PainCare.pk

18/06/2025
11/06/2025

11/06/2025
محکمہ موسمیات کے مطابق شدید گرمی کی لہر (ہیٹ ویو) کا آغاز ہو چکاہے، جو ایک ہفتے تک جاری رہ سکتی ہے۔اس دوران ملک کے بیشتر علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں رہیں گے، اور ہیٹ ویو کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
🔥 ہیٹ ویو سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر:
*1. ہائیڈریٹڈ رہیں:*
- دن بھر وافر مقدار میں پانی پئیں، چاہے پیاس نہ لگے۔
- میٹھے مشروبات اور کیفین سے پرہیز کریں۔
- لسی،ستو، اور تازہ پھلوں کے جوس کا استعمال کریں۔
*2. سورج کی نمائش سے بچیں:*
- صبح 11 بجے سے شام 4 بجے تک باہر جانے سے گریز کریں۔
- اگر باہر جانا ضروری ہو تو ٹوپی، دھوپ کے چشمے پہنیں اور سن اسکرین لگائیں۔
*3. مناسب لباس پہنیں:*
- ڈھیلے، ہلکے رنگ کے سوتی کپڑے پہنیں۔
- سر اور جسم کو ڈھانپ کر رکھیں۔
*4. گھر کو ٹھنڈا رکھیں:*
- کھڑکیاں اور پردے بند رکھیں، خاص طور پر دن کے گرم اوقات میں۔
- ایئر کنڈیشنر یا پنکھے کا استعمال کریں۔
- گیلے تولیے یا اسپرے سے کمرے کو ٹھنڈا کریں۔
*5. خوراک کا خیال رکھیں:*
- تازہ پھل اور سبزیاں کھائیں، خاص طور پر وہ جن میں پانی کی مقدار زیادہ ہو جیسے تربوز، کھیرا، خربوزہ۔
- تلی ہوئی اور بھاری غذا سے پرہیز کریں۔
*6. جسمانی سرگرمیوں میں احتیاط:*
- دن کے گرم ترین حصے میں ورزش یا سخت کام سے گریز کریں۔
- اگر کام کرنا ضروری ہو تو صبح یا شام کے وقت کریں۔
*7. بچوں اور بزرگوں کا خیال رکھیں:*
- بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کو ٹھنڈی جگہ پر رکھیں۔
- - انہیں ہائیڈریٹ رکھنے کے لیے وقتاً فوقتاً پانی پلائیں۔
*8. علامات پر نظر رکھیں:*
- چکر آنا، سر درد، تھکاوٹ، یا متلی جیسی علامات پر فوری توجہ دیں۔
- ہیٹ اسٹروک کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کریں۔
*9. گاڑیوں میں احتیاط:*
- کسی کو بھی بند، کھڑی گاڑی میں نہ چھوڑیں، خاص طور پر بچے یا جانور۔
*10. آنکھوں کی حفاظت:*
- دھوپ میں باہر نکلتے وقت دھوپ کے چشمے پہنیں۔
- آنکھوں کو ٹھنڈے پانی سے دھوئیں۔
ہیٹ ویو کے دوران یہ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے آپ خود کو اور اپنے پیاروں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

11/06/2025

Heat stroke

17/08/2024

Monkeypox is rare, viral disease caused by the monkeypox virus, which belongs to the Orthopoxvirus genus, similar to smallpox. Here's an overview
Transmission:
- Direct contact with infected animals (rodents, primates) or humans
- Contact with contaminated bodily fluids (blood, saliva, pus)
- Indirect contact through contaminated surfaces or objects
- Airborne transmission through respiratory droplets (rare)
Early Symptoms:
- Fever, Headache, Muscle aches, Fatigue, Swollen lymph nodes, Rash:
Starts as flat, red spots or patches
Develops into pus-filled blisters or vesicles
Crusts over and falls off, leaving scars
Typically appears on the face, palms, and soles, but can spread to other areas
Other Symptoms:
Chills Sweating, Sore throat ,Cough ,Shortness of breath
- Abdominal pain ,Diarrhea, Vomiting
Severe Symptoms:
Respiratory distress
Septicemia (blood infection)
Encephalitis (brain inflammation)
-Coagulopathy (blood clotting disorders)
Incubation Period
Typically 10-14 days, but can range from 5-21 days

Duration of Illness:
Usually 2-4 weeks, but can last up to 6 weeks
Complications:
- Secondary bacterial infections
- Pneumonia
- Encephalitis
- Death (rare, but more common in severe cases or immunocompromised individuals
Transmission:

- Direct contact with infected animals (rodents, primates) or humans
- Contact with contaminated bodily fluids (blood, saliva, pus)
- Indirect contact through contaminated surfaces or objects
- Airborne transmission through respiratory droplets (rare)
Precautions:
Avoid contact with infected animals or humans
Wear personal protective equipment (PPE) like masks, gloves, and gowns
Practice good hygiene (handwashing, disinfection)
Avoid touching eyes, nose, or mouth
Investigations for confirmation:
Polymerase chain reaction (PCR) or real-time PCR to detect viral DNA
- Virus isolation from lesions or bodily fluids
- Serology tests (IgM, IgG) to detect antibodies
- Histopathological examination of skin lesions

Management steps:

1. Isolation: Isolate infected individuals to prevent transmission
2. Supportive care: Manage symptoms, provide hydration, and relieve pain
3. Antiviral therapy: Use medications like ,tecovirimat, or cidofovir
4. Vaccination: Use smallpox vaccine (ACAM2000) for post-exposure prophylaxis
5. Contact tracing: Identify and monitor individuals who had contact with the infected person

Additional measures:
Report suspected cases to public health authorities
Conduct outbreak investigations
Implement infection control measures in healthcare settings.

reference in first comment
04/04/2024

reference in first comment

Share of population with diabetes🇵🇰 Pakistan: 30.8%🇰🇼 Kuwait: 24.9%🇪🇬 Egypt: 20.9%🇶🇦 Qatar: 19.5%🇲🇾 Malaysia: 19%🇸🇦 Saud...
04/04/2024

Share of population with diabetes

🇵🇰 Pakistan: 30.8%
🇰🇼 Kuwait: 24.9%
🇪🇬 Egypt: 20.9%
🇶🇦 Qatar: 19.5%
🇲🇾 Malaysia: 19%
🇸🇦 Saudi Arabia: 18.7%
🇲🇽 Mexico: 16.9%
🇹🇷 Turkey: 14.5%
🇧🇩 Bangladesh: 14.2%
🇱🇰 Sri Lanka: 11.3%
🇿🇦 South Africa: 10.8%
🇮🇶 Iraq: 10.7%
🇺🇸 United States: 10.7%
🇮🇩 Indonesia: 10.6%
🇨🇳 China: 10.6%
🇪🇸 Spain: 10.3%
🇹🇭 Thailand: 9.7%
🇮🇳 India: 9.6%
🇮🇷 Iran: 9.1%
🇵🇹 Portugal: 9.1%
🇧🇷 Brazil: 8.8%
🇨🇦 Canada: 7.7%
🇵🇭 Philippines: 7.1%
🇰🇷 South Korea: 6.8%
🇯🇵 Japan: 6.6%
🇦🇺 Australia: 6.4%
🇮🇹 Italy: 6.4%
🇬🇧 United Kingdom: 6.3%
🇻🇳 Vietnam: 6.1%
🇷🇺 Russia: 5.6%
🇦🇷 Argentina: 5.4%
🇫🇷 France: 5.3%
🇪🇹 Ethiopia: 5%
🇳🇬 Nigeria: 3.6%

(Source: International Diabetes Federation)

IDF Diabetes Atlas 2021 en IDF Atlas 10th edition The IDF Diabetes Atlas 10th edition provides detailed information on the estimated and projected prevalence of diabetes, globally, by region, country and territory, for 2021, 2030 and 2045. It draws attention to the growing impact of diabetes across....

ان پڑھ سرجنجنکو فادر اف سرجنز کا خطاب بھی دیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“کیپ ٹاؤن” کا ان پڑھ سرجن مسٹر " ھملٹن " ج...
01/04/2024

ان پڑھ سرجن
جنکو فادر اف سرجنز کا خطاب بھی دیا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیپ ٹاؤن” کا ان پڑھ سرجن مسٹر " ھملٹن " جس کو ماسٹر آف میڈیسن کی اعزازی ڈگری دی گئی، جو نہ لکھنا جانتا تھا نہ پڑھنا، یہ کیسے ممکن ھے آئیے دیکھتے ھیں۔
کیپ ٹاﺅن کی میڈیکل یونیورسٹی کو طبی دنیا میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔
دنیا کا پہلا بائی پاس آپریشن اسی یونیورسٹی میں ہوا تھا‘
اس یونیورسٹی نے چند سال پہلے ایک ایسے سیاہ فام شخص کو
”ماسٹر آف میڈیسن“
کی اعزازی ڈگری سے نوازا جس نے زندگی میں کبھی اسکول کا منہ نہیں دیکھا تھا۔
جو انگریزی کا ایک لفظ پڑھ سکتا تھا
اور
نہ ہی لکھ سکتا تھا.....
لیکن 2003ء کی ایک صبح دنیا کے مشہور سرجن پروفیسر ڈیوڈ ڈینٹ نے یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں اعلان کیا:،
"ہم آج ایک ایسے شخص کو میڈیسن کی اعزازی ڈگری دے رہے ہیں جس نے دنیا میں سب سے زیادہ سرجن پیدا کیے،
جو ایک غیر معمولی استاد، ایک حیران کن سرجن ہے، اور
جس نے میڈیکل سائنس
اور
انسانی دماغ کو حیران کر دیا۔
اس اعلان کے ساتھ ہی پروفیسر نے " ہیملٹن " کا نام لیا،
اور
پورے آڈیٹوریم نے کھڑے ہو کر اُس کا استقبال کیا۔
یہ اس یونیورسٹی کی تاریخ کا سب سے بڑا استقبال تھا“۔
”ہیملٹن کیپ ٹاﺅن کے ایک دور دراز گاﺅں " سنیٹانی " میں پیدا ہوا۔
اس کے والدین چرواہے تھے، وہ بکری کی کھال پہنتا تھا اور پہاڑوں پر سارا سارا دن ننگے پاﺅں پھرتا تھا،
بچپن میں اس کا والد بیمار ہو گیا لہٰذا وہ بھیڑ بکریاں چھوڑ کر "کیپ ٹاﺅن" آگیا۔ ان دنوں "کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی" میں تعمیرات جاری تھیں۔
وہ یونیورسٹی میں مزدور بھرتی ہو گیا۔
اسے دن بھر کی محنت مشقت کے بعد جتنے پیسے ملتے تھے، وہ یہ پیسے گھر بھجوا دیتا تھا
اور خود چنے چبا کر کھلے آسمان تلے گراﺅنڈ میں سو جاتا تھا۔
وہ برسوں مزدور کی حیثیت سے کام کرتا رہا، تعمیرات کا سلسلہ ختم ہوا تو وہ یونیورسٹی میں مالی بھرتی ہوگیا......
اسے ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے کا کام ملا........
وہ روز ٹینس کورٹ پہنچتا اور گھاس کاٹنا شروع کر دیتا......
وہ تین برس تک یہ کام کرتا رہا......
پھر اس کی زندگی میں ایک عجیب موڑ آیا
اور وہ میڈیکل سائنس کے اس مقام تک پہنچ گیا جہاں آج تک کوئی دوسرا شخص نہیں پہنچا۔
یہ ایک نرم اور گرم صبح تھی۔”پروفیسر رابرٹ جوئز" زرافے پر تحقیق کر رہے تھے، وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ:
"جب زرافہ پانی پینے کے لیے گردن جھکاتا ہے تو اسے غشی کا دورہ کیوں نہیں پڑتا،"
انہوں نے آپریشن ٹیبل پر ایک زرافہ لٹایا، اسے
بے ہوش کیا،
لیکن جوں ہی آپریشن شروع ہوا، زرافے نے گردن ہلا دی،
چنانچہ انہیں ایک ایسے مضبوط شخص کی ضرورت پڑ گئی جو آپریشن کے دوران زرافے کی گردن جکڑ کر رکھے۔
پروفیسر آپریشن تھیٹر سے باہر آئے، سامنے 'ہیملٹن' گھاس کاٹ رہا تھا،
پروفیسر نے دیکھا وہ ایک مضبوط قد کاٹھ کا صحت مند جوان ہے۔ انہوں نے اسے اشارے سے بلایا اور اسے زرافے کی گردن پکڑنے کا حکم دے دیا۔ " ہیملٹن" نے گردن پکڑ لی،
یہ آپریشن آٹھ گھنٹے جاری رہا۔ اس دوران ڈاکٹر چائے اورکافی کے وقفے کرتے رہے، لیکن ہیملٹن
زرافے کی گردن تھام کر کھڑا رہا۔
آپریشن ختم ہوا تو وہ چپ چاپ باہر نکلا اور جا کر گھاس کاٹنا شروع کر دی۔
دوسرے دن پروفیسر نے اسے دوبارہ بلا لیا، وہ آیا اور زرافے کی گردن پکڑ کر کھڑا ہوگیا، اس کے بعد یہ اس کی روٹین ہوگئی وہ یونیورسٹی آتا آٹھ دس گھنٹے آپریشن تھیٹر میں جانوروں کو پکڑتا اور اس کے بعد ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے لگتا، وہ کئی مہینے دوہرا کام کرتا رہا،
اور
اس نے اس ڈیوٹی کا کسی قسم کا اضافی معاوضہ طلب کیا اور نہ ہی شکایت کی۔
پروفیسر رابرٹ جوئز اس کی استقامت اور اخلاص سے متاثر ہو گئے
اور انھوں نے اسے مالی سے ”لیب اسسٹنٹ“ بنا دیا۔
"ہیملٹن " کی پروموشن ہوگئی۔
وہ اب یونیورسٹی آتا، آپریشن تھیٹر پہنچتا اور سرجنوں کی مدد کرتا۔
یہ سلسلہ بھی برسوں جاری رہا۔
1958ء میں اس کی زندگی میں دوسرا اہم موڑ آیا۔
اس سال " ڈاکٹر برنارڈ " یونیورسٹی آئے اور انہوں نے دل کی منتقلی کے آپریشن شروع کر دیئے۔
" ہیملٹن " ان کا اسسٹنٹ بن گیا، وہ " ڈاکٹر برنارڈ"
کے کام کو غور سے دیکھتا رہتا، ان آپریشنوں کے دوران وہ اسسٹنٹ سے ایڈیشنل سرجن بن گیا۔
اب ڈاکٹر آپریشن کرتے
اور آپریشن کے بعد اسے ٹانکے لگانے کا فریضہ سونپ دیتے، وہ انتہائی شاندار ٹانکے لگاتا تھا، اس کی انگلیوں میں صفائی اور تیزی تھی، اس نے ایک ایک دن میں پچاس پچاس لوگوں کے ٹانکے لگائے۔
وہ آپریشن تھیٹر میں کام کرتے ہوئے سرجنوں سے زیادہ انسانی جسم کو سمجھنے لگا....
چنانچہ
بڑے ڈاکٹروں نے اسے جونیئر ڈاکٹروں کو سکھانے کی ذمہ داری سونپ دی۔
وہ اب جونیئر ڈاکٹروں کو آپریشن کی تکنیکس سکھانے لگا۔
وہ آہستہ آہستہ یونیورسٹی کی اہم ترین شخصیت بن گیا۔
وہ میڈیکل سائنس کی اصطلاحات سے ناواقف تھا،
لیکن وہ دنیا کے بڑے سے بڑے سرجن سے بہتر سرجن تھا۔
1970ءمیں اس کی زندگی میں تیسرا موڑ آیا، اس سال جگر پر تحقیق شروع ہوئی تو اس نے آپریشن کے دوران جگر کی ایک ایسی شریان کی نشاندہی کردی جس کی وجہ سے جگر کی منتقلی آسان ہوگئی۔
اس کی اس نشاندہی نے میڈیکل سائنس کے بڑے دماغوں کو حیران کر دیا،
آج جب دنیا کے کسی کونے میں کسی شخص کے جگر کا آپریشن ہوتا ہے
اور مریض آنکھ کھول کر روشنی کو دیکھتا ہے

تو اس کامیاب آپریشن کا ثواب براہ راست " ھملٹن " کو چلا جاتا ہے، اس کا محسن 'ہیملٹن'' ہوتا ہے“
" ہیملٹن " نے یہ مقام اخلاص اور استقامت سے حاصل کیا۔
وہ 50 برس کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی سے وابستہ رہا، ان 50 برسوں میں
اس نے کبھی چھٹی نہیں کی۔
وہ رات تین بجے گھر سے نکلتا تھا، 14 میل پیدل چلتا ہوا یونیورسٹی پہنچتا اور
ٹھیک چھ بجے تھیٹر میں داخل ہو جاتا۔
لوگ اس کی آمدورفت سے اپنی گھڑیاں ٹھیک کرتے تھے،
ان پچاس برسوں میں اس نے کبھی تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ نہیں کیا،
اس نے کبھی اوقات کار کی طوالت
اور
سہولتوں میں کمی کا شکوہ نہیں کیا.......
پھر
اس کی زندگی میں ایک ایسا وقت آیا جب اس کی تنخواہ اور مراعات یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے زیادہ تھیں
اور
اسے وہ اعزاز ملا جو آج تک میڈیکل سائنس کے کسی شخص کو نہیں ملا۔
وہ میڈیکل ہسٹری کا پہلا
ان پڑھ استاد تھا۔
وہ پہلا ان پڑھ سرجن تھا جس نے زندگی میں تیس ہزار سرجنوں کو ٹریننگ دی،
وہ 2005ء میں فوت ہوا تو اسے یونیورسٹی میں دفن کیا گیا
اور اس کے بعد یونیورسٹی سے پاس آﺅٹ ہونے والے سرجنوں کے لئے لازم قرار دے دیا گیا وہ ڈگری لینے کے بعد اس کی قبر پر جائیں، تصویر بنوائیں
اور
اس کے بعد عملی زندگی میں داخل ہوجائیں....“
میں رکا اور اس کے بعد نوجوانوں سے پوچھا:
”تم جانتے ہو اس نے یہ مقام کیسے حاصل کیا“
نوجوان خاموش رہا، میں نے عرض کیا:
”صرف ایک ہاں سے‘
جس دن اسے زرافے کی گردن پکڑنے کے لئے آپریشن تھیٹر میں بلایا گیا تھا
اگر وہ اس دن انکار کر دیتا، اگر وہ اس دن یہ کہہ دیتا میں مالی ہوں میرا کام زرافوں کی گردنیں پکڑنا نہیں
تو
وہ مرتے دم تک مالی رہتا.
یہ اس کی ایک ہاں اور آٹھ گھنٹے کی اضافی مشقت تھی جس نے اس کے لئے کامیابی کے دروازے کھول دیئے اور وہ سرجنوں کا سرجن بن گیا“ ۔
”ہم میں سے زیادہ تر لوگ زندگی بھر جاب تلاش کرتے رہتے ہیں.
جبکہ
ہمیں کام تلاش کرنا چاہیے“
” دنیا کی ہر جاب کا کوئی نہ کوئی کرائی ٹیریا ہوتا ہے اور
یہ جاب صرف اس شخص کو ملتی ہے جو اس
کرائی ٹیریا پر پورا اترتا ہے
جبکہ
کام کا کوئی کرائی ٹیریا نہیں ہوتا۔ میں اگر آج چاہوں تو میں چند منٹوں میں دنیا کا کوئی بھی کام شروع کر سکتا ہوں اور دنیا کی کوئی طاقت مجھے اس کام سے باز نہیں رکھ سکے گی۔
"" ہیملٹن"" اس راز کو پا گیا تھا لہٰذا اس نے جاب کی بجائے کام کو فوقیت دی. یوں اس نے میڈیکل سائنس کی تاریخ بدل دی۔
ذرا سوچو، اگر وہ سرجن کی جاب کے لئے اپلائی کرتا
تو
کیا وہ سرجن بن سکتا تھا؟ کبھی نہیں،
لیکن
اس نے کھرپہ نیچے رکھا، زرافے کی گردن تھامی
اور
سرجنوں کا سرجن بن گیا اور ہم اس لئے بے روزگار اور ناکام رہتے ہیں کہ صرف جاب تلاش کرتے ہیں، کام نہیں

02/03/2024

روزہ رکھنے سے کئی گھنٹے جسم کو کھانے کی فراہمی رک جاتی ہے لیکن کام کرنے کے لیے توانائی تو چاہیے ہوتی ہے جسم اپنی ہی جمع شدہ چربی کو پگھلا کر توانائی حاصل کرنے لگتا ہے۔ جس سے وزن تیزی سے کم ہوتا ہے
اس کے علاوہ کینسر کے خلیے تو پلتے ہی شکر پر ہیں۔ جب ان کو کئی گھنٹے شکر نہیں ملتی وہ بھی مرنے لگتے ہیں
اسی لیے ہمارے پروردگار نے ہم پر روزے فرض کیے ہیں
لیکن ہم سحور افطار میں گڑبڑ کر جاتے ہیں۔ غلط ملط کھاتے ہیں اور وزن کیا کم ہونا ہے الٹا بڑھ جاتا ہے۔
روزے کے جسمانی فوائد حاصل ہونے کی بجائے نقصانات شروع ہو جاتے ہیں
الٹا سیدھا کھانے سے گیس ، اپھارہ ، قبض ، غنودگی عبادات میں بھی خلل ڈالتی ہے
اس سال رمضان کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو صحت مند اور سادہ خوراک کھائیں

21/02/2024

مخلوط النسل (Hybridized) گندم کےسٹارچ کی مبینہ ضرر رسانیاں

اس سلسلے میں جس خوف کا اظہار کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ کراس بریڈنگ کےنتیجے میں وقوع پذیر ہونے والی جییاتی تبدیلیوں نے گندم میں موجود نشاستہ(خاص طور پر ایمائلو پیکٹین‘Amylopectin-A’) کی ساخت کو کچھ اس طرح سے بدل ڈالا ہے کہ جس نے اسکا گلائسیمک انڈیکس ریفائنڈ شوگر (مثلاً گیکسوز ڈی یا چینی) سے بھی زیادہ کر دیا ہے اور اسی لئے اسے اسے ‘‘Super starch’’ کا نام دیا جا رہا ہے۔اور ہائبرڈائزڈ گندم کےایمائلو پیکٹین کی اس مبینہ تبدیلی کی وجہ سے ہائبرڈائزڈ گندم کےسالم اناج(Whole grain) اور عام گندم کے سفید آٹے میں کوئی فرق باقی نہ رہا۔1980-90 کی دہایوں کے بعد ہماری چپاتی، ڈبل روٹی، پیزا، برگر، پاستہ وغیرہ اسی ہائبرڈائزڈ گندم سے تیار ہونے لگے اور اس ہائبرڈائزڈ گندم کا دھڑا دھڑ استعمال، عام گندم کے مقابلے میں اسکے بہت زیادہ گلائیسیمک انڈیکس کی وجہ سے ہمارے لبلبہ(Pancreas) سے انسولین کے بہت زیادہ اخراج کی وجہ سےموٹاپے کا باعث بننے لگا۔اور مرکزی موٹاپے(Central obesity) نے میٹابولک سنڈروم، ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور فالج کی صورت جو گل کھلائے ہیں،اسکی ضرر رسانیوں تک بنی نوع انسان کی تاریخ میں بہت کم بیماریاں پہنچ پائی ہیں۔

Address

Naaz Plaza Opposite Wapda Colony Near Moqam Chowk
Mardan
92000

Telephone

+923499071488

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PainCare.pk posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to PainCare.pk:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram