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺩﮐﺎﻥ ﺭﻓﺘﮧ ﺭﻓﺘﮧ ﺗﺮﻗﯽ ﮐﺮﺗﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺏ ﺭﺣﻤﺖِ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪﯼ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺮﺡ ﺟﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺁﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺣﻀﻮﺭ ﺳﺠﺪﮦ ﺭﯾﺰﯼ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﯾﮧ ﻭ ﺯﺍﺭﯼ ﻧﮯ ﻋﺮﺵِ ﺍﻟٰﮩﯽ ﮐﻮ ﮨﻼ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ! ﺟﻮﻧﮩﯽ ﯾﮧ ﻟﺸﮑﺮ ﺁﮔﺮﮦ ﭘﮩﻨﭽﺎ، ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﻃﻼﻉ ﻣﻠﯽ ﮐﮧ ﻧﻮﺭ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﯿﮕﻢ ﺷﺪﯾﺪ ﻋﺮﻕ ﺍﻟﻨﺴﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮐﺌﯽ ﺩﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﮨﻠﻨﮯ ﺟﻠﻨﮯ ﭼﻠﻨﮯ ﭘﮭﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﻌﺬﻭﺭ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﭘﮍﯼ ﮨﯿﮟ۔ ﺷﺎﮨﯽ ﺍﻃﺒﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﺣﮑﻤﺎ ﮐﯽ ﺩﻭﺍﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﺪﺑﯿﺮﯾﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﺍﻃﻼﻉ ﭘﺎﺗﮯ ﮨﯽ ﻧﻮﻭﺍﺭﺩ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﺎ ﺳﺎﻻﺭ ﺷﮩﻨﺸﺎﮦ ﺟﮩﺎﻧﮕﯿﺮﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺍ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺣﮑﯿﻢ ﻋﻠﯿﻢ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﻧﺼﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﯾﺎ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﻔﺎ ﯾﺎﺑﯽ ﮐﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺳﻨﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﯿﮕﻢ ﮐﮯ ﻋﻼﺝ ﮐﮯ ﺳﻔﺎﺭﺵ ﮐﯽ۔ ﺟﮩﺎﻧﮕﯿﺮ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﻣﻠﮑﮧ ﮐﯽ ﻋﻼﻟﺖ ﭘﺮ ﺑﮯ ﺣﺪ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﻋﻼﺝ ﻣﻌﺎﻟﺠﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﺗﮭﺎ۔ ﻓﻮﺭﺍً ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍ ﮐﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﮑﮧ ﮐﮯ ﻋﻼﺝ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ۔ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻣﻠﮑﮧ ﮐﯽ ﻓﺼﺪ ﮐﮭﻠﻮﺍﺋﯽ، ﻓﺎﺳﺪ ﺧﻮﻥ ﻧﮑﺎﻻ۔ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺍﺩﻭﯾﺎﺕ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺩﯾﮟ، ﻏﺬﺍ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﮨﯿﺰ ﺑﺘﺎﯾﺎ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻗﺪﺭﺕ ﺳﮯ ﭼﻨﺪ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﯿﮕﻢ ﻣﮑﻤﻞ ﺻﺤﺖ ﯾﺎﺏ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﺴﺘﺮ ﺳﮯ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﭘﮭﺮﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ۔ ﺍﺳﯽ ﻣﺴﯿﺤﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﺟﮩﺎﻧﮕﯿﺮ ﻧﮯ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺍﻧﻌﺎﻣﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﺍﻣﺎﺕ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﺑﻠﮑﮧ ﻭﺯﯾﺮ ﺧﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﻘﺐ ﺳﮯ ﺳﺮﻓﺮﺍﺯ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺷﺎﮨﯽ ﻃﺒﯿﺐ ﮐﺎ ﻋﮩﺪﮦ ﺑﮭﯽ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﻨﺞ ﮨﺰﺍﺭﯼ ﻣﻨﺼﺐ، ﺍﯾﮏ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﻣﺤﻞ ﻧﻮﮐﺮ ﭼﺎﮐﺮ ﮨﺎﺗﮭﯽ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﺑﮭﯽ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﮯ۔ ﯾﻮﮞ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﯽ ﺭﯾﻞ ﭘﯿﻞ ﮨﻮﮔﺌﯽ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺟﻮ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﺮ ﺩﻡ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﺣﮑﻤﺖ ﭘﺮ ﻧﺎﻻﮞ ﺗﻨﮓ ﺩﺳﺘﯽ ﭘﺮ ﺷﮑﻮﮦ ﺳﻨﺞ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﺏ ﺑﮍﯼ ﺷﺎﻥ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﻋﯿﺶ ﻭ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﺭﮨﻨﮯ ﻟﮕﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﺎ ﯾﺎ ﭘﻠﭧ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﻋﺠﺰ ﻭ ﺍﻧﮑﺴﺎﺭ، ﺷﮑﺮ ﮔﺰﺍﺭﯼ، ﺗﻘﻮﯼٰ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻨﺪﺍﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺍﻣﻦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﻣﯿﺮﺍﻧﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺁﻟﻮﺩﮔﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﺎ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻧﯿﮑﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﻼﺋﯽ ﮐﮯ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻭﻗﻒ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﻣﺴﺎﺟﺪ، ﻣﺪﺭﺳﮯ، ﺳﺮﺍﺋﯿﮟ، ﺳﮍﮐﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﻞ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﺮﻭﺍﺋﮯ۔ ﺑﯿﻮﺍﺅﮞ ﺍﻭﺭ ﯾﺘﺎﻣﯽٰ ﮐﮯ ﻭﻇﺎﺋﻒ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯿﮯ۔ ﻧﯿﮑﯽ ﮐﮯ ﮨﺮ ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮭﻠﮯ ﺭﮨﮯ۔
ﭘﮭﺮ ﺟﮩﺎﻧﮕﯿﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺷﺎﮦ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﺨﺖ ﺁﮔﺮﮦ ﭘﺮ ﺭﻭﻧﻖ ﺍﻓﺮﺯ ﮨﻮﺍ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻗﺪﺭ ﺍﻓﺰﺍﺋﯽ ﮐﯽ۔ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮨﻔﺖ ﮨﺰﺍﺭﯼ ﻣﻨﺼﺐ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﮔﯿﺮ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ۔ ﺍﺏ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺷﺎﻥ ﻭ ﺷﻮﮐﺖ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﻭﻓﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﺍﺗﻨﮯ ﺑﻠﻨﺪ ﻣﻘﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﯽ ﺭﯾﻞ ﭘﯿﻞ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﺑﮭﻮﻟﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﺳﺘﻮﺭ ﻧﯿﮑﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﻼﺋﯽ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﺎﺅﮞ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﻭﺯﯾﺮ ﺁﺑﺎﺩ ﺷﮩﺮ ﺁﺑﺎﺩ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺠﺪ ﻭﺯﯾﺮ ﺧﺎﻥ ﺟﯿﺴﯽ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﭘﺮ ﺷﮑﻮﮦ ﻣﺴﺠﺪ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﺮﻭﺍﺋﯽ۔ ﻭﮦ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻧﯿﮑﯽ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﮨﺸﯿﮟ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﮈﺍﻟﺘﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺑﻼﻭﺍ ﺁﮔﯿﺎ۔مزید پوسٹوں کے لیے فالو کرے۔
ﯾﮧ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﭽﮯ ﺳﺠﺪﮮ ﮐﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ۔
یا رب تو ہمیں ایسے سجدے عطا فرما اور قبول فرما آمین
تاریخی دستاویزات اور اسلامی تاریخ

*نیشنل کونسل فارطب کے زیرِ انتظام لیئے گئے امتحانات 2024 کے نتائج کا اعلان کردیا گیا۔*چیئرپرسن امتحانی کمیٹی نیشنل کونسل...
30/06/2025

*نیشنل کونسل فارطب کے زیرِ انتظام لیئے گئے امتحانات 2024 کے نتائج کا اعلان کردیا گیا۔*
چیئرپرسن امتحانی کمیٹی نیشنل کونسل فارطب محترمہ ڈاکٹر شافعہ ارشد کی زیر صدارت امتحانی کمیٹی کے اجلاس میں ضروری امور اور جانچ پڑتال کے بعد امتحانات 2024 کے نتائج جاری کر دیئے گئے ۔نیز سالانہ امتحانات 2025کے انعقاد کیلیئے 6اکتوبر 2025 کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں اراکین امتحانی کمیٹی جناب حکیم محمد خورشید عالم،محترمہ طبیبہ اسماء نوازش وڑائچ،جناب ڈاکٹر حکیم عطاء اللہ،جناب ڈاکٹر رضوان آصف،جناب حکیم معین الدین، جناب حکیم اکرام اللّٰہ اور کنٹرولر امتحانات نیشنل کونسل فارطب جناب سیاب مشتاق نے شرکت کی۔
حکیم ذوالفقار علی ملک ( ترجمان نیشنل کونسل فارطب)

کھتری اور طبیب    ۔   ایک کھتری بیمار ھوگیا اور اسکا پیشاب رک گیا پہلے وہ خود ٹوٹکے آزماتا رہا مگر جب تکلیف بڑھتی گئی تو...
22/05/2025

کھتری اور طبیب
۔
ایک کھتری بیمار ھوگیا اور اسکا پیشاب رک گیا پہلے وہ خود ٹوٹکے آزماتا رہا مگر جب تکلیف بڑھتی گئی تو مجبور ھوکر وہ قریبی سستے طبیب سے دوا لینا لگا آخر نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ پیٹ پھول گیا اور تکلیف شدید ھوگئ تو اس نے اپنے منشی سے کیا کہ کچھ کرو میں مر رہا ھوں ۔
منشی نے کیا جناب زندگی سے پیاری کیا چیز ھے اگر آپ کہیں تو میں کسی قابل طبیب کا معلوم کروں ؟؟
کھتری نے کہا ہاں مگر خیال کرنا زیادہ مہنگا طبیب نہ ھو
دوسرے دن منشی نے کہا کہ جناب دوسرے شہر میں ایک طبیب ھے مگر وہ ہزار روپے لیتا ھے تو کھتری خاموش ھوگیا اور دو دن مذید گزر گئے اور اب درد برداشت سے باہر ھو گیا موت سر پہ منڈلانے لگی تو کھتری نے منشی سے کہا جاو اس طبیب کو لے آو۔
طبیب آگیا جب اس نے دیکھا تو کہا جلدی سے خربوزے کے چھلکے لے آو اور کونڈی ڈنڈا بھی لے آو ۔
کھتری کے ملازم سب کچھ لے آئے تو طبیب نے کیا ان میں ایک گلاس پانی ڈالکر رگڑائی کریں۔
مختصر یہ کہ گھوٹا بنا کر کھتری کو پلایا تو کچھ ہی دیر میں کھتری کو کھل کر پیشاب آیا اور سکھ کا سانس لیا ۔
طبیب نے کہا جناب مجھے پیسے دیں تاکہ اب میں جاوں تو کھتری نے پانچ سو دیئے تو طبیب نے کہا کہ جناب میری فیس ہزار روپے ھے تب کھتری بولا ارے واہ خربوزے کے چھلکے بھی ہمارے اور رگڑائی بھی میرے نوکر نے کی تو تمھیں کس بات کے پیسے دیں؟؟؟
طبیب ناراض ھوکر چلا گیا اور کھتری نے منشی کی خوب دھلائی کی کہ تم میرا نقصان کرنے پہ لگے ھو۔
کچھ ماہ گزرے تو کھتری کو پھر تکلیف ھوگئی اور کھتری نے سوچا کہ اب تو نسخہ وہ خود جانتا ھے اسلیئے اب طبیب کی کیا ضرورت اور اس نے ویسے ہی خربوزے کے چھلکے منگوائے اور گھوٹا بنا کر پی لیا ۔
کچھ دیر گزری تو طبیعت بہت زیادہ بگڑ گئی پھر قریبی اور سستے طبیب کو بلایا مگر اس نے علاج سے معذرت کر لی اور کہا کہ جتنا جلدی ھو سکے کسی اچھے طبیب سے علاج کروائیں۔
کھتری مرتا کیا نہ کرتا پھر منشی سے کہا کہ اسی طبیب کو بلا لائیں اور جب منشی طبیب کے پاس گیا تو اس نے صاف انکار کر دیا ، پھر منشی کی منت سماجت پر اس نے کہا کہ میں اب ہزار روپے لونگا اور پہلے والا پانچ سو بھی لونگا تو منشی نے حامی بھر لی اور مریض کے پاس پہنچ گئے ۔
طبیب نے کہا ٹھیک ھے میں علاج کر دیتا ھوں مگر پہلے مجھے پیسے دیں لہذا اسکو جب پیسے دیئے تو اس نے کہا کہ خربوزے کے چھلکے لے آو۔۔۔۔
یہ سن کر کھتری بولا یہ تو میں لے چکا ھوں تب طبیب کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی اور اس نے خاموش رہنے کا اشارہ کیا ۔
خربوزے کے چھلکے اگئے تو طبیب نے کہا کہ انکا قہوہ تیار کریں، قہوہ تیار ھوا مریض کو دیا تو مریض کچھ دیر میں پھر ٹھیک ھوگیا ۔
کھتری بہت پریشان ھوا اور طبیب سے پوچھا کہ پہلے تم نے گھوٹا بنایا تھا اور اب قہوہ کیوں ؟
طبیب نے کہا جناب اس وقت گرمیاں تھیں اسلیئے گھوٹا مفید تھا اور اب سردیوں کا موسم ھے اسلیئے قہوہ مفید ھے ۔
احباب امید ھے سمجھ گئے ھونگے اور جو نہیں سمجھے تو وہ بھی کبھی نہ کبھی سمجھ جائیں گے ۔

اکثر آپ نے دیکھا ہو گا کہ کسی تقریب میں جہاں پہلے صرف کوکا کولا یا پیپسی، اور سیون-اپ یا سپرائٹ جیسے ڈرنکس پڑے ہوتے تھے۔...
22/05/2025

اکثر آپ نے دیکھا ہو گا کہ کسی تقریب میں جہاں پہلے صرف کوکا کولا یا پیپسی، اور سیون-اپ یا سپرائٹ جیسے ڈرنکس پڑے ہوتے تھے۔

وہاں اب Diet Drink کے نام سے بھی بوتل پڑی ہوتی ہے۔
تا کہ آپ کسی طرح شوگر مافیا کے چنگل سے بچ نہ سکیں۔

اور آپ یہ سوچ کر پیتے ہیں کہ یہ بھی نہ پی تو لوگ کیا کہیں گے۔

شوگر فری بسکٹ، یا ملٹی گرین بریڈ، اور ایسی دیگر مصنوعات شوگر مافیا آپ کو اپنا شکار بنائے رکھنے کے لیے ہر بیکری میں رکھواتا ہے۔

اور آپ یہ سوچ کر ایسی تمام اشیا خود پر حلال سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اگر یہ استعمال نہ کیں،
تو لوگ کیا کہیں گے۔

آپ کو اپنا گاہک بنائے رکھنے کے لیے شوگر مافیا آئسکریم تک پر شوگر فری کا لیبل لگا چکا ہے۔

جس میں دودھ، گھی، چینی، سے لے کر کوئی بھی اجزا ایسا نہیں ہوتا جو پراسیسڈ نہ ہو۔

اور آپ کو لگتا ہے کہ یہ آئسکریم تو بنی ہی ہمارے لیے ہے۔

شوگر فری جام، شوگر فری ساسز۔
ہر چیز پر شوگر فری کا لیبل لگا کر شوگر مافیا آپ کو یہ دکھاتا ہے کہ یہ سب خاص آپ کے لیے بنایا گیا ہو۔

جب کہ مقصد آپ کو مستقل گاہک بنائے رکھنا ہوتا ہے۔

اور جن چیزوں پر شوگر مافیا شوگر فری کا لیبل نہیں لگا سکتا،
جیسے؛ گوشت، دیسی گھی، انڈے، وغیرہ،
وہ شوگر مافیا آپ پر حرام قرار دیتا ہے۔

اس سے پہلے کہ شوگر مافیا آپ کی صحت تباہ کرتے کرتے آخر میں صرف یہ کہے "بندہ بڑا اچھا تھا"۔

شوگر فری یا ڈائیٹ کا لیبل لگی چیزیں شوگر مافیا آپ کو سونے کی تھالی میں بھی پیش کرے،
تو بھی صاف انکار کریں

09/11/2023

I have used their products it's has awesome effects therefore i recommended all of you must try it...Than you Easyshop.com

Address

Lodhran

59320

Telephone

+923116790119

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hakeem M.Khurshid Alam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Hakeem M.Khurshid Alam:

  • Want your practice to be the top-listed Clinic?

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram